عالمی جنگ کا اندیشہ
ایسا لگتا ہے تیسری عالمی جنگ کا طبل بج چکا ہے۔ ترکی نے سرحدی حدود کی خلاف ورزی پر روس کا جنگی طیارہ مار گرایا۔ روس عالمی نقشے پر امریکہ کے بعد اہم ترین قوت ہے اور ایسا ممکن نہیں کہ وہ ترکی کے جارحانہ اقدام پر پلٹ کر جواب نہ دے۔ روسی صدر کے جارحانہ عزائم کسی حد تک آنے والے حالات کا پتہ بھی دے رہے ہیں۔ روس کا طیارہ گرایا جانا بہت بڑا واقعہ ہے اور عالمی دنیا پر اس کے اثرات یقیناًمرتب ہونگے۔
امریکہ اور یورپ نے یوکرائن میں روس نواز حکومت گرائی تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ حالات اس تیزی سے خراب ہونگے اور دنیا تیسری عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ جائے گی۔ روس بھی مزاجاً جارح ہے اور یوکرائن کی ہزیمت کا بدلہ اس نے کریمیا پر یلغار کر کے چکایا اور پھر مغرب کا ٹینٹوا دباتی شام کی جنگ میں کود پڑا، جہاں کا میدان اتنا پیچیدہ اور فریق اتنے زیادہ ہیں کہ امن لانا جوئے شیر لانے کے مترادف لگتا ہے۔ روس نے جب شام کی جنگ میں شمولیت اختیار کی تو جنگ کی ہولناکیاں اور داعش کی سفاکیاں عروج پر تھیں۔ روس کی حکمت عملی سے بوکھلائے ہوئے امریکہ اور نیٹو نے دہائیاں دینا شروع کر دیں۔ مگر روس کو پیچھے ہٹنے پر قائل نہ کر سکے۔ مشرق وسطیٰ میں شام ، عراق ، لیبیا اور یمن کے بعد خطے کی دیگر طاقتوں کا بھی اس جنگ سے گہرا تعلق خود بخود بنتا گیا اور بعض ممالک تو ایسے ہیں جو براہ راست ان حالات کے ذمہ دار ہیں، جیسے سعودی عرب اور اس کے اتحادی عرب ممالک۔
ایران بھی اس جنگ کا ایک بڑا کھلاڑی ہے۔ عالمی طاقتوں سے معاہدے کے بعد محدود ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کی اجازت اور معاشی پابندیاں ختم ہونے کے بعد ایران بتدریج جارحانہ موڈ میں آتا دکھائی دیتا ہے اور عالم عرب بے چینی اور بے بسی سے اس صورتحال کا نظارہ کر رہا ہے۔ معاشی پابندیوں کے خاتمے سے قبل ہی ایران مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک پر اپنے اثر و نفوذ کے جھنڈے گاڑ چکا تھا اور یہ صورتحال بالخصوص سعودی عرب کیلئے ناقابل قبول ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ دونوں ممالک کا اپنا اپنا پسندیدہ اسلام نافذ کرنے کا شوق ہے۔ اسی خواہش نے دولت اسلامیہ جیسے فتنے کو جنم دیا اور اسی خواہش نے اب تک بشار الاسد کے اقتدار کو بچا رکھا ہے۔
بیشک سعودی عرب اپنی سرحدوں پر سخت حفاظتی انتظامات اور باڑ لگانے میں مصروف ہے مگر یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ خطے میں بھڑکتی ہوئی آگ سے دامن بچا سکے۔ اور جب یہ جنگ اس مملکت کے اندر پہنچے گی تو دنیا بالخصوص عالم اسلام کے کسی ملک کے لئے غیر جانبدار رہنا ممکن نہیں گا اور اس کے بعد کی صورتحال سمجھنے کیلئے ارسطو ہونا لازم نہیں۔ ایران اب تک تو براہ راست اس جنگ سے محفوظ نظر آ رہا ہے مگر جو خوں ریزی دنیا کے دروازے پر دستک دے رہی ہے اس کے اثرات ایرانیوں تک بھی پہنچیں گے۔
بے شک ترکی گزشتہ کئی سال سے خوشحالی کی راہ پر گامزن رہا ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ رجب طیب اردگان ہی ہیں مگر دو بار اقتدار میں رہنے کے بعد جس طرح کا آمرانہ رویہ ان کی جانب سے اختیار کیا گیا، اس نے عوام کو متنفر کر دیا ہے۔ خطے کی بگڑتی صورتحال ان کے اقتدار کی عمر دراز کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ ترک عوام بھی شاید یہی سوچ رہے ہیں کہ سیاسی عدم استحکام ان کے ملک کو بھی شام بنا سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک بار پھر عوام نے ہوس کی حد تک اقتدار پرست رجب طیب اردگان کی پارٹی کو زمام اقتدار سونپی ہے۔ مگر ترکی کا روس کے ساتھ تصادم اب اسے کسی کل چین نہیں لینے دے گا۔ نیٹو کی یہ خواہش اپنی جگہ کہ وہ اس خطے میں روسی مفادات کو پروان چڑھتے نہیں دیکھ سکتا، لیکن دنیا پر پیوٹن کا بڑھتا ہؤا اثر و رسوخ کسی اور منظرنامے کی عکاسی کر رہا ہے۔
عالمگیر جنگ کے ان اندیشوں کے سائے میں دنیا واضح طور پر دو بلاکس میں تقسیم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ شام ، عراق ، لیبیا ، فلسطین اور یمن تو کشت و خون کے بازار میں زندگی کا سودا خرید اور بیچ رہے ہیں۔ باقی دنیا کا بھی امن کی بانسری بجانا ممکن نہیں۔ مشرق وسطیٰ کے کروڑوں لوگ ہولناک جنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ تو واضح نظر آ رہا ہے کہ یہ بھڑکتی آگ سعودی عرب کے دامن تک پہنچے گی اور پھر وہاں سے پاکستان کا سفر کرے گی۔ لیکن یہ واضح نہیں کہ اس میں کتنا عرصہ لگے گا۔ وتاہم ان حالات کا تقاضہ ہے کہ پاکستان کی قیادے خطرات کو بھانپ کر اپنی سمت درست کرلے اور درست مؤقف اختیار کرے۔