شام میں روسی مداخلت کے خطرات و امکانات
- تحریر سید شاہد عباس
- ہفتہ 28 / نومبر / 2015
- 4194
جو امریکہ نہیں کر سکا ، روس کر سکے گا؟ BBC کے سفارتی و دفاعی امور کے مدیر مارک اربن(Mark Urban) نے یہ سوال ایک تحریر میں اُٹھایا ہے۔ اور اس سوال کے پیچھے چھپے خدشات ان کی تحریر سے ظاہر ہو رہے ہیں۔ اربن 29اکتوبر کو شائع ہونے والے مضمون میں ایک جگہ یہ تسلیم بھی کرتے ہیں کہ روس کی کاروائیاں امریکی کاروائیوں سے کئی گنا بہتر ہیں۔ لیکن وہ ان کاروائیوں سے عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں بھی فکر مند ہیں۔ تحریر کا مقصد درحقیقت روس کی مخالفت کرنا ہے ۔ لیکن روس کی کاروائیوں کی اثر اندازی سے انکار ممکن بھی نہیں ہے۔
شام حقیقی معنوں میں اس وقت عالمی طاقتوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس میں امریکہ کا فائدہ ہو یا روس کا لیکن اس بات میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ نقصان صرف شام کا ہو رہا ہے۔ 14اکتوبر کو نیو یارک ٹائم میں ایک رپورٹ شائع ہوئی۔ یہ رپورٹ سٹیو ن لی میئرز(STEVEN LEE MYRES) اور ایرک شمٹ(ERIC SCHMITT) نے لکھی۔ اس رپورٹ میں ایک طرف یہ تاثر دیا گیا ہے کہ شام میں روس اپنے جمع کئے گئے اسلحے کو تجربانی بنیادوں پر استعمال کر رہا ہے لیکن ساتھ ہی اس بات کا اقرار بھی کیا گیا ہے کہ روس شدت پسند عناصر کے خلاف جتنے حملے ایک دن میں کر رہا ہے اتنے امریکہ اور اس کے اتحادی ایک مہینے میں بھی نہیں کر پا ئے تھے۔ اس کی وجوہات بھی واضح ہیں۔ امریکہ اور اتحادی بیشتر حملے خلیجی ممالک کے تعاون سے کر رہے ہیں۔ جہاں سے پرواز کر کے فائٹر جہاز زیادہ سے زیادہ دن میں دو سے تین حملے ہی کر سکتے ہیں ۔ جب کہ روس نے اپنے آپریشن کا مرکزشام میں ہی شمال مغرب کی طرف لٹاکیا(LATAKIA) کے ہوائی اڈے کو بنایا ہوا ہے۔لٹاکیا شام کا ایک اہم ساحلی شہر اور پانچواں بڑا شہر بھی ہے۔ اس کے علاوہ روس کی جانب سے کاروائیاں اس لیے بھی موثر ثابت ہو رہی ہیں کیوں کہ زمینی افواج کی مدد بھی انہیں حاصل رہتی ہے۔ یہ زمینی افواج شام کی سرکاری افواج ہیں جنہیں بشار الاسد کی حامی افواج سمجھا جاتا ہے۔ 35 سے زائد روسی جنگی جہاز، ہیلی کاپٹرز، اور دیگر اسلحے کے علاوہ روس کی تیاریوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس آپریشن میں روس کی طرف سے فوجیوں کے لئے ہنگامی طور پر تیار ہونے والے گھر بھی تعمیر کئے گئے ہیں۔ یہ گھر کم و بیش2000 فوجیوں کی ضروریات کے لیے کافی ہیں۔1970 کے بعد سے روس نے اتنی بڑی مقدار میں جنگی ساز و سامان کسی دوسرے ملک میں روانہ نہیں کیا۔ اس برس سوویت یونین نے مصر کو بڑی مقدار میں فوجہ امداد فراہم کی تھی۔ نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ میں شام کو روس کے لئے ایک تجربہ گاہ تو قرار دیا گیا ہے لیکن ساتھ ہی روسی کاروائیوں کی افادیت کو بھی ڈھکے چھپے لفظوں میں مانا گیا ہے۔ جو روس کی کامیابی تصور کی جاسکتی ہے۔ اسی کامیابی کا اثر ہے کہ اب امریکہ نے بھی زمینی کاروئی کا عندیہ دے دیا ہے۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کی بنیاد پر ہی ایک شامی مصنفہ مارام سُسلی(MARAM SUSLI)نے 20اکتوبر کوNew Eastern Outlookآن لائن میگزین میں ایک مضموں لکھا۔۔ مارام شام میں غیر ملکی جارحیت کے خلاف لکھنے کی وجہ سے Syrian Girl کے نام سے مشہور ہے۔ مصنفہ نے لکھا کہ شام میں امریکی کاروئیاں دہشت پسند عناصر کا قلع قمع کرنے کے بجائے صرف چہرے تبدیل کرنے کے لئے ہیں۔ امریکہ کا بنیادی مقصد بشار الاسد کو ہٹانا ہے ۔ شدت پسند عناصر کو ختم کرنا اس کی ترجیح نہیں ہے۔ اس کے علاوہ امریکی کاروائیوں کا اہم مقصد اس خطے میں روسی اثر و رسوخ کم کرنا ہے۔ اسی لیئے روس کی کاروئیوں پر امریکہ سیخ پا ہے۔ کیوں کہ اس خطے میں روس کے بڑھتے ہوئے اثر سے امریکی و اسرئیلی مفادات پہ کاری ضرب لگنے کا خدشہ ہے۔ امریکہ یہاں اسی انداز میں روس کا عمل دخل کم کرنا چاہتا ہے جیسے سربیا اور کوسووو میں کر چکا ہے۔ مارام کی رپورٹ میں DIA کے سابق چیف مائیکل فلین MICHAEL FLYNN کے بیان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے کہ امریکہ نے جان بوجھ کر داعش کو شام میں پھلنے پھولنے کا موقع دیا تا کہ شامی حکومت کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ امریکی واویلا اس لئے بھی اہم ہے کہ روسی کاروائیوں کا نشانہ کم و بیش وہ باغی بھی بن رہے ہیں جو امریکی تربیت یافتہ ہیں اور جن کا حوالہ اس رپورٹ میں موجود ہے۔ وہ مزید لکھتی ہیں کہ اس لڑائی میں روس کے زیادہ مفادات وابستہ ہیں کیوں کہ دہشت پسند عناصر براہ راست روس پر اثر انداز ہو سکتے ہیں جب کہ امریکی سرزمین تک ان کا پہنچنا نہایت مشکل ہے۔ اس لئے روس نہ صرف شام بلکہ اپنی سر زمین کا تحفظ بھی کر رہا ہے۔ اگر امریکہ افغانستان و عراق پر حملوں کو اپنے تحفظ کی جنگ قرار دے سکتا ہے تو روس کو ایسا موقف اختیار کرنے سے کیسے روکا جا سکتا ہے۔
امریکہ شدت پسندوں کو شام و عراق تک محدود رکھ کر بھی مطمئن ہو سکتا ہے تاکہ وہ اپنی جنگ میں یورپ اور امریکہ کی طرف توجہ نہ دیں۔ لیکن روس کے لئے ان کامکمل قلع قمع ضروری ہے کیوں کہ یہ عناصر براہ راست اس کے مفادات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ روس اپنی تمام کاروایؤں کی منظر کشی Russia Today نامی فورم پر کر رہا ہے جسے ٹیکنالوجی کی دنیا میںRT کے نام سے جانا جاتا ہے۔ جب کہ امریکی کاروائیوں کے بارے میں شاذ و ناذر ہی کچھ دیکھنے کو ملتا ہے۔ امریکہ کی جانبداری پر اس لیے بھی سوال اٹھ رہا ہے کیوں کہ امریکہ صرف بشار الاسد کو ہٹانے کے لئے ایسے عناصر کی بھی مدد کر رہا ہے جو شدت پسندی پھیلانے کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ Aleppo میں موجود ایرانی فوجی بھی نیٹو اتحادیوں اور امریکہ کے لئے درد سر بنے ہوئے ہیں۔
بشار الاسد کو اقتدار سے ہٹانے کے بہت سے جمہوری طریقے ہو سکتے ہیں۔ اگر اس کے طرز حکمرانی سے مُسلم اُمہ کو نقصان ہو رہا ہے تو تمام اسلامی ممالک کو مل کر اس پر دباؤ ڈالنا چاہیے کہ وہ اقتدار جمہوری طریقے سے منتقل کر دے ۔ یا شامی عوام کو اس بات کا حق دیا جائے کہ وہ پرُ امن طریقے سے اقتدار کسی اور کو منتقل کر سکیں اور اس سارے عمل میں تمام اسلامی ممالک ، اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر اس عمل کی شفافیت کو یقینی بناءں۔ اس تنازعہ کا خاتمہ عالمی برادری کے زیر نگرانی منصفانہ انتخابات بھی ہو سکتے ہیں۔ جن میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ بشار الاسد کسی بھی طرح سے اثر انداز نہ ہو سکے اور لوگوں کو فیصلہ کرنے کی آزادی ہو۔ تاہم یہ حل ہر گز قابل قبول نہیں ہو سکتا کہ شدت پسند عناصر کو کھلی چھوٹ دے دی جائے جو مستبقل میں کسی اور ملک کے لئے پریشانی کا باعث بنیں۔