روس کی جنگ جوئی پر ترک مؤقف
- تحریر ڈاکٹر خلیل طوقار
- ہفتہ 28 / نومبر / 2015
- 4791
(ڈاکٹر خلیل طوقار استنبول یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے سربراہ ہیں اور پاکستان کے ساتھ محبت کے رشتے سے بندھے ہیں۔ ادب اور لسانیات کے علاوہ ڈاکٹر طوقار ثقافت اور سیاست پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں مشرق وسطی میں داعش کے خلاف جنگ کے تاظر میں کاروان میں مضامین شائع ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر طوقار نے مدیر کاروان کے نام اس مکتوب میں اس حوالے سے دوسرا نقطہ نظر پیش کیا ہے۔ اس مراسلہ کی سیاسی اور تجزیاتی اہمیت کے پیش نظر اسے کاروان کے قارئین کے لئے شائع کیا جا رہا ہے۔ مدیر)
کچھ دنوں سے ترکی اور داعش سے متعلق آپ کی جو تحریریں میری نظرنواز ہوئی ہیں، میں اُن کو پڑھ کر بالکل حیران و پریشان ہوگیا ہوں۔ کیا واقعی مغربی ملکوں میں تقریباً ایک یا ڈیڑھ سال سے ترکی حکومت اور ترکی کے صدر طیب ایردوغان کے خلاف جو منفی پروپیگنڈے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے آپ ان پر یقین رکھ سکتے ہیں؟ میں آپ کا بہت احترام کرتا ہوں مگر اِس دفعہ آپ سے یہ گزارش کروں گا کہ اِس طرح کی مغربی میڈیا میں پھیلائی گئی “ ایجاد شدہ “ خبروں پر یقین کرنے سے پہلے ذرا رک کر کچھ تامل کیجئے کہ حقیقت کیا ہے؟ اِس لئے آپ کی خدمت میں کچھ سوالات پیش کروں گا۔ آپ بھی اس پر ذرا غور کیجئے:
1۔ مغربی میڈیا میں ایک یا ڈیڑھ سال سے ترکی کے داعش کے ساتھ تعلقات جوڑنے کی کوشش جاری ہے۔ اِس کا کیا سبب ہے؟
2۔ داعش کو اُن ہی طاقتوں نے قائم کیا جنھوں نے القاعدہ کو قائم کیا تھا، جن کا نام کسی سے بھی مخفی نہیں کیونکہ معلوم ملک کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ کے داعش کے لیڈروں کے ساتھ تصویریں ہمیں فیس بک پر بھی ملتی ہیں۔
3۔ داعش نے پہلے شام میں نہیں عراق میں جنم لیا۔ یہ کام اِس وقت ہؤا جب عراق کے نورامالکی کی شیعہ حکومت کی فوجیں ایرانی فوج کے رضاکاروں کے ساتھ عراقی کردستان کی جانب پیش قدمی کررہی تھیں۔
4۔ عراقی کردستان ایک ایسی جگہ ہے کہ وہاں امریکہ اور اسرائیل کی مرضی کے خلاف پرندہ بھی پر نہیں مارسکتا ہے۔
5۔ ترکی کی عراقی سرحد پر عراقی کردستان ہے یعنی ترکی اگر خود چاہے بھی کردستان سے گزرکر داعش تک اسلحہ پہنچا نہیں سکتا۔ یہ امریکہ، انگلینڈ اور فرانس جیسے ملکوں کی اجازت کے بغیر ناممکن ہے۔
6۔ داعش جن علاقوں پر قابض ہے اور وہاں سے جو تیل فروخت کرتا ہے اس کے سب سے بڑے خریدار “ بالواسطہ “ یورپ کے بڑے بڑے ملک ہیں۔ داعش کو جو اسلحہ بیچتے ہیں وہ وہی بڑے بڑے ملک کے “ بے نام و نشان کاروباری لوگ “ ہیں جن کے نام کسی سے بھی پوشیدہ نہیں۔ داعش والے جو اسلحہ استعمال کرتے ہیں وہ ٹیکنالوجی ترکی فوج کے پاس بھی نہیں ہے نہ ہی وہ اسلحہ ترکی فوج کے پاس موجود ہے۔
7۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ جب امریکہ اور دیگر یورپین ممالک کی خواہشات کے خلاف کوئی دوسرا ملک کوئی اقدام کرے تو وہ یکایک اور تامل کئے بغیر اُس ملک پر سنگین سیاسی اور تجارتی پابندیاں عائد کردیتے ہیں۔ ترکی کے ساتھ کیا ایسا کچھ ہؤا ہے؟
8۔ اِس کے باوجود یورپین ممالک میں بالخصوص امریکہ میں ایک ڈیڑھ سال سے ایک سلسلہ جاری ہےکہ ترکی داعش کی پشت پناہی کررہا ہے۔ اِس کا راز کیا ہے وہ غور طلب ہے۔
رہی روس کی بات تو:
1۔ روس نے پہلے جارجیا کے ایک حصے پر قبضہ کرلیا۔ پھر یوکرین کے مشرقی حصہ اور پھر کریمیا پر قبضہ کرلیا۔ روس اپنی قدیم ایمپائر کو قائم کرنے کے لئے کوئی بھی فوجی یا سیاسی اقدام کرنے سے گریز نہیں کرتا خواہ اُسے اِس سلسلے میں اپنے دوستوں کو فریب دینا اور اپنے دوستوں اور ہمسائیوں پر جھوٹے الزامات لگانا ہی کیوں نہ پڑے۔ اور پھر روس کے صدر کا یہ خیال بھی ہے کہ ہم سُپر پاور ہیں اور دنیا کو اپنی انگلی پر نچا سکتے ہیں۔
2۔ روس نے داعش کو بہانہ بناکر شام میں اپنی فوجیں بھیجی ہیں جو ایرانی رضاکاروں اور حزب اللہ کے فدائیوں کے ساتھ مل کر داعش کی بجائے اُن علاقوں پر بمباری اور فوج کشی کرنے لگیں جہاں داعش کے ٹھکانے نہیں۔ بلکہ شامی صدر اسد کے خلاف جنگ لڑنے والے مخالف گوریلے ہیں۔ آج تک روس نے جو بمباری کی اُن میں داعش کا ایک بھی ٹھکانہ شامل نہیں ہے اور جو مارے گئے وہ شام کےعام شہری ہیں یا اسد مخالف آزاد شامی فوج کے رضاکار ہیں۔
3۔ آخر روس، ایرانی اور اسد کے فوجیوں نے مل کر ترکی کی سرحد پر موجود ترکمان پہاڑی پر حملہ شروع کیا جہاں داعش کا نام و نشان تک نہیں ہے۔ وہاں صرف ترکمان آبادی ہے جو ایک طرف سے اسد اور دوسری طرف سے داعش سے جنگ لڑرہے ہیں۔ موجودہ شام پہلی جنگ عظیم کے آخر تک ترکی کا حصہ تھا اور اُس کے سرحدی علاقوں میں ترکمان قوم آباد ہے جس کے ترکی میں بھی رشتہ دار ہیں۔ جب اُن کے علاقوں میں روسی جنگی طیاروں کی بمباری شروع ہوئی اور روسی، ایرانی اور اسد کی مشترکہ فوج اُن علاقوں میں پیش قدمی کرنے لگی تو ترکمان مرد اپنے بیوی بچے ترکی میں چھوڑ کر پھر لڑائی کے لئے میدان جنگ میں واپس آرہے تھے تو ایک لعنتی روسی کمانڈر ریڈیو سے ترکمان رضاکاروں کو قہقہہ لگاتے ہوئے یہ پیغام بھیج رہا تھا کہ: “ تم لوگ اپنی بیٹیوں اور بیویوں کو ترکی کی طرف لے کر نہ جاؤ، آج رات اُن کے ساتھ ہمیں عیش کرنا ہے۔“ بوسنیا میں سربیا اور روس کے ذلیل سپاہیوں کے ہاتھوں مسلمان خواتین کی کس طرح وحشیانہ عزت دری ہوئی ہے، کس طرح اُن پر مظالم ہوئے ہیں وہ تمام دنیا کے سامنے ہے۔ اور اب تمام دنیا ترکی سے یہ توقع کرتی ہے کہ وہ خاموش رہے۔
4۔ کل ہی امریکہ کی بلیک لسٹ سامنے آگئی۔ جس میں روس کے چار بڑے بڑے بزنس مین کے نام درج تھے جو داعش کا پیٹرول دوسرے ملکوں میں بیچ رہے ہیں اور داعش کے لئے ضروری اسلحہ اور جنگی مواد فراہم کررہے تھے۔ جن میں سے ایک روس صدر پوتین کابہت گہرا دوست ہے۔
5۔ پھر بھی پوتین فرماتے ہیں کہ ترکی کا تعلق داعش کے ساتھ ہے۔ جھوٹ کی بھی ایک حد ہوتی ہے مگر کچھ لوگ جھوٹ کی سرحدیں پار کرکے بہت ہی آگے جاتے ہیں۔
رہی خاقان فدان کی بات:
1۔ خاقان فدان بہت تجربہ کار آدمی ہے اور کل کا بچہ نہیں ہے۔
2۔ یہ جو اُس کے منہ سے بیان پھیلایا جارہا ہے۔ میں نے اِس کی تحقیق کی ہے۔ ایسا کوئی بیان نہیں دیا گیا ہے۔ صحافی دوست برا نہ منائیں مگر میڈیا کے کچھ لوگوں کو دوسرے لوگوں کے بیانات سے کچھ الفاظ یا جملے چن کراپنے مطلب کے مطابق نئے اور کارآمد جملے بنانے میں جو کمال ہے وہ اظہر من الشمس ہے۔
3۔ ویسے بھی خاقان فدان پاگل تو نہیں ہے کہ ایک ایسے ماحول میں، ایک ایسے خطرناک زمانے میں، سب کے سامنے ایک ایسا بیان دے کر اپنے ملک کو مشکل میں ڈالے۔ کیا آپ یہ یقین کرسکتے ہیں کہ ایک ایسا تجربہ کار اور ذہین آدمی بچوں کی طرح بیان بازی کرنے پر اُتر آئے۔ وہ تو سیاستدان نہیں ہے خفیہ ایجسنسی کا آدمی ہے۔ ہم سب کو پتہ ہے کہ وہ لوگ کب بولنا ہے اور کب مرنے تک خاموش رہنا ہے ہم سب سے بہتر جانتے ہیں۔
4۔ آخر ہمارے صدر بھی کوئی کل کا بچہ یا پوتین کی طرح بندوق کے زور سے کام چلانے کی کوشش کرنے والےسیاستدان نہیں ہیں۔ اُنھیں کب رکنا ہے، کب آگے چلنا ہے بخوبی علم ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ ترکی جیسے ایک ملک میں بارہ سال سے برسر اقتدار ہیں۔ حالانکہ ترکی کے بہت سارے میڈیا مالکوں کا اُن سے ٹکراؤ ہے۔ وہ میڈیا باسز طیب ایردوغان سے اپنی دشمنی کی وجہ سے جھوٹی خبریں شائع کرنے اور ترکی کے دشمنوں سے جوڑ توڑ کرنے سے بھی نہیں شرماتے۔ کیونکہ رجب طیب ایردوغان ترکی کے واحد صدر ہیں جنھوں نے “ میں چند کالم لکھواکر حکومتوں کو گرا بھی دیتا ہوں، قائم بھی کرتا ہوں “ کہنے والے ایک میڈیا باس کو یہ کر کے دکھایا ہے کہ وہ اِس کے بعد یہ کام نہیں کرسکے گا۔
میں آپ پر بھروسہ کرکے یہ تمام باتیں آپ سے شئیر کرتا ہوں۔ امید ہے کہ آپ اس کے بعد اپنی تحریریں لکھتے ہوئے اِن معلومات کو بھی مدنظر رکھیں گے اور مغربی میڈیا میں جو خبریں شائع ہورہی ہیں اُن پر بھروسہ کرنے سے قبل ذرا سوچیں گے۔ وگرنہ میں پھر یہ کہوں گا کہ:
ہم آہ بھی کرتے ہیں ہوجاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں چرچا نہیں ہوتا