کشمیری عوام اصل محروم ہیں

انسان بھی کیا عجیب شے ہے؟ وہ اپنے جس حق کی خاطرسالہا سال جد و جہد کرتا ہے وہ حق جب اسے مل جاتا ہے تو اپنی طرح کے دوسرے انسانوں سے ان کا وہی حق چھین لیتا ہے۔ وہ اپنے حق کے حصول کے لیے تمام جائز و ناجائز حربے استعمال کرتا ہے لیکن دوسروں کی آواز بھی سننا پسند نہیں کرتا۔ یہی صورت حال آج کشمیریوں کو بھی در پیش ہے۔

ہندوستان اور پاکستان کو جب حق آزادی ملا تو انہوں نے اس سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی اپنی قوم کے بہتر مستقبل کی راہ ہموار کرنے کے بجائے نفرت و سیاسی ٹکراؤ کی ایسی پالیسی اپنائی جس نے دونوں ملکوں میں عدم برداشت اور عدم استحکام میں اضافہ کیا۔ جہاں امن نہیں ہوتا وہاں ترقی نہیں ہوتی۔ اسی وجہ سے برصغیر کی یہ دونوں بڑی قوتیں ان ممالک سے بھی بہت پیچھے ہیں جنہوں نے ان سے بہت عرصہ بعد آزادی حاصل کی ۔ ہندوستان میں مذہبی انتہا پسندی تو ہر دور میں موجود رہی ہے۔ یہی انتہا پسندی ہندوستان کی تقسیم کا سبب بنی۔ کشمیر کے حوالے سے ہندوستان کیے موقف پر غور کرتے ہوئے نوٹ کرنے والی تاریخی بات یہ ہے کہ تقسیم برطانوی ہند کی ہوئی تھی نہ کہ برطانوی ریاست ہند کی۔ تاریخی حقائق کو جاننے کے لیے ایسے خود غرض سیاستدانوں کے دعوؤں کو بنیاد نہیں بنایا جا سکتا جو اپنے ذاتی مفادات کی خاطر حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتے اور کاسہ لیسی کی آخری حد تک چلے جاتے ہیں۔ بلکہ اس کے لئے تاریخ دانوں، قانون دانوں اور غیر جانبدار تجزیہ کاروں و محقیقن کا سہارا لینا پڑتا ہے۔

بد قسمتی سے دونوں طرف کے موقع پرست و اقتدار پرست کشمیری سیاستدانوں نے اپنی ہی قوم کو بے وقوف بناتے ہوئے کشمیر کو تقسیم ہند کا نا مکمل ایجنڈہ قرار دیا۔ یہ الگ سوال ہے کہ آیا کشمیر یوں نے اپنی ریاست کو پاک۔ہند یونین میں ضم کرنا تھا یا آزاد رہنا تھا۔ آج اصل اور بنیادی سوال یہ ہے کہ مسلہ کشمیر کیوں اور کس طرح پیدا ہوا ۔ اور اس کے حل کے لئے کس نے کیا وعدے کئے؟ اور وہ وعدے آج تک پورے کیوں نہیں ہوئے؟ اس پر بے شمار کشمیری اور غیر کشمیری قلمکاروں اور محققین نے لکھا ہے۔ غیر کشمیری قلمکاروں کی تحریریں تو خیرانکی اپنی اپنی زبانوں میں ہیں لیکن جن کشمیری مصنفین، محققین اور تجزیہ کاروں کی مستند تحریریں میرے مطالعہ میں آئیں، ان میں قابل ذکر نام جسٹس محمد صراف ، عبدالخالق انصاری ایڈووکیٹ، امان اﷲ خان، جسٹس عبدالمجید ملک ، آزادی گلگت بلتسستان کے ہیرو کرنل حسن مرزا ، ڈاکٹر سید نذیر گیلانی، محمد یونس تریابی، پروفیسر محمد عارف خان، تنویر احمد اور سعید اسد ہیں۔ البتہ سعید اسد مصنف و محقق کے بجائے مولف قرار دئیے جا سکتے ہیں کیونکہ انہوں نے دوسروں کی تحریروں کو کتابی شکل دی ہے ۔ شیخ محمد عبداﷲ کی آتش چنار اور سید علی گیلانی کی جیل کی ڈائری میں بھی تاریخی حقائق موجود ہیں ۔لیکن ان کے نظریات اور عمل وحدت کشمیر کی بحالی کے بجائے تقسیم کشمیر کے خطرات پیدا کرتے ہیں۔

یہ ایک ناقابل تردید تاریخی حقیقت ہے کہ تقسیم ہند سے جموں کشمیر کا کوئی تعلق نہیں تھا ۔ ہندوستان اور پاکستان کو برطانوی ہند کے علاقے ملے تھے اور برطانیہ نے ریاستوں کے اختیارات پاک۔ہند یونین کے حوالے نہیں کئے تھے بلکہ انہیں ریاستوں کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات و تعلقات طے کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔ دوسری کئی ریاستوں کے مقابلے میں جموں کشمیرایک ایسی مضبوط اور آذاد و خود مختار تاریخی ماضی رکھنے والی ریاست تھی جس کے عوام اور حکمران اسے آذاد رکھنا چاہتے تھے۔ لیکن مہاراجہ کے خلاف بغاوت کے نتیجے میں ہندوستان اور پاکستان کی فوجیں کشمیر میں داخل ہو گئیں۔ تاریخی تجزیے کے لئے انگریزی کی اصطلاح ایمپاتھی Empathyہے جس کا مطلب ہے کہ تجزیہ کار یا نقاد کسی تاریخی شخصیت کے فیصلوں کو چلینج کرنے سے پہلے سوچے کہ اگر وہ اس تاریخی مقام پر ہوتا تو کیا کرتا۔ لیکن پھر بھی میرا خیال ہے کہ کشمیر کو تقسیم کرنے ،مسلہ کشمیر کو پیدا کرنے اور لٹکانے میں اس وقت کشمیر ی قیادت خود بھی جرم کی مرتکب ہوئی ۔ کشمیرمیں پاک۔ہند افواج جب ٹکرائیں تو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے ہندوستان و پاکستان نے13 اگست 1947 ء کی قرارداد نمبر S/995کے تحت رائے شماری کی شرط پر فائربندی کروائی گئی۔ ہندوستان اور پاکستان نے رائے شماری کے لئے عالمی برادری سے تعاون کا وعدہ کیا جو آج تک پورا نہ کیا گیا۔ ہندوستان نے خود یہ مسلہ یکم جنوری 1948 ء کو سلامتی کونسل کے رجسٹریشن نمبر S/628 کے تحت اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل پنتیس کے تحت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں دائر کروایا۔ کشمیر کیس کا عنوان ’جموں کشمیر کی صورت حال‘ منظور ہوا۔ پاکستان نے بیس جنوری 1948کو سلامتی کونسل میں یہ موقف اختیار کیا کہ پاکستان کے بھارت کے ساتھ جونا گڑھ اور مناودر کے مسائل بھی ہیں۔اس لئے جموں کشمیر کی صورت حال کا عنوان’ بھارت۔ پاکستان سوال‘ میں تبدیل کیا جائے۔ سلامتی کونسل نے اس شرط پر مؤخرالذکر عنوان قبول کیا کہ جموں کشمیر ایشو کو ترجیح دی جائے گی۔ لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا مسلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی سرد مہری میں اضافہ ہوتا گیا۔ جس کی بڑی وجہ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کے درمیان محاز آرائی اور ان کے سیاسی مفادات ہیں۔

اب اقوام متحدہ کا اصرار ہے کہ وہ صرف پاک۔ہند درخواست پر ہی مسلہ کشمیر پر کوئی کردار ادا کر سکتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں اقوام متحدہ نے کشمیر پرجارحیت کا ارتکاب کرنے والوں کو ہی جج بنا دیا ہے۔ ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت نہرو نے دو نومبر 1947 کو آل انڈیا ریڈیو پر قوم سے خطاب کے دوران اور سلامتی کونسل کے دو سو ستائیسویں اجلاس میں بھارتی وفد کے سربراہ گوپال سوامی آئینگر نے پندرہ جنوری 1948 ء کویقین دلایا کہ جموں کشمیر کا فیصلہ اس کے عوام ہی کریں گے۔ 9 جنوری 1951کوایک بار پھر بھارتی وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے آل انڈیا کانگرس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیرکو پاکستان یا بھارت کے لیے ایک تحفہ سمجھ کر غلطی کی جا رہی ہے۔ لوگ اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ کشمیر کوئی بکاؤ مال نہیں جس کا کسی اور چیز سے تبادلہ کیا جائے۔ بھارتی وعدوں اور یقین دہانیوں کی فہرست بڑی طویل ہے۔ طویل انتظار کے بعد جب کشمیریوں کو یقین ہو گیا کہ بھارت انہیں واقعی بھیڑ بکریاں سمجھ رہا ہے تو انہوں نے بھارت کے خلاف ایک ایسی بغاوت شروع کی جس میں کشمیر کے تینوں خطوں گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کی نوجوان نسل نے ہی نہیں بلکہ بیرون ملک کشمیریوں نے بھی جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کی قیادت میں بھرپور کردار ادا کیا۔ بھارتی حکومت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور نظر آنے لگی تو پاکستان نے کشمیر کو اپنا حصہ بنانے کے لالچ میں ایک بار پھر سیاسی بے وقوفی کر کے ہندوستان کے لئے آسانیاں پیدا کر دیں۔

پاکستان نے پہلے پانچ جنوری 1949 ء کی سلامتی کونسل کی قرار داد منظور کروا کر اور بھارت کے ساتھ کشمیریوں کی مرضی کے خلاف د د طرفہ معاہدے کئے اور مسلہ کشمیر کی عالمی حیثیت کو علاقائی جھگڑے میں تبدیل کروایا دیا گیا۔ جب کشمیریوں کی قومی تحریک عروج پر تھی تو لبریشن فرنٹ کو کمزور کرنے کے لیے پہلے حزب المجاہدین قائم کی ۔ حزب مضبوط ہوئی تواسی کے بطن سے کئی اور تنظیموں نے جنم لیا جس سے بھارت کو ایک خالص قومی کشمیری تحریک کو پاکستان سپانسرڈ دہشت گردی میں تبدیل کرنے کا موقع فراہم کیا۔ پاکستان نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتسستان کی حکومتوں کو کوئی کردار ادا کرنے کا موقع تو درکنارپاکستان کے اداروں نے مجھ سمیت ان دونوں خطوں کے ان نوجوانوں کے خلاف انتہائی انتقامی رویہ روا رکھا۔ ان لوگوں نے اپنی جد و جہد کا آغاز تو بھارت کے خلاف کاروائیوں سے کیا تھا مگر انہیں پاکستان کے ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود اکثر کشمیری پاکستان کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ پاکستانی حکومتیں اگر قائد اعظم محمد علی جناح کی ابتدائی کشمیر پالیسی پر گامزن رہتے ہوئے مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتیں تو پاکستان کو آج صرف مسلہ کشمیر ہی نہیں بلکہ بھارت کے ساتھ دوسرے کئی اور دو طرفہ معاملات میں بھی سبکی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ حالیہ سالوں میں بھارت کے تمام سیاستدانوں اور سفاتکاروں نے پاکستانی ہم منصبوں کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا۔ بھارت نے اپنے زیر قبضہ کشمیر اسمبلی سے اپنے حق میں قرارد داد منظور کروائی تو پاکستان نے کہا کہ مسلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قرار داددں کے مطابق حل ہونا ہے۔ لیکن چھ سال قبل گلگت بلتسستان کو اسی بنیاد پر پاکستان کا صوبہ قرار دے دیا ۔ اسی بنیاد پر بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو اپنا صوبہ بنایا تھا۔

مختصر یہ کہ پاکستان کی کشمیر پالیسی میں کبھی تسلسل نہیں رہا ۔لیکن موجودہ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تیس ستمبر کی تقریرکو کچھ حلقے امید کی ایک کرن قرار دے رہے ہیں۔ محمد نواز شریف نے اپنے خطاب میں جموں کشمیر سے فوجوں کے انخلاء کی تجویز پیش کی۔ حقیقت پسند اور وحدت پسند کشمیریوں کا ہمیشہ یہ مطالبہ رہا ہے کہ جموں کشمیر سے تمام فوجیں نکال لی جائیں۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نوعیت سے ناواقف بعض پاکستانی لیڈر وحدت پسند کشمیریوں کے فوج کے انخلاء کے مطالبہ کو پاکستان کے خلاف تصور کرتے تھے۔ ان کا ایک ہی جذباتی مؤقف تھا کہ کشمیریوں کو صرف بھارت کی فوجوں کے انخلاء کا مطالبہ کرنا چائیے لیکن انہیں یہ معلوم نہیں کہ پاکستان نے خود اقوام متحدہ کی یہ قرارداد قبول کی ہوئی ہے جس کے مطابق رائے شماری سے پہلے پاکستان اپنی پوری اور ہندوستان اپنی کچھ فوج نکالے گا۔ اس کے برعکس وحدت پسندکشمیریوں کا یہ مطالبہ رہا ہے کہ ہندوستان بھی اپنی پوری فوج نکالے تاکہ کشمیری بغیر کسی سیاسی دباؤ کے اپنے مستقبل کا تعین کر سکیں۔ پاکستان کی تمام سیاسی قوتوں کو چائیے کہ وہ جذباتیت سے نکل کر وزیر اعظم نواز شریف کی پالیسی کو آگے بڑھائیں۔ اس طرح پاکستان جموں کشمیر سے فوج نکالنے اور ہندوستان فوج رکھنے پر اصرار کرے گا تو بھارت خود بخود بے نقاب ہو جائے گا۔ پاکستان کو بھی سمجھ لینا چائیے کہ متحدہ کشمیر ہمیشہ پاکستان کے مفادمیں اور منقسم کشمیر کو ہندوستان پاکستان کے خلاف استعمال کرتا رہے گا ۔ اب دیکھتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی قیادت مستقل مزاجی اور بالغ نظری کا مظاہر کرتی ہے یا ایک بار پھر بھارت کی طرف سے مصالحت کا کے نام پر ماضی میں اس کی حرکتوں کو بھول جاتی ہے۔