الیکٹرانک میڈیا کی بت پرستیاں
- تحریر
- سوموار 30 / نومبر / 2015
- 4345
کیا پاکستان تحریک انصاف کے قائد عمران خان سے شادی کے بعد ریحام خان صاحب الرائے ہو گئی تھیں، جس کی بنیاد پر پاکستان کا الیکٹرانک میڈیا ان کے نقطہ نظر کو سننے کے لئے بے چین تھا اور دلچسپ بات یہ ہے کہ عمران خان کے ساتھ رشتہ ازدواج سے علیحدگی کے بعد کیا وہ مزید صاحب الرائے ہو گئیں کہ اب پاکستان کا الیکٹرانک میڈیا، پاکستان کے گنجلک مسائل پر ان کی رائے کو جاننے کے لئے چین ہے اور ”جلدی میں جنم لینے والے دانشور“ (اینکرز) وہ سوراخ ڈھونڈنے کے لئے مچل رہے ہیں جہاں سے ریحام خان تک پہنچا جائے۔
اسی طرح جب ریحام رشتہ ازدواج سے علیحدہ ہوئیں، ہمارے الیکٹرانک میڈیا نے تمام سرحدیں عبورکر کے اس شادی اور طلاق کے ذاتی مسئلے کو قومی مسئلے کے طور پر ڈسکس کیا۔ اگر پاکستانی الیکٹرانک میڈیا کسی کی شادی ہو یا طلاق ۔۔۔ پر پاکستان کے قومی مسائل کی تلاش میں ہے تو پھر عام آدمی کا فکری معیار کیا ہے؟ جو قومیں ترقی کرتی ہیں وہ شخصیات کو موضوع نہیں بناتیں بلکہ وہ ایشوز ، نظریے اور فکر پر بحث کرتی ہیں۔ ہماری سیاست، ادب ، صحافت سمیت ہر شعبے کو شخصیات کے حوالے سے زیر بحث لایا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ مسلح افواج کا مستقبل کسی ایک فرد کے ہونے نہ ہونے، ریٹائر ہونے یا اس کی مدت ملازمت میں توسیع سے منسوب کیا جاتا ہے۔ سیاست میں کرشماتی شخصیات کو ہمارے ہاں ایک کوالٹی قرار دیا جاتا ہے۔ ایک مسیحا کا تصور جو اپنے ہونٹوں کے ہلانے سے کروڑوں کا مستقبل طے کر سکتا ہے۔ جس کا ایک بیان ، خطاب یا حرکت قوم کی تقدیر بدل دے۔ ہمارے ہاں کرشماتی سیاست نے لوگوں کو سراب در سراب میں دھکیلنے کے سوا کچھ نہیں دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایک نظریاتی پارٹی کی بنیاد رکھی، لیکن بعد میں اس کو کرشماتی شخصیت کے مرہون منت کر دینے پر اکتفا کر لیا گیا۔ اگر پاکستان میں سیاست ، صحافت ، ادب سمیت تمام سوشل سائنسز میں فکری بحثیں ہوتیں تو ادارے جنم لیتے یا مضبوط ہوتے۔ یورپ میں ادب کے حوالے سے جو بحثیں پچھلی چار صدیوں سے جاری ہیں، اس نے پسماندہ یورپ سے شاندار ادب کو جنم دیا، اسی طرح سیاسی نظریات ، تاریخ سمیت تمام سوشل سائنسز کے موضوعات پر بحث در بحث جاری ہے۔
ہمارے ہاں ادب میں قبائلی نظام ہے، جس میں ادب قبیلے کا ایک سردار ٹھہرا دیا جاتا ہے اور وہ ان داتا کی طرح اپنے مداحوں کا پوجا کیا جانے والا کردار بن جاتا ہے۔ یونیورسٹیوں کے چانسلرز سے لے کر لفظوں کو صحافت کے سپرد قلم کرنے والوں سمیت تمام شعبہ جات زندگی میں شخصیت پرستی چھائی ہوئی ہے۔ Content کی بجائے Personalities پر زور ہے۔ اسی طرح صحافت کے شعبہ میں بھی مالکان کی شان میں قصیدے بازی کے لئے خصوصی ایڈیشن شائع کئے جاتے ہیں کہ انہوں نے صحافت میں گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔ یہ الفاظ ان رجحانات کا بیان ہیں جو ایک ایسے معاشرے کی عکاسی کرتا ہے جو اپنے زوال کے عمل کو کامیابی قرار دیتے ہوئے جذباتی ہؤا جا رہا ہے۔ کھیل کے میدان کا بیڑا غرق بھی اسی رجحان نے کیا، کرکٹ اور ہاکی دونوں شخصیت پرستی کا نشانہ بن گئیں۔ کرکٹ برباد ہو گئی، لیکن بڑی بڑی شخصیات دیوتا کی طرح پیش کی گئیں اور ان دیوتاﺅں کے بوجھ تلے ہماری زندگی کے تمام شعبے دبتے چلے گئے۔ ایک دیوتا اپنی فطری زندگی کے انجام کے قریب پہنچا تو دوسرا دیوتا اپنے ہاتھوں سے تخلیق کر لیا اور اس کی پوجا شروع کر دی۔ ہمارے مزاج میں بت پرستی کا صدیوں پرانا رجحان اس قدر چھایا ہؤا ہے کہ نکلنے کا نام ہی نہیں لیتا۔
اسلام نے ہمارے ہاں صوفیائے کرام کے عمل کے ذریعے ذات کی نفی کا تصور دیا، لیکن لگتا ہے کہ اب یہ شعبہ بھی شخصیت پرستی کے رجحان کا شکار ہے۔ اس طرح ہم ایک سراب سے نکلے دوسرے سراب میں چلے گئے۔ پانی کے پیاسے صحرا میں پانی کے چشمے کے قریب پہنچے تو وہاں کچھ نہ تھا، آنکھوں کا دھوکہ ہی دھوکہ تھا۔ اب وہ لوگ جو پہلے ریحام خان کے عمران کے عقد میں جانے کے بعد اس کے اندر کسی ارسطو کی تلاش میں تھے، وہی لوگ خصوصاً الیکٹرانک میڈیا کے لوگ ، زوجگی سے علیحدگی کے بعد اس خاتون کے اندر سے خبر نکالنے کے درپے ہیں۔ لندن میں نام نہاد عالمی میڈیا کانفرنس جس میں صرف مملکت پاکستان کے چند لوگ شامل تھے، اس کو عالمی میڈیا قرار دیا جانا کسی بڑے مذاق اور اپنے آپ کو دھوکہ دینے سے کم نہیں۔ اس نام نہاد عالمی میڈیا کانفرنس میں ریحام کی شرکت پر اس کو اس کے آرگنائزر ہی نہیں بلکہ پاکستان کے جید کالم نگاروں نے ایک کامیاب عالمی میڈیا کانفرنس کا فتویٰ صادر کر دیا کہ وہاں عمران خان سے علیحدگی کے بعد ان کی دوسری سابقہ بیوی محترمہ ریحام خان نے شرکت کر کے اپنے خطاب کے ذریعے اس کانفرنس کی کامیابی پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ اب ہمارے میڈیا ہاﺅسز کے کارندے نو ماہ تک عمران خان کے عقد میں رہنے والی خاتون کو اپنے ہاں اسکرین پر پیش کر کے ان سے پاکستان کے مسائل کا حل معلوم کرنے کے لئے بے چین ہیں۔ مارکیٹ میں بولی ہو رہی ہے، ایک حقیقی سرمایہ دارانہ اپروچ۔