ویلکم جنرل راحیل شریف

جنرل راحیل شریف کا خاندان، ان کی خدمات روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔  ان کی بہادری عصر حاضر کا ایک تا بندہ باب ہے۔ یہ قوم کے لئے امید اور روشن مستقبل  پاکستان کا  ا ستعارہ ہے۔  وطن کی مائیں  ان پر فخر کرتی ہیں۔ زندہ وہ ہے جو لوگوں کے دلوں میں زندہ ہے۔ آج راحیل شریف پاکستانی عوام کے دلوں کی دھڑکن  ہے۔  ان کی زندگی ملک اور قوم کے لئے قیمتی سرمایہ ہیں۔وہ اس وقت  اندرونی اور بیرونی محاذ پر دہشت گردی،  انتہا پسندی اور زہریلے نظریات کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔

کراچی اور دیگر بڑے شہروں میں  چسپاں پوسٹروں  میں جنرل راحیل شریف  ہر آنے جانے والے  کا  مسکراتے ہوئے خیر مقدم کر رہے ہیں۔ کسی پوسٹر پر لکھا ہے تھینکیو۔ ویلکم۔ ہم تمہاے ساتھ ہیں۔   اہلیان شہر احسان مند ہیں۔   یہ پوسٹر کسی شخص یا کسی تنظیم کی طرف سے نہیں  ہیں بلکہ بس  ”اہلیان شہر“  نے  ایک مرد آہن کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے لگائے ہیں۔ حالیہ بلدیاتی انتخابات اور ضمنی الیکشن میں سیاسی لیڈروں کے ساتھ راحیل شریف کی تصاویر بھی دیکھنے کو ملیں۔  راولپنڈی کی ایک تقریب میں  جو  چھ ستمبر کے دن منعقد ہوئی،  اس میں جنرل کا دو لاکھ روپیہ صدقہ اتارا گیا۔ اب تو مساجد کے نام بھی راحیل شریف پر رکھے جا رہے ہیں۔کل بسوں،  ٹرکوں اور رکشوں پر بھی یہ تصاویر نظر آنے کی توقع ہے۔بے ساختہ والہانہ محبت کے ان تصویری مظاہروں سے اور تو کچھ نہیں ہو رہا، بس اہل سیاست پریشان اور عدم تحفظ کا شکار  نظر آتے ہیں۔  یہ تأثر بھی پیدا ہو رہا ہے گویا ملک دو حصوں میں بٹ گیا ہے۔  یعنی  ایک وہ جو کرپٹ ہیں اور دوسرے وہ جو کرپٹ نہیں۔  خیال یہ کیا جا رہا ہے کہ  سیاسی حکومت کی رٹ فوجی قیادت کی  جانب کھسک چکی ہے۔ گو کہ حکمران جماعت اب بھی یہ سوچ رہی ہے کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں جبکہ ایسا نظر نہیں آتا۔  پتہ نہیں جمہوری حکومت ایک خوف کا شکار کیوں ہے۔  یوں تو  وہ اپنی سیاسی اور انتظامی  ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔  اس طرز عمل سے ملک میں امور مملکت متأثر ہو رہے ہیں۔ اس ضمن میں وزیر داخلہ  چوہدری نثار کا بیان  سول حکومت اور ملٹری ایک پیج پر ہیں اور تمام امور وزیر اعظم کے اختیار میں ہیں، بھی دلچسپ ہے۔  حیرت اس بات پر کہ وزیر داخلہ کو یہ بیان دینے کی کیوں ضرورت پیش آئی اور یہ کہ جنرل راحیل شریف وزیر اعظم کی باقاعدہ اجازت سے امریکہ کے دورے پر گئے ہیں۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے؟ 

 اس سے قبل سابق صدر ایوب خان کے دور میں یہ واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ اس وقت وہ دور بہت خوشحال اور ترقی یافتہ تھا۔ پاکستانی حکومت نے  کئی ممالک کو امداد بھی دی تھی۔  بڑے بڑے اقتصادی  منصوبے شروع کئے۔  زرعی اصلاحات  کے علاوہ  منگلا اور تربیلا ڈیم،  اسٹیل مل  کا منصوبہ دیگر اہم ترقیاتی منصوبے خوشحالی کی کہانی سناتے تھے۔  یہ ایک سنہری دور تھا۔عوام کی نظریں ایک بار پھر اور امید کی کرن کے طور پر جنرل راحیل شریف کی طرف اٹھ رہی ہیں۔جس کی وجہ سے سیاست عدم توازن کا  شکار ہو رہی ہے۔حالیہ دنوں میں دونوں کی طرف سے جو بیانات سننے کو ملے  ہیں، وہ اس کی نشان دہی کرتے ہیں۔ فوج کا یہ مؤقف درست ہے کہ حکومت ان کے ساتھ نیشنل ایکشن پلان کے دوسرے اور تیسرے حصے کے لئے تعاون نہیں کر  رہی۔   اسی لئے فوج نے حکومت  کی بیڈ گورنس کا  ذکر کیا ہے۔گزشتہ سال21ویں ترمیی بل قومی اسمبلی سے  پاس ہونے کے باوجود  فوجی عدالتوں کے قیام اور ان عدالتوں میں کیسز بھیجنے میں حکومت تعاون نہیں کر رہی۔ بالخصوص صوبہ  سندھ کرپشن کی وجہ سے بری طرح متأثر ہے ۔

سابقہ  جنرلوں اور شہدأ کے پوسٹر تو شائع ہوتے رہے ہیں،  البتہ حاضر  سروس جنرل کے پوسٹر شائع ہونا نئی بات ہے۔ یہ عوامی رجحان ہے۔ دو سال قبل جنرل ظہیر الاسلام کے پوسٹروں سے ابتدا ہوئی تھی جب صحافی حامد میر پر کراچی میں قاتلانہ حملے کے بعد جنرل  کے خلاف جیو گروپ نے  شدید رد عمل دکھایا تھا۔  اور پھر اچانک جنرل ظہیرالاسلام سے اظہار یکجہتی کے لئے  مذہبی اور سیاسی عناصر سامنے آنے لگے۔  اسی طرح آ ج کل  جنرل راحیل شریف کے پوسٹر جگہ جگہ نظر آ رہے ہیں۔   ہمارے یہ جمہوری سیاسی حکمران بادشاہوں کی طرز پر عوام پر حکومت کر رہے ہیں۔ہر طرف لوٹ مار کا بازار گرم ہے۔جبکہ  عوام  نئے  ٹیکسوں کے بوجھ تلے  منہگائی اور قحط سالی کا شکار ہو رہی ہے۔  تعلیم،  طبی سہولتیں،  صاف پانی،  بجلی اور گیس کی بنیادی سہولتوں سے عوام  محروم ہیں۔حالیہ بلدیاتی الیکشن نے تو حد ہی کر دی۔ غیر قانونی، دھاندلی، بد انتظامی اور روپے کا بے دریغ استعمال  دیکھنے کو ملا۔ جس سے ہر ذی شعور انسان جمہوریت سے توبہ کرنے لگا ہے۔  ان انتخابات میں  صوبوں کی حکومتوں نے حکومتی مشینری کا استعمال کیا۔ اس نے جمہوریت کے حسن کو مزید داغدار بنا دیا ہے۔  اس پر ظلم یہ کہ الیکشن کمیشن کا تمام عملہ خاموش تماشائی بنا رہا اور اس  جرم میں یہ برابر کا  قصور وار  ثابت ہؤا۔ پہلے تو   ایم این اے اور ایم پی اے بننے کے لئے کروڑوں روپے خرچ ہوتے  تھے،  اب بلدیاتی الیکشن میں بھی لاکھوں کروڑوں خرچ ہوتے دیکھے گئے اس طرح  یہ جمہوری سیاست  کسی شریف اور عام آدمی کے بس کی نہیں رہی۔  یہ جمہوریت ایک ایسے ڈرامے کا نام بن گئی  ہے جس میں طاقت ور گروہ اپنی دولت اور اثر و رسوخ کی بدولت  کامیابی حاصل کرتے ہیں۔  پھر عوام کا نام لے کر ایسی حکومت کے کل پرزے بن جاتے ہیں جو صرف مفاد یافتہ طبقوں کی ضرورتوں کو پورا کرتی ہے۔ اس میں ہمارا میڈیا بھی قصور وار ہے جو اس وقت ان کا ساتھ دیتا ہے بلکہ حکومتیں ان کو خرید لیتی ہیں۔

جنرل راحیل شریف بیرونی سطح پر بھی مقبول ہیں۔  اسی لئے دنیا کی بڑی بڑی حکومتیں ان کو غیر معمولی عزت  دیتی ہیں  اور والہانہ استقبال کرتی ہیں۔ حالیہ امریکہ کا دورہ   فقیدالمثال تھا۔ حکومت کا وزیر خارجہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ  اپنے طور پر بطور وزیر خارجہ  بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔پاکستان کے ابتدائی چھ سالوں میں  کامیاب خارجہ پالیسی رہی  تھی۔  وہ دور پاکستان کے لئے مثالی، کامیاب اور سنہرا دور تھا۔ جس میں پاکستان نے تمام دنیا میں بالخصوص عالم اسلام میں اپنا نام پیدا کیا۔ ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کو اب متبادل جمہوری نظام کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں اب سرجیکل آپریشن ضروری ہو گیا ہے۔  اس کے بغیر کرپشن ختم کرنا  اور گڈ گورنس بحال کرنا ممکن  نہیں۔ قائد اعظم کی فکر  کی روشنی میں صدارتی نظام حکومت  قائم ہونا چاہئے۔ امید ہے آنے والا نیا سال ان حالات کی نشاندہی
 کرے گا۔ اس طرح کشیدگی کی فضا ختم ہو جائے گی اور آسمان صاف نظر آنے لگے گا۔

اللہ کرے پاکستان کو ایسے حکمران میسر آئیں جو عدل و انصاف پر قائم رہیں اور پاکستان  کا عام شہری اور ہمار ی اقلیتیں  اپنا کھویا  ہؤا مقام حاصل کریں جو  دنیا میں کسی وقت  ہماری پہچان تھی۔