بلدیاتی انتخابات کا آخری مرحلہ
- تحریر حسین شہادت
- منگل 01 / دسمبر / 2015
- 4818
ملک میں یہ پہلی بار ممکن ہوا ہے کہ یہاں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کسی جمہوری حکومت کے زیر انتظام ہوگا۔ اسے جمہوریت کا حسن کہا جاسکتا ہے ۔ انتخابات کا یہ سلسلہ تو 2013ء ہی سے شروع ہو گیا تھا اور اس کا آغاز بھی پاکستان کے سب سے زیادہ شورش زدہ صوبے بلوچستان سے ہوا جو یقیناًخوش آئند امر ہے۔ البتہ ان انتخابات کو مکمل ہونے میں وقت زیادہ لگا ۔مگر دیر آید درست آید کے مصداق یہ ملک کے عوام کے لئے اچھی خبر ہے۔ اگرچہ دوسرے صوبوں میں بلدیاتی انتخابات کے سلسلہ مین سست روی کا مظاہرہ کیا گیا لیکن سپریم کورٹ کے حکم کی وجہ سے ان کا انعقاد ممکن ہؤا ہے۔
رواں سال خیبر پختون خواہ میں لوکل باڈیز الیکشن ہوئے اور اب صوبہ پنجاب اور سندھ میں مرحلہ وار انتخابات کا انعقاد کیا جارہا ہے ۔ صوبہ پنجاب اور سندھ میں ہونے والے گزشتہ دو مراحل کے انتخابات میں کافی گہما گہمی اور جوش و خروش پایا گیا اور ساتھ ہی اس بات کا بھی تعین ہوگیا کہ سیاسی جماعتوں میں اپنے ہی اندر کس قسم کی صورتحال پائی جاتی ۔ پنجاب میں میانوالی ، لاہور ، گوجرانوالہ ، فیصل آباد و غیرہ اور سندھ میں ہونے ہونے والے انتخابات میں کئی اضلاع میں پرانی اور نئی سیاسی جماعتوں کے مابین کافی گرما گرمی دیکھی گئی ۔ حیدرآباد ، بدین اور لاڑکانہ میں سیاسی جماعتوں کی پوزیشن بھی واضح ہوگئی کہ کہاں پر کس کا کتنا اثرورسوخ ہے ۔ میاں والی جو کہ پی ٹی آئی کا گڑھ سمجھا جارہا تھا وہاں پر کامیاب ہونے والوں کی اکثریت آزاد امیدواروں کی رہی۔ جبکہ تحریک انصاف مجموعی طور پر دوسری کامیاب جماعت کی حیثیت سے ابھر کرآئی۔ اس طرحیہ تاثر کسی حد تک زائل ہوگیا کہ عمران خان کی جماعت میانوالی ضلع کی مقبول ترین جماعت ہے ۔
فیصل آباد میں مسلم لیگ( ن) کے دھڑوں میں ذبردست مقابلہ ہواجو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پارٹی میں کس قدر کشیدگی پائی جاتی ہے جبکہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے امیدوار خال خال ہی کامیاب ہوئے۔ لاڑکانہ میں پی پی پی نے میدان مارا اور بدین میں پیپلز پارٹی ہی پیپلز پارٹی کے مدمقابل تھی۔ سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ذوالفقار کے روپ میں یہ جماعت اس ضلع میں انتشار کا شکار نظر آئی۔
اسی طرح حیدر آباد میں 1988 ء سے ایم کیو ایم مقبول ترین جماعت تصور کی جاتی ہے۔ اس نے حسب سابق اس بار بھی اپنا لوہا منوالیا ہے ۔ اور ثابت کیا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ ہی اس ضلع کے عوم کے دلوں پر راج کررہی ہے ۔ ان انتخابات کے ذریعے اقتدار ملک میں نچلی سطح پر منتقل کرنے کی کوشش کا آغاز ہوا ہے۔ اب تک کے نتائج نے عوام پر واضح کردیا ہے کہ چاروں صوبوں کی زنجیر پی پی پی اب صرف اندرون سندھ تک محدود ایک سیاسی جماعت بن کر رہ گئی ہے ۔
اب تک منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے سندھ اور پنجاب کی حکومتوں کا دعویٰ ہے کہ ان مراحل کے دوران کسی قسم کی ہنگامہ آرائی یا بدنظمی نہیں ہوئی ۔ الیکش کمیشن کی جانب سے وضع کئے گئے ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کو یقینی بنایا گیا ہے۔ تاہم غیر جانبدار ادارے جبکہ فافن کی رپورٹ کے مطابق ایسا نہیں ہوا ۔ فافن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سندھ اور پنجاب میں ہونے بلدیاتی انتخابات میں 7887بے ضابطگیاں ہوئیں اور کئی مقامات پر خواتین کو ووٹ ڈالنے سے روکا گیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق سندھ اور پنجاب کے 2108پولنگ اسٹیشنوں پر بے ضابطگیا ں نوٹ کی گئی ہیں۔ وہاں انتخابی قوانین کی بے دریغ خلاف ورزی کی گئی ۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ انھیں روکنے کی کوئی کوشش بھی نہیں کی جاسکی ۔ اکثر اضلاع میں متعلقہ حکام نے الیکشن کمیشن کے احکامات ماننے سے انکار کیا۔ الیکشن کمیشن اپنے ضابطہ اخلاق کی عمل داری میں بے بس نظر آیا ۔ سندھ اور پنجاب کے 30 فیصد پولنگ اسٹیشنوں کی حدود کے 200میٹر کے اندر انتخابی مہم چلتی رہی تھی۔ پنجاب میں 25اور سندھ میں262 پولنگ اسٹیشنوں پرسیاسی پارٹیوں کے امیدوار اور سیاسی ورکرز تشہیری مہم چلاتے رہے جو قواعد کی خلاف ورزی ہے۔پولنگ اسٹیشنز پر تربیت یافتہ اسٹاف کا فقدان تھا۔
دونوں صوبوں کے 15 فیصد پریزائڈنگ آفیسرز کا کہنا تھا کہ ان کے پاس پولنگ اسکیم ہی نہیں تھی ۔ فافن کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے کی نسبت دوسرے مرحلے میں انتخابی عمل بہت حد تک پرامن تھا البتہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی وجہ سے ووٹنگ کا عمل متاثر رہا ۔
یہ صورتحال تو گزشتہ دو مرحلوں سے متعلق تھی لیکن 5دسمبر کو ہونے والا آخری راؤنڈ بہت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ اس مرحلہ میں پاکستان کی معاشی شہہ رگ کراچی شامل ہے ۔ اس شہر میں ایک عرصہ سے حالات کشیدہ ہیں ۔ اس بار تقریباً تمام جماعتیں میدان میں ہیں۔ گزشتہ ادوار کا جائزہ لیا جائے تو یہاں مجموعی طور پر دو جماعتوں نے ہی میئر شپ حاصل کی ہے ۔ ایک جماعت اسلامی اور دوسری جماعت متحدہ قومی موومنٹ ہے ۔ 1979 سے 1987 تک جماعت اسلامی کے عبدالستار افغانی ، جنور ی 1998 سے جولائی 1992 تک ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار، اگست 2001 سے مئی 2005 تک جماعت اسلامی کے نعمت اللہ خان ایڈووکیٹ اور اکتوبر 2005 سے فروری 2010 تک کراچی کی نظامت کی ذمہ داری متحدہ کے مصطفی کمال کے کاندھوں پر تھی۔ عبدالستار افغافی کے مد مقابل کوئی بڑی سیاسی یا غیر سیاسی جماعت نہیں تھی ۔ ڈاکٹر فاروق ستار جب میئر منتخب ہوئے تو اس وقت جماعت اسلامی نے انتخابات کا بائیکاٹ کررکھا تھا ۔ اسی طرح نعمت اللہ خان کے ناظم منتخب ہونے کے موقع پر ایم کیو ایم نے انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا۔ مصطفی کمال کے میئر بننے کے موقع پر بھی جماعت اسلامی نے کا انتخابات میں حصہ نہیں لیا تھا ۔ یہ بات طے ہے کہ جماعت اسلامی اور متحدہ اس شہر کی دو بڑی جماعتیں ہیں جو باری باری شہر پر حکمرانی کرچکی ہیں۔ لیکن یہ حکمرانی دوسری جماعت کی غیر موجودگی میں قائم ہوئی تھی۔ لیکن اس بار نہ صر ف یہ کہ دونوں جماعتیں سرگرم ہیں بلکہ پی ٹی آئی سمیت دیگر کئی سیاسی جماعتیں بھی کراچی کے سیاسی منظر نامہ کا حصہ بن رہی ہیں ۔ البتہ پی پی پی بدستور شہر کی غیر مقبول جماعت ہے ۔ پی پی پی صوبائی یا قومی اسمبلی کی نشستوں کے لحاظ سے بھی یہاں کبھی قابل ذکر کامیابی حاصل نہیں کرسکی۔
کراچی شہر کا نقشہ آبادی کے لحاظ سے بھی بڑا منفرد ہے ۔ شہر میں داخل ہوں تو سہراب گوٹھ اور وہاں سے چاروں جانب سرحدی پٹی پر پشتون آباد ہیں ۔ اندرون شہر میں کہیں اردو بولنے والے اکثریت میں ہیں تو کہیں دیگر زبانیں بولنے والے گروہی صورت میں آباد ہیں ۔لہذٰ ا یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہاں کوئی بھی سیاسی جماعت کوئی بڑی کامیابی سے ہم کنار ہوگی ۔ جماعت اسلامی نے مجوزہ انتخابات میں تحریک انصاف سے سیاسی اشتراک قائم کیاہے۔ دونوں جماعتیں مل کر کراچی انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔ اس سے ان دونوں جماعتوں کو ممکنہ طور پر فائدہ ہوسکتا ہے۔ تاہم یہ انتخابی اتحاد اے این پی کیلئے خوش آئند نہیں ہوگا۔ اے این پی نے جے یو آئی کے سیاسی مفاہمت کرلی ہے۔ متحدہ اکیلے ہی ان انتخابات میں حصہ لے رہی ہے ۔
ایم کیو ایم کیلئے ایک صدمہ یہ ہے کہ 11مارچ 2015میں نائن زیرو پر رینجرز کے چھاپے کے بعد اس کی مقبولیت پر کافی اثر پڑا ہے ۔ ان دنوں بھی اس کے کئی نامزد امیدوار رینجرز کی تحویل میں ہیں جس کا کسی حد تک فائدہ آفاق گروپ کو ہوسکتا ہے ۔ 2013 ء کے عام انتخابات میں سب سے پہلے کراچی میں 11 مئی کو ٹھیک الیکشن والے دن دھاندلی کا شور بلند ہوا تھا۔ جماعت اسلامی نے دوران پولنگ اس کا انکشاف کرتے ہوئے ، اسی وقت بائیکاٹ کا اعلان کردیا تھا۔ بعدازاں شہر کی دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی یہاں دھاندلی کی آواز بلند کی۔ تحریک انصاف نے اپنی ناکامی کے بعد ہی اس پورے انتخاب کو ملی بھگت اور اس کے نتیجے میں قائم ہونے والی حکومت کو جعلی کہا تھا۔ اس بار تمام سیاسی جماعتیں میدان میں ہیں لہذٰا اس بات کا بھی امکان ہے کہ کسی بھی طرح کی بدانتظامی یا غفلت کی صورت میں انتخابات کی غیر جانبدارانہ حیثیت پر سوال سامنے آئیں۔
کراچی میں ہونے والا بلدیاتی انتخابات کا تیسر ا مرحلہ جہاں سیاسی جماعتوں کیلئے اہمیت رکھتا ہے وہیں عوام کیلئے بھی اس کی اہمیت بہت ذیادہ ہے۔ بہت عرصہ مسائل کا انبا ر جمع ہے ۔ بنیادی سہولتوں کا فقدان ہے ۔ امن وا مان کے علاوہ شہری سہولتیں جیسے سیوریج ، سڑکوں گلیوں کی مرمت اور پینے کے صاف پانی کا مسئلہ جان لیوا ثابت ہورہا ہے ۔ لوگ صبح سے رات گئے تک پانی کے حصول کے لئے سرگرداں رہتے ہیں ۔ صوبائی اور وفاقی سطح پر عوامی مسائل پر غفلت نے انہیں مایوس کردیا ہے۔ لوکل باڈیز الیکشن سے یہ امید ہوچلی ہے کہ اب عوام کی مشکلات میں کمی واقع ہوگی ۔
کراچی شہر کی بد قسمتی ہے کہ یہاں جب بھی کوئی مثبت پیش رفت ہونے لگتی ہے تو حالات کی خرابی آڑے آجاتی ہے ۔ ان دنوں جبکہ پورا شہر انتخابات کی گہما گہمی میں مصروف ہے ، ایک بار پھر حالات کو خرابی کی جانب موڑا جارہا ہے۔ اس لئے عوامی حلقوں میں خدشہ پایا جارہا ہے کہ شاید موجودہ حالات انتخابات کی معطلی کا باعث نہ بن جائیں ۔ گوکہ حکومت اور رینجرز سمیت تمام قانون نافذکرنے والے اداروں کی جانب سے حالات کی بہتری اور بلدیاتی انتخابات کے پرامن انعقاد کی بھر پور یقین دہانی کرائی جارہی ہے۔ لیکن عوام
میں مایوسی بہر طور موجود ہے۔ دگرگوں حالات کے باوجود بلوچستان جیسے شورش زدہ اور کے پی کے جیسے پر آشوب صوبے میں الیکشن کرانا خوش اسلوبی سے طے پا چکے ہیں۔ اس لئے یہ امید کی جا سکتی ہے کہ سندھ اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا تیسر امرحلہ بھی نہایت پرامن ہو گا۔ اور کراچی کی کھوئی ہوئی رونقیں بحال ہوجائیں گی۔