ماہرین کی ہجرت، سنگین مسئلہ
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 01 / دسمبر / 2015
- 4164
نوبل انعام یافتہ برطانوی سائنس دان سر اینڈریو ہکسلے کا نام تو ہم میں سے بہتوں نے سنا ہو گا۔ وہ رائل سوسائٹی لندن کا حصہ بھی رہے۔ حال ہی میں ان کا ایک لیکچر پڑھنے کا اتفاق ہؤا۔ عنوان تھا ” سائنس اور سیاست “۔ انہوں نے لکھا کہ سائنس کی تحقیقات میں جو غیر معمولی سائل درکار ہوتے ہیں وہ اس وقت صرف ترق یافتہ ملکوں کو حاصل ہیں اور یہ سب کچھ صرف مغربی یورپ کے ممالک میں ’اتحادی پروگرام‘ کے ذریعہ ممکن ہؤا ہے نہ کہ ذاتی وسائل کے ذریعہ۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اس معاملے میں سب سے زیادہ دردناک صورت حال غیر ترقی یافتہ ممالک کی ہے۔ وہ سائنسی تحقیقات میں بہت پیچھے ہیں حالانکہ ترقی یافتہ صنعتی ممالک بہترین صلاحیتوں کے مالک دماغوں کو انہی غیر ترقی یافتہ ممالک سے لے رہے ہیں۔
کیا یہ عجیب بات نہیں کہ جن نوجوانوں کے سرپرستوں نے مغربی قوموں سے لڑائی کی تھی کہ وہ ان کے ملکوں کو لوٹ رہے ہیں اور بے پناہ قربانیوں کے بعد ان سے آزادی حاصل کی تھی، اب انہیں کی بہترین اولاد خود اپنی مرضی سے بھاگ بھاگ کر ان ملکوں میں جا رہی ہے۔ تاکہ وہ ان کی صلاحیتوں کو لوٹیں اور ان کے ذریعہ اپنی عالمی قیادت کو برقرار رکھیں۔ اس لوٹ مار سے بچنے کی واحد صورت وہی ہے جس کو موجودہ زمانے میں برطانیہ نے اختیار کیا ہے یعنی ایشیا میں مختلف ممالک کے مشترکہ وسائل سے اعلیٰ ترین سائنسی تحقیق کا آغاز کرنا۔ تاکہ ان ملکوں کے اعلیٰ سائنسی ذہنوں کو خود اپنے ملک میں کام کے وہی مواقع مل سکیں جس کے لئے وہ مغربی ملکوں میں جاتے ہیں یا مستقل ہجرت کر جاتے ہیں۔
غیر ترقی یافتہ ممالک یعنی تیسری دنیا میں دو ملک ایسے بھی ہیں جو حقیقی معنوں میں اتحاد و اشتراک کے ذریعہ کام کرنے کیلئے تیار ہیں۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ تخریب کے عنوان پر لوگوں کو متحد کرنا سب سے زیادہ آسان کام ہے اور تعمیر کے عنوان پر متحد کرنا سب سے مشکل کام۔ کیسی عجیب تھی وہ آزادی جو خون کے بہاﺅ کے ذریعہ حاصل کی گئی تھی اور کیسی عجیب ہے وہ غلامی جو صلاحیتوں کے بہاﺅ کے ذریعے دوبارہ ہماری طرف لوٹ آئی ہے۔ آپ اس تلخ حقیقت سے یقیناً واقف ہوں گے کہ ترقی پذیر ملکوں سے ہر سال پچاس ہزار اعلیٰ تعلیم یافتہ ماہرین اور سائنس دان اپنے ملکوں کو خیرباد کہہ کر مغربی ممالک میں چلے جاتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی ” تجارت اور ترقی“ کی رپورٹ میں جو اعدادوشمار فراہم کئے گئے ہیں، وہ بے حد چونکا دینے والے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 2005 اور 2010 کے عشروں میں تیسری دنیا کے پانچ لاکھ ماہرین نے ترقی یافتہ ملکوں کی طرف ہجرت کی۔ یوں ان کی غریب قوموں کو ایک کھرب ڈالرز (جی ہاں 100000000000 امریکی ڈالر) کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ دوسری طرف مغربی ممالک ان ماہرین کے آنے سے 15 ارب ڈالرز کی سالانہ بچت کرتے ہیں۔ صر ف امریکہ میں بسنے والے اور کام کرنے والے غیر ملکی ڈاکٹروں کی تعداد 72% ہے۔ ناسا جیسے اہم ادارے میں صرف بھارتی 42% افراد کام کرتے ہیں۔ امریکی ایوان نمائندگان کے امور خارجہ کے شعبہ کے جاری کردہ ایک مطالعہ کے مطابق 1996-1992 میں تیسری دنیا کے تربیت یافتہ افرادی قوت کی امریکہ کو منتقلی کی بنا پر امریکہ کو دو ارب ڈالرز کا فائدہ پہنچا تھا جسے ” قابل قدر وسائل کا رضاکارانہ تحفہ“ قرار دیا گیا تھا۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ اس رپورٹ میں ٹھوس اعدادوشمار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 1981 سے 1991 تک کے دوران امداد دینے والے تین بڑے ملکوں امریکہ، برطانیہ اور کینیڈا نے تیسری دنیا کے غریب ملکوں کو 46 ارب ڈالرز کی امداد فراہم کی۔ دوسری طرف غریب قوموں کے ماہرین کی آمد سے ان تینوں ملکوں کو 62 ارب ڈالرز کا فائدہ پہنچا تھا۔ 2005 کے عشرے میں تیسری دنیا کے پانچ لاکھ ماہرین نے ترقی یافتہ مغربی ملکوں میں ہجرت کی۔ سائنس دانوں، انجینئروں، ڈاکٹروں اور بے شمار دیگر شعبوں کے ماہرین کی محض یہی تعداد ان ماہرین کی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہے جنہوں نے مغربی دنیا کی کایاپلٹ دی تھی۔
ایشیا اور جنوبی امریکہ کے بہت سے ملکوں کی صورت حال یہ ہے کہ ہر سال جتنے ماہرین تیار ہوتے ہیں، ان کا 20 سے 70 فیصد حصہ مغربی ملکوں کی طرف ہجرت کر جاتا ہے۔ یوں یہ ملک صنعتی دور میں داخل ہونے کے لئے ضروری سائنسی اور فنی مہارت سے محروم کر دیئے جاتے ہیں۔
پاکستان تیسری دنیا کے ان بدقسمت ملکوں میں شامل ہے جس کے اعلیٰ تربیت یافتہ ماہرین کا ایک بڑا حصہ ترقی یافتہ ملکوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے اس سے ملک اور قوم کو جو نقصان اٹھانا پڑتا ہے اس کا سائنسی انداز میں کبھی جائزہ نہیں لیا گیا۔ البتہ پاکستان کے وزیر اعظم اپنی ہر دوسری پریس کانفرنس میں یہ ضرور بتاتے رہتے ہیں کہ غیر ملکوں میں مقیم پاکستانیوں کی طرف سے کتنے کروڑ روپے کی آمدنی متوقع ہے۔
مغربی حکومتیں ماہرین کے اس بہاﺅ پر دل ہی دل میں خوش ہوتی ہیں لیکن جب ان سے اس کا ازالہ کرنے کا کہا جاتا ہے تو وہ اسے حیلے بہانوں سے ٹال دیتی ہیں۔ یہ نقصان عارضی ہو تو شاید غریب قومیں اسے برداشت کر سکتی ہیں لیکن سچی بات یہ ہے کہ اس کے اثرات بے انتہا دوررس ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ماہرین کی ہجرت پسماندہ ملکوں کی جنگ و جدل اور تعلیمی پسماندگی کو برقرار رکھنے کی وجہ بن رہی ہے۔ ماہرین کی ہجرت روز بروز بڑھ رہی ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں نے اس سلسلے میں غریب قوموں کی مدد کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ وہ یہی رٹ لگائے ہوئے ہیں کہ ہم نے انہیں آنے پر مجبور تو نہیں کیا۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان ملکوں کے آپس کے جھگڑے ختم ہوں تو یہ ممالک ترقی کی راہ پر گامزن ہوں اورپھر تیسری دنیا کے حکمران ماہرین کے لئے حالات کو سازگار بنائیں تو ہجرت خودبخود ختم ہو جائے گی۔
پیارے قارئین! یہاں تک کالم لکھا تھا کہ آج کے ڈچ اخبار میں پاکستانی فوج کے سابق سربراہ اور سابق صدر پرویز مشرف کا یہ بیان نظر سے گزرا ” کشمیر کا مسئلہ حل بھی ہو گیا تو بھی بہت سے مسائل باقی ہیں“۔
واضح رہے کہ جنرل صاحب کے بیان کا میرے موجودہ کالم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔