مدعی سست گواہ چست
- تحریر محمد آصف اقبال
- منگل 01 / دسمبر / 2015
- 6154
ہر زمانے میں مختلف نظریات مد مقابل رہتے ہیں ، کچھ ایسی صورت حال اس وقت ہندوستان میں بھی پائی جاتی ہے۔ تاہم بہت سے لوگ ایسے بھی پائے جاتے ہیں جو ہوا کا رخ دیکھ کر اپنا طرز عمل متعین کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک توآزاد ہوگیا لیکن یہ بڑا طبقہ آ ج بھی ذہنی غلامی سے نجات نہیں پا سکا۔دوسری جانب اکثریتی مذہب کے پیروکاروں کو یہ اطمینان رہتا ہے کہ حالات چاہے کچھ بھی ہوں کم از کم وہ اپنے مذہب پر تو عمل پیرا ہیں۔ لیکن اگر مذہب اور مذہبی بنیادوں پر رائج معاشرتی رسم و رواج پر عمل آوری دشوار گزار ہوجائے تو پھر یہی بڑا طبقہ جو بظاہر خاموش نظر آتا ہے، وہ بھی ایک عجیب تذبذب میں مبتلا ہو سکتا ہے ۔ پھر یہ خاموشی یا عدم دلچسپی چینخ و پکار میں تبدیل ہو جائے گی۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ جب کوئی نظریہ وقوع پذیر ہوتا ہے تو اُس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں اپنا نظام قائم کرے۔باالفاظ دیگر وہ عوام میں رائے ہموار کرنے تک ہی محدود نہیں رہتا بلکہ ہر ممکن طریقہ سے وہ اقتدار کے حصول کی سعی و جہد بھی کرتا ہے۔
اب دیکھتے ہیں کہ ہندوستان میں نظریاتی اور فکر ی اعتبار سے کتنے قسم کے گروہ سرگرم عمل ہیں۔ عددی طاقت کے اعتبار سے سب سے بڑا نظریہ ہندوتو وادی یا منو وادی نظریہ ہے۔ دوسری جانب سماج واد یا سوشلزم،کمیونزم اور اسلام ہے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندوستانی آئین، ملک کے شہریوں کو یہ آزادی فراہم کرتا ہے کہ ہر نظریہ و اس کے حاملین دستور ہند میں دیئے گئے حقوق کی روشنی میں مخصوص نظریہ پر نہ صرف عمل کرسکتے ہیں بلکہانہیں اس کے فروغ کی بھی آزادی ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کے بڑے مذاہب کے تمام ہی افراد ہمارے ملک میں موجود ہیں۔یہاںیہودی ، بدھد سٹ، عیسائی اور مسلمان سبھی موجود ہیں۔ سکھ اور جین بھی یہاں رہتے ہیں۔ ان سب کے علاوہ لوک مذہب،بہائی مت وغیرہ کے علاوہ کافی تعداد ایسے افراد کی بھی ہے جو خود کو لامذہبیت کا علمبردارکہتے ہیں۔یہا ں بھی مذہب و عقیدہ کے اعتبار سے آئین ہند یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ تمام مذاہب و لامذاہب کے ماننے والے اپنے مخصوص مذہب ،عقیدہ اور فکر پر نہ صرف آزادانہ عمل درآمد کر سکتے ہیں بلکہ اس کے فروغ کے لیے تبلیغ و تشہیر بھی کرسکتے ہیں۔
ان دو بنیادی نکات کی روشنی میں یعنی نظریہ و فکر پر عمل درآمد اور اس کی تبلیغ کی آزادی ۔نیز مذہب کے اختیار کرنے کی آزادی اور اس کی تبلیغ کی اجازت،واضح کرتا ہے کہ ہندوستان کا آ ئین آج بھی حد درجہ لچک دار ہے۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ فکر و نظریہ اور مذہب کے اعتبار سے یہاں اکثریت و اقلیت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔اس صورت میں اگرلامذہبیت کے علمبردار یہ خواہش رکھیں کہ وہ چونکہ دیگر مذاہب کے افراد کی تعداد و قوت کے لحاظ سے کمزور ہیں لہذا دیگر بھی اپنے مذہب کے فروغ و تبلیغ کی سعی و جہد نہ کریں تو یہ بات کسی کو بھی تسلیم نہیں ہوگی۔ کیونکہ یہ ایک غیر منطقی و غیر دستوری بات ہے۔ جس طرح کم تعداد ، مخصوص مذہب پر عمل اور اس کے فروغ میں مانع نہیں ہے، ٹھیک اسی طرح اکثریتی گروہ کو بھی اختیار ہے کہ وہ اپنی اکثریت میں مزید اضافہ کرنے کی کوشش کرسکے۔
اس پورے پس منظر میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب ملک کا آئین اس قدر لچک دار ہے،آزادیاں اور اختیارات بھی حاصل ہیں،تو پھر کیوں ملک میں گزشتہ چند ماہ سے رواداری اور عدم روادی کی بحث جاری ہے۔کیوں ملک کے حالات خراب ہوتے نظر آرہے ہیں اور ملک کا سوچنے سمجھنے والا طبقہ حالات سے حیران و پریشان ہے۔کیوں سماج کے منتشر ہونے اور بکھرنے کی باتیں کہی جا رہی ہیں؟کیوں ان حالات سے عدم اتفق کرتے ہوئے تشویش کا اظہار ہو رہا ہے۔ کیوں یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ ایک فکر اور ایک نظریہ کے حاملین کے سوا دیگر افکار و نظریات کمزور پڑتے جا رہے ہیں۔ دنیا کو آج اس بات کا کیوں احساس ہو رہا ہے کہ ہندوستان کی حکومت ہندوؤں کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ اس طرح کے بے شمار سوالات کے جواب تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن ہمارے خیال میں ان سوالات کے جوابات کی کھوج کے ساتھ دیگر نظریہ اور فکر کے حاملین اپنے نظریات اور فکر کو فروغ دینے کی بھی کو شش کریں۔کیونکہ صرف تشویش سے با ت نہیں بنتی ۔ خصوصاً اس صورت میں جبکہ مذہب،عقیدہ اورنظریہ کے فروغ کے مکمل اختیارات بھی حاصل ہوں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ کوئی نظریہ اس وقت تک عوامی نظریہ نہیں بن سکتا جب تک کہ اس کے فروغ کی منظم و منصوبہ بند کوشش نہ کی جائے۔ ا س کے لئے اخلاص پر مبنی سعی و جہد درکار ہے اور فرد کے معاملات و کردار میں نظریہ کی عکاسی لازمی شرط ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے علاوہ ک کوئی دوسرا گروہ کو اپنی مخصوص شناخت میں موجود نہیں ہے۔چاہے وہ سکھ ہوں جو اگرچہ مخصوص لباس میں مزین نظرآتے ہیں، یا جین ہوں، بدھدسٹ یا پھربہائی ۔یہاں تک کہ عیسائیت پر عمل کرنے والے ہی کیوں نہ ہوں۔ یہ تمام لوگ مخصوص شناخت سے محروم ہیں۔مزید یہ کہ عقائدا گرچہ مختلف ہیں، اس کے باوجود نظریہ حیات سب کا ایک ہی ہے۔نہ کہیں معاشرتی بنیادوں پر تشخص برقرار ہے نہ رسم و رواج میں فرق اور نہ ہی عائلی نظام نمایاں و مخصوص ہے۔اگر کوئی اپنی مخصوص شناخت ،مخصوص نظریہ حیات ،مخصوص عقائد،افکار و نظریات اور عبادات کی بات کرتا ہے تو وہ اسلام ہے۔لہذاسیاسی اتار چڑھاؤ اور فوائد و نقصانات کو پس پشت ڈالتے ہوئے،مسلمانوں کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ اگر ان کے قول و عمل میں تضاد اسی طرح برقراررہا،تو پھر ہر سطح پر خمیازہ بھی مسلمانوں کو ہی بھگتنا پڑے گا۔ممکن ہے کچھ لوگ بظاہر آپ کے حق کی لڑائی لڑیں،لیکن جب تک مدعی خود ہی سست رہیں گواہ کیونکر چست ہوں گے؟اور اگر گواہ چست بھی ہو جائیں تو مدعی کو کیا حاصل!