سچ تو یہ ہے

بہت عجب بات ہے کہ پاکستان میں ابھی تک بہت سے دانشور اپنی تحریروں کے ذریعے پاکستانیوں کو گمراہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں کہ یورپ میں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا کیا جا رہا ہے۔ یہ بات نہ صرف غلط ہے بلکہ حقائق سے چشم پوشی کے مترادف ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ یورپ کے میں مسلمانوں کی بڑی تعداد برسوں سے قیام پذیر ہے اور اس کی کئی نسلیں پہاں پلی بڑھی ہیں۔ یہ لوگ ایسی زندگی بسر کر رہے ہیں جس کا تصور پاکستان سمیت کسی بھی جنوبی ایشائی ملک میں ممکن نہیں ہے ۔ اسلامی ممالک میں تو اس طرح کی آذاد زندگی کے بارے میں سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ اس وقت یورپ اور اسلامی ملکوں میں 70لاکھ کے قریب پاکستانی تارکین وطن ہیں۔ ان کے طرز زندگی اور مسائل کا مشاہدہ کریں تو پتہ چل سکے گا کہ یورپ میں رہنے والے اور اسلامی ممالک میں رہنے والے پاکستانیوں کی بود و باش میں کتنا اور کیا فرق ہے۔ کس ملک میں ان کو زیادہ حقوق حاصل ہیں او تحفظ میسر ہے۔۔ دنیا میں اس وقت 56 کے قریب مسلم ریاستیں ہیں اگر وہاں جمہوری اور انسانی اقدار زندہ ہوتیں تو مسلمان کیوں یورپ اور دیگر غیر اسلامی ممالک کا رخ کرتے ۔ اگر خود پاکستان کے اندر امن و امان کی حالت اچھی ہوتی ، ر وزگار میسر ہوتا، تعلیمی معیار بلند ہوتا ، اقلیت اور اکثریت کے نام پر امتیازی قوانین نہ ہوتے تو دیار غیر میں اپنوں سے دور کوئی نہ جاتا۔

پاکستان کے ان تنگ نظر اور تعصب زدہ کالم نگاروں کو خود اپنے ملک میں ہونے والے مظالم اور غیر انسانی سلوک کے وہ واقعات نظر نہیں آتے جو برسوں سے تسلسل کے ساتھ رونما ہو رہے ہیں ۔ ان میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ ہونے والا سلوک خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ اس کے بعد مسلم عورتیں ہیں جو انفرادی و اجتماعی زیادتیوں کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ کاروکاری اور قرآن سے شادی جیسی قبیج رسموں کا نشانہ بن رہی ہیں۔اگر یورپ میں پاکستانی مسلمان امن و سکون اور مکمل آزادی کے ساتھ نہ رہ رہے ہوتے تو کیسے اربوں کا سالانہ زرمبادلہ پاکستان کو بھجواتے جو کہ اس وقت پاکستان کی معشیت کا ایک اہم ذریعہ ہے ۔ اس طرح کی غلط اور جھوٹ پر مبنی تحریریں بیرون مقیم پاکستانیوں کے لئے مسائل کا باعث بنتی ہیں۔ سیاسی اور مذہبی رواداری اور جانی تحفظ جو یورپین ممالک میں پاکستانیوں کو میسر ہے اس کا کسی اسلامی ممالک میں تصور بھی ممکن نہیں ہے ۔

خود پاکستان میں 20 نومبر کو جہلم میں ہونے والے واقعہ میں ایک نصف صدی پرانی چپ بورڈ فیکٹری جو ایک احمدی کی ملکیت ہے کو نذرآتش کردیا گیا ہے۔ یہ سانحہ ایک سوالیہ نشان ہے ۔ حال ہی میں ایکسپریس ٹریبیون لاہور میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فیکٹری کو جلانے والے شراب پیئے ہوئے تھے اور یہ ساری کاروائی مذہبی منافرت کی بنا پر کی گئی ۔ اس سے قبل صوبائی وزیرقانون اس امر کا اعتراف کر چکے ہیں کہ فیکٹری میں اخبارات جلائے گئے تھے۔ مزید المیہ یہ کہ فیکٹری کو جلانے کے بعد ان کی عبادت گاہ کو بھی نذرآتش کردیا گیا اور سب دیکھتے رہے۔ یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی متعدد ایسے ہی شرانگیز حملوں کے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ مسیحیوں کی کالونیوں کو بھی نذرآتش کیا گیا تھا۔ سندھ میں ہندوؤں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ وہاں زبردستی تبدیلی مذہب روز کا معمول بن چکا ہے۔ اس ضمن میں سب ریاستی ادارے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

انسانی حقوق کے ایک بین الاقوامی ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال ایک ہزار مسیحی لڑکیاں زبردستی تبدیلی مذہب کا شکار ہو کر مسلمان کی جا رہی ہیں اور ایسا ہی ہندو لڑکیوں کے ساتھ بھی کیا جا رہا ہے۔ مذہبی آزادی کوکسی بھی انسان کے بنیادی حقوق میں نمایاں مقام حاصل ہے ۔ پاکستان میں گزشتہ تیس برسوں میں جس قدر مذہب کے نام پر استحصال کیا گیا ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ یہ بھی درست ہے کہ گزشتہ سالوں میں یورپ کے بعض ممالک جیسے ڈنمارک میں، بعض ایسے واقعات رونما ہوئے تھے جس سے مذہبی آزادی اور رواداری مجروح ہوئی تھی۔ لیکن ریاستی اور حکومتی سطح پر اس کی تلافی بھی کی گئی۔ بعض واقعات اسلامی انتہا پسندوں کی شرانگیزیوں کے جواب میں چھوٹے گروپوں کاردعمل ہوتے ہیں۔ لیکن ریاستی اور حکومتی سطح پر امتیازی پالیسی کی شاید ہی کوئی مثال ملتی ہو۔فرانس میں دہشت گردی کے موقع پر اکثر یورپین ممالک کے لیڈروں نے مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا مظاہرہ کیا تھا ۔ اپنے بیانات میں اس واقعہ کو اسلام اور مسلمانوں سے جوڑنے کی بھرپور مخالفت کی گئی تھی ۔ کچھ مقامی گرپوں کی طرف سے ردعمل دیکھنے میں آیا تھا لیکن ان کو بھی مکمل پذیرائی نہ مل سکی تھی ۔

شام، عراق۔ افغانستان سے آنے والے لاکھوں کی تعداد میں مسلم مہاجرین کو پناہ دینے والے بھی یہی یورپین ممالک ہیں۔ اس وقت متعدد اسلامی ممالک میں سالہاسال کی لڑائی کے نتیجہ میں لاکھوں کی تعداد میں مسلمان بے گھر ہوچکے ہیں۔ کچھ نہیں کہا سکتا کہ آیا وہ واپس دوبارہ اپنے گھروں کو جا بھی سکیں گے یا نہیں۔ جرمنی سمیت بیشتر ممالک کے لیڈروں نے اپنے مسائل کے باوجود ان مسلمان پناہ گزینوں کی مدد کا فیصلہ کیا ہؤا ہے۔ اگر ان کے خلاف ایک آواز اٹھتی ہے تو اس کے مقابلے میں بیسیوں آوازیں ان کی حمایت میں بھی اٹھتی ہیں۔ اس تمام تر انسانی ہمدردی کے باوجود پاکستان میں یورپین حکومتوں کے خلاف منفی پروپگنڈے کا کیا جواز ہے باقی رہ جاتا ہے۔

یورپ کی عدالتوں میں بہت سے ایسے فیصلے ہوئے ہیں جن میں مسلمانوں کے مذہبی عقائد اور تعلیمات کا مکمل احترام کیا گیا ہے اور مذہبی رواداری کے عالمی اصول کی پاسداری کی گئی ہے۔ لیکن کیا پاکستان کی عدالتوں سے کوئی ایسی ایک مثال دی جا سکتی ہے ۔98 فیصد کیسوں میں عدل کاخون کیا جاتا ہے اور بہت سے کیس خوف اور دباؤ کی نذر ہو چکے ہیں۔ سچ یہی ہے کہ یورپ میں مسلمانوں کے ساتھ ریاستی سطح پر کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں روا رکھا جاتا۔ یورپ میں مذہبی رواداری، مساوی حقوق اور انسانی احترام کا مواز نہ کسی اسلامی ملک کے ساتھ نہ تو کیا جاسکتا ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔