ترکی جنگوں کے گرداب میں
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- جمعرات 03 / دسمبر / 2015
- 4655
شام کی خانہ جنگی میں شامل مختلف مسلح گروہ، علاقائی اور عالمی طاقتوں کی پراکسی جنگ لڑ رہے تھے۔ 24 نومبر کو ترکی کی طرف سے روس کا SU-24 جنگی طیارہ گرانے کے بعد اس بات کا خدشہ بڑھ گیا ہے کہ اب یہ خانہ جنگی Non-State Actors کے ہاتھوں سے نکل کر علاقے کی ریاستوں کی طرف گامزن ہوگی۔
ترکی کا الزام ہے کہ روسی جنگی طیارے نے ترکی کی فضائی سرحد کی خلاف ورزی کی ہے۔ ترکی کے وزیراعظم احمت دعوت اولو نے اپنے ایک بیان میں یہ کہا ہے کہ ان کے حکم پر ترکی کے F16 طیاروں نے روسی جنگی طیارے پر میزائل داغے۔ روس کے صدر پیوٹن نے اپنے ملک کے جنگی طیارے کے گرائے جانے پر شدید ردِعمل کا اظہار کیا اور ان کا مؤقف ہے کہ روسی طیارہ شام کی سرحدوں کے اندر پرواز کر رہا تھا۔ پیوٹن نے ترکی سے سرکاری سطح پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔ روس ۔ مغرب تناؤ اس وقت شدید انداز میں ابھر کر سامنے آیا جب چند روز قبل صدر پیوٹن، صدر اوباما اور صدر طیب اردوآن سمیت G20 کے سربراہان انطالیہ کے ساحل سمندر پر اکٹھے ہوئے۔ جس میں روسی صدر پیوٹن نے ثبوت فراہم کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ G20 کے کچھ اور چالیس دیگر ممالک داعش کی مالی مدد کرتے ہیں اور وہ ان سے غیر قانونی تیل کی سمگلنگ سے بھی مستفید ہو رہے ہیں۔
روسی طیارہ گرائے جانے کے بعد روس ترکی تناؤ میں شدت آگئی ہے اور ترکی کا مؤقف ہے کہ وہ کسی صورت بھی معافی نہیں مانگے گا۔ ترکی، نیٹو کا دوسرا بڑا رکن اور امریکہ کا خطے میں اہم ترین اتحادی ہے۔ امریکہ کو ترکی میں باقاعدہ معاہدات کے تحت ہوائی اڈے استعمال کرنے کی سہولتیں بھی میسر ہیں، خصوصاً انجرلک کا ہوائی اڈہ ،امریکہ کا اہم ترین فضائی جنگی بیس ہے۔ جب ترکی نے روس کا طیارہ گرایا تو ترک حکام کو یقین تھا کہ نیٹو کارکن ملک ہونے کے ناتے نیٹو فوری طور پر ترکی کی نہ صرف حمایت کرے گا بلکہ نیٹو معاہدے کے مطابق نیٹو رکن پر حملے کو اپنے اوپر حملہ تصور کرتے ہوئے فوری سخت گیر مؤقف اپنائے گا۔ روسی طیارہ گرائے جانے کے بھی بعد نیٹو کا ہنگامی اجلاس منعقد ہؤا تو ترکی اپنے اتحاد (نیٹو) سے بھرپور امید کا منتظر تھا۔ لیکن نیٹو اپنے سیکرٹری جنرل ینس ستولتنبرگ کی زیرصدارت ہنگامی میٹنگ کے بعد ایک رسمی اور سردمہری پر مبنی بیان جاری کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ ہم امریکہ کے ردِعمل کے منتظر ہیں۔ امریکہ نے ترکی کی طرف سے طیارہ گرائے جانے پر اس کو علاقائی معاملہ قرار دے کر ترک حکام کی امیدوں پر پانی پھیر دیا۔ نیٹو اور امریکی ردِعمل اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ امریکہ اور نیٹو اس تنازع میں براہِ راست کودنے کے لئے کسی طرح بھی تیار نہیں۔ ان کا منصوبہ یہ ہے کہ ترکی اپنے صدیوں پرانے علاقائی حریف روس کے خلاف اس جنگ میں کود پڑے اور یہ جنگ شام کو ملیامیٹ کرنے کے بعد ترک ریاست کو Balkanize کرنے میں مددگار ثابت ہو جائے۔ امریکہ کے نئے مشرقِ وسطیٰ کا منصوبہ ترک ریاست کو بالواسطہ یا بلاواسطہ جنگ میں دھکیلنے سے ہی پایۂ تکمیل تک پہنچ سکتا ہے۔
ترکی میں گو پارلیمانی طرزِ حکومت ہے، لیکن عملاً صدر طیب اردوآن کے صدر منتخب ہونے کے بعد ترکی کے تمام تر فیصلے صدارتی محل میں کئے جارہے ہیں۔ ترکی انٹیلی جینس ایجنسی (MIT) کے سربراہ حاقان فیدان، صدر طیب اردوآن کے دست راست ہیں اور جن کی نامزدگی انہوں نے اپنے خلاف سیاسی، عدالتی اور صحافتی صورتِ حال کے پس منظر میں کی تھی۔ ان کے اس بیان نے پوری دنیا کو اس وقت چونکا دیا تھا جب روس نے شام کے دہشت گرد گروہ داعش کے خلاف عسکری اقدامات کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا :
ISIS is a reality and we have to accept that we cannot eradicate a well-organized and popular establishment such as the Islamic State; therefore I urge my western colleagues to revise their mindset about Islamic political currents, put aside their cynical mentality and thwart Vladimir Putin's plans to crush Syrian Islamist revolutionaries.
روس ترک تنازع میں ترکی کے مغربی اتحادیوں نے جس رویہ کا مظاہرہ کیا ہے، اس کے بعد ان لوگوں کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں کہ امریکہ خطے، خصوصاً ترکی کو کس انجام سے دوچار کرنے کے درپے ہے اور اس تنازع میں کودنے سے کیا ترکی کے مسائل حل ہو جائیں گے۔ اس بات کا جواب اس پالیسی سے ہے کہ جب 2003ء میں امریکہ نے عراق پر حملے کے لئے ترک سرزمین کو استعمال کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور بدلے میں اربوں ڈالر کی نقد رقم دینے کا وعدہ کیا جس کو ترک پارلیمنٹ نے مسترد کر دیا۔ کیوں کہ ترکی نے سلطنت عثمانیہ کے آخری دنوں میں اپنے ساتھ ہونے والے انجام سے یہ سبق سیکھا تھا کہ ترکی خطے کے مختلف ممالک کے ساتھ تنازعات کے باوجود جنگوں یا تنازعوں میں نہیں کو دے گا۔ لگتا ہے کہ ترک پالیسی سازوں کا اہم طبقہ Lust of money & Lust of Power کے نشے میں اپنے اس سبق سے دور ہوتا جارہا ہے۔
ترک ریاست میں 10اکتوبر کوانقرہ میں مذہبی دہشت گردی کے واقعہ کے بعد یہ کہا جارہا ہے کہ ترکی علاقائی تنازعات میں الجھنے کے جس عمل کا شکار ہے، اس نے ترک ریاست کو Religious & Ethnic تنازعات میں جھونکنے کا عمل تیز کردیا ہے۔ ایران، آرمینیا، عراق اور شام کی سرحدوں کے ساتھ ساتھ کُرد علاقوں میں کُردش ورکرز پارٹی، جس کے سربراہ عبداللہ اوجلان ہیں اور جن کو سابق وزیراعظم بلندایجوت نے افریقہ اور یونان میں Chase کرتے ہوئے گرفتار کیا اور عدالت نے ان کو دہشت گرد اقدامات کے سبب پھانسی کی سزا سنائی اور ترک حکومت نے اس وقت تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کو پھانسی دینے سے اجتناب کیا، ان کی پارٹی خطے کی سب سے بڑی مسلح تنظیم ہے، جس میں مرد اور خواتین برابر شریک کار ہیں۔ اگر روس ترک تنازع بڑھتا ہے تو امکان ہے کہ کُردش ورکرز پارٹی (PKK) کو روس براہِ راست عسکری مدد دے کر ترکی کو اس انجام تک لے جا سکتا ہے، جس کا ترکی کے اتحادی امریکہ کو کوئی درد یا اختلاف نہیں ہو گا۔ یعنی ان علاقوں میں ایک علیحدہ کُرد اقتدار اعلیٰ کا منصوبہ، جوکہ ترک ریاست کو پچھلی صدی کے آغاز کی طرف دوبارہ لے جا سکتا ہے۔ یعنی بلقان کی جنگوں کی صورتِ حال۔ یاد رہے کہ Balkanization انہی جنگوں کے سبب ایک اصطلاح کے طور پر ابھری جس کا مطلب ہے ایک ریاست کے ٹوٹنے اور نئی ریاستوں کے قیام کا عمل۔
ترکی نے آزادی کے بعد نودہائیوں میں معاشی خوشحالی کا جو سفر طے کیا ہے، موجودہ صورتِ حال اس کو چند ماہ میں اس جانب لے جاسکتی ہے کہ ترکی، بلغاریہ، یونان یا پرتگال کی طرح بدحال معیشت میں بدل جائے۔ روس، ترکی کا دوسرا بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ ترکی میں روس کے بیس لاکھ سالانہ سیاح آتے ہیں اور ترکی کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی وہ تین کروڑ سیاح ہیں جو ترکی کو سالانہ 32 ارب ڈالر دے کر اس کی معاشی ترقی کا سبب بنتے ہیں۔ ترکی کے علاقائی تنازعوں میں جھونکے جانے کے بعد ان سیاحوں کی آمد بری طرح متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس سارے منظرنامے میں ہر طرح سے امریکہ کے ان منصوبوں کی تکمیل ہونے کا امکان ہے جو وہ خطے کی طاقتوں کو باہم لڑانے کے لیے دن رات ایک کر رہا تھا۔ اس نے ترکی کو جہاں شام کے مختلف مسلح گروہوں کا علاقائی سرپرست بنا رکھا ہے، اب وہ اس درپے ہے کہ روس اور ترکی ایک جنگ میں دھکیل دیئے جانے چاہئیں جس میں ایک طرف ترکی کو ناقابل تلافی نقصان ہو تو دوسری طرف روس کو زچ کیا جائے اور اس منصوبہ بندی کے تحت ترکی کو مستقبل قریب میں شام میں برسرپیکار پراکسی وار کے ذریعے ایران کے خلاف بھی الجھا دیاجائے۔ روس اور ترکی کے اہل فکر حلقوں میں اس صورتِ حال میں شدید بے چینی پائی جارہی ہے اور وہ اپنے حکمرانوں کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ شام کے مسئلے کا حل امریکہ کے چالباز انداز کی بجائے خطے کے مفادات کو مدنظر رکھ کر کیا جائے۔