تنازعہ شام اور سرد جنگ کا امکان
سرد جنگ ایک ایسی جنگ کا نام ہے جس میں نظریاتی مخالفین فوجی جنگ کا اعلان کئے بغیر ایک دوسرے کے خلاف تخریبی کاروائیاں کرتے اور کراتے ہیں۔ لیکن ایسی کاروائیوں کے لیے بڑی قوتیں اکثر اپنے ملکوں کو بچائے رکھتی ہیں اور اپنے حواری ملکوں کو تختہ مشق بناتی ہیں۔ ایک دوسرے کو بدنام کرنے کے لیے ایسامؤثر پروپگنڈا کیا جاتا ہے کہ جھوٹ سچ نظر آنے لگتا ہے۔ تعاون نہ کرنے والوں کے خلاف اقتصادی پابندیاں لگا کر انہیں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ اور سوویت یونین ایسی دو سیاسی قوتیں دنیا کے نقشے پر ابھریں جنہوں نے پوری دنیا کو دو کیمپوں میں تقسیم کر دیا ۔ امریکہ سوویت یونین کے خلاف اپنے پروپگنڈہ میں اشتراکیت کو ہمیشہ ایک ظالمانہ اور جابرانہ نظام قرار دیتا جبکہ سوویت یونین اور اشتراکی نظریے کو ماننے والے امریکہ کو استحصالی طبقے کا سردار اور مغربی یورپ کو انتشار پسند قرار دیتے جو اپنے لئے جمہوریت اور دوسرے ملکوں میں آمروں کی حمایت کرتے ہیں۔ اشتراکیوں کے بقول دنیا پر مغربی اجارہ داری کا شوق ہر جنگ کا موجب بنا جس پر سٹالن نے کہا کہ اب یورپ کو مزید کوئی موقع نہیں دیا جا سکتا۔ سوویت یونین نے وارسا پیکٹ کے تحت اپنی ملٹری فورس قائم کی اور دیوار برلن کھڑی کر کے اپنی نئی جغرافیائی حد بندیوں کا تعین کر دیا۔ گو سوویت کیمپ میں شامل مشرقی یورپی ممالک کی انفرادی حاکمیت قائم رہی لیکن طرز حکمرانی مکمل طور پر اشتراکی نظام کے تابع تھا جسے امریکہ غلامانہ قرار دتیا تھا۔ دوسری طرف امریکہ خودکو اور اپنے کیمپ میں شامل ممالک کو آزاد دنیاکا نام دیتا تھاجہاں اس کے مطابق انفرادی آزادی اور انسانی حقوق کا بول بالا تھا۔ امریکہ نے بھی مختلف فوجی اتحاد قائم کئے۔ سب سے بڑی فوجی تنظیم اس وقت نیٹو ہے جس کے قیام کا مقصد مشترکہ دفاع تھا ۔
سوویت یونین کے خاتمے کے ساتھ ی وارسا پیکٹ قصہ پارینہ بن گیا۔ دیوار برلن صفہ ہستی سے مٹ گئی۔ جرمنی کی وحدت بحال ہو گئی اور منہدم ہو جانے والے سوویت یونین میں شامل مشرقی یورپ کے ممالک نیٹو اور یورپی یونین کا حصہ بن گئے۔ امریکہ نے افغان جنگ میں سوویت یونین کو شکست دے کر ویت نام میں اپنی شکست کا بدلا تو لے لیا مگر افغانستان میں امن آیا نہ ابھی تک جنگ کے اثرات ختم ہونے میں آرہے ہیں۔ امریکہ نے سوویت یونین سے فارغ ہو کر مشرق وسطی کا رخ کیا۔ عراق اور لیبیا میں امریکی مخالف حکومتوں کا خاتمہ کیا۔ اس دوران روس کوئی اہم کردار ادا نہ کر سکا لیکن اب شام کے دفاع کے لئے وہ امریکہ کے سامنے آ کھڑا ہؤا ہے۔
شامی صدر بشارا لاسد کی حمایت میں روسی صدر پوتن کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی تجزیہ نگاروں نے فرانسیسی عسکری و سیاسی لیڈرنپولین کے ایک قول کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ: جب دشمن غلطی کرے تو اسے روکو مت! کیا اب اس کا یہ مطلب لیا جانا چائیے کہ روس کی شام میں مداخلت امریکہ کے نزدیک ایک ایسی غلطی ہے جو امریکہ کو کسی بڑی کاروائی کا جواز مہیا کرے گی؟ دوسری طرف روس بھی یہی کہہ رہا ہے کہ شام میں امریکی مداخلت نے اسے انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا ہے ۔ روس امریکہ پر شام کے باغیوں کو ہر قسم کے ہتھیار فراہم کرنے کا الزام لگا رہا ہے۔ یہاں اہم نکتہ یہ ہے کہ امریکہ شام مسلے کا کوئی ایسا حل نہیں چاہتا جس کے مطابق شامی صدر بشار الاسد کا اقتدار قائم رہے۔ امریکہ کا اصرار ہے کہ پہلے بشار رخصت ہو پھر بات چیت ہوگی۔ جبکہ روس شام کا سٹیٹس کو برقرار ررکھناچاہتا ہے جس میں ایران کی بھی رائے شامل ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ پوسٹ اسد شام کیسا ہو گا؟ شام میں اس وقت شیعہ ، سنی، کرد اور دوسرے متحارب گروپ جنگ لڑ رہے ہیں۔ ان میں سے کسی کا بھی آپس میں کوئی اتفاق نہیں۔ اس وجہ سے کچھ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ بشارالاسد کے بعد والا شام موجودہ شام سے بھی خطرناک ہو گا۔ شام کی وہی حالت ہو جائے گی جو افغانستان ، عراق اور لیبیا کی ہو چکی ہے۔ اس وجہ سے اسلامی دنیا مزید غیر مستحکم ہو گی۔ سعودی عرب کے 55 سنئیر علماء کرام نے ایک مشترکہ بیان میں روس کے خلاف جہاد کی اپیل کرتے ہوئے اسے افغانستان میں سوویت یونین کا حشر یاد دلایا ہے۔ انہوں نے قیصر و قصریٰ کا بھی ذکر کیا اور امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ شام کے حل میں کوئی مدد نہیں کر رہا بلکہ معاملات کو بگاڑ رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق امریکی صدر بش نے پس پردہ سنی مسلمانوں کی مخالفت کی کیونکہ عراق میں شیعہ حکومت کا قیام سابق امریکی صدر بش کی وجہ سے عمل میںآیا۔ یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایسا تھا تو اس وقت سعودی حکومت نے خود صدام حسین کے خلاف امریکی حملے کی حمایت کیوں کی؟ پھر فلسطین، کشمیر اور لیبیا کے مسلمانوں کے بارے میں سعودی عرب کا کیا کردار ہے؟ موجودہ عالمی تقاضوں کے مطابق با شعور اقوام کی حکومتوں نے تحقیقی و تجزیاتی سینٹرز اور ادارے قائم کئے ہوئے ہیں جو حکومت کے لئے معلومات جمع کرتے رہتے ہیں اس طرح وہ اندرونی و بیرونی حالات و واقعات کا جائزہ لے کر قومی پالیسی مرتب کرتے ہیں اور عالمی ایشوز پر ایک وزنی موقف رکھتے ہیں ۔ یوں عالمی سطع پر ہونے والے فیصلوں میں ان کی رائے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ لیکن مسلمان حکمران محض پیروکاروں ، آلہ کاروں اور حواریوں کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہر تحقیقی و اختراعی سوچ و فکر رکھنے والے فرد و ادارے کو دباتے ہیں اور وقت گزرنے کے بعد دوسروں پرشکایات اور الزامات کا سلسلہ شروع کر دیتے ہیں۔ مسلمان حکمران امریکہ اور روس پر الزام لگانے کے بجائے او آئی سی اور عرب لیگ کو بااختیار اور مؤثر بنائیں۔ آخر یہ ادارے انہوں نے کس مقصد کے لیے قائم کئے ہوئے ہیں؟
کشمیریوں نے عربوں کے خلاف ہونے والے کسی بھی اقدام کے خلاف ہمیشہ ایسا رد عمل دکھایا جو صرف کسی کے ساتھ دلی محبت کی وجہ سے ظاہر ہوتا ہے لیکن اب بے شمار کشمیری سوچنے پر مجبور ہیں کہ موجودہ عرب حکمران کشمیر یوں پر ہونے والے ظلم و ستم پر کیوں خاموش رہتے ہیں؟ رشتے تو ہمیشہ دو طرفہ ہوتے ہیں۔ اﷲکرے دوبارہ شروع ہونے والی سرد جنگ کے بادل ٹل جائیں ورنہ مسلہ کشمیر ایک بار پھر پس منظر میں چلا جائے گا ۔ البتہ اس سوچ کو بھی اب بدلنا ہو گا کہ عالمی طاقتوں کے اپنے مسائل حل ہو جائیں تو پھر مسلہ کشمیر ان کے ایجنڈے پر لانے کے لیے زور دیا جا سکتاہے۔ ہمیں دوسروں کے مسائل اور ان کے حل کا انتظار کئے بغیر اپنے مسلے اور ایجنڈے کو تقویت دینا ہو گی۔ ورنہ ایسا وقت کبھی نہیں آئے گا جب دوسرے مکمل فارغ ہو کر بیٹھیں گے تو ہمیں اپنا مسلہ پیش کرنے کی دعوت دیں گے!