زبان مواصلت کی کنجی
- تحریر منور علی شاہد
- ہفتہ 05 / دسمبر / 2015
- 5242
کسی بھی ملک کی سیاسی، ثقافتی، مذہبی اور معاشرتی زندگی کو سمجھنے کے لئے سب سے بہترین اور بہتر ذریعہ زبان ہوتی ہے ۔ اس پر دسترس حاصل کرنے کے بعد معاشرہ میں تیزی سے مدغم ہو کراس ملک کا ایک بہترین شہری بن سکتے ہیں۔ دنیا کی بڑی بڑی قومیں اپنی زبان کو ہی فوقیت دیتی ہے۔ ایسا ہی معاملہ کچھ جرمن قوم کا بھی ہے۔ اس ملک میں قیام کے لئے جرمن زبان سیکھنا ناگزیر ہے۔ جرمن قوم کی اکثریت اپنی قومی زبان میں بات کرنا پسند کرتی ہے ۔ اس ملک میں جرمن زبان کا ہی راج نظر آتا ہے۔
مارکیٹوں ، بازاروں اور بڑی بڑی اہم شاہراہوں، ریلوے اسٹیشنوں، ائیر پوٹوں اور ایسے ہی دیگر مقامات پر اشتہارات اور راہنمائی کے سائن بورڈز سبھی جرمن زبان میں لکھے ہوئے ملتے ہیں۔شاذو نادر ہی کہیں انگریزی زبان میں کچھ لکھا نظر آئے گا۔ انگریزی زبان میں کوئی اخبار اور میگزین نہیں ملے گا ۔ کتابوں کی دوکانوں میں سب کتابیں میگزین جرمن زبان میں دستیاب ہوتی ہیں۔ انگریزی زبان میں کسی کتاب یا اخبار کا حصول آسان نہیں ہے۔ میرے ذاتی مشاہدہ میں بھی یہ بات بار بار آئی ہے کہ بڑی عمر کے جرمن شہری انگریزی زبان جاننے کے باوجود انگریزی زبان میں بات کرنا پسند نہیں کرتے ۔ ایک بار ریلوے میں سفر کے دوران ٹکٹ چیکر سے بات کرنا پڑی تو اس نے بات ہی نہ کی ۔ لیکن انگریزی میں یہ ضرور کہا کہ ہم سے بات کرنے کے لئے جرمن زبان سیکھو ۔ اس پر میں نے بہت سے جرمن بوڑھوں اور نوجوان طالب علموں سے بات کی کہ تو پتہ چلا کہ جرمن سکولوں میں کچھ ہی عرصہ پہلے انگریزی زبان کی تدریس کا آغاز ہؤا ہے۔ اسی لئے اکثر بوڑھے انگریزی زبان سے نابلد ہیں۔ موجودہ نسل کے طالب علم اور نوجوان اب انگریزی میں بھی باتیں کرنے لگے ہیں۔ اس سے کم از کم دوسری اقوام کے لوگوں کے لئے کچھ آسانی پیدا ہوئی ہے۔ لیکن مارکیٹوں میں جانے اور دیگر عوامی مقامات میں گھومنے پھرنے کے لئے زبان ایک بڑامسئلہ ہے۔ ٹیکسی اور بس میں سفر کریں تو بھی یہ مشکل درپیش رہتی ہے کہ منزل مقصود تک کیسے پہنچیں۔
جرمنی میں طویل قیام کے لئے جرمن زبان کا سیکھنا بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر آپ کو قدم قدم پر بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لئے جرمن حکومت اپنے ملک میں طویل قیام کے خواہشمندوں کیلئے جرمن زبان سیکھنا لازمی قرار دیتی ہے۔ طالب علموں کو باقاعدہ تعلیم کے حصول کے لئے جرمن زبان کا کورس کرنا پڑتا ہے۔ جرمن زبان کی اہمیت کا اندازہ خود حکومتی اور ریاستی پالیسیوں اور دیگر اقدامات کے ذریعے بھی ہوتا ہے ۔جرمن زبان سکھانے کے ادارے اور سکولوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ بہت سے فلاحی ادارے اور این جی اوز بھی غیر ملکیوں کو مفت یا برائے نام فیس لے کر جرمن زبان سکھاتی ہیں۔ پناہ گزینوں کے لئے ان کے رہائشی مقامات پر ہی زبان سکھانے کے انتظامات موجود ہیں۔
اس وقت جرمنی میں لاکھوں کی تعداد میں پناہ گزینوں کی آمد کے ساتھ ہی اس حوالے سے حکومتی اقدامات میں بہت تیزی آگئی ہے۔ پورے جرمنی میں لاکھوں پناہ گزینوں کوجرمن معاشرہ کا فعال شہری بنانے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر زبان سکھانے کے اقدامات کئے گئے ہیں۔ نومبر میں ایک حکومتی فیصلہ کے تحت چار ملکوں کے شہریوں کے لئے غیر معمولی اقدامات کئے گئے تھے۔ ان کی باقاعدہ کلاسز کا آغاز دو دسمبر سے ہو گیا ہے۔ ان چار ممالک میں شام، ایران، عراق اور اریٹیریا کے پناہ گزین شامل ہیں۔ ان چار ممالک کے لئے آن لائن کورسز بھی شروع کئے گئے ہیں۔ تاہم پاکستان اور افغانستان ان ممالک میں شامل نہیں کئے گئے ۔ جرمن زبان سکھانے کے سب سے بڑے ادارے گوئٹے انسٹیٹیوٹ نے فعال کردار ادا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
گزشتہ ہفتہ اس ادارے کے سالانہ اجلاس میں انسٹیٹیوٹ کے صدر کلاوس ڈیٹر لیمان نے اخباری نمائندوں سے ایک ملاقات میں بتایا کہ زبان کسی معاشرے میں گھل مل جانے کی کنجی ہے۔ انہوں نے جرمن زبان سکھانے کے پروگراموں اور کلاسز میں توسیع کو لازمی قرار دیا اور کہا کہ مناسب اور مختلف کورسز ناگزیر ہیں۔ لیمان کو دوسری مدت کے لئے ادارے کا صدر منتخب کیا گیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ دوسری مدت میں وہ سول سوسائٹی کے ڈھانچوں کی مضبوطی، جرمنی میں مہاجرین کو کھپانے اور مختلف معاملات میں عوامی شرکت بڑھانے پر توجہ دیں گے۔ واضح رہے کہ گوئٹے انسٹیٹیوٹ کی اس وقت98 ممالک میں159شاخیں موجود ہیں جو وہاں جرمن زبان سکھارہی ہیں ۔لاہور میں اس ادارہ کی شاخ کیولری گراؤنڈ میں پل کے قریب موجود ہے۔ ادارے کے صدر نے مزید بتایا کہ شام کے پڑوسی ممالک میں بھی جرمن زبان کے کورسز کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس طرح وہاں موجود لوگوں کو جرمن سیکھنے کا موقع فراہم ہو رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم اور مختلف ثقافتی پروگرام کسی نسل کو پستی کا شکار ہونے سے بچانے کے لئے اہم ہیں۔