میاں نوازشریف کیا چاہتے ہیں !
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 05 / دسمبر / 2015
- 4883
2013ء کے انتخابات کے بعد پاکستان کی سیاست کے نئے رجحانات اُبھر کر سامنے آئے ہیں۔ پاکستان کے ووٹرز کی کلیدی اکثریت دائیں بازو کے درمیان تقسیم ہو چکی ہے۔ میاں نوازشریف کی مسلم لیگ فکری اور نظریاتی طور پر ان افکار سے کبھی کبھی اپنے بندھن توڑتی نظر آتی ہے جو دہائیوں پہلے اس جماعت کی پہچان تھی۔
مسلم لیگ (ن)، جونیجو ۔ نواز تصادم کے نتیجے میں اُبھر کر سامنے آئی۔ تب محمد خاں جونیجو فوج کی بالادستی کے خلاف اور میاں نوازشریف فوج کی سرپرستی کے حامی تھے اور اس کی حمایت سے مستفید بھی ہوئے۔ لیکن وقت کے دھارے نے ان کی سیاست کو کئی سبق سکھلائے۔ ان میں یہ سبق بھی تھا کہ سیاست میں فوج کی بالادستی کی بجائے عوام کی بالادستی ہی بہترین طرزِسیاست کو بنیاد بن سکتی ہے۔ چاہے اس میں ان کی اقتدار میں مکمل گرفت کی خواہش کارفرما ہے، لیکن یہ سبق انہوں نے اقتدار کے ایوان میں جاکر سیکھا کہ اقتدار کے سراب میں سول لیڈر شپ محدود اختیارات رکھتی ہے۔ ان کی اس فکری تبدیلی نے ہی اکتوبر 1999ء کی فوجی حکومت کے قیام کا راستہ کھولا اور فوج نے پاکستان میں چوتھی بار اقتدار پرمکمل گرفت حاصل کر لی۔
اکتوبر 1999ء کی فوجی مداخلت سے انہوں نے صبر اور سیاست میں پولائزیشن سے اجتناب برتنے کا بھی سبق حاصل کیا اور پھر اس سبق کے ہی نتیجے میں انہوں نے اپنی روایتی حریف پارٹی، پاکستان پیپلزپارٹی کے ساتھ مفاہمت کا باقاعدہ تحریری معاہدہ کیا۔ اس معاہدے پر محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نوازشریف نے دوستوں کی حیثیت سے مہرتصدیق ثبت کی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے دوسری جانب پاکستان میں اپنی آمد کے اسباب تلاش کئے جس میں وہ کامیاب ہوئیں۔ ان کی کامیابی کا فائدہ میاں نوازشریف کو بھی ہؤا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو وطن واپس آنے میں تو کامیاب ہو گئیں، لیکن اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ دونوں جماعتوں کی مفاہمت نے گرہن زدہ اقتدار پراکتفا کیا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی حکمران قیادت نے سیاست کی بجائے گرہن زدہ اقتدار سے اپنے مالی حالات بہتر بنانے کی پالیسی اپنائی جس کے نتیجے میں 2008ء کے انتخابات کے بعد حکمران جماعت (پی پی پی) پنجاب میں اپنی مقبولیت کھوتی چلی گئی۔ اور یوں مسلم لیگ (ن) جو 2008ء کے انتخابات میں صرف پنجاب میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی تھی، 2013ء کے انتخابات میں اس کے وفاق میں حکومت بنانے کے دروازے کھل گئے۔
مسلم لیگ (ن) نے 2013ء کے انتخابات میں کامیابی پر دیگر اعلانات، دعوؤں اور خواہشات پر مبنی بیانات کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ہمیں پاکستان کے لوگوں نے بھارت کے ساتھ دوستی کے لئے ووٹ دیا ہے۔ پارٹی کے رہبر جناب میاں نوازشریف کا یہ بیان یقیناًایک جرأت مندانہ بیان تھا۔ پاکستان کے نہایت رجعت پسند حلقوں نے میاں نوازشریف کے اس بیان کی شدید مذمت کی، لیکن وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد میاں نوازشریف نے اپنے مؤقف کو مزید جرأت کے ساتھ اپناتے ہوئے بھارت میں انتہا پسند نظریات رکھنے والے نریندر مودی کی وزارتِ عظمیٰ کی حلف برداری تقریب میں شرکت کی۔ وزیراعظم نوازشریف کا یہ اقدام بھارت سمیت دنیا بھر کے ان ممالک کے لئے ایک مثبت جواب تھا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواستگار ہے۔ اس کے بعد بھی کئی مواقع پر انہوں نے بھارت کے ساتھ دوستی کی بات کی جس کو پاکستان کے مقلد رحجانات رکھنے والے سیاسی حلقوں نے ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا۔ جب کہ ایک ریاست کی حیثیت سے ایسے اقدامات سیاسی پختگی کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس طرح جب وزیراعظم نے ایک لبرل پاکستان کی بات کی تو انہی حلقوں نے ان کے خلاف بیان بازی کرکے آسمان سرپر اٹھا لیا ہے۔ حالاں کہ ان حلقوں سے کوئی پوچھے کہ بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ ان مقلدین سے قطع نظر اس پاکستان کے تصور کے ساتھ کامیاب ہوئے جس کے یہ مقلدین حلقے مخالف ہیں۔ اسی طرح علامہ اقبالؒ بھی ایسی ریاست کا تصور رکھتے تھے جو رجعت پسندی کی بجائے ایک روشن خیال سماج کی آئینہ دار ہو۔ وہ فکری حوالے سے مقلدین کے نقاد اور اجتہاد کے علمبردار تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح اور علامہ اقبال اس سرزمین پر قائم کی جانے والی ریاست کے مقبول رہبر اور مفکر ہیں اوران کا حلیہ، رہن سہن، طرزِ زندگی و سیاست ان مقلد حلقوں سے یکسر مختلف تھے جو آج پاکستان کو ایک رجعت پسند ریاست بنانے کے خواہاں ہیں۔
میاں نوازشریف نے یقیناً وقت سے سبق سیکھا ہے اور انہوں نے اپنی ان فکری مغالطوں سے آزاد ہونے کی کوشش کی ہے جو ان کی جماعت پر غالب تھے اور ابھی بھی ہیں۔ ان کی جماعت ابھی بھی دائیں بازو کی معیشت، معاشی، اقتصادی اور سماجی فکر پر کھڑی ہے۔ لیکن وہ خود ان رجحانات کو کسی حد تک جدید کرنے کے خواہاں ہیں۔ وہ سرمایہ دارانہ معیشت کے ان تمام اصولوں پرمتفق ہیں جو کسی سیاسی جماعت کے دائیں بازو کے رجحانات کی عکاسی کرتے ہیں۔ لیکن وہ اس میں کچھ لچک پیدا کرکے اپنے آپ کو ایک اعتدال پسند راہ پر ڈالنے کے خواہاں ہیں۔ ان کی سیاسی معاشی فکر ایک سرمایہ دارانہ جمہوریت، سرمایہ دارانہ معیشت اورسرمایہ دارانہ سماج پر مبنی ہے۔ ان کی سیاست ماضی کی پاکستان پیپلزپارٹی کے بائیں بازو کے رجحانات کے قطعاً قریب نہیں کہ جو جاگیردارانہ نظام کے مکمل خاتمے، سرمایہ دارانہ نظام کی بجائے درمیانے طبقات کی سیاست اور محنت کشوں کو سیاسی اور ریاستی معاملات میں شریک کار کرنے کی فکر پرقائم کی گئی تھی۔ اور جس کی بنیاد پر پی پی پی کو 70ء کے انتخابات میں حیران کن کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ مسلم لیگ (ن) یقیناً فوج کی سیاست میں مداخلت کی مخالف ہے۔ یہ سبق اس جماعت نے اقتدار کی سیاست سے سیکھا ہے اور اپنے اندر لچک دار رویہ اپنانے پر اس کو پنجاب کے شہری طبقات میں مزید مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔
اس دوران پاکستان تحریک انصاف کا مقبولِ عام ہونا ایک قدرتی عمل ہے۔ وہ پنجاب کے ان شہری طبقات میں اپنا مقام بنانے میں کامیاب ہوئی ہے جو پچھلی دودہائیوں میں پنجاب میں عالمی سرمایہ داری نظام کے پھیلاؤ میں پیدا ہؤا ہے، یعنی کارپوریٹ مڈل کلاس۔ پی ٹی آئی بھی مسلم لیگ (ن) کی طرح سرمایہ دارانہ جمہوریت، سرمایہ دارانہ معیشت اور دائیں بازو کے معاشی، معاشرتی اور اقتصادی اصولوں کی علمبردار ہے اور یوں پاکستان میں یہ پہلی مرتبہ ہؤا ہے کہ نچلے اور درمیانے طبقات کی فکر کی بجائے اوپری طبقات کی فکری سیاست کو تقویت حاصل ہوئی ہے۔ دونوں جماعتوں میں صرف ایک فرق ہے اور وہ تجربے کا فرق ہے۔ پاکستان تحریک انصاف فوج کی سیاست میں مداخلت کی ناقد نہیں، اس لئے کہ اس کو ابھی اقتدار کا تجربہ حاصل نہیں ہؤا۔ جب کہ مسلم لیگ (ن) مکمل طور پر سول حکمرانی کی علمبردار بن کر سامنے آئی ہے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ اس جماعت کے پاس ابھی وہ قوت نہیں جو پاکستان جیسی ریاست میں مکمل سول حکمرانی کے تصور کو کامیابی دےسکے۔ یہ طاقت پاکستان کے مقبول رہنما ذوالفقار علی بھٹو بھی حاصل نہ کر پائے۔