کراچی میں آپریشن کلین اپ کی ناکامی
- تحریر ارشد بٹ ایڈووکیٹ
- سوموار 07 / دسمبر / 2015
- 5989
بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہونے کے بعد عمران خان کا کراچی کی حکمرانی حاصل کرنے کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بلند بانگ دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے۔ پی ٹی آئی اورجماعت اسلامی کے اتحاد کو ایم کیو ایم نے بچھاڑ کے رکھ دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے اسلامی پاکستان اور تحریک انصاف کے نئے پاکستان کے نعروں کو عوام میں پذیرائی حاصل نہیں ہو سکی۔ کراچی کے چھ اضلاع میں دو میں پی پی پی نے اپنے زندہ ہونے کا احساس دلایا ہے جبکہ ایم کیو ایم نے دیگر چار ضلعوں میں کلین سویپ کر کے کراچی پر حکمرانی اور میئر شپ پر اپنے حق پر مہر ثبت کر دی ہے۔
کراچی میں آپریشن کلین آپ کے بعد سے اب تک ایم کیو ایم مسلسل ریاستی اداروں کے دباؤ اور میڈیا کے معاندانہ رویہ کا شکار رہی ہے۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی تقاریر اور بیانات پر پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر مکمل پابندی بلکہ ان کے خلاف یک طرفہ پروپیگنڈاہ سے مسلسل یہ تاثر دیا جاتا رہا تھا کہ ایم کیو ایم کراچی کےعوام میں مقبولیت کھوتی جا رہی ہے۔ کہا جا تا رہا ہے کہ عسکری ونگ پر کاری ضرب کے بعد ایم کیو ایم اپنی طاقت برقرار نیہں رکھ سکے گی۔ اور اسے بلدیاتی انتخابات میں سبق آموز شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مگر بلدیاتی انتخابات کے نتایئج نے ایسی تمام پیش گوئیوں کو غلط ثابت دیا ہے۔
یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ کراچی کلین آپ آپریشن کا ٹارگٹ ایم کیو ایم یا اس کا عسکری ونگ رہا ہے۔ پی پی پی بھی محدود حد تک اس آپریشن کے نشانے پر رہی ہے۔ کلین آپ آپریشن کا نشانہ بننے والی دونوں جماعتوں کو کراچی کے عوام نے اپنے اعتماد کا ووٹ دیا ہے۔
کہا جا رہا تھا کہ کلین آپ آپریشن کے نتیجے میں کراچی کےعوام ایم کیو ایم کے خوف سے نجات پا رہے ہیں اور عوام میں ایم کیو ایم کی حمایت میں نمایاں کمی ہو رہی ہے۔ جس کی وجہ سے کراچی میں سیاسی خلا پیدا ہونے کے واضع امکانات ہیں۔ با خبر ذرائع کے مطابق خفیہ ہاتھ اس خلا کو پر کرنے کے لئے پی ٹی آئی کو متبادل کے طور پروموٹ کر رہے تھے۔ عمران خان کی مقبولیت اور جماعت اسلامی کی تنظیم اور تجربے کو بنیاد بنا کران دونوں جماعتوں کے اتحاد کو انتخابی میدان میں اتارا گیا۔ مگر کراچی کے عوام نے مقتدر حلقوں کی پشت پناہی سے کراچی پر مسلط ہونے والے بے اصول اور موقعہ پرست عمران ۔ سراج اتحاد کو مسترد کردیا ہے۔
پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے اتحاد کے بری طرح پٹ جانے سے عمران خان کی مقبولیت اور جماعت اسلامی کی تنظیمی صلاحیتوں پرسوال اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔
2013 کے الیکشن کے بعد عمران خان کی الزام تراشی، منفی احتجاج، دھاندلی کے شورشرابے اور میڈیا پر سیاست چمکانے کو عوام مسلسل مسترد کرتے چلے آرہے ہیں۔ عمران خان قومی سطح کے وہ واحد راہنما ہیں جو پنجاب اور سندھ کے بلدیاتی انتخابات کے تینوں مرحلوں کی انتخابی مہم میں بھرپور حصہ لیتے رہے ہیں۔ پی پی پی کے قلعے لیاری کو فتح کرنے کے لئے ککری گراؤنڈ میں جلسہ منعقد کیا گیا جو بری طرح ناکام رہا۔ اس کے علاوہ کراچی کے طوفانی دورے کے دوران متعدد کارنر میٹنگز سے خطاب بھی کیا۔ ان اںتخابات کے نتائج سے ان کا ذاتی کرشمہ اور مقبولیت زوال پذیر نظر آئی اور تحریک انصاف کی تنطیم کا کھوکھلاپن بھی بے نقاب ہو گیا۔ کراچی میں عبرتناک شکست کے بعد شاید عمران خان کو یہ سمجھ آجائے کہ کراچی میں پی ٹی آئی کے راہنما صرف الیکٹرونک میڈیا پر گھوڑے دوڑانا جانتے ہیں۔ ان کا عملی سیاست یا عوام سے کوئی تعلق یا رابطہ نیہں ہے۔ یہ لوگ پارٹی تنظیم بنانے کی صلاحیتوں سے محروم ہیں اور کراچی میں تحریک انصاف نام کی کوئی تنظیم اپنا وجود نیہں رکھتی۔ شاید عمران خان یہ سبق بھی سیکھ لیں کہ سیاسی مخالفین پرالزام تراشی کی سیاست اور بے بنیاد بلند بانگ دعوے عوام کو بے وقوف نہیں بنا سکتے۔
کیا کراچی کے انتخابی نتائج مقتدر حلقوں کو اپنی سوچ تبدیل کرنے پر مجبور کر سکیں گے۔ سیاسی اور انتخابی میدان میں دوڑائے گئےمقتدرحلقوں کےسیاسی گھوڑوں کی پے در پے شکست کے بعد کیا خفیہ ہاتھ ان پر داؤ لگانا بند کر دیں گے۔ ان سوالوں کا جواب آنے والا وقت ہی دے سکتا ہے۔
مگراب مقتدر حلقوں، وفاقی حکومت اور سندھ حکومت کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ وہ کراچی میں امن و امان کے مستقل قیام اور کراچی کی ترقی کے لئے ایم کیو ایم سے مذاکرات اور مفاہمت کی راہیں کھولے۔ حالات کا تقاضہ ہے کہ مقتدر حلقے اپنی من پسند سیاسی جماعتوں یا شخصیات کی پشت پناہی کرنے کی پالیسی پر نظر ثانی کریں اور عوام کے فیصلوں کا احترام کرنا سیکھیں۔
کراچی کے عوام نے ایم کیو ایم کو قیادت کا حقدار قرار دے کر اس کے متزلزل اعتماد کو بحال کر دیا ہے۔ ان حالات میں ایم کیو ایم کی ملک اور بیرون ملک قیادت کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہیں اب عسکری ونگ کا خاتمہ کرنا ہوگا۔ بھتہ خوری، ٹارگٹ کلنگ اور دیگر جرائم میں ملوث عناصر سے فاصلہ اختیار کرنا ہو گا۔ ان کو کراچی میں امن و امان برقرار رکھنے، کراچی، ملک اور عوام کے وسیع تر مفاد میں جمہوریت اور جمہوری اداروں کو طاقتور بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ ایم کیو ایم کی قیادت کو یہ بھی باور کر لینا چاہئے کہ مسلح گروہوں، بھتہ خوروں اور جرائم پیشہ افراد کی مدد کے بغیر بھی ان کی جماعت کامیابی کے جھنڈے گاڑ سکتی ہے۔ انتہا پسند نظریات کی بنیاد پر تشکیل دئے گئے مسلح گروہ، چاہے یہ مذہب کے نام پر بنائے گئے ہوں یا لسانیت کے جواز پران کی بنیاد رکھی گئی ہو، اب ایسے گروہوں کی ملک میں گنجائش ختم ہو تی جا رہی ہے۔
اگر ایم کیو ایم اپنی پرانی ڈگر پر چلتی رہی اور مقتدر حلقوں نے سیاسی قوتوں کو ریاستی جبر سے دبانے کی روش ترک نہ کی تو کراچی میں امن و امان کی صورت حال خراب ہو سکتی ہے۔ اس سے بھی بڑھ کرشہر خطرناک سیاسی مسائل کے بنور میں پھنس سکتا ہے۔