ترکی کو گھیرنے کی سازش
گزشتہ تین سالوں کے دوران میں چار مرتبہ ترکی گیا۔ ایک مرتبہ دو ہفتے، دوسری بار تین ماہ، تیسری بار دو ماہ اور آخری بار دو ہفتے قیام کیا۔ اس دوران مجھے متعدد سیاسی، سماجی اور علمی شخصیات و اداروں سے ملنے کا موقع ملا۔ برصغیر کے مسلمانوں نے ہمیشہ ترکی کو دل و جان سے چاہا۔ اس کی خوشی و ترقی کو اپنی خوشی و ترقی اور دکھ ، تکلیف و نقصان کو اپنا نقصان تصور کیا۔ گویا کہ ہم سب کے دل ترکوں کے دلوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔
ترکی میں عارضی قیام کے دوران جس کسی سے میں نے ترکی کے حالیہ سالوں میں سیاسی و معاشی استحکام کا ذکر کیا اس نے خوشی کے سا تھ بے چینی و بے اطمینانی کا بھی اظہار کیا۔ ان کا خیال تھا کہ بعض عالمی قوتیں کسی نہ کسی جگہ نت نئے تنازعات پیدا کر کے بد امنی پھیلانے کی عادی ہیں۔ ترکی ماضی میں ایک بڑی سیاسی قوت رہا ہے۔ اس وقت بھی ترکی عالمی فسادیوں کی سازشوں کا شکار ہو کر اپنی آزادی سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا۔ جس کے لیے کمال آتا ترک کی قیادت میں چار سالہ زبردست جد و جہد کے نتیجے میں ترکی نے 1923 مغربی اتحادیوں سے اپنا ملک واپس حاصل کیا تھا۔ اب موجودہ جسٹس پارٹی کی قیادت میں ترکی کی بڑھتی ہوئی ترقی کئی قوتوں کو کھڑک رہی ہے۔ اگر ترکی کسی سیاسی جال میں پھنس گیا تو یہی نہیں کہ ترقی رک جائے گی بلکہ ترکی تنزلی کا شکار بھی ہو سکتا ہے ۔
ترکی نے یہ معاشی ترقی امپورٹ میں کمی اور ایکسپورٹ میں اضافے کی بنیاد پر حاصل کی جبکہ تعلیم اور صحت کے لیے باالترتیب سب سے زیادہ بجٹ مختص کر کے قومی زبان میں قومی نصاب جار ی رکھا۔ چار سال قبل اس وقت کے ترک وزیر خارجہ ڈاکٹر احمد داؤتولو جو اب وزیر اعظم ہیں نے زیرو کنفلکٹ خارجہ پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ ترکی کسی پڑوسی ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرے گا۔ لیکن اب ایک طرف ترکی کو سامراجی قوتوں نے مشرق وسطی میں اپنی مداخلتی پالیسی کا حصہ بنا لیا ہے تو دوسری طرف ترکی پر الزام لگایا جا رہا ہے کہ ترکی کی یہ مداخلت نیو اوٹومن Neo Ottoman پالیسی کا حصہ ہے ۔ یعنی ترکی اپنی سابقہ خلافت بحال کرنا چاہتا ہے۔ دنیا بھر کی خارجہ پالیسی پر نظر رکھنے والی مغربی تبصروں میں کہا گیا ہے کہ ترکی نے روس کے جنگی جہاز کو گرا کر اپنی اسی پالیسی کا اشارہ کیا ہے کہ وہ ایک قوت ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ترک صدر طیب اردگان نے روس کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرنے میں انتہائی محنت کی تھی لیکن اب وہ مشرق وسطی میں اپنا پرانا اثر و رسوخ بحال کرنا چاہتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں مغربی خارجہ پالیسی کے ماہرین یہ باور کرو ا رہے ہیں کہ ترکی، شام میں مغرب کا ساتھ دے کر کوئی احسان نہیں کر رہا بلکہ اس میں اس کے اپنے سیاسی مفادات ہیں۔ اس طرح ترکی کو مغرب اور روس دونوں کے لئے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے تاکہ دونوں اس کے مشترکہ دشمن بن کر ترکی کو کمزور و محدود کریں۔ جرمنی کے ساتھ بھی دوسری جنگ عظیم میں ایسا ہی ہوا تھا ۔ جب ہٹلر اور سٹالن دوست بنے تو برطانیہ نے ایسی سیاسی چال چلی کہ ایک طرف جرمنی اور سوویت یونین کے درمیان ٹکراؤ پیدا کیا دوسری طرف خود جرمنی کے خلاف اتحاد قائم کیا گیا۔ جرمنی کو پیچھے سے مغربی یورپ اور آگے سے سوویت یونین نے گھیر لیا جو جرمنی کی تقسیم پر منتج ہؤا۔
استنبول یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے سربراہ جناب پروفیسر ڈاکٹر خلیل طوقار کا ناروے سے شائع ہونے والے اردو اخبار کاروان کی ایک حالیہ اشاعت میں ایک طویل مضمون بعنوان : تضادات کی کہانی ان کی زبانی، شائع ہؤا ہے جس میں انہوں نے لکھا کہ مغرب ، ترکی پر آرمینینوں کی نسل کشی کا الزام لگا رہا ہے جسے پوپ آف روم اور روسی صدر نے بھی دہرایا ہے۔ ڈاکٹرطوقار ایک ترک ماہر تعلیم ہیں جو دنیا بھر کے مسلمانوں کا درد اپنے سینے میں رکھتے ہیں۔ ان کی تحریریں تحقیق و حقائق پر مبنی ہوتی ہیں۔ ترکی میں میری ان سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔ مغرب کے الزامات کے جوابات وہ دلیل کے ساتھ دے کر تضادات اور جھوٹ کا پردہ چاک کر رہے ہیں۔ انہوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے پوپ آف روم کو اپنے ہی عیسائی مذہب کے بعض فرقوں اور افریقہ ، شمالی و جنوبی امریکہ کے کروڑوں انسانوں پر انسانیت سوز ظلم یاد دلائے ہیں اور روسی صدر کو بھی یاد دلایا ہے کہ ان کے ہاتھ ترکستان سے لے کر داغستان تک مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ اسی طرح فرانس بھی ویتنام سے لے کر الجزائر تک مظلوموں کے خون سے ہولی کھیلتا رہا۔ ڈاکٹر طوقار نے جرمنی کی چانسلر کے بیان پر انتہائی حیرت کا اظہار کیا جنہوں نے عجیب منطق کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہٹلر نے جب دیکھا کہ آرمینیوں کی نسل کشی پر مغرب نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا تو اس نے یہودیوں پر ہاتھ ڈالا۔ دوسرے لفظوں میں ہر کوئی اپنے جرم کی وجہ مسلمانوں کو ہی قرار دے رہا ہے۔ بہر حال وجہ چاہے کچھ بھی ہو، یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مغرب کے بعض سامراجی ذہنیت رکھنے والے ممالک ایک طرف امن کا پرچار کرتے ہیں اور دوسری طرف سازشوں کے ذریعے نئے نئے تنازعے پیدا کرتے ہیں۔ انہیں جموں کشمیر اور فلسطین میں جاری خون ریزی نظر نہیں آتی۔ اب وہ داعش کو القاعدہ سے بھی زیادہ خطر ناک قرار دے رہے ہیں اور کسی مسلمان کو خبر ہی نہیں کہ راتوں رات داعش اتنی بڑی سیاسی و عسکری قوت کیسے بن گئی۔
حقائق خواہ کچھ بھی ہوں اس سے انکار ممکن نہیں کہ ترکی اندرونی و بیرونی طور پر خطرے میں ہے۔ ایک طرف سیکولر ازم کے نام پر اندرونی سیاسی قوتیں موجودہ حکومت کی مخالفت کر رہی ہیں دوسری طرف کرد ستانی سیاسی گروپ کردوں کے حقوق کے لئے سر گرم ہیں۔ ان حالات میں ترکی کی موجودہ بالغ نظر اور بیدار مغز قیادت سے اندرونی و بیرونی مشکلات سے نمٹنے کے لئے بہتر پالیسی اور فیصلوں کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ہماری دعائیں اور ہمدردیاں ترک عوام اور حکومت کے ساتھ ہیں ۔