بے نظیر اور بلند ایجوت۔ دو نظریئے
- تحریر مسعود مُنّور
- منگل 08 / دسمبر / 2015
- 5125
بہت عرصہ پہلے ملائیشیا کے مہاتیر محمد کی رخصتی کے فوری بعد میری نظر ترکی کے سابق وزیراعظم بلند ایجوت پر گئی جنہوں نے اپنے سرکاری دورہ بھارت کے موقع پر ایک بیان میں کہا تھا کہ ” سیکولرازم اسلام سے متصادم نہیں“۔ اپنے دورہ بھارت کے دوران ایک نئے بلاک ” یوریشیا “ کے قیام کا نظریہ پیش کرتے ہوئے جس کے قیام میں ترکی کے علاوہ بھارت اور دیگر جمہوری ممالک اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1980 کی دہائی میں یورپ اور ایشیا نظریاتی بلاکوں میں بٹے ہوئے تھے مگر اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے۔ ایشیا اور یورپ قریب آ رہے ہیں اب ترکی اور بھارت کے لئے موقع ہے کہ وہ اپنی حیثیت منوائیں۔ مرحوم بلند ایجوت نے یہ بھی کہا تھا کہ ترکی اور بھارت میں جمہوریت اور سیکولرازم کی جڑیں مضبوط ہیں اور وہاں یہ ثابت ہو چکا ہے کہ کسی بھی مذہب اور بالخصوص اسلام کو سیکولرازم سے کوئی خطرہ نہیں۔
اس سے چند ماہ پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی مندرجہ بالا بیان اور نظریہ سے ملتی جلتی تجویز پیش کی تھی۔ انہوں نے دورہ امریکہ کے دوران ایک یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے ” جمہوری ممالک کی انجمن “ کی تجویز پیش کی تھی جسے امریکہ، یورپ اور تیسری دنیا کے بیشتر اخبارات و جرائد نے کافی سراہا تھا۔ مگر پاکستانی پریس اور ذرائع ابلاغ نے اس کی اتنی پذیرائی نہیں کی تھی جتنی کرنی چاہئے تھی۔ شاید انہیں اس تجویز کی اہمیت اور پاکستان میں جمہوریت کے حق میں اس کے ممکنہ مثبت نتائج کا اس طرح احساس نہیں ہؤا تھا جس طرح مثال کے طور پر امریکی سینیٹر کینڈی کو ہؤا تھا۔ انہوں نے امریکی کانگریس میں باقاعدہ قرارداد پیش کی تھی جس میں کہا گیا کہ محترمہ بے نظیر کی اس تجویز کو عملی شکل دینے کی غرض سے کانگریس باقاعدہ ایک قانون وضع کرے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی تجویز یہ تھی کہ امریکہ سمیت مغرب کی تمام جمہوری ریاستیں اور پاکستان سمیت تیسری دنیا کے تمام جمہوری ممالک آپس میں ایک عالمگیر جمہوری انجمن تشکیل دیں جس کا بنیادی مقصد ہر جگہ آمریت اور مطلق العنانی کی شدید مخالفت اور جمہوریت کی مکمل اور بھرپور حمایت کرنا ہو۔ اس طرح کی ایک انجمن اگر وجود میں آتی ہے جس کے اراکین میں امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی جیسے بڑے ممالک بھی شامل ہوں تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان جیسے ملک کو ہو گا جہاں جمہوری قوتیں ابھی تک اپنے قدم مضبوط کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں اور جہاں ماضی میں بیرونی طاقتوں کی حمایت اور تائید کے سہارے آمریت قائم رہی۔ جمہوری ممالک کی انجمن آمریت کے احیاء اور جمہوریت کش قوتوں کے دوبارہ برسراقتدار آنے کے خلاف بہترین باڑھ ثابت ہو گی، پھر بھی کسی آمر نے کسی جمہوری ملک میں جمہوریت کشی کی مہم جوئی یا شب خون کی کوشش کی تو یہ انجمن اس ملک کی جمہوری طاقتوں کو بھرپور سیاسی اور اخلاقی حمایت اور آمریت کی مکمل سیاسی، اخلاقی، قانونی، معاشی اور سماجی مخالفت کی ذمہ دار ہوگی۔
میرے حساب سے مرحومہ بے نظیر بھٹو اور جناب بلند ایجوت (دونوں مرحومین دنیائے اسلام کے عظیم لیڈر) کی تجاویز ایکسٹرا تخلیقی تصور ہے۔ محترمہ کی تجویز کردہ ” ایسوسی ایشن آف ڈیموکریٹک اسٹیٹس “ اور سابق وزیراعظم ترکی کا نظریہ ” یوریشیا “ ایک ایسے وقت میں پیش کیا گیا جب ساری دنیا کے عوام محض اس احساس اور جذبے سے متحد ہو رہے ہیں کہ ڈکٹیٹر شپ کو ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا جائے اور اس کی جگہ جمہوری ماحول اور معاشرے کو پروان چڑھایا جائے کہ صرف جمہوری ماحول میں ہی ایک فرد اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکتا ہے۔ دنیا کے عوام کو یہ احساس متحد کر رہا ہے کہ جنگ اور جنگ کی دھمکیوں کے ذریعے نیشنل سیکورٹی حاصل نہیں ہو سکتی۔ قومی سلامتی صرف جمہوریت، مضبوط معاشیات اور ہمسایوں سے باہمی تناﺅ کو کم کر کے ہی حاصل ہو سکتی ہے۔ پاکستان جیسے ممالک جہاں آزادی کے بعد آدھی صدی سے زائد لوگوں کی جدوجہد صرف جمہوری انجمن، جمہوری حکومت اور جمہوری انتخابات کے قیام کو یقینی بنانے سے آگے نہیں بڑھ سکی، یہاں اس بات کی یقیناً ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ کم از کم دنیا کے مختلف ممالک میں جمہوریت، جمہوری عمل اور عوام کی خواہشات کا احترام کرنے کی سیاست کو تقویت پہنچائی جائے۔ جو ممالک جمہوری نظام کے علمبردار ہیں اور کسی نہ کسی طرح یا کسی نہ کسی شکل میں جمہوریت پر عمل پیرا ہیں وہ باہم مل کر اپنے اپنے ملک میں اور دنیا بھر میں جمہوریت کے استحکام کے لئے کام کریں کہ عہد انسانی سلطانی جمہور کے اصول پر ہی کامیاب و کامران ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کے استحکام کی جتنی ضرورت تیسری دنیا بالخصوص مسلم ممالک کو ہے، اتنی شاید مغربی دنیا کو نہیں۔ جمہوریت کے استحکام کے لئے پاکستان اور پاکستانی عوام کو تیسری دنیا کے جمہوریت پسند عوام اور اقوام کے ساتھ ایک عالمی جدوجہد کو آگے بڑھانے کا قدم اٹھانا چاہئے۔ اگر اس تجویز کو عملی جامہ پہنا دیا گیا تو سب سے زیادہ فائدہ تیسری دنیا کے عوام کو پہنچے گا۔ انہیں جمہوریت کی گاڑی کو آگے بڑھانے کا طریقہ اور راستہ مل جائے گا اور آنے والے طالع آزماﺅں کے لئے آمریت مسلط کرنے کا راستہ ہمیشہ کے لئے مسدود ہو جائے گا۔
اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کیلئے تیسری دنیا کے دانشوروں، صحافیوں، ادیبوں اور ترقی پسند سیاستدانوں کو اکٹھا ہونا چاہئے۔ اس سلسلے میں پاکستان اور بیرون پاکستان بہت سے سیمینار ہونے چاہئیں تاکہ یہ نقطہ نظر ان تک پہنچ سکے جن کو عوام کہتے ہیں۔