ہمیں کچھ نہ کہا جائے۔۔۔

ماڈل ٹاؤن میں خون سڑکوں پر بہے۔ بلدیاتی انتخابات کو خون سے " رنگین "کر دیا جائے۔ وزیر ، مشیر ، صاحبان اقتدار دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتے رہیں۔قصور میں بچپن پامال ہوتا رہے۔ خیر پور میں لاشے گرائے جا رہے ہوں۔ اقتدار کی بندر بانٹ جاری ہو۔ خزانے کو قرض سے بھرا جا رہا ہو۔ صوبوں میں ایم پی ایز کی وافر مقدار میں ہونے کے باوجود فیصلے تن تنہا کئے جاتے ہوں۔ نصف سے زائد وزارتیں نمائشی ہوں اور ان کے فیصلے کرنے کا اختیار وزراء کے پاس نہ ہو۔صوبائی داخلی صورت حال کے نگہبان کو لہو لہان کر دیا جائے۔ سالہا سال سے زیر انتظام صوبہ پیرس نہ بن پا رہا ہو ۔ ریگستان میں موت منہ کھولے نونہالان وطن کو لقمہ بنا رہی ہو۔ شہری علاقوں میں گرمی سینکڑوں لوگوں کو نگل جائے۔ سڑکوں پر رکشوں میں نئی نسل جنم لے رہی ہو۔ اپنے مخالفین کی کردار کشی پر لاکھوں روپے خرچ کئے جا رہے ہوں۔ اتنی لاگت منصوبوں کی نہ ہو جتنے ان کی تشہیر پر خرچ کئے جا رہے ہوں۔ ساری توانائی کسی جوڑے کی طلاق کے موضوع پر صرف کی جا رہی ہو۔ عوام کو قبروں کا مجاور بنایا جا رہا ہو۔ اربوں روپے بسیں چلانے پر صرف ہو رہی ہو۔ اپنے مرحوم قائدین کے نام پر فنڈز قائم کیے جا رہے ہوں۔ عالمی برادری ہمیں گھاس نہ ڈال رہی ہو۔ IMF ہم کو حکم دے رہا ہو اور ہم اپنے لوگوں پر بوجھ ڈال رہے ہوں۔سرکاری حج و عمرے معمول کی بات ہو۔ بے شک قیمتوں میں اضافہ معمولی بات بن جائے۔ اختیارات کا مرکز خاندان بن رہے ہوں۔ سائیں تو سائیں ، سائیں کے مرید بھی شاہ بن جائیں۔ جس ڈکٹیٹر کو گالیاں دیں اس کے ساتھی ہر صوبے میں ساتھی ہوں۔ایک پرانی کتھا کہ سینکڑوں عورتیں جانوروں کی طرح بند ہوں(بحوالہ کالم: ارشاد بھٹی، 12نومبر) ۔

قوم کو اقبال کے پیغام کے بجائے بس چھٹی پر بحث میں الجھا دیا جائے۔ جنازے سڑکوں پر رکھ کے احتجاج کیا جائے۔ سیلاب سالوں کی محنت پرپانی پھیر دے۔ میڈیا میں اپنے اپنے گروپ بنائے گئے ہوں۔ملک کے اثاثے اونے پونے بیچ کر فخریہ اسے کارکردگی گردانا جا رہا ہوں۔ پی ٹی سی ایل کے بزرگ پنشنرز اپنے حق کے لئے عدالتوں کے چکر کاٹ رہے ہوں۔ پرال میں سے سینکڑوں ملازمین کو فارغ کر دیا جائے۔ زکوٰۃ و عشر کے محکمے کے ہزاروں ملازمین اپنی مستقلی کے عدالتوں کے در کھٹکھٹا رہے ہوں۔ شماریات کے ذیلی ادارے کے ملازمین ہاتھوں میں اپنے حق میں آنے والے فیصلے تھامے توہین عدالت کی درخواستیں دے رہے ہوں۔"اشرافیہ" سڑکوں سے بلٹ پروف گاڑیوں کے بنا سفر نہ کر سکتے ہوں۔جاتی عمرہ کو قلعہ بنانے کے لئے بے شک 36کروڑ مختص کر دیے جائیں۔ صوبائی وزراء بے شک گجروں کے بیان کے نرغے میں ہوں۔ ایک مظلوم ماں بے شک اعلیٰ ترین عدالت میں اپنی مظلومیت کا نوحہ پڑھ رہی ہو۔ پاکستان سٹیل ملز بے شک تباہی کے دہانے پر ہو۔ غرضیکہ بس جو ہو۔۔۔۔ ہماری گورنس ہرگز بری نہیں ہے۔ ۔۔ ہمیں کچھ نہ کہا جائے۔

قوم کو صرف گورنس کے لفظ میں اس قدر الجھا دیا گیا ہے کہ جیسے اس لفظ کے ساتھ اگر "بیڈ" کا اضافہ کر دیا جائے تو یہ جمہوریت کے لیے باعث خطرہ بن ہو ۔لفظ گورنس پچھلے چند دن میں تین دفعہ سننے میں آیا ہے۔مسلح افواج کے سربراہ اور اعلیٰ عدلیہ کے دو اعلیٰ ترین منصفین، چیف جسٹس آف پاکستان اور جسٹس جناب فیصل عرب ۔ حکومت وقت ایک آزمائش سے گزر رہی ہے شاید اسی لئے وزیر اعظم صاحب فرما رہے ہیں کہ ٹانگیں کھینچنے سے منزل پر نہیں پہنچا جا سکتا ۔ اب نہ جانے یہ کون سی منزل ہے جس تک ٹانگیں جاتے ہوئے گھسیٹی جا رہی ہیں۔ وزیر اعظم کے بیان کو اکثریت نے عمران خان کے تناظر میں دیکھا لیکن اقلیت اس کو ڈھکا چھپا گلہ کہہ رہی ہے۔ ان سے گلہ جن کو مخاطب بھی نہیں کر پا رہے اور روکا بھی نہیں جا رہا۔ اب تینوں بیانات کا جائزہ لیا جائے تو فوج اس وقت سب سے متحرک ادرہ ہے جو ملک میں جاری دہشت گردی کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ اس کے بعد عدلیہ دوسرا متحرک ترین ادارہ ہے جو جرائم کی بیخ کنی کے خلاف تیز ترین فیصلوں سے اپنے حصے کا کردار بخوبی سر انجام دے رہا ہے۔ اب رہ گئی حکومت تو حکومت وقت اپنے حصے کا کام شاید کرنے کی کوشش بھی کر رہی ہو لیکن اس سے بری الذمہ نہیں ہو پا رہی ۔ تب ہی دہائی دینے کی نوبت آئی۔سب سے سرگرم ادارہ اگر صرف قربانیاں ہی دیتا رہے اور نتائج سامنے نہ آئیں تو پھر کیا اس کا اتنا حق بھی نہیں کہ وہ گلہ کر سکے؟ بے شک آئینی طور پر فوج ایک ماتحت ادارہ ہے۔ لیکن اس کا کردار ہر اول دستے کا ہے اور ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہر اول دستہ زخم سہتا رہے اور پیچھے چلنے والے کنارہ کر جائیں۔ ISPR کے بیان کو سیاسی رنگ دینا ہرگز مشکل نہیں تھا اور ایسا ہی کیا گیا۔ اور بابائے جمہوریت و پارلیمان نے فوراً بیان داغ کر ایک شریف کے حق میں فیصلہ دیا یا یوں کہہ لیں مسائل میں اضافہ کیا۔ واضح سی مثال یہ ہے پشاور واقعہ کے بعد فوج نے جس بھی جگہ آپریشن کیا وہاں عملاً سول انتظامیہ کو بہر حال آنا تھا۔ اب اگر سول انتظامیہ اپنی ذمہ داریوں سے عہدہ برآ نہیں ہو پائی تو کیا وہ ادارہ اپنی کوششوں کے رائیگاں ہونے پر احساس دلانے کا حق بھی نہیں رکھتا؟

اسی طرح عدلیہ کی مثال سامنے رکھیں۔ تازہ ترین مثال زین قتل کیس کی ہے۔ ملزمان احاطہ عدالت میں گواہوں کو پیسے دیتے رہے ۔ پراسیکیوٹر نے بیان بھی دیا کہ ایسا ہی ہوا۔ لوگوں نے پیسے دیتے ہوئے دیکھا بھی لیکن صد افسوس کے مجرمان باعزت بری ہو گئے۔ کیوں کہ بااثر جو ٹھہرے ۔ اب اگر انصاف بااثر طبقے کی باندی بن کر رہ جائے تو وہاں عدلیہ کیا کرے گی ۔ عدلیہ کا کام تو فیصلے کرنا ہے۔ فیصلوں پر عمل در آمد کروانا تو حکومت وقت کا کام ہے۔ ماڈل ٹاؤن سانحہ میں جسٹس باقر نقوی کی رپورٹ آئی الٹا ان پر ہی لعن طعن شروع کر دی گئی ۔ عدلیہ کے فیصلے اسی وقت معاشرے کی بھلائی میں کردار ادا کر پائیں گے جب گورنس کی صورت حال بہتر ہو گی ۔ اور یہی کہنا تھا جسٹس فیصل عرب کا بھی اور چیف جسٹس آف پاکستان کا بھی ۔

حکومت صرف ایک بیان پر ردعمل دکھا رہی ہے لیکن حیران کن طور پر باقی دو بیانات پر اس لئے ردعمل جان بوجھ کر نہیں دے رہی کیوں کہ عدلیہ سے کسی بھی طرح محاذ آرئی نہیں چاہتی (ماضی کی طرح) ۔ لیکن فوج کے ساتھ محاذ آرائی کسی قدر آسان اس لئے بھی سمجھی جا رہی ہے کیوں کہ جمہوریت کے آزمائے ہوئے گھوڑے کے پٹ جانے کا شور مچا کرصاف دامن بچا لیا جائے گا۔ ایک طرف تو آپ فوج کو فوری فیصلوں کے لئے بھی عدالتی نظام میں شامل کرتے ہیں اور ساتھ ہی ایک جائز مطالبے پر برا بھی منا جاتے ہیں۔ آپریشن فوج کرے ، کرپشن کے خلاف کاروئی نیم فوجی ادارہ رینجرز کرے ، آفات و بلیات میں فوج سامنے آئے ۔ فوری انصاف کے لیے منصف باوردی بٹھا دئے جائیں۔ سب کچھ یہ ادارہ کرے اور اگر کسی بھی جگہ حکومتی عدم توجہی کا گلہ کر دے وہ آپ کو گوارا نہیں۔ضرب عضب ہو یا راہ راست، کراچی میں کاروائیاں ہوں یا پھر پختونخواہ میں پکڑ دھکڑ ، اگر گڈ گورنس نہیں ہو گی تو کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔ لہذا بیڈ گورنس پر جمہوریت کا ماتم کرنے کے بجائے گڈ گورنس لانے کی کوشش کیجیے۔ کام بھی نہ کریں اور کہیں کہ " ہمیں کچھ نہ کہا جائے " یہ کیوں کر ہو!