عدم برداشت سے نمٹنے کی ضرورت

16 نومبر کو عدم برداشت کے عالمی دن کے موقع پر وزیر اعظم نواز شریف کا لبرل ازم پر اظہار خیال اور ہندوؤں کی دیوالی کی تقریب میں شرکت مذہبی رہنماؤں کو برداشت نہیں ہوئی ۔ اس کے بعد بیانات کا سلسلہ جاری ہؤا اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں مقتدر علماء کا اجلاس ہؤا جس میں پاکستان کی نظریات اساس کے دفاع کے لئے حکمت عملی تشکیل دینے کا فیصلہ ہؤا۔

امیر جماعت اسلامی اور مولانا عبدالعزیز (لال مسجد) نے دھمکیاں دیں اور یہ کہا کہ یہاں نظام شریعت کے سوا کوئی نظام قابل قبول نہ ہو گا ۔ عدم برداشت ہی کے حوالے سے پچھلے سال سپریم کورٹ نے پاکستان میں اقلیتوں کے معاملہ کا از خود نوٹس لیا تھا اور حکومت کو توجہ دلائی تھی کہ ملک میں اقلیتوں کے تحفظ کے لئے قوانین نا کافی ہیں۔ عدم برداشت کے حوالے سے ان اہم لیڈروں کے بیانات کے بعد 20نومبر کو سانحہ جہلم پیش آیا جس پر سوالیہ نشان ہے۔ جماعت احمدیہ کے افراد اس ملک میں عدم برداشت اور عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ چپ بورڈ فیکٹری کو جلانا پھر اگلے روز احمدیہ مسجد پر حملہ کرنا یہ حکومت کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ مساجد کے لاؤڈ سپیکروں سے لوگو ں کو اشتعال دلانے اور ان کے ایمانی جذبات کو ابھارنے کے اعلانات کروائے جاتے رہے ۔ ہماری پولیس اور قانون نافذ کرنے والے خاموش تماشائی بنے رہے۔وہ اوپر سے احکامات کا انتظار کرتے رہے۔ بالآخر وزیر داخلہ چوہدری نثار نے اس شہر میں پولیس بلانے کا حکم دیا ۔یہ ریاست بالخصوص پنجاب حکومت کی بیڈ گورنس تھی۔

اس واقعہ پر فیکٹری کے سیکیوریٹی افسر پر 295Dکا مقدمہ قائم کر کے جیل بھیج دیا ۔ جبکہ مولوی حضرات نے نیشنل ایکشن پلان کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے لاؤڈ سپیکر پر نفرت انگیز تقاریر کیں لیکن پر کوئی مقدمہ قائم نہیں ہؤا۔اس واقعہ کے چند روز بعد سرائے عالمگیر کی احمدیہ مسجد کے نگران پر حملہ ہؤا۔ اس کے جسم کو بلیڈ کے ذریعہ کاٹا گیا لیکن وہ زندہ بچ گئے۔معتبر ذرائع کے مطابق ان دونوں واقعات کے پیچھے لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کی حکمت عملی تھی۔ جماعت احمدیہ کے ترجمان سلیم الدین کا بیان ہے کہ قرآن کریم کی مبینہ بے حرمتی کا شر انگیز الزام لگا کر جہلم میں معصوم احمدیوں کو زندہ جلانے کی کوشش کی گئی تھی۔ کوئی احمدی قرآن کریم کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔ جہلم میں پچاس سال سے یہ مشہور چپ بورڈ فیکٹری کام کررہی تھی جس کے مالکان احمدی تھے۔ اس فیکٹری میں کام جاری تھا کہ کسی نے مقامی مولویوں کو یہ شر انگیز اطلاع دی کہ فیکٹری میں قرآن کریم جلا دئے گئے ہیں۔ بغیر تحقیق کے مساجد کے لاؤڈ سپیکرز پر مولویوں نے اعلان کروائے جس سے لوگوں میں اشتعال پیدا ہؤا۔

بارہ سوافراد پر مشتمل ہجوم نے فیکٹری پر ہلہ بول دیا پہلے پتھراؤ کیا پھر توڑ پھوڑ کی ۔ اس کے بعد آتش گیر مادہ سے فیکٹری کو آگ لگا دی۔ اس کے بعد پولیس موقع پر پہنچی جب تک فیکٹری 70 فی صد جل چکی تھی۔ فیکٹری کے اندر مبحوس افراد کو نکالا گیا۔ فیکٹری میں موجود آٹھ کاریں اور پندرہ گھروں کو بھی آگ لگا دی گئی۔ اکثرنے اپنی مددآپ کے تحت جانیں بچا کر قریبی دیہات اور جنگل کا رخ کیا۔ ایک باقاعدہ منصوبے کے تحت فیکٹری کو آگ لگا کراحمدیوں کو زندہ جلانے کی کوشش کی گئی۔  گزشتہ سال گوجرانوالہ میں رمضان المبارک میں خانہ کعبہ کی بے حرمتی کا الزام لگا کر مشتعل ہجوم نے 3 احمدی خواتین کو زندہ جلا دیا تھا،جس میں ایک حاملہ عورت اور اس کا بچہ  دنیا میں آ نے سے پہلے ہی جلا دیا گیا۔ بعد میں تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بات ثابت ہوئی کہ مذکورہ الزام سو فی صد جھوٹ پر مبنی اور ذاتی دشمنی کا نتیجہ تھا۔

اس طرح کے واقعات تمام اقلیتوں کے خلاف ایک منظم سازش کے تحت ملک بھر میں ہو رہے ہیں مگر حکومت بے بس نظر آتی ہے۔ اس قسم کے واقعات کی وجہ تعلیم کا فقدان اور ہمارا مائینڈ سیٹ ہے ۔ دینی مدرسوں میں جو تعلیم دی جاتی ہے ۔ اس طرح فرقہ پرستی ، انتہا پسندی و تنگ نظری کے نظریات جنم لیتے ہیں۔ ہر فرقہ اپنے مسلک کا درس دیتا ہے اور اسلام کی حسب خواہش تاویل کرتا ہے۔ اس ضمن میں قرآن حکیم کا فرمان ہے کہ محض کہے سنے پر یقین کرنا کسی صورت کافی نہیں بلکہ کسی خبر کو صحیح سمجھنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کے تمام پہلوؤں کے متعلق اچھی طرح تحقیق کر لی جائے۔

فیکٹری میں جلائے جانے والے قرآن کریم نہیں بلکہ اس فرقہ کے پرانے بوسیدہ اخبارات و رسائل تھے۔ حکومت کی طرف سے ان کے رسالہ جات پر پابندی عائد ہے اور دوسروں کو پڑھنے کی اجازت نہیں۔ ان کے رسائل پر یہ لکھا ہوتا ہے کہ “ صرف احمدی حضرات کے لئے“ ، اسی وجہ سے ان کو تلف کیا جارہا تھا تاکہ کسی صورت بے حرمتی نہ ہو۔ علاوہ ازیں قرآنی آیات یا ایسی تحریروں کو جلائے جانے کے بارے میں مختلف رائے موجود ہیں۔ اس پر ہمارے مفتیان کرام میں اختلاف چلا آرہا ہے ۔ اکتوبر 1935 ؁ء میں مفتی کفایت اللہ دہلوی سے یہ مسئلہ پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ’ محفوظ مقام میں8 دفن کر دینا بھی جائز ہے۔ لیکن جلا دینا آج کل زیادہ بہتر ہے کیونکہ محفوظ مقام دستیاب ہونا مشکل ہے کہ وہاں آدمی یا جانور نہ پہنچ سکیں اور حضرت عثمانؓ کا مصاحف کو جلانا اس کا جواز ہے‘ (کفایت المفتی جلد ۱ صفحہ ۱۱۹) یہ اجتہادی مسئلہ ہے ۔ جس میں حالات کی مناسبت سے کوئی بھی صورت اختیار کی جا سکتی ہے ۔ مگر سوال یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے قرآن کریم کے اوراق کو بے حرمتی سے بچانے کے لئے جلایا ہے تو اس پر توہین قرآن کا الزام عائد کرنا درست نہیں ہو گا ۔

قرآن پاک کے شہید شدہ اوراق کی حفاظت کی تین صورتیں امت مسلمہ میں رائج ہیں ۔ جلا دینا۔ بہا دینا۔ دفنا دینا۔ مقصود یہ ہیں کہ بے ادبی سے بچ جائیں۔ امام شافعی اور امام مالک (رحمہ اللہ) کے نزدیک افضل جلا دینا ہے۔ حنفیہ مسلک کے نزدیک شہید شدہ اوراق جلانے والا قابل تعذیر یا سزا کا مستحق نہیں ہے ۔ اس ضمن میں علمأ کرام کے فتاویٰ موجود ہیں۔ صحیح بخاری نمبر ۴۹۸۸ میں انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ عثمان بن عفانؓ نے جس وقت قرآن پاک کے نسخے تیار کرنے کو کہا تو انہیں تیار کر کے ہر علاقے میں ایک ایک نسخہ ارسال کیا اور اس نسخے کے علاوہ ہر قسم کا قرآنی نسخہ جلانے کا حکم دیا۔

ایک واقعہ مشرف کے دور میں قومی اسمبلی میں بھی پیش آیا تھاجس میں خود ہمارے علماأ اور ممبر قومی اسمبلی نے پاکستان کے آئین کی کاپیاں پھاڑ کر اسمبلی کے فلور پر پھینک دی تھیں جس میں قرآنی آیات اور کلمہ تحریر تھا۔ اس پر شیخ وقاص ممبر اسمبلی نے بھرپور تقریرکی اور احتیاج کیا ۔ یہ واقعہ ریکارڈ شدہ ہے۔ مگر اس پر کسی مولوی یا ممبر اسمبلی کے خلاف پرچہ درج نہیں ہؤا۔ حضرت انسؓ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تباہی کی گھڑی کی یہ علامتیں ہیں کہ علم اٹھ جائے، جہالت ڈیرہ ڈال دے، شراب پی جائے اور بد کاری عام ہو جائے۔ خون کو خون سے نہیں دھویا جاتا۔ اس کو پانی سے صاف کیا جاتا ہے ۔ اس طرح نفرت کو نفرت سے نہیں محبت سے دور کیا جاتا ہے لہٰذا محبت کا پیغام عام کریں یعنی محبت سب کے لئے نفرت کسی سے نہیں۔