“ پہل اُس نے کی تھی “
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- بدھ 09 / دسمبر / 2015
- 6268
میرا جنم سرگودھا میں ہؤا۔ نہری نظام نے اس صحرائی سرزمین کو سرسبز کر دیا۔ میں نے سرگودھا میں ہی بنیادی تعلیم حاصل کی۔ البتہ لاہور کی گلیوں، محلوں، ڈیروں اور جدوجہد کے ساتھیوں نے مجھے پر اتنا اثر کیا کہ لوگ مجھے لاہوری سمجھتے ہیں اور مجھے اپنے لاہوری ہونے پر کم فخر بھی نہیں۔
میرے مزاج پر لاہوری رہن سہن نے گہرااثر مرتب کیا ہے۔ چڑھتی جوانی میں لاہور آکر آباد ہونے کے بعد عملی زندگی میں جو قدم رکھا، الحمدللہ وہ قدم کبھی نہیں رُکے۔ میرے قدموں نے جو سفر کئے، اس پر کئی داستانیں مرتب کی جا سکتی ہیں۔ عملی سیاسی جدوجہد، سماجی زندگی کے معمولات نے مجھے وطن کے دُور دراز علاقوں کو دیکھنے کے مواقع فراہم کئے۔ سیاحت کے جنون نے اڑتالیس کے قریب دنیا کے مختلف ممالک کا سفر نصیب ہؤا۔ یورپ، افریقہ، ایشیا، جنوبی و شمالی امریکہ کے معروف اور غیر معروف ممالک کی سیاحت نے مشاہدے کے وہ مواقع فراہم کئے کہ مجھے اپنے اردگرد کوئی ایسا نہیں ملا جس نے خدا کی کائنات کی تلاش میں اتنے سفر کئے ہوں۔ صحرا، پہاڑ، وادیاں، معروف اور غیر معروف خطے، مثلاً جب میں کسی ایرانی کو کہتا ہوں کہ مجھے ارومیہ دیکھنے کا موقع ملا تو وہ حیران رہ جاتا ہے کہ یہ تبریز کے شہر سے چند گھنٹوں ہی کی مسافت پر نمکین جھیل کے اردگرد پھیلا علاقہ ہے۔ اسی طرح سپین اور فرانس کے درمیان پائرینیز پہاڑی سلسلہ، انڈونیشیا کے جزیرے اور دہکتے آتش فشاں (بورو موپہاڑ)، پورٹوریکو کے ہمارے ہاں گمنام ناموں کے دیہات، مصر سے سوڈان کے قریب دریائے نیل کے اردگرد فرعونوں کے شہر اور شاہی قبرستان، بلقان کے پہاڑوں میں اترتی گھاٹیاں، اور نہ جانے کیا کیا۔ لیکن اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ دنیا کے کس خطے میں کسی خاص کیفیت میں محسوس کرتے ہوتو یہ جواب خود میرے لئے بھی دلچسپ اور حیران کن ہے۔ شانزے لیزے پیرس کی بڑی شاہراہ کیا، نیویارک میں مین ہٹن کی گلیاں اور گلیوں میں کھڑی دنیا کی بلند و بالا عمارتیں کیا، سپین کی وادیاں، بلقان کے پہاڑ، یورپ میں گھومتا دریائے ڈینیوب کیا اورلندن کی معروف عالمی شہرت یافتہ شاہراہیں کیا، دنیا کے تین خطوں میں گھومتے ہوئے بڑی عجیب کیفیت ہوتی ہے۔ استنبول، ترکی، اناطولیہ کی سرزمین اور پاکستان میں پوٹھوہار اور وادئ سون۔
پوٹھوہار اور وادئ سون میں ایک عجیب سحر ہے جس کو میں ابھی تک بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ بولتے لفظوں میں یا یہاں کاغذ پر رقم کرنے میں۔ پوٹھوہار اور وادئ سون ایک دوسرے سے جڑا پنجاب کا وہ خطہ ہے جہاں بلند بالا پہاڑ ہیں نہ ہی شور مچاتے دریا۔ اس خطے کی ایک عجیب خاموشی ہے۔ یوں لگتا ہے ہزاروں سال پرانے راز چھپے ہیں اس کی خاموشی میں۔ میں جب بھی راولپنڈی یا اسلام آباد جاتا ہوں میری آنکھیں اس خاموش راز کی متلاشی رہتی ہیں جو اس خطۂ پوٹھوہار میں چھپا ہے۔ ایک عجیب سحر ہے وادئ پوٹھوہار میں۔ اسی پوٹھوہار کے سفر میں مجھے ایک شاندار دوست بھی نصیب ہؤا جس کی تحریروں نے دہائیوں سے لوگوں کو اپنے سحر میں جکڑ رکھا ہے۔ میں جب اپنے اس دوست سے پہلی مرتبہ جسمانی طورپر ملا تواس کی مسکراہٹ کے اندر بھی ایک سحر نکلا۔ میں اپنے اس دوست کو دہائیوں سے جانتا تھا، لیکن ملاقات چند سال قبل ہی ہوئی۔ ہم ایک دوسرے کے بارے میں بہت کچھ جانتے تھے، حالاں کہ ملاقات کبھی نہیں ہوپائی تھی۔ ہماری ملاقات تحریروں اور جدوجہد کی کہانیوں کی بازگشت کے سبب تھی۔ وہ مجھے میری تحریروں اور میری عملی جدوجہد سے جانتے تھے اور اسی طرح میں بھی انہیں اسی بنیاد پر جانتا تھا۔ بالمشافہ ملاقات کے بعد سحرانگیز مسکراہٹ پر میں نے یہ جانا کہ مجھے اپنے اس دوست کا مکمل تعارف ہو گیا۔ لیکن جب چند ماہ قبل اس پوٹھوہاری دوست کی کتاب “ پہل اُس نے کی تھی “ ملی تو یہ کتاب میں نے مناسب وقت ملنے پر مطالعہ کے لئے رکھ چھوڑی۔ وقت ملنے پرجب میں نے “ پہل اس نے کی تھی “ پڑھی تو یہ پوٹھوہاری دوست میرے لئے اپنے تعارف کی ایک اور جہت کھول گیا۔ جبار مرزا نے پہل نہیں کی تھی، بلکہ اس نے اس کو شائع کرنے کی پہل کی ہے۔ جبار مرزا کی شاعری، کالم نگاری اور پوٹھوہاری مسکراہٹ کے بعد اس کتاب کوپڑھنے پر راز کھلا کہ یہ پوٹھوہاری مرزا جس قدر زندگی کے معاملات میں فراخ دل واقع ہؤا ہے، اسی قدر اس نے ذاتی زندگی مسلسل شرمیلے پن کے خاص مشرقی جذبے میں گزار دی۔
جبار مرزا کتابوں کے رسیا ہیں اور ان کے مداحوں میں مجھ سمیت ہزاروں قاری تو ہیں ہی، پاکستان کے مایہ ناز سپوت ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی ان کے مداحوں میں شامل ہیں۔ جبار مرزا دوستی اور زندگی کو نظریاتی خیموں میں رہ کر نہیں گزارتے۔ ان کے دوستوں میں ہر نظریے کے لوگ شامل ہیں اور یہی ان کی شخصیت کا نکھار ہے۔ “ پہل اس نے کی تھی “ ایک عجیب کتاب ہے ۔ معلوم نہیں چوہدرانی ہیروئن ہے کہ رانی، یاپھر کہ پوٹھوہار کا راجہ (مرزا جبار)، لیکن یہ بات طے ہے کہ یہ کتاب پاکستان میں شائع ہونے والی کتابوں میں نہایت مختلف ہے اور منفرد بھی۔ اپنی ذات سے متعلق کردار کو جیسے بیان کیا ہے یہ انداز بھی نیا ہے، کردار موجود بھی ہے اور نہیں بھی۔ چوہدرانی کی کہانی ہے کہ جبار مرزا کی کہانی! پوٹھوہار کے اس سپوت نے اس کتاب میں ایک انداز متعارف کروایا ہے۔ ہمارے ہاں جیسے پیر غائب کا تصور ہے اور میں نے دہلی اور چند دیگر علاقوں میں ایسے پیر غائب کے مزارات کی زیارت بھی کی ہے۔ اسی طرح اس کتاب کی کہانی کا بنیادی کردار چوہدرانی غائب بھی ہے اور موجود بھی۔ لیکن جبار مرزا نے اس کتاب میں تمام ثبوت اور شواہد سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ پہل انہوں نے نہیں کی تھی، بلکہ پہل چوہدرانی نے کی تھی۔ یہ ایک صحافی، ادیب اور دانشور کی کہانی بھی ہے۔ پوٹھوہار میں پھیلے پہاڑوں اور وادیوں کے خاموش لبوں کی طرح بیان کی گئی کہانی۔