روس عالم اسلام کا کس قدر خیر خواہ ہے؟
- تحریر ڈاکٹر خلیل طوقار
- جمعرات 10 / دسمبر / 2015
- 8629
ترکی کے لڑاکا طیاروں نے ترکی کے فضائی علاقے میں داخل ہونے والے ایک روسی لڑاکے جہاز کو مارگرایا۔ اِس کے ساتھ ہی عالمی میڈیا میں ایک ایسا ماحول پیدا کیا گیا جیسے ترکی کے جہازوں نے شام کے فضائی علاقے میں جاکر بہت ہی سعی و کوشش کے بعد ایک مسافر بردار ہوائی جہاز کو ڈھونڈ نکالا اور اُس نہتے جہاز کو اپنے خوفناک میزائلوں سے کوئی اطلاع دئیے بغیر مارگرایا۔ پھر فوراً ترکی، ترکی کے صدر رجب طیب ایردوغان اور اُن کے بیٹے کے داعش دہشت گرد تنظیم کے ساتھ تعلقات کے الزامات کے بارے میں جھوٹے بیانات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
ان جھوٹے الزامات کا سلسلہ ڈیڑھ دو سال سے مغربی میڈیا کی بی بی سی، سی این این اور نیویارک ٹائمز جیسی بڑے میڈیا ہاؤسز ک توسط سے جاری تھا ۔ یہ ادارے جن کی ترک دشمنی مسلمہ ہے، کبھی بھی ایک بھی ٹھوس ثبوت یا تصویر یا کوئی دستاویز پیش نہیں کرسکے۔ نہ ہی اُن کی اپنی حکومتیں اُن کی خبروں کی تائید میں کوئی بیان دے سکیں۔ وہ بس ریٹائرڈ جنرلوں یا خفیہ ایجنسیوں سے برطرف کئے گئے لوگوں کے بیانات کو استعمال کرکے ترکی پر حملہ کررہے تھے، جن کے اسباب کا کم وبیش ترکی میں سب کو علم ہے۔
پھر ترکی نے روس کے لڑاکے طیارہ کو مار گرایا یا روس نے اپنے طیارہ کو مارےجانے کے لئے ایک خفیہ پالیسی کے تحت ترکی کےفضائی علاقے میں بھیج دیا۔انشاء اللہ اِس موضوع پر آگے چل کرکسی اور تحریر میں تفصیلی گفتگو ہوگی۔ لیکن روسی طیارہ کے گرنے کے بعد ترکی کے خلاف الزامات کا جو سیلاب شروع کیا گیا، اس کے بہاؤ میں پاکستانی میڈیا کے کچھ تجزیہ کار بھی بہنے لگے۔ اب محترم تجزیہ کاروں اور صحافیوں کا کمال یہ تھا کہ ترکی مغربی بالخصوص امریکہ کے مفادات کے تحفظ کی خاطر روسی لڑاکا طیارہ کو مار گرانے والا ایک ویلن ہے اور روس، ماشاء اللہ، عالم اسلام کے تحفظ کے لئے شام میں اپنے آپ کو قربان کرنے والا ایک بہادر اور نڈر ہیرو ۔ جیسے روس شام میں اپنے لوگوں کو بے دردی سے قتل کرنے والے اسد کوبچانے کے لئے نہیں پہنچا، جیسے داعش کو بہانہ بناتے ہوئے اپنا فوجی استحکام مضبوط کرنے نہیں پہنچا، جیسے روسی لڑاکے طیارے داعش کے ٹھکانوں کی بجائے اسد سے لڑنے والے آزاد شامی فوج کے ٹھکانوں اور عام شامی شہریوں پر بم نہیں برسارہے ہیں، جیسے روس اپنے مفادات کو بچانے کی خاطر دنیا کو ایک نئی جنگ کی طرف لے کر نہیں جارہا ہے۔ خیر، روس جو بھی کرے وہ امریکہ کے سامنے کھڑا جو ہے ؟ کچھ محترم اور معزز تجزیہ نگاروں کی نگاہ میں بہر حال وہ حق بجانب ہے اور ترکی چونکہ امریکہ کے ساتھ ہے لہٰذا وہ بالکل غلط راستے پر ہے۔
یہ معزز اصحاب یہ نہیں دیکھتے کہ شام ہماری سرحد پر ہے۔ ترکی حکومت کی ہزار کوششوں کے باوجود وہاں ایک جنگ شروع کرائی گئی ہے اور ترکی کو اِس جنگ میں دھکیلنے کے لئے سالوں سے سازشیں جاری ہیں۔ پہلے اسد کی فوجیں، پھر پی وائی ڈی اور پی کے کے کے کُرد گوریلے اور آخر داعش کے دہشتگرد، شام کی سنّی عرب اور ترکمان آبادی پر خوف و ہراس طاری کررہے ہیں۔ اِسی طرح سے اُن کو ترکی کی طرف بھاگنے پر مجبور کرکے شام کی سرزمین کو اپنے لئے خالی کررہے ہیں۔ اب ترکی میں تیس لاکھ شامی پناہ گزین ہیں اور ہم لوگ اُن کو اپنے شہروں میں قصبوں میں رکھے ہوئے ہیں۔ ترکی کی یونیورسٹیوں میں اور اسکولوں میں داخلہ دیتے ہیں اور جس طرح سے ہوسکے اُن کو زندہ رکھنے کے لئے امداد فراہم کرتے ہیں اور کبھی یہ نہیں پوچھتے کہ آپ لوگ ہمارے ملک میں کیوں آئے ہیں؟
ترکی کی حکومت اور عوام اِس جنگ کے خاتمے کے خواہشمند ہیں۔ مگر نہ جانے کس طرح جب اسد کی فوج ایرانی رضاکاروں کی موجودگی کے باوجود پسپائی کا سامنا کرنے لگتی ہے تو اچانک اُس علاقے میں داعش کی دہشتگرد تنظیم آپہنچتی ہے۔ جیسے وہ ایک دہشتگرد تنظیم نہیں بلکہ ایک ملک کے تجربہ کار اور مسلح فوج ہو وہ تمام علاقے میں چھاجاتی ہے۔ شام کی جنگ پھر سے بھڑک اُٹھتی ہے اور داعش کی دہشتگردی کے خاتمے کے لئے دنیا کی تمام طاقتیں اِس علاقے میں پہنچ جاتی ہیں اور روس کے نئے زار پوتین جو خود کو روسی ایمپائر کا مسیحا گردانتا ہے داعش کا گلا دبانے کے لئے اپنی فوج کو شام میں بھیجتا ہے۔ شام پہنچ کر اُس کے جنگی طیارے داعش کی بجائے آزاد شامی فوج کے ٹھکانوں پربمباری کرنے لگتے ہیں۔ کہانی واقعتاً بہت ہی دلچسپ ہے۔ پھر ترکی کو بہت ہی نازک اور خطرناک فیصلے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ترکی کے حکمرانوں کو بخوبی علم ہے کہ امریکہ، جرمنی، انگلینڈ اور فرانس کے عزائم کیا ہیں اور اِن طاقتوں نے کس طرح سے عالم اسلام کو درہم برہم کیا ہے؟ مگر روس تو کوئی معصوم بچہ نہیں جو اپنے کرتوت کے اعداد و شمار میں مغرب سے کم قصوروار ٹھہرے۔
تاریخ کا ایک ناچیز قاری ہونے کی حیثیت سے عالم اسلام کے نئے ہیرو“ روس “ کے لئے مسلمان ممالک بالخصوص پاکستانی میڈیا میں قصیدہ خوانی کا جو سلسلہ شروع ہؤا ہے، اُس کو پڑھ کر میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعتاً روس عالم اسلام کے اِس قدر خیرخواہ ہے کہ اُس کی قصیدہ خوانی کی جائے۔ اب میں قارئین کرام کی خدمت میں کچھ تاریخی معلومات پیش کروں گا جن کو پڑھ کر وہ خود فیصلہ کرلیں کہ روس ہمارا کس قدر خیرخواہ ہے:
1۔ روس نے 1502 میں منگول نسل کے اسلامی ملک طالائی اردو [Golden Horde] حکومت پر قبضہ کرلیا جس کی مسلم آبادی بالکل ختم ہوگئی۔
2۔ 1552 میں قازان جو تاتارستان کا دارالحکومت تھا، پر اور پھر 1556 میں آسترخان پر اپنا قبضہ جمایا۔
3۔ 1699 میں جب عثمانی سلطنت یورپ کے صلیبی مقدس اتفاق سے جنگ میں تھی کہ روس نے مشرق میں کریمیا کے علاقہ ازوف [Azof] پر حملہ کیا اور یہ شہر 1736 تک مختلف جنگوں میں دونوں ملکوں کے قبضے میں آتاجاتا رہا اور آخر 1736 میں روس میں شامل کیا گیا۔
4۔ 1769 کی جنگ کے بعد رومانیہ جوکہ سلطنت عثمانی کا حصہ تھا، روس کے قبضے میں آگیا۔
۵۔ روس نے 1774 میں کریمیا پر قبضہ کرلیا۔
6۔ 1806 میں روس نے پھر اپنے عزائم کو حاصل کرنے کے لئے سلطنت عثمانی پر حملہ کیا اور یہ جنگ 1812 تک جاری رہی۔
7۔ 1827 میں روس، انگلستان اور فرانس کی مشترکہ بحری فوج نے عثمانی بحری فوج پر اچانک حملہ کیا اور عثمانی جنگی بحری جہازوں کو نذر آتش کیا گیا۔
8۔ عثمانی بحریہ کو آگ لگائے جانے کے بعد روس نے عثمانی سلطنت کو کمزور پاکر 1828 میں عثمانی سلطنت پر حملہ کیا اور مغرب میں آڈریاناپول اور مشرق میں عرض روم تک روسی فوجی کو کامیابی حاصل ہوئی۔ 1829 میں دستخط شدہ صلح نامہ کے مطابق عثمانی سلطنت کو اپنے بلقانی مقبوضات کو خود مختاری دینے پر مجبور کیا گیا۔
9۔ 1853 سے 1856 تک کریمیا کی جنگ ہوئی۔ چونکہ اِس جنگ میں یورپین ممالک کو روس کے آبنائے باسفورس اور آبنائے چناق قلعہ پر قبضہ کرنے کے عزائم کا علم تھا، اُن لوگوں نے اِس کو اپنے مفادات کے خلاف سمجھ کر عثمانی مملکت کا ساتھ دیا۔ سو روس کو اِس جنگ میں شکست ہوئی۔
10۔ 1877 میں روس نے بلقان میں موجود عثمانی مقبوضات بلغاریہ، سربیا اور نیم مختار رومانیہ کے عیسائیوں کو پہلے بغاوت پراکسایا اور پھر اِس کو بہانہ بناتے ہوئے عثمانیوں پر مشرق اور مغرب سے حملہ کیا۔ اس جنگ میں عثمانی لشکر چار ملکوں سے جنگ کرنے پر مجبور ہؤا۔ اُس کی فوج اندرونی چپقلشوں کی وجہ سے کمزور تھی لہٰذا عثمانیوں کو بہت بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اپنے بلقانی مقبوضات سے بالکل دستبردار ہؤا۔
11۔ 1912۔1913 کی جنگ ہائے بلقان میں روس نے بلقانی ملکوں کی پشت پناہی کی اور اُن کو کامیاب کروایا۔
12۔ پہلی جنگ عظیم میں 1917 کے روسی انقلاب تک روس نے دُولِ اتحاد کے ہمراہ ترکی کے مشرقی علاقوں پر دھاوا بولا۔ انقلاب کے بعد ترکی کی مشرقی جنگ ختم ہوئی۔
پھر عثمانیوں کے خلاف اِس طرح جنگ کرنے والے روس نے ترکستان کی جانب بھی پیش قدمی کی ۔
1۔ 1865 میں روس نے خوکند امارت پر چڑھائی کی اور فرغانہ تک کے علاقوں پر قبضہ کرلیا۔
2۔ 1868 میں بخارہ کی امارت کو اپنی حکمرانی میں شامل کرلیا۔
3۔ 1873 میں خیوہ کی امارت پر روسوں نے قبضہ کرلیا۔
یہ امارات جن کے نام اوپر درج ہیں اُن کی جگہ آج کل ازبکستان، ترکمانستان، قزاقستان، قرگزستان اور تاجکستان موجود ہیں۔
پھر ترکستان پر قبضہ کرنے والے اِس ہیرو نے مسلمانوں پر جو نظر شفقت ڈالی وہ یہ ہے:
1۔ 1779 سے 1822 تک جنگ کے بعد روس کا داغستان، چیچینیااور جنوبی چرکیسیا پر قابض ہوگیا۔
2۔ 1817۔1864 کی جنگ کے بعد روس نے تمام چرکیسیا پر قبضہ کیا اور اِن علاقوں میں چرکیسوں ک انخلاء اور قتل عام شروع ہؤا۔
3۔ 1945 میں کریمیا کی تاتاری آبادی کو سردیوں کی ایک ہی رات میں فوج کی وساطت سے اپنے گھروں سے زبردستی نکال کر ٹرین کی مال برداربوگیوں میں بھردیا گیا اور اُن کو روس کے مختلف علاقوں میں بانٹا گیا۔ اِس سفر کے دوران اُن کی نصف آبادی جو زیادہ تر خواتین، بچے اور بوڑھوں پر مشتمل تھی، راستے میں ہلاک ہوگئی۔ اُن کے مرد اور جوان اُس وقت روسی فوج میں بھرتی ہوئے تھے اور دوسری جنگ عظیم میں جرمنی کے خلاف روس کے لیے مختلف محاذوں میں لڑرہے تھے۔
4۔ کریمیا کے تاتاروں کی طرح جارجیا کی ترک آبادی کو بھی ایک دن میں ٹرین کی مال برداربوگیوں میں بھرکے روس کے مختلف علاقوں میں تقسیم کیا گیا۔
5۔ 1979 میں روس نے افغانستان پر قبضہ کیا۔ اگر وہ افغانستان میں کامیاب ہوتا تو دوسرا قدم پاکستان تھا۔ اِس میں کوئی شک نہیں تھا کیونکہ روس کی تاریخ غور سے پڑھنے والے سبھی کو پتہ ہے کہ روس اپنی تاریخ کے ہر مرحلےمیں “ گرم سمندروں تک رسائی کی پالیسی “ پر قائم رہا۔ 1989 میں روس کو اِس جنگ میں نہ صرف شکست ہوئی بلکہ اِس وجہ سے سویت یونین کا بھی خاتمہ عمل میں آیا اور روس نے گرم سمندروں تک رسائی کی پالیسی کو کچھ عرصے کے لیے ملتوی کردیا۔
6۔ 1991 میں چیچنیا ریاست نے روس سے علیحدہ ہوکر اپنی خودمختاری کا اعلان کیا۔ پھر روس نے اِس ملک پر ہوائی اور زمینی راستوں سے بمباری کا سلسلہ شروع کیا اور اِس چھوٹے سے مسلم ملک پر اِس قدر بمباری ہوئی کہ اِس کے شہری نیست و نابود ہوئے، اور پوتین نے اِس ریاست کے سر پر ایک ایسے ظالم چیچن سربراہ کو مسلط کیا جو کافروں سے بھی بہت زیادہ ظالم ہے۔ ویسے بھی وہ روسی خفیہ ایجنسی کا ممبر تھا اور اپنے ملک کی آزادی کے خواب کو ختم کرنے میں وہ پوتین کا دست راست بنا۔
7۔ 1990 میں آذربائجان میں جب روس کے خلاف احتجاج کا آغاز ہؤا توروس کی فوج آذربائجان کے دارالحکومت باکو میں داخل ہوئی اور روسی لشکر نے نہتے آذریوں پر بے دردی سے ٹینک چلاکر سینکڑوں مسلمانوں کو شہید کردیا۔
8 ۔1991 میں جب آذربائجان اور آرمینیا آزاد ہوئے تو آرمینیا کی فوج نےآذربائجان کے قراباغ نامی علاقے پر حملہ کیا۔ چونکہ روسی فوج اِن دونوں ملکوں سے باہر نکلتے ہوئے آذربائجان میں موجود ہتھیاروں کو واپس لے گئی تھی اور آرمینیا سے واپس جاتے ہوئے تمام تر ہتھیارکو چھوڑ کر گئی تھی لہٰذا آرمانئین فوج کو برتری حاصل ہوئی اور آرمنیا نے آذربائجان کے قراباغ علاقے کے علاوہ آذربائجان کے ایک تہائی پر قبضہ کرلیا۔ بالخصوص قرہ باغ میں آرمینی فوج نے آذریوں کو بے دردی سے قتل کیا اور یہ قتل عام کسی نسل کشی سے کم نہیں تھا اور مسلمان خواتین، بچے اور بوڑھے بھی اِس قتل عام کی زد میں آئے۔
9۔ جب سے پوتین برسر اقتدار آیا تو پھر سے روس ایمپائر کو قائم کرنے کے پیچھے پڑگیا۔
10۔ 2008 میں روس نے جارجیا کے ایک حصے پر قبضہ کرلیا۔
11۔ پچھلے سال روس نے یوکرین کے مشرقی علاقوں پر اور پھر کریمیا پر پھر سے قبضہ کرلیا اور کریمیا میں مخالف تاتاری قوم کے سربراہوں کو یا ملک بدرکیا گیا یا جیل میں بھیجا گیا یا رات گئے شہر کی سنسان گلیوں میں نامعلوم افراد [؟]نے اُن کو قتل کیا۔
12۔ اسد اور شامی باغیوں کی جنگ کی وجہ سے روس کو شام سے اپنی فوج کو واپس بلانا پڑا تھا۔ پھر اچانک شام میں یہ داعش کی تنظیم ظہورپذیر ہوئی اور اُس کو بہانہ بناتے ہوئے روس نے امریکہ کے ساتھ سمجھوتہ کرکے شام میں اپنی فوجیں بھیجیں۔
13۔ روسی فوج، ایرانی رضاکار اور اسد کے نصرانی سپاہی داعش کی بجائے آزاد شامی فوج اور بالخصوص ترکمان علاقوں پر حملہ کرنے لگے مگر پھر بھی وہ اپنے مقاصد حاصل نہیں کرپارہے تھے۔
14۔ اچانک ایک معصوم اور نہتا روسی لڑاکا طیارہ ترکی کے میزائیلوں سے مسلح طیاروں کے ظالمانہ حملے کا نشانہ بنا اور روس کو یہ موقع ملا کہ اپنی تمام تر فوج کو شام میں آرام سے بھجوائے۔
تمام تر میڈیا بالخصوص اردو میڈیا کے کچھ محترم تجزیہ نگاروں پر یہ انکشاف ہؤا ہے کہ روس عالم اسلام کا محافظ ہے اور ترکی امریکی مفادات کا محافظ ۔ اوپر مذکور تاریخی معلومات کا مطالعہ کریں اور اگر پھر بھی وہ لوگ یہ سوچتے ہیں کہ روس حق بجانب ہے تو میں اُن کے انصاف پر شک کرنے لگوں گا۔ جب سے روس ایمپائر بنا تب سے اُس کی واحد کوشش گرم سمندروں تک پہنچ کر دنیا پر حکمرانی کرنا ہے اور روس جہاں جہاں پہنچا وہیں وہیں مسلمانوں پر ظلم و تشد ڈھانے میں ایک پل بھی تردد نہیں کیا۔ کچھ معزز احباب کو میری باتیں “ جعلی خبریں “ لگتی ہیں مگر میں اپنے خاندان کے واقعات جانتا ہوں اس لئے کوئی مجھے روس کے حق میں کوئی بات کہے تو میں اُس سے کہوں گا کہ روسیوں نے آپ کے ملک پر قبضہ نہیں کیا۔ اگر کیا ہوتا تو میں اُس وقت آپ سب کا رد عمل دیکھتا۔
روسیوں نے چرکیسیا پر قبضہ کے دوران جو ظلم و ستم کیا ہے میری ننھیال اُس کی زد میں آئی ۔ میری نانا کی امی جوکہ چرکیس تھیں، صرف وہ اور اُن کے قبیلے کے بوڑھے بچے اور خواتین جو روسیوں کے پہنچنے سے قبل بحری جہازوں تک پہنچای گئیں تھیں تو ترکی پہنچ سکیں مگر اُن کے قبیلے کے تمام مرد اور جوان جو باقی رہے اُن سب کو روسیوں نے شہید کردیا۔ اگر روسیوں نے آپ کے خاندان والوں کو قتل کیا ہوتا تو میں اُس وقت دیکھتا آپ سب کا رد عمل کیا ہوتا۔ جنگ بلقان کے دوران میری نانی اماں کی نانی پر روسوں کی پشت پناہی میں مسلمانوں کو قتل کرنے والے بلغاریوں نے جو ظلم کیا ہے اُس کا مجھے پتہ ہے۔ اگر وہ لوگ آپ کی عورتوں کے ساتھ وہ ملعون کام کرتے تو میں اُس وقت دیکھتا آپ سب کا رد عمل۔ اب شام میں جو عام شامی باشندوں کے ساتھ ہوتا ہے اور شام کے ترکمان پہاڑی کے علاقے میں آج بھی ترکمان لوگوں کو ختم کرکے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے روسی بمباری ہورہی ہے جس کی وحشتناک آوازیں ہمارے سرحدی شہروں میں بھی سنائی دے رہی ہیں۔ وہ آپ کے شہروں میں ہوتا تو میں اُس وقت دیکھتا آپ سب کا رد عمل۔
اب جبکہ ترکی کی حکومت نے یہ سب روکنے کے لئے اقدام کیا تو وہ تمام دنیا کی نظر میں مذموم قرار پائی۔ خاص طور پر اردو کے کچھ تجزیہ نگاروں کی نظر میں یہ بات قابل اعتراض ہے کہ ترکی، روس کے عزائم کے سامنے کیوں رکاوٹ بنتا ہے۔ چھوڑو اُسے کیونکہ وہ امریکہ کے خلاف ہے۔ میرے دوستو، مغرب والے بھی روس بھی ایک ہی تھالی کے بینگن ہیں۔ یہ بھی آکر مسلمانوں کو مارتے ہیں اور وہ بھی آکر مسلمانوں کو مارتے ہیں۔ اور یہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم دہشتگردوں کا خاتمہ کررہے ہیں۔ لیکن مرتے تو عام مسلمان ہیں۔ دہشتگرد تنظیمیں وہیں کی وہیں رہتی ہیں۔ اور اِس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ترکی حکومت کو اپنے ملک کی حفاظت کرنی ہے خواہ اِس کو کچھ لوگ امریکہ کے مفادات کا تحفظ کیوں نہ سمجھیں۔