برائی کے خلاف جنگ اسلام کی روح ہے
- تحریر حسین شہادت
- ہفتہ 12 / دسمبر / 2015
- 5128
حق و باطل کی جنگ ازل سے ہے اور یقین محکم ہے کہ ابد تک حق اور باطل کا ٹکراؤ ہوگا جس میں یقیناًباطل ہی نے زیر ہونا ہے۔ لیکن ہر دور میں یہ سوال ضرور اٹھتا رہے گا کہ حق کیا ہے اور باطل کون ہے ۔ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب ناگزیر ہے اور ثابت کیا جائے کہ حق کا اس کائنات میں کیا مقام ہے اور باطل نے کیونکر مٹ جانا ہے ۔
ْ ہر وہ کام جو اللہ کے حکم کے تابع ہوکر عمل میں آئے حق ہے اور باطل اسے کہتے ہیں جو اللہ کی حکم عدولی کی صورت میں انجام دیا جائے ۔ کائنات میں سب سے پہلے حکم عدولی حضرت آدم ؑ سے ہوئی جس کے بعد انہیں احساس ہوگیا کہ دراصل حق یہی ہے کہ اللہ کا فرمان سچا اور غیر اللہ کی کہی گئی ہر بات باطل ہے ۔ دنیا میں پہلا قتل آدم ؑ کی اولاد قابیل کا ہواجس سے باطل کو حوصلہ ملا۔ اس طرح انسان اپنے رب دور ہونے لگا اور وہ اپنے خالق کے احکامات سے غافل ہونے لگا ۔ وہ یہ گمان کرنے لگا کہ یہ پابندیاں درست نہیں بلکہ اسے ہر اس کا م کی اجازت ہونی چاہئے جو اسے اچھا لگے ۔ البتہ ہر بار کی نافرمانی کے بعد اسے اللہ ہی کی طرف لوٹنا پڑا ہے۔ کیونکہ اللہ نے اپنے فرمانبرداروں کیلئے جو راحت اور سکون رکھا ہے، وہ کسی بھی باطل قوت کے بس کی بات نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیشہ انسان نے رو گردانی کے بعد جب اللہ سے رجوع کیا تو اسے ایک پرسکون زندگی کا احساس ہوا ہے ۔
اللہ اپنے بندوں کو تکلیف دینا یا زمین پر فتنہ و فساد نہیں چاہتا لیکن خدا سے دوری سے یہ مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ پروردگار کو گوارا نہیں کہ اس کے بندوں کو بے قصور ستایا اور نقصان پہچایا جائے ، اسے یہ بھی پسند نہیں کہ طاقتور کمزور کو کھا جائیں اور ان کے امن وا مان، چین و سکون پر ڈاکہ ڈالیں اور ان کی اخلاقی ، روحانی اور مادی زندگی کو ہلاکت میں مبتلا کردیں ۔ دنیا میں سیاہ کاری ، بدکاری ،ظلم و ناانصافی اور قتل و غارت گری اللہ کی مرضی نہیں ہو سکتی۔ اسی لئے اگر کوئی شخص محض اللہ کی خاطر دنیا کو فتنہ سے پاک کرنے کیلئے اور ظلم کو دور کرکے عدل و انصاف قائم کرنے کیلئے کھڑا ہوجائے تو اللہ اسے محبوب سمجھتا ہے۔ قرآن مجید میں سورۃ الصف کی آیت 4 میں فرمایاگیا : ’ اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف باندھے ہوئے جم کر لڑتے ہیں گویا سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں ‘۔
ًسور ۃ توبہ کی آیت 19 اور 20 میں ارشاد ہوا : ’ً کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے والے اور مسجد الحرام کے آبا د کرنے کو ان لوگوں کے کام کے برابر ٹھہرایا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے اور اللہ کی راہ میں لڑے ؟ اللہ کے نذدیک یہ دونوں برابر نہیں ہیں ۔ اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا ، جو لوگ ایمان لائے ، جنہوں نے حق کی خاطر گھر بار چھوڑا اور اللہ کی راہ میں جان و مال سے لڑے ان کا درجہ اللہ کے یہاں بڑا ہے اور وہی لوگ جو حقیقت میں کامیاب ہیں۔ ‘
حق یعنی اللہ کی راہ میں لڑنا جہاد کہلاتا ہے اور یہی اس کی فضیلت ہے جس کی بنا پر اسے تمام انسانی اعمال میں ایمان باللہ کے بعد بڑا درجہ دیا گیا ہے ۔ اگر اس کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ در حقیقت یہی چیز تمام فضائل کی روح ہے ۔ انسان کی قوت کہ وہ بدی کو کسی بھی حال میں برداشت نہ کرے اور اسے ختم کرنے کیلئے ہر قسم کی قربانی کیلئے تیار ہوجائے، انسانی شرافت ہے اور عملی زندگی کا راز بھی اسی میں مضمر ہے ۔ جو شخص دوسروں کیلئے بدی کو برداشت کرتا ہے تو گویا یہ اس کی بڑی اخلاقی کمزوری ہے جو اسے اس پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ خود اپنے لئے بدی کا انتخاب کررہا ہے۔ جب اس میں برداشت کا یہ مادہ پیدا ہوجاتا ہے تو سمجھ لیجئے کہ اس نے ذلت کا درجہ پالیا، جسے خدا نے اپنے غضب سے تعبیر کیا ہے ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان پہنچ کر اپنے اندر کسی شرافت اور انسانیت سے محروم ہوجاتا ہے ۔ وہ صرف جسمانی اور مادی غلامی ہی نہیں بلکہ ذہنی و روحانی غلامی میں بھی مبتلا ہوجاتا ہے اور تنزل کے ایسے گڑھے میں جاگرتا ہے جہاں سے نکلنا اس کیلئے محال ہوجاتا ہے ۔ اس کے برعکس جس شخص میں یہ اخلاقی قوت موجود ہوتی ہے وہ بدی کو بدی سمجھتا اور انسانی برادری کو اس سے نجات دلانے کی انتھک اور حتی الامکان کوشش کرتا ہے۔ اسے اللہ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے۔
بدی کے خلاف اقدام سے معاشرے میں نظام تمدن درست رہتا ہے ۔ اگر دنیا میں کوئی ایسی قوت موجود ہوجو بدی سے پیہم جہاد کرتی رہے اور تمام سر کش قوتوں کو اپنی حدود کی پابندی پر مجبور کردے تو نظام معاشرت میں بے اعتدالی پیدا نہ ہو۔ آج پوری دنیا انسانی مظالم کا شکار ہے اور مظلوموں ، آقاؤں اور غلاموں میں بٹی ہوئی ہے۔ دنیا کی اخلا قی و روحانی زندگی غلامی و مظلومی کے باعث اور غلام سازی و جفاکشی کی وجہ سے تباہ ہورہی ہے ۔ قرآن کی تعلیمات حق کے لئے ناقابل تسخیر قوت عطا کرتی ہیں۔ اس طرح فرد بدی و شر کے آگے سر جھکانے اور ظلم کے تسلط کو قبول کرنے سے انکار کرتا ہے۔
ا س امر کی ضرورت ہے کہ جس قدر باطل طاقت ور ہو حق پرست کو اپنے حوصلے اس سے زیادہ بلند رکھنے چاہیئیں ۔ اسلام کا مقصد انسان کو حیوانیت کے درجے سے نکال کر انسانیت کی سطح پر لانا ہے۔ اسے انسانی معاشرے کا ایک غیر مفید اور نقصان دہ رکن بننے سے روکنا ہے اور انسانیت کی سطح سے بلند کرکے انسان کامل کے درجے پر لے جانا اور انسانی معاشرے کا کارآمد فرد بنانا ہے ۔ جس طرح ایک کسان کا اصل مقصد اناج پیدا کرنا ہے لیکن زمین میں بیج ڈالنے سے پہلے ہل چلاکرا سے نرم کرنا ضروری ہے اسی طرح اسلام کا بنیادی مقصد انسان کو اعلیٰ درجے کا انسان بنانا ہے ۔
فی زمانہ دنیا بھر میں اسلام مخالف طاقتوں نے پھر سے منظم ہونا شروع کردیا ہے لہذٰ ا وقت کا تقاضہ یہی ہے کہ مسلمان دنیا بھر میں اپنا خوشنما چہرہ متعارف کروائیں ۔ 9 / 11کے واقعے کے بعد سے مسلمانوں کی ابتری اور اب یورپ بالخصوص پیرس پر داعش ( جنونی مسلمانوں کے گروہ ) کی جانب سے حملوں نے مسلم ممالک کیلئے مسائل پیدا کردئے ہیں۔ یہ درست ہے کہ یہود ونصاریٰ ہر دور میں مسلامانوں کے خلاف رہے ہیں لیکن ان کے ساتھ جنگ کرنے کا موجودہ طریقہ کسی بھی طرح سے درست نہیں ۔ دنیا اس وقت ٹیکنالوجی محتاج ہے ۔ حالات کا تقاضہ ہے کہ اہل اسلام اس پر مہارت حاصل کرلیں ، مصالحانہ جنگ بھی یہی ہے کہ مسلم ممالک کا ہر فرد جدید علوم پر بھر پور دسترس حاصل کرے تاکہ ان کے دل و دماغ پر اپنی دھاک بٹھاسکے۔ انسانی حقوق کی تعلیم تو صرف اسلام ہی کی بدولت ہی دنیا بھر کے انسانوں کو میسر آئی ہے لیکن ہمارے یہاں چند جنونی افراد نے اس کی روح مسخ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ اسی بنا پر غیر مسلم ہمیں لاچار کررہے ہیں ۔ انسان نے جب ایمان اور اخلاص کے ساتھ رب کائنات کے احکامات پر عمل کیا تو یقیناًدنیا کے ساتھ ساتھ آخرت کی کامیابی و کامرانی اس کا مقدر بنی ۔