اخوت کا سفر
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- اتوار 13 / دسمبر / 2015
- 6417
گبریل گارسیا مارکیز ایک ایسے ملک (کولمبیا) میں پیدا ہوا ،جہاں قانون کو چیلنج کرنے والے مسلح گروہوں، لوٹ مار کرنے والے مافیا، استحصال کرنے والے حکمرانوں، منشیات کی تجارت سے امیر ترین ہونے والوں کا راج تھا۔ کمزور ریاست اور لاقانونیت پر مبنی سماج نے اس لکھاری کو مقبول ترین ناول نگار بنا ڈالا۔ گبریل گارسیا مارکیز نے اپنے سماج کے تضادات کو اپنے قلم کا موضوع بنایا۔ کولمبیا جیسے سماج اگر گبریل گارسیا مارکیز جیسے ناول نگاروں کو جنم دیتے ہیں تو پاکستان جیسا سماج جہاں غربت کو مبلغین نے لوگوں کا مقدر اور قسمت کا لکھا قرار دے دیا ہو تو وہاں پر گل باز آفاقی اور ڈاکٹر امجد ثاقب جیسے افراد انسان اور انسانیت کی خدمت کے لیے پیدا ہو جاتے ہیں جو بولتے نہیں بلکہ کام کرتے ہیں، جو وعدے نہیں کرتے بلکہ عمل کرتے ہیں، جو انسانوں کو مقدر کے فیصلوں پر سربسجود ہونے کی تلقین نہیں کرتے، بلکہ اپنے آپ کو انسانی ترقی کے عمل میں شامل کرکے لوگوں کو اپنی قسمت آپ بنانے کی رہنمائی کرتے ہیں۔
گل باز آفاقی وادئ سون کے ایک گاؤں سے لاہور پڑھنے آیا کہ جہاں سے لوگ اپنا انفرادی مقدر بنا کر واپس کبھی اپنے گاؤں نہیں لوٹتے، بس صرف ناسٹلجیا میں ہی رہ کر لوگوں کو اپنی ذاتی کامیابی کی داستان سناتے سناتے زندگی گزاردیتے ہیں۔ گل باز آفاقی وادئ سون کے پسماندہ گاؤں سے لاہور آیا، شاندار تعلیمی ریکارڈ قائم کیا، لاہور شہر میں اپنا ’’قومی مقام بنانے‘‘ کے تمام مواقع قربان کرکے واپس وادئ سون چلا گیا، جہاں اس نے لوگوں کو اپنی قسمت بنانے کی صرف تبلیغ اور تلقین ہی نہیں کی بلکہ اپنا آپ تیاگ کر وادئ سون میں پسماندہ بستی کو زرعی جنت میں بدل ڈالا۔ ہزاروں خاندانوں، ہزاروں ایکڑ زمین کی قسمت بدل ڈالی۔ گل باز آفاقی نے خطبے، تقریریں، تبلیغ نہیں بلکہ عمل کے ذریعے ایک ادارے کی بنیاد رکھ کر وادئ سون کے ہم وطنوں کو اپنی قسمت کا آپ فیصلہ کرنے کا مالک بنا دیا۔
اس سفر میں پاکستان کے ایک سپوت ڈاکٹر امجد ثاقب نے بھی لوگوں کو قسمت کے فیصلوں سے نکال کر خود اپنی قسمت کی لکیریں کھینچنے کا راستہ ہی نہیں دکھایا بلکہ کھڑا کرکے دوڑنے میں مدد دی۔ لوگوں کو قطار میں کھڑا کرکے نان کے اوپر دال ڈال کر بھکاری بنانے کا منظر نہیں دکھایا بلکہ لوگوں کے اپنے قدموں پر کھڑے ہوکر رزقِ حلال کمانے کا راستہ استوار کیا اور کہا کہ آگے بڑھو اور اپنی قسمت آپ بناؤ! آپ جو چاہو کر سکتے ہو! اپنا رزق خود کما سکتے ہو۔ لوگوں کو سود کی لعنت میں ڈالے بغیر اور عزتِ نفس برقرار ہی نہیں بلکہ مضبوط کرتے ہوئے توانا انسان بنانے کی عملی رہنمائی کی۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے ’’اخوت‘‘ کے پلیٹ فارم سے سود سے پاک معیشت کا عملی نمونہ فراہم کر دیا۔ انہوں نے جب دیکھا کہ سرکار کی مشینری اس قابل نہیں رہی کہ لوگ غربت سے باہر آسکیں تو وہ سرکار کے اعلیٰ عہدے سے علیحدہ ہوگئے اور اپنے ہی لوگوں میں مل گئے۔ چند سالوں میں اخوت کا سفر لوگوں کو غربت کی موت سے نکالنے میں کامیاب ہوا تو عالمی سرمایہ دار دنیا کے سکالرز بھی چونک اُٹھے۔ اسی لیے انہوں نے ڈاکٹر امجد ثاقب کو اپنے ہاں دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں میں اپنے تجربات شیئر کرنے کے لیے لیکچرز کے مواقع فراہم کیے۔ ان کے نزدیک اہم یہی نہیں کہ ڈاکٹر امجد ثاقب بے وسیلہ لوگوں کو چھوٹے قرضے دیتے ہیں ، قابل حیرانی بات یہ ہے کہ ان کے دیئے ہوئے چھوٹے قرضوں نے ہزاروں خاندانوں کو غربت سے نکال کر روزگار فراہم کر دیئے، بلکہ اہم اور حیران کن بات یہ ہے کہ ’’اخوت‘‘ نے سود سے سو فیصد پاک انتظام سے یہ معجزہ کر دکھلایا اور یہ بھی کہ قرضوں کی واپسی بھی 100فیصد یقینی ہو گئی۔ سرمایہ دار دنیا جو کہ سود پر مقامی اور عالمی معیشت پر بنیاد رکھتی ہے ،اس کے لیے دنیا میں سود سے پاک معیشت درحقیقت ایک خطرہ ہے۔ جیسے اسلام کے ابتدائی سالوں میں سود سے پاک معیشت کی مثال اور جدید تاریخ میں اشتراکی روس میں سود سے پاک معیشت کی مثال ملتی ہے۔ درحقیقت اشتراکی روس کی معیشت کا فلسفہ ، سرمایہ دار دنیا کے لیے خطرے کی ایک گھنٹی تھی، اسی لئے تو سرمایہ داردنیا جو سود پر مبنی نظام پر ایمان رکھتی ہے، اس معاشی نظام کو توڑنے کے لئے ہروقت سرگرم عمل رہی۔ اسی طرح سرمایہ دار دنیا کے محققین نے ڈاکٹر امجد ثاقب کو اپنے ہاں بلایا کہ آپ نے سود سے پاک قرضوں کے تصور کو کس طرح عملی جامہ پہنایا اور کامیاب بنایا۔
چند سال قبل اخبارات اور دوستوں کے ذریعے ڈاکٹر امجد ثاقب کی اخوت کی کہانی سننے کے بیشتر مواقع ملے، لیکن گزشتہ سال جب انہوں نے اپنی ایک کتاب ’’اخوت کا سفر‘‘ مجھے اپنے دستخط سے بھجوائی تو تب کہیں مجھے اخوت کی کہانی کی کامیابی کی تفصیل جاننے کا موقع ملا۔ ’’اخوت کا سفر‘‘ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو اپنی دھرتی پر بسنے والے لوگوں کی صلاحیتوں پر ناز ہی نہیں کرتا بلکہ ان کی رہنمائی کرتے ہوئے اپنا آپ ان کے عمل میں شامل کر رہا ہے۔ میں ڈاکٹر امجد ثاقب کے انسانی ترقی کے سفر کا مداح تو پہلے ہی تھا جب مجھے ان کی کتاب ’’اخوت کا سفر‘‘ پڑھنے کا موقع ملا تو مجھ پر ان کی قلم کاری کی صلاحیتیں بھی آشکار ہوئیں۔ یہ کتاب ان کی انسانی ترقی کے سفر کی بھی داستان ہے اور امریکہ کا ایک منفرد سفرنامہ بھی۔ مجھ پر یہ راز کئی سال پہلے کھل گیا تھا کہ اگر آپ اپنی دھرتی پر کچھ Contribute نہیں کر رہے ، تو چاہے آپ کتنی ہی بیرون ملک کانفرنسوں میں شرکت کریں، آپ کی کوئی شناخت نہیں۔ ڈاکٹر امجد ثاقب نے اخوت کے پلیٹ فارم سے اپنی دھرتی پر جو معجزے کئے ہیں، اسی نے ان کی دنیا میں شناخت بنائی اور ’’اخوت کا سفر‘‘ کتاب اس کہانی کے نتیجے میں ایک سفرنامہ ہے جو امریکہ کے ایک سفر کا بیانیہ ہے اور اس سفر میں ان کے اخوت کے سفر کی کہانی بھی ہے۔ کیا شاندار تحریر ہے۔ آپ اپنی سرزمین میں کامیاب شجر کی کہانی بیان کرتے ہوئے کہاں پہنچے۔ اس ایک کتاب میں کئی کہانیاں ہیں۔ ’’اخوت کا سفر‘‘ اپنی نوعیت کی ایک منفرد تحریر ہے، یہ ان قلم کاروں کے لیے بھی حیران کن ہو گی جو اپنی قلمی مہارت پر جاگیردارانہ رویہ اپناتے، محفلوں میں گردنیں اکڑاتے دیکھے جاتے ہیں۔ اس کتاب میں ایسی ایسی کہانیاں ہیں کہ اگر وہ کسی مذہبی مبلغ سے منسوب ہوتیں تو اس نے اب تک اپنی کرامات کے سحر میں لاکھوں مرید بنا لئے ہوتے۔
ایک کہانی بیس لاکھ روپے کی ہے کہ جب ڈاکٹر امجد ثاقب کے پاس لوگوں کو قرض دینے کے لیے بیس لاکھ روپے نہیں تھے اور قدرت نے معجزہ کر دکھایا۔ ایک دوست نے فون کرکے بلایا اور بیس لاکھ کا چیک پیش کر دیا (صفحہ نمبر 104-105) ۔اور اسی طرح صفحہ نمبر 267 کی کہانی قدر ت کا معجزہ ہے اور ڈاکٹر امجد ثاقب کی پُرخلوص جدوجہد جو کسی ایک فرقے، مذہب گروہ یا قبیلے کے لیے نہیں بلکہ تمام عقائد اور تعصبات سے بالاتر ہو کر انسانیت کو اس کا مقام دلانے کی داستان ہے۔ ہمارے ہاں آج کل بڑے بڑے پیرخانے دیکھنے کو ملتے ہیں، لیکن معجزوں سے پاک کیوں کہ ان کے ہاں مادہ پرستانہ سلامی لینے اور تعویز دینے کا نظام رائج ہے جو ہر طرح سے سرمایہ داری نظام کی بگڑی ہوئی شکل ہے، یعنی مال کے بدل میں منافع۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی اخوت مال کے بدلے منافع یا سود نہیں بلکہ محبت کا پیغام ہے، اسی لیے ’’اخوت کا سفر‘‘ قدرت کے معجزات سے لبریز ہے اور صوفی منش ذات کی نفی کرنے والے ڈاکٹر امجد ثاقب کی اَنتھک محبت اور انسانی دوستی کا سفر ہے جو رکنے کا نام ہی لے رہا، روز بروز اخوت کا یہ سفر پھیلتا جارہا ہے، لامتناہی سفر بنتا جا رہا ہے۔ ’’اخوت کا سفر‘‘ کتاب پاکستان کے Son of the Soil کی کہانی ہے، اس پاکستان کی کہانی جو 98 فیصد ہے۔ محروم طبقات کی کامیابی کی ایک داستان، جس میں لاتعداد کہانیاں ہیں۔ اس کتاب کوپڑھنا کہاں روکوں، اس پر مجھے اختیار ہی نہیں۔