حیات مبارکہ حضرت محمد ﷺ

ہمارے سچے اور پیا رے پیغمبر حضرت محمدمصطفی احمد مجتبیﷺ عرب کے مشہور قبیلہ قریش سے تعلق رکھتے تھے۔ آپؑ کے پردادا کا نام حضرت ہاشم ہے اس لیے ہا شمی کہلا تے ہیں ۔آپؑ کے والد ما جد کا اسم گرامی حضرت عبدا للہ اور والدہ ماجدہ کا نام سیدہ حضرت آمنہؓ ہے۔ آپ ابھی والدہ صاحبہ کے بطن مبارک میں تھے کہ والد محترم سیدنا حضرت عبد اللہ بغرض تجارت ملک شام گئے واپسی پر بیمار ہو گئے اور اپنے سسرال کے ہاں مدینہ طیبہ ٹھہر گئے وہیں آپ کا انتقال ہو گیا۔ اور قبر مبارک مدینہ طیبہ میں ہی بنی۔ آپؑ والدہ صاحبہ کے بطن مبارک میں تھے تو انہیں اللہ تعالی کی طرف سے بہت سی غیبی بشارات دی گئیں۔ بہت سے عجائبات دیکھنے میںآ ئے۔ جب دھوپ میں چلتی تھیں تو بادل سایہ فگن ہو جا تا تھا ۔ نو کیلے پتھر اور کا نٹے موم کی طرح نرم ہو جاتے تھے۔ خواب میں اللہ کے فرشتے بشا رت دیتے کہ اے سیدہ آ منہؓ تیرے بطن مبارک میں وہ بچہ ہے جو اولین آخرین کاسردار ہے۔

ولادت با سعادت:۔ آپ کی آمد کی اطلاع سیدنا حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر سیدنا حضرت عیسی علیہ السلام تک تمام انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام اپنی امتوں کو دے چکے تھے ۔آپ کی پیدائش کے سال وہ مشہور واقعہ فیل جس میں یمن کا سردار ابرہہ بیت اللہ شریف کو منہدم کر نے کے ارادے سے آ یا تھا اور ابا بیلوں نے کنکر برسا کر اس کے ہا تھیوں کو تباہ و بربار کر دیا تھا، پیش آ یا تھا ۔ آپؑ مشہور قول کے مطا بق 12ربیع الاول بروز سوموار بوقت صبح صادق مطابق اپریل 570ء واقعہ فیل کے پچاس یاپچپن روز بعد سیدنا حضرت آدم علیہ السلام سے 6113 برس بعد پیدا ہوئے۔ولادت باسعادت کیروز بہت سی برکات و عجائبات کا ظہور ہوا۔ یہود و نصاری کے علماء نے اعلان کیا کہ آج کی رات نبی آخر الزمان کا ظہور ہو گیا ۔ سیدنا حضرت عثمان بن ابی العاص کی والدہ محترمہ حضرت فاطمہؓ بنت عبداللہ جو سیدہ حضرت آمنہؓ کے پاس تھیں فرماتی ہیں کہ آپ کی پیدائش کے وقت پورا گھر نور سے منور ہو گیا۔اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ آسماں کے ستا رے زمیں کی طرف جھکتے ہیں اور اٹھتے ہیں۔جو در اصل آپ کی خدمت میں سلام پیش کر رہے تھے۔جس دن پیدا ہو ئے آپ کے دادا بیت اللہ شریف کے سا ئے میں اپنے بیٹوں اور دوسرے معززین کے سا تھ تشریف فرما تھے کہ ابو لہب کی کنیز ثویبہ نے آکر اطلادی ۔ ابو لہب نے اس خوشی میں اسے آزاد کر دیا گیا۔ خدا کی شان ہے کہ پیارے بھتیجے کی پیدائش پر تو اتنی خوشی کی مگر جب اسی ہستی نے صفا پہاڑی سے اللہ کی توحید اور اپنی رسالت کا اعلان کیا تو پہلا پتھر بھی اسی نے مارا تھا۔

دادا جان نے آپ کا اسم گرامی محمد ﷺ رکھا۔اور والدہ صاحبہ نے احمد ﷺ رکھا۔یہ دونوں نام کتب سما ویہ میں موجود تھے۔جب پیدائش مبارک کی اطلاع داداجان کو ملی، وہا ں ایک بہت بڑے تورات کے عالم بھی موجود تھے۔ انہوں نے بھی آپکی زیارت کی خواہش کی جب جناب ابو طالب کے گھر آپ کو دیکھا تو دائیں کندھے پر مہرختم نبوت دیکھ کربے ہوش ہوگیا۔ ہوش آ نے پر کہا کہ آ ج نبوت بنو اسحق سے نکل کربنواسماعیل میں چلی گئی۔سب سے پہلے والدہ محترمہ سیدہ حضرت آمنہؓ نے چند روزدودھ پلایا پھریہ سعادت حضرت ثویبہؓ کو حا صل ہوئی اس کے بعد خوش بخت حلیمہ سعدیہ بغرض رضاعت اپنے گاؤں لے گئیں۔ اس سفر میں بھی کئی عجائبات ظہور پزیر ہوئے۔حلیمہ سعدیہ کی اونٹنی سب سے کمزور تھی وہ قافلے میں سب سے آ خر میں چلی تھیں مگر جب آپ کی سواری بنی تو قافلے سے آ گے نکل گئی۔ حلیمہ سعدیہ کے گھر میں خیرو برکت کی انتہا ہوگئی۔ اس کی کمزور اور لاغر بکریا ں فربہ اور کئی بچے دے چکی تھیں۔ دودھ ڈالنے کے لیے برتن نا کافی رہتے تھے۔

والدہ ماجدہ کی وفات :۔ عمر مبارک کا چھٹا سال تھا کہ والدہ صاحبہ کے ہمراہ مدینہ طیبہ ننہال کو ملکر واپس مکہ مکرمہ تشریف لا رہے تھے کہ مقام ابوا پر ماں کے سایہ سے محروم ہوگئے۔اسی مقام پر مہربان ماں کی قبر مبارک بنی۔ ام ایمن آپ کو مکہ مکرمہ لائیں۔ پیارے دادا عبدالمطلب نے بے حد محبت سے پالا ۔ اس عمرمیں بھی آپ سے کئی عجائبات کا ظہور ہؤا۔ ایک دفعہ آنکھوں میں سخت آ شوب ہو گیا ۔علاج سے کچھ فائیدہ نہ ہوا تو جناب عبدالمطلب ایک راہب کے پاس دم کرانے لے گئے اس نے آپ کو دیکھا تو ادب سے دو زانوں ہو گیا اور کہنے لگا عبدالمطلب اپنے پو تے سے کہو اپنا ہی لب اپنی آ نکھوں میں لگا لے۔ جب ایسا کیا گیا تو اسی وقت شفاء ہو گئی۔ ایک دفعہ مکہ مکرمیں قحط پڑا تو جناب عبدالمطلب نے آپ کے توصل سے بارش کی دعا کی تو پورا علاقہ جل تھل ہو کر سر سبز و شاداب ہو گیا ۔ آٹھ سال کی عمر میں داد محترم کا سایہ بھی اٹھ گیا۔ پھر مہربان چچا سیدنا حضرت علی المرتضی کرم اللہ وجہ کے والد محترم نے اپنی کفالت میں لے لیا اور زندگی بھر جان نچھاورکرتے رہے۔

شام کا پہلا سفر:۔ عمر مبارک بارہ برس سے کچھ اوپر تھی کہ بغرض تجارت چچا جان کے ہمراہ شام کے سفر پر تشریف لے گئے۔ وہاں ایک بہت بڑے ولی اللہ حضرت بحیرا راہب سے ملاقات ہوئی اس نے جناب ابی طالب سے کہا کہ آپ کا بھتیجے میں وہ تمام علامتیں موجود ہیں جو نبی آخر الزماں کی ہیں۔میں آپ کومشورہ دیتا ہوں ک آپ اپنا مال یہیں فروخت کر دیں اورواپس چلے جائیں۔ کہیں اگلے سفر میں حاسد یہیو دی کوئی نقصان نہ پہنچاد یں۔ آپ نے راہب کے مشورہ پر عمل فرمایا۔ مکہ مکرمہ میں آپ کی خوبصورت عادات مبارکہ کھل کر لوگوں کے سامنے آ چکی تھیں۔ لوگ آپ کی زندگی پر حیرت و استعجاب کرتے تھے۔ اس وقت عرب میں بت پرستی اور ہر اخلاقی برائی موجود تھی ۔ آپ اس وقت میں مکمل موحد اور ہر برائی سے پاک تھے ۔عربوں نے متفقہ طور پر آپ کو صادق و امین کے خطاب سے نوازا ۔ پچیس سال کی عمر مبارک میں آپ نے ام المومنین سیدہ حضرت خدیجۃ الکبرٰیؓ کے فرمانے پر مال مضاربت لے کر میسرہ غلام اورخزیمہ بن حکیم کے ہمراہ پھر اسی مقام پر پہنچے جہاں حضرت بحیرا راہب سے ملاقات ہوئی تھی ۔وہ اب خلد نشین ہو چکے تھے۔اور اس معبد خانہ کے انچارج حضرت نسطورا راہب تھے۔ انہوں نے بھی آپ کی نبوت کی شہا دت دی تھی۔چند روز میں پورا مال فروخت ہوگیا اور بہت سا اللہ کا فضل رزق حلال منا فع میں ملا۔ سفر سے واپسی پر میسرہ غلام نے نسطورا راہب کی تصدیق نبوت اور سفر کے عجائبات دھوپ میں بادل کا سایہ کرنا، پتھروں کا سلام کرنا ،درختوں کی ٹہنیو ں کا جھک جانا بیان کیا ۔ تو حضرت خدیجۃ الکبریؓ نے یہ حال اس دور کے بہت بڑے ولی اللہ سیدنا حضرت ورقہ بن نوفل سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا خدیجہ یہ صاحب نبی آخر الزما ں ہیں۔ جس پر حضرت خدیجہ جن کی عمر مبارک چالیس برس تھی انہوں نے آپ سے نکاح کا کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔خاندانی رابطہ ہوا آخر ایک روز چچا ابو طالب اور چچا حمزہ چند رؤوسا کے ہمراہ آپ کی بارات لے کر سیدہ خدیجۃ الکبرٰی کے دولت کدہ پر پہنچے اور آپ کے چچا امر بن اسد نے آپ سے نکاح کر دیا ۔ یہ ہی وہ ملکہ جنت ہے جس کے بطن مبارک سے حضور اکرم ﷺ کی تمام اولاد یعنی چار شہزادیاں حضرت زینبؓ حضرت رقیہؓ حضرت ام کلثومؓ حضرت فاطمہؓ اور دوشہزا دے حضرت قاسمؓ اور حضرت عبد اللہؓ ملقب بہ طیب طا ہر پیدا ہوئے ۔

تعمیر بیت اللہ شریف :۔ عمر مبارک پینتیس برس کی تھی جب رؤوساء مکہ نے بیت اللہ شریف کی تعمیر جدید کی۔مگر حجر اسود کے نصب پر شدید اختلاف ہو گیا۔ہر شخص نصب حجر اسود کی نسبت اپنی طرف کرنا چاہتا تھا ۔ آ خر فیصلہ ہوا کہ جو شخص کل صبح سب سے پہلے بیت اللہ شریف میںآ ئے گا، وہ جو فیصلہ کرے گا وہ سب منظور کر لیں گے ۔ حسن اتفا ق تھا کہ آپ غار حرا میں عبات کر کے اس روز واپس آ ئے اور سیدھے بیت اللہ شریف چلے آ ئے۔ لوگوں کی دیکھ کر خوشی کی انتہا ہو گئی ۔آپ نے حسن تدبیر سے کام لیتے ہوئے، اپنی چادر مبارک کو زمین پر بچھا دیا حجر اسود کو اٹھا کر وسط چادر میں رکھ دیا اور ہر قبیلہ کے سردار کوچادر اٹھانے کو کہا جب دیوارقریب آئی تو خود حجر اسود اٹھا کر جائے مقررہ پر نصب کر دیا ۔ اس طرح ایک خوف ناک جنگ کا خطرہ ٹل گیا ۔

آفتاب نبوت کا طلوع :۔ حضور اکرم ﷺ اپنی فطرت سلیمہ کے تحت مکہ کے ما حول سے الگ تھلگ رہنے کے لئے جبل نور پر و اقع غار حرا میں تشریف لے جایا کرتے تھے ۔ اور وہیں کئی کئی روز اللہ کی عبادت میں مصروف رہ کر وا پس تشریف لا تے ۔ جب عمر مبارک چا لیں برس ہو گئی تو ایک روز اسی غار حرا میں یاد خدا وندی میں مصروف تھے کہ اچا نک اللہ تعالی کا برگزیدہ فرشتہ حضرت جبریل علیہ السلام ظا ہر ہوا۔ اور ایک ریشمی کپڑے پر سورہ علق کی پہلی پانچ آیات لکھی ہوئی پیش کرتے ہوئے فرمایا اقرا با سم ربک الذی خلق۔ آپ نے فرمایا میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں کیونکہ تمام انبیاء کرام براہ راست اللہ تعالی کے شاگرد ہو تے ہیں ۔وہ کسی انسان سے پڑھے ہوئے نہیں ہو تے۔ اس پر نوری فرشتے نے آپ کو سینے سے لگا کر دبایا اس کے سا تھ ہی علوم الہی کے وہ خزانے جو فرشتہ اللہ تعالی سے امانت لے کر آ یا تھا سینہ محمدی ﷺ میں منتقل ہوگئے۔اور اس کے سا تھ ہی آپ کو فرمایا کہ آپ اللہ تعالی کے آ خری سچے رسول ہیں ۔آپ کو مخلوق خدا کی ہدایت کے لیے مبعوث کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالی کی طرف سے آپ پر وحی کا سلسلہ جاری ہو گیا ہے۔ آپ اٹھیے اور اللہ کے دین کی تبلیغ کیجئے۔ پھر جبریل امین نے وضو کرایا اور دو نمازیں فجر اور عصر پڑھنی سکھائیں۔ یہ دو نمازیں ہی گیارہ نبوی تک فرض رہیں پھر معراج کی رات پانچ نماز وں کا حکم ہوا۔ حضور اکرمﷺغار حراسے اٹھے اور سیدھے اپنے گھر تشریف لا ئے اور اہلیہ محترمہ ملکہ جنت سیدہ خدیجۃ الکبریؓ کو فرمایا مجھ پرکملی اوڑھادیں۔پھر سارا ماجرہ سنایا۔ حضرت خدیجۃ الکبریٰ فورا سمجھ گئیں جوخواب میں نے پندرہ سا ل پہلے دیکھا تھا اور جس امید پر نکاح کیاتھا اللہ نے آج اسے حقیقت بنا دیا۔عظمت والی خا تون اپنے چچا زاد بھائی تورات و انجیل کے مہتم بالشان عالم دین حضرت ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ انہوں نے قصہ سن کر فورا بشارت دی اے خدیجۃ الکبریؓ تجھے مبارک ہو کہ آپ کا شوہر اللہ کا سچا رسول ہے۔اور یہ وہی فرشتہ حضرت جبریل علیہ السلام تھا جو حضرت موسی علیہ السلام پر آ یا کرتا تھا۔حضرت ورقہ بن نوفل کی گفتگو سن کر سب سے پہلے خوش نصیب سیدہ حضرت خدیجۃ الکبریؓ نے آپ کا کلمہ پڑھ کر اول المسلمات کا شرف پالیا۔ واپس گھر آ ئے تو صدیق اکبرؓ ملنے آ گئے کیونکہ یہ ان سے بچپن سے انتہائی محبت پیار اور الفت تھی اور ایک دوسرے کو دیکھ کر جیتے تھے۔ جو ہوا تھا ان کے سامنے بھی بیان کر دیا۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے بلا تا خیر آپ کی تصدیق فرما دی۔بعد اذاں نبی کریم ﷺ اور صدیق اکبرؓ تبلیغ دین میں مصروف ہو گئے۔ سیدنا حصرت علیؓ اور سیدنا حضرت زیدؓ بھی آپ کے پاس رہتے تھے۔ ان کو دعوت اسلام دی انہوں نے بھی اسی وقت اسے قبول فرما لیا ۔یہ چار ہستیا ں سب سے پہلے اسلام لائیں۔

پھر دعوت تبلیغ کا سلسلہ تین سال تک خاموشی سے چلتا رہا۔ آ خر سورہ شعراء کی آ یت نمبر 215 نازل ہوئی۔ جس میں حکم دیا گیا: میرے نبی اپنے قریبی رشتہ داروں کو اللہ کے خوف سے ڈرائیے۔ جس پر آپ نے ایک دعوت کا اہتمام کیا اور جس میں چالیس اقرباء شریک ہوئے۔ دعوت کا اہتمام سیدنا حضرت علیؓ کے ذمہ تھا ۔ آپ نے بحیثیت اللہ کے رسول کے تعارف کرایا اور دین کی دعوت دی۔ جس پر ابو لہب جذبات میںآ گیا اور آپ کی اعلانیہ تردید کر کے رشتہ دا روں کو اٹھا کرلے گیا ۔

اعلانیہ تبلیغ:۔ اگلے روز آپﷺ نے کوہ صفا پر چڑھ کر قبا ئل قریش کو پکا را جو ابھی تک اس پیغام سے نا وا قف تھے۔ آپ کی صدق و سچا ئی امانت و دیانت ہردل میں بسی ہوئی تھی۔ آواز سنتے ہی پورا مکہ مکرمہ ا مڈ آ یا ۔وہاںآپ نے سب سے قبل اپنی چالیس سالہ زندگی کے بارے میں پو چھا لوگوں نے صادق و امین کے نعرے لگا ئے کہ فضاء گونج اٹھی تب آپؑ نے اعلان نبوت اور مقصد آ مد بیان فرمایا ۔ بد بخت چچا ابولہب گستا خی پر اتر آ یا اور آپؑ کو پتھر مارا۔ مجمع میں شور مچ گیا اور اسی طرح لوگ تتر بتر ہو گئے۔ بعد ازاں آپؑ نے ہرگلی ہر کوچے اور خانہ کعبہ میں عام دعوت دین کا سلسلہ شروع کر دیا ۔ کفار مکہ نے ہر ممکنہ رکاوٹ ڈالی۔ لوگوں نے دعوت حق سے روکنے کے لئے جناب ابو طالب سے ملاقات کر کے ہر قسم کا لالچ دینا چاہا جسے آپ نے حقا رت سے ٹھکرا دیا۔جس پر کفار ظلم و ستم پر اتر آ ئے یہ سلسلہ مسلسل تیرہ سال جا ری رہا ۔

عام الحزن:۔ مکہ کی زندگی میں 10نبوی انتہائی پریشانی کا سال تھا ۔ اس سال محسنہ کائنات سیدہ خدیجۃ الکبری اور محسن نبوی جناب ابی طالب کا انتقال ہوگیا۔ اسی سال پھر آپؑ نے طائف کاسفر فرمایا جہاں سرداروں نے آپؑ سے بہت زیادتی کی۔ آپؑ غم میں نڈھال واپس لوٹے اوررنجیدہ خا طر ہو کر بارگاہ خدا وندی میں اپناحال پیش کیا ۔ اسی وقت جبریل امین تشریف لا ئے اور تسلی دی۔ اس دعا کے بعد حالات بدل گئے۔ واپسی پر نخلہ کے مقام پر جنات کی جماعت حا ضر ہوئی اورآپؑ پر ایمان لے آ ئی۔ گیارہ نبوی میں سیدنا حضرت طفیل بن عمر دوسیؓ کا پورا قبیلہ مسلمان ہو گیا۔ اسی سال معراج شریف کا واقعہ پیش آیا۔ حضرت جبریل علیہ السلام آپ کو مکہ مکرمہ سے ایک براق پر مسجد اقصی لائے جہاں آپؑ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کرام کی امامت فرمائی۔


مدینہ میں اسلام کی ابتدا:۔ مدینہ شہر رسول اللہ ﷺ کی والدہ کا شہر ہے۔ وہا ں محب نبوت کے چرچے بھی زبان زد عام تھے۔ گیارہ نبوی میں حج کے موقع پر چند خوش نصیبوں نے منیٰ میں عقبہ کے مقام پرآپ سے ملاقات کی اور اسلام لے آئے ۔ واپس جاکر پورے مدینہ میں لوگوں کو دین کی دعوت دی۔ جس کے انتہائی خوگوار اثرات ہوئے۔بارہ نبوی میں اسی طرح حج کے موقع ہر ایک بارہ رکنی وفد نے آپؑ سے دوبارہ ملاقات کی اور آپ کو وعوت دی کہ آپ مکہ چھور کر مدینہ آجاءں ۔ ہم اللہ کے فصل و کرم سے پر طرح سے اللہ کے دین کی نصرت کریں گے۔ آپ نے سر دست سیدنا حضرت معصب بن عمیرؓ کو امام و مدرس بنا کر بھیج دیا اور فرمایا میں اللہ تعالی کے حکم کا منتظر رہوں گا۔ حضرت مصعب بن عمیر نے سیدنا حضرت اسعدبن زرارہؓ کے گھر کو تبلیغی مرکز بنا لیا اور سلسلہ تبلیغ شروع ہوا اور رفتہ رفتہ قبیلہ اوس اور خزرج مسلمان ہو گئے۔ اللہ تعالی نے مدینہ طیبہ کو مرکز دین بنا دیا ۔ تیرہ نبوی میں عقبہ کی تیعری بیعت ہوئی۔ بعد ازاں آپ نے سیدنا فاروق اعظمؓ کو ایک جماعت صحابہ کے سا تھ مدینہ طیبہ بھیج دیا۔ فاروق اعظمؓ نے وہاں اشاعت اسلام کو چار چاندلگا دیے۔ اہل مدینہ کے اسلام اورمختلف قبائل عرب کے حلقہ بگوش دین ہو نے میں مکہ کے کفار کو آگ بگولا کر دیا ۔اور ایک روز دارالندوہ میں جمع ہو کر فیصلہ کر لیا کہ حضور اکرم ﷺ کو شہید کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔اور فیصلہ کر لیا کہ اسی رات کو آپ کے گھر پر حملہ کیا جائے اور آپؑ کو راستے سے ہٹا دیا جائے۔بدبختوں کی ایک ٹولی نے آپؑ کے کھر کو گھیر لیا۔ ادھر جبریل امین نے آپﷺکو صورت حال سے مطلع کیا اور ہجرت کا حکم خدا وندی سنایا ۔جس پر آپﷺ نے اپنے بستر پر سیدنا حضرت علی المرتضیؓ کو سلایا اور خود سورہ ےٰسین کی ابتدائی آیات پڑھ کر خاک کی مٹھی محا صرین پر پھینکی جس پر وہ اندھوں کی طرح ہوگئے ۔اور آپؑ صحیح سالم نکل گئے۔ پیارے محبوب با اعتماد دوست سیدنا حضرت ابوبکرصدیقؓ کے ہمراہ مکہ سے روانہ ہو گئے ۔اور غار ثور پہنچے تین روز وہاں قیام فرمایا۔ اللہ تعالی نے ایک مکڑی کو حکم دیا کہ وہ غار کے منہ پر جالا تن دے۔کفار آپؑ کی تلاش میں چا روں طرف بھاگ پڑے ۔غار کے منہ پر بھی آئے مگر اللہ تعالی نے اپنے پیارے نبی ؑ اور صدیقؓ کی حفا ظت فرمائی ۔اور کفار کی عقلوں پر پردے پڑ گئے ۔ تین روز قیام کے بعد آپ مدینہ طیبہ کی طرف روانہ ہو گئے ۔آٹھ روز کے مسلسل سفر کے بعد قبا ء پہنچے ۔ اور کلثوم بن حدم کے ڈیرہ پر رونق افروزہوئے چودہ روز وہاں قیام فرمایا ۔وہیں مسجد قباء کی بنیاد رکھی۔آپؑ 27 صفر المظفر کو مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئے۔ یکم ربیع الاول کو غار ثو ر سے روانگی ہوئی۔آٹھ ربیع الاول کوقبا پہنچے۔ 22 ربیع الاول کو قبا ء سے مدینہ طیبہ میں داخلہ اور ورود مسعود ہوا۔

مدنی زندگی:آپؑ کی تشریف آوری سے قبل ہی مدینہ طیبہ میں اسلام پھیل چکا تھا۔ ہرگھرسے محبت کی خوشبوئیں مہک رہی تھیں۔ جس روز قباسے مدینہ طیبہ آ ئے توایسافقیدالمثال استقبال ہوا۔ راستے میں بنو سالم کے باغ میں نماز جمعہ کاوقت ہوگیا۔ وہیں نمازجمعہ ادا فرمائی جہاں مسجد جمعہ بنی ہوئی ہے مدینہ طیبہ میں داخلہ کے وقت آپؑ نے اپنی اونٹنی کی مہارگلے میں لپیٹ دی۔ وہ چلتی ہوئی حضرت ابوایوب انصا ریؓ کے مکان پر آرکی۔ آپؑ وہاں جلوہ افروز ہوئے ۔ مدینہ طیبہ پہنچ کر آپؑ نے پہلا کام خانہ خدا کی تعمیرکاکیا ۔ مسجد کے سا تھ ایک مسقف چبوترہ صفہ نامی برائے طالبان دین بنوایا ۔ اور دو مختصر سے مکان دو ازواج مطہرات حضرت عائشہ صدیقہؓ اور حضر سودہؓ کے لئے تعمیر فرمائے۔ مدینہ طیبہ میں مسجد نبوی میں باقاعدہ جمعہ و نماز پنجگانہ کا اہتمام ہوا۔ مدرسہ صفہ میں تعلیم و تعلم کا سلسہ جاری ہو گیا۔ پورے علاقے سے تشنہ لب آکر سیرا ب ہو نے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ نور دور تک پھیلتا چلا گیا ۔ اسی سال اذان اور تکبیر بھی مشروع ہوئی۔ دو ہجری میں ہی رمضان کے روزے، عید االاضحی کی قربانی، زکوۃ کی فرضیت اور جہاد کے احکامات نازل ہوئے ۔مسلمانوں نے شہر میں اور نواح میں یہود قبائل کے ساتھ ایک معاہدہ امن قائم کرلیا ۔ اور امن و سکون کے ساتھ تعلیم و تدریس و تبلیغ دین پر پوری توجہ مبذول کردی گئی۔ مکہ کے کفار کے دلوں میں حسد بغض کینہ کی آگ بھڑک رہی تھی۔ انہوں نے اسلامی ریاست کو ختم کرنے کے لئے ریشہ دوانیاں شروع کردیں ۔ آپﷺ کو کفار سے متعدد جنگیں کرنا پڑیں ۔جن جنگوں میں بنفس نفیس سرکاردوعالم ﷺ شامل ہوئے ان کو غزوات کہتے ہیں۔ ان کی تعداد 23 ہے۔ جن جنگوں میں رحمت عالم ﷺ نے صحابہ کرامؓ کو روانہ فرمایا انہیں سریات کہتے ہیں۔ ان کی تعداد 44ہے۔

2ہجری میں جنگ بدر ہوئی۔ بے سرو سامان مسلمانوں کی تعداد 313تھی اور اسلحہ سے لیس کفار کی تعداد ایک ہزار تھی۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح مبین عطا فرمائی۔ عرب کا فرعون عمرو بن ہشام عرف ابو جہل اسی جنگ میں مارا گیا۔مسلمانوں میں سے صرف 14 صحابہ کرام شہید ہوئے۔ 3 ہجری میں غزوہ احد ہوا جس میں مسلمانوں کی تعداد صرف 700 تھی اور کفار کی تعداد 3000تھی۔ جبل احد کے دامن میں خوفناک جنگ ہوئی۔کچھ سپاہی ایک درہ کی حفاظت پرمعمور تھے ان کی لغزش سے مسلمانوں کونقصان پہنچا۔حضور اکرمﷺکے دو دندان مبارک شہید ہوگئے۔اور سید الشہدا حضرت حمزہؓ ستر دوسرے صحابہؓ کے ہمراہ جنتشہید ہوئے۔ ایک بڑی آزمائش کے بعد مسلمانوں کو پھر بھی اللہ تعالیٰ نے فتح مبین سے نوازا ۔ 4 ربیع الاول کو مدینہ کے نواح میں آباد یہودیوں سے ان کی بدعہدی کی بنا پرغزوہ بن نضیر ہوا ۔ 5 ہجری میں غزوۂ ذات الر قاع۔غزوہ دومۃ الجندل ۔ غزوہ مرییسع یا بنو مصطلق ہؤا۔

6 ہجری میں آپﷺنے عمرہ کا ارادہ فرمایا کفار نے راستے میں روک دیا۔آخر مذاکرات ہوئے اورایک صلح نامہ تحریر ہوا جسے صلحہ حدیبیہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ 7 ہجری میں غزوہ خیبر ہوا ۔اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو یہودیوں کے مقابلے میں فتح مبین دی۔ اس جنگ کے بعد جزیرہ عرب سے یہودیوں کا زور ختم ہوگیا۔ دس مضان المبارک ہجری8 میں حضور اکرم ﷺ10 ہزار قدسیوں کو لیکر فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے۔اور حکمت عملی سے بغیر کسی خون خرابے سے اس مقدس شہر پر قبضہ فرمالیا۔مکہ والوں کو عفو عام دیدیا۔ بیت اللہ شریف کو بتوں سے پاک کردیا گیا۔ حضرت بلال سے بیت اللہ شریف کی چھت پر اذان دلواکر اللہ پاک کے نام کو بلندکردیا۔مکہ فتح ہوتے ہی عرب کے تمام کفار میں ہلچل مچ گئی۔ 25 ذیقعد 10 ہجری کو مدینہ طیبہ سے حج کی نیت سے روانہ ہوئے۔ 4 ذولحج کو مکۃ المکرمہ پہنچے۔ 8 ذولحج کو منیٰ تشریف لے گئے۔ 9 ذولحج کو عرفات کے میدان میں خطبہ حجۃ الوداع دیا ۔سورہ مائدہ کی آیت نمبر 3جس میں تکمیل دین کی بشارت ہے، اسی وقت نازل ہوئی۔ 10 ذولحج کو منیٰ میں پہنچے اور 100اونٹوں کی قربانی دی۔ بقیہ تمام ارکان حج ادافرماکر واپس مدینہ طیبہ تشریف لے آئے۔

سفر آخرت:۔ جب دنیا میں تشریف لانے کا مقصد پور ہوگیا اور دین مکمل ہوگیا، تو آپﷺکوسفرآخرت کی تیاری کے لیے اشارہ دیدیا گیا۔26 صفر المظفر 11ہجری کو آپ نے آخری لشکر جیش اسامہ روانہ فرمایا مگر دوسرے ہی روز طبیعت خراب ہوگئی۔سردرد اور بخار کی کیفیت شروع ہوگئی۔آخری عشرہ میں جنت البقیع میں تشریف لے گئے اورسب کیلیے دعائے مغفرت فرمائی۔ احد کے شہدا سے بھی ملنے تشریف لے گئے۔وفات شریف سے 5 روز پیشتر جمعرات کو نماز ظہر پر مسجد نبویﷺمیں تشریف لائے اور زندگی مبارک کا آخری خطبہ ارشاد فرمایا۔جس میں آخری سفر کی تیاری کا عندیہ دیا۔اور بہت سی نصیحتیں فرمائیں۔ آپﷺکی طبیعت سوموار کے روز خراب ہونا شروع ہوگئی۔ تمام ازواج مطہراتؓ اور صاحبزادی فاطمۃ الظہرہؓ پاس تھیں۔ اسی روز اپنی اس لاڈلی شہزادی کو خاتون جنت کا خطاب دیا ۔تھوڑے ہی وقت کے بعد خالق حقیقی سے ملا قات کی گھڑی قریب آگئی۔ آپ ﷺ کا سر مبارک سیدہ عائشہ صدیقہؓ اپنی گود میں رکھے ہوئے تھیں۔اچانک سانس کی آواز تیز ہوگئی آپﷺنے دونوں ہاتھ اٹھاکرآسمان کی طرف دیکھااورفرمایا الٰہم فی الرفیق اعلیٰاورروح مبارک پروازکرگئی ۔ یہ واقعہ بارہ ربیع الاول بروز پیر پیش آیا۔ اس وقت آپﷺکی عمر مبارک 63 برس تھی۔