بلدیات انتخابات کی خامیاں
- تحریر سید شاہد عباس
- جمعہ 18 / دسمبر / 2015
- 5548
بلدیاتی انتخابات کا آخری مرحلہ بھی خدا خدا کر کے مکمل ہوا اور اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کے دعوے کو اب حقیقت کا جامہ پہنانے کے مرحلے کا آغاز قریب ہے۔ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے دعوے کس قدر سچ ہیں اور کس قدر مبالغہ ، اس کا فیصلہ تو آنے والے چند دنوں میں ہو جائے گا ۔ منتخب کیے گئے نمائندے جب اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور وہ اپنے فرائض اد کرنا شروع کریں گے تو پاکستان کے بلدیاتی نظام کی خامیاں عیاں ہوں گی۔
راقم کو خود حالیہ بلدیاتی انتخابات میں تین انتخابی حلقوں کے مشاہدے کا موقع ملا۔ اور کم و بیش ہر جگہ حالات ایک طرح کے نظر آئے۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک مرتبہ پھر شفاف اور منصفانہ انتخابات کروانے میں بہت حد تک ناکام رہا ہے ۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے پولنگ افسران کے لئے جو اہلکار تعینات کیے گئے تھے ان کے لئے ضابطہ اخلاق نمبرF.4(10)/2015-LGE(P) جاری کیا گیا تھا، جس کے تحت ریٹرننگ افسران اور پریزائڈنگ افسران کسی بھی صورتحال میں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو طلب کرنے کے مجاز تھے۔ لیکن شاید انہیں اپنے اختیارات کا پتہ نہیں تھا یا ان کی تربیت ہی نہیں کی گئی تھی کہ بلدیاتی امیدواروں کے نا بلد نمائندے بھی پریزائڈنگ افسران سے الجھتے رہے اور انتخابی عملہ بے بس نظر آیا۔ اسی طرح مذکورہ بالا ضابطہ اخلاق میں ایک شق تھی کہ کسی بھی ہنگامے یا افراتفری کے حوالے سے سیکیورٹی اہلکار پریزائڈنگ افسر کے طلب کرنے پر قانونی کاروائی کریں گے۔ پولنگ اسٹیشن زیادہ تر سرکاری سکولوں میں بنائے گئے۔ پریزائڈنگ افسر مخصوص کمرے میں انتخابی مراحل کی نگرانی کر تا تھا اور سکول کے احاطے میں ہنگامے پر وہ کاروائی کے احکامات دے سکتا تھا۔ یہ بظاہر چھوٹی سی خامی ہے لیکن اس کا اثر اس وقت دیکھنے میں آیا جب ایک جگہ دو مخالف دھڑوں کے درمیان سکول کے اندر ہاتھا پائی ہو گئی ۔ لیکن صورت حال قابو کرنے میں اتنا وقت صرف ہو گیا کہ ووٹ ڈالنے کے منتظر لوگ شدید پریشانی کا شکار ہوئے۔
اسی طرح پولنگ ایجنٹس کے لئے بھی ایک ضابطہ اخلاق جاری کیا گیا اور اس ضابطہ اخلاق کی شق3 میں درج تھا کہ پولنگ ایجنٹس پولنگ اسٹیشن کے اندر یا باہر 400 میٹر کی حدود میں کسی ووٹر کو اپنے حامی امیدوار کے حق میں ووٹ ڈالنے کا نہیں کہہ سکیں گے ۔ لیکن اس کے برعکس پولنگ ایجنٹس پولنگ اسٹیشن کے اندر انتخابی عملے کے سامنے بھی ووٹروں کو نشانات دکھا کر یاددہانی کرواتے نظر آئے۔ ضابطہ اخلاق کی شق4 میں درج تھا کہ پولنگ ایجنٹ ہر اعتراض کے عوض مبلغ 50 روپے پریزائڈنگ افسر کے پاس جمع کروائے گا۔ اور شق5 میں یہ درج تھا کہ غیر ضروری اعتراضات کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی کہ اس سے انتخابی عمل متاثر ہو گا۔ لیکن حیران کن طور پر تمام امیدواروں نے چن کر وہی لوگ اپنے پولنگ ایجنٹ نامزد کئے تھے جو علاقے میں جھگڑالو مشہور ہوں۔ اور ہر ووٹر پہ اعتراض کرنا اپنا فرض سمجھتے ہوں۔ اسی لئے ایک پولنگ اسٹیشن پر ہر چند لمحے بعد تو تکار ہوتی رہی۔ شق 6 میں کہا گیا تھا کہ پولنگ ایجنٹ کے لئے لازم ہے کہ وہ اعتراض کرتے ہوئے مہذب رہے اور لہجہ دھیما رکھے۔ لیکن پولنگ ایجنٹ تو کجا امیدواروں کے حامی بھی پریزائڈنگ افسران کے سر پر سوار نظر آئے۔
سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لئے جو ضابطہ اخلاق جاری ہوا اس کی شق 4میں ایک جگہ درج ہے کہ وہ پولنگ اسٹیشن کی حدود کے 200میٹرکے اندر کسی کو قائل نہیں کریں گے۔ لیکن راقم جس بھی جگہ گیا وہاں نہ صرف تمام امیدوار موجود تھے بلکہ پوری انتخابی مہم بھی پولنگ اسٹیشن کے اندر جاری نظر آئی۔ شق 5 مطابق کسی بھی پولنگ ایجنٹ یا امیدوار کے لئے پولنگ اسٹیشن کی 100میٹر کی حدود میں کسی بھی قسم کا بینر ، اشتہار یا نشان لگانا ممنوع تھا۔ اس کے برعکس پولنگ اسٹیشن کے اندر ایسی گاڑیوں کی بھرمار تھی جن پر امیدواروں کے اشتہارات آویزاں تھے۔ اور پولنگ ایجنٹس بھی قواعد کے برعکس نشان بتاتے رہے۔ ضابطہ اخلاق کے مطابق انتخابی پوسٹر کا سائز3x2فٹ جب کہ بینر کا سائز9x3فٹ سے تجاوز کرنے کی ممانعت تھی اور ہورڈنگز پر مکمل پابندی تھی۔ لیکن حیران کن طور پر 10x10اور25x50 کے بینر بھی آویزاں تھے۔ اور بل بورڈ ، سائن بورڈز اور روڈ سائٹ ہورڈنگز کا سہارا بھی لیا گیا۔شق 16 کے مطابق امیدواروں و حمایت کرنے والوں پہ لازم تھا کہ وہ تنقید صرف کام اور پالیسیوں پرکریں۔ لیکن یہاں بھی تمام امیدواران ایک دوسرے کی ذات کے بخیے ادھیڑتے نظر آئے۔اور جہاں تک تعلق ہے شق17 کا کہ خاندان کے افراد کے علاوہ ووٹر کو اپنی گاڑی میں لانا ممنوع تھا تو شاید پورا حلقہ ہی امیدواروں کا خاندان ہوتا ہے۔ شق 20 کے مطابق یونین کونسل چیئرمین و وائس چیئرمین ایک لاکھ اور یونین کونسل کے ممبران20ہزار روپے تک کے انتخابی اخراجات کرنے کی اجازت تھی۔ لیکن ایک کونسلر کی سطح پربھی لاکھوں خرچ کئے گئے۔
یہ کہنا بے جا ہرگز نہیں ہو گا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ضابطہ ء اخلاق کی حیثیت صرف کاغذ کے ٹکڑے کی تھی ، عملی سطح پر ضابطء اخلاق کی دھجیاں اڑتی نظر آئیں۔ نہ تو ووٹر وں کو اپنے حقوق کا پتہ تھا اور نہ امیدوار الیکشن کمیشن کی کسی شق کو خاطر میں لائے۔ اس بارے میں بھی ابہام ہی رہا کہ آیا سرکاری ملازمین کسی امیدوار کے پولنگ ایجنٹ کے فرائض سر انجام دے سکتے تھے یا نہیں۔
کسی بھی قسم کا ضابطہء اخلاق صرف اس صورت میں فائدہ مند ہو سکتا ہے جب اس پر عمل در آمد کا نظام موجود ہو اور عوام ضابطہ ء اخلاق کی خلاف ورزی کی رپورٹ کرنے کے بارے میں آگاہ ہوں۔ راقم کی طرح ہزاروں لوگوں نے لاکھوں خلاف ورزیاں دیکھی ہوں گی لیکن ان کو کسی ایسے نظام سے آگاہی نہیں تھی جس کی مدد سے ان خامیوں اور خلاف ورزیوں کو اعلیٰ سطح پر رپورٹ کیا جا سکتا۔ جب تک عوام میں یہ شعور نہیں بیدار کیا جائے گا اور خلاف ورزیوں کی نشاندہی کرنے کے نظام کو سہل نہیں بنایا جائے گا ، اس وقت تک نہ کوئی ضابطہ نافذ ہو سکتا ہے نہ ہی کسی بھی قسم کے انتخابات سے حقیقی معنوں میں عوام مستفید ہو سکتے ہیں۔ چہرے بدلتے رہیں گے۔ نام بدلتے رہیں گے ۔ لیکن نظام صرف اس وقت ہی تبدیل ہو گا ۔ جب ہم تبدیل کرنا چاہیں گے۔