نیا فوجی اتحاد انتشار کا سبب بنے گا
- تحریر ارشد بٹ ایڈووکیٹ
- جمعہ 18 / دسمبر / 2015
- 7102
15۔ دسمبر کو سعودی وزیر دفاع محمد بن سلمان نے 34 مسلم ممالک پر مشتمل ایک فوجی اتحاد کا اعلان کیا جس کا آپریشنل ہیڈ کوارٹر ریاض میں ہو گا۔ بقول سعودی وزیر دفاع یہ اتحاد دہشت گردی اور شدت پسندی سے نمٹنے کے کیے تشکیل دیا جا رہا ہے اور اس کی قیادت سعودی عرب کی ہاتھ میں ہوگی۔
سعودی وزیر دفاع نے کہا کہ یہ اتحاد عراق، شام، لیبیا، مصر اور افغانستان جیسے ممالک میں شدت پسندی سے نبرد آزما ہونے کے لیے اہم عالمی طاقتوں اور اداروں کے ساتھ عالمی سطح پر روابط استوار کرے گا۔ کیونکہ ہم قانونی جواز اور عالمی برادری کا تعاون حاصل کئے بغیر آپریشن انجام نیہں دے سکتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ داعش سے خلاف خصوصی فورسز بھیجنے پر غور کر رہے ہیں اور کہا کہ یہ اتحاد دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں بڑی طاقتوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ مشرق وسطی اور افریقہ کے مسلم ممالک کے علاوہ پاکستان، ترکی اور ملائشیا کو بھی اس اتحاد میں شامل کرنے کا اعلان کیا گیا جبکہ ایران، عراق، شام، اورافغانستان کو اس اتحاد سے باہر رکھا گیا ہے۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے پہلے روز اتحاد میں شمولیت کا اعلان کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا۔ با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سلسلہ میں پاکستانی قیادت سے نہ کوئی مشورہ کیا گیا اور نہ ہی اعلان سے قبل اجازت لی گئی۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے آج اتحاد میں شمولیت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس بارے میں سعودی حکام کی طرف سے مزید معلومات کا انتظار ہے جس کے بعد شمولیت کی سطح اور سرگرمیوں کا فیصلہ کیا جائے گا۔
ایران، عراق اور شام کو اتحاد سے باہر رکھنے سے اس اتحاد کی نظریاتی بنیاد کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔ امریکی وزیر دفاع کے بیان نے اس اتحاد کی فرقہ پرستانہ جہت کو واضع کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر نے اسلامی فوجی اتحاد کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اتحاد امریکی حکمت عملی کے عین مطابق ہے جس کا مقصد داعش سے نمٹنے کے لئے سنیّوں کے کردار کو وسعت دینا ہے۔
شام میں امریکی سعودی اتحاد کی پسپائی، داعش کے شام، عراق، لیبیا اور دیگر مسلم ممالک میں بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے میں ان کی ناکامی، مشرق وسطی میں روس اور ایران کے مسلسل بڑھتے ہوئے اثرات اور عمل دخل کی وجہ سے امریکہ اور نیٹو اتحادیوں کو ایسی حکمت عملی پر کار بند ہونا پڑا جس کا اظہار امریکی وزیر دفاع نے برملا اپنے اس بیان میں کر دیا ہے۔
سوال یہ ہے کہ کیا سعودی عرب کی قیادت میں تشکیل پانے والا مسلم ممالک کا اسلامی فوجی اتحاد مشرق وسطی میں نیٹو اتحاد کی نئی حکمت عملی کوعملی جامہ پہنانے اور خطے میں سعودی عرب کی سیاسی اور فرقہ وارانہ مذہبی توسیع پسندی کو تقویت دنیے، خطے میں ایران اور روس کے کردار اور اثرات کو روکنے کے لئے آلہ کار کا کام سر انجام دے گا۔ کیا یہ اتحاد شام، ایران، اور روس کے بغیر مشرق وسطی میں داعش اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کامیابی حاصل کر سکے گا۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان اس فرقہ وارانہ اتحاد میں کس قدر اور کس سطح کی سرگرمیوں کا حصہ دار بنے گا۔
نیٹو ممالک کی لیبیا اورعراق میں فوجی مداخلت، شام کے صدراسد کو اقتدار سے محروم کرنے کے لئے نیٹو ممالک اور سعودی عرب کا دہشت گرد گروپوں کی تربیت اورامداد نےداعش اور اس جیسی سلفی وہابی مذہبی انتہا پسند دہشت گرد تنظیموں کو جنم دیا۔ داعش کو اس مقام تک پہنچانے میں جہاں نیٹو اور سعوی عرب کی سیاسی اور نظریاتی حکمت عملی شامل حال رہی ہے وہاں ترکی بھی اپنے کرد دشمن عزائم کی وجہ سے داعش کی مدد کرنے میں پیش پیش رہا ہے۔ اب داعش کا جن بوتل سے باہر، بے قابو ہو کر یورپ اورامریکہ کے شہروں کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنا چکا ہے۔ عراق، لیبیا اور شام میں امریکہ کی قیادت میں نیٹو ممالک کی فوجی مداخلت سے حاصل ہونے والے سبق کے بعد مسلم ممالک کی فوجوں کو استعمال کرنے کی نئی امریکی حکمت عملی سامنے آئی ہے۔ جس کے تحت سعودی عرب کی قیادت میں اسلامی فوجی اتحاد تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سعودی عرب کے وزیر دفاع کے بیان کردہ اتحاد کے مقاصد میں شام، عراق یا کسی اور ملک میں مداخلت کے لئے عالمی اداروں سے اس کا قانونی جواز حاصل کرنا اوعالمی طاقتوں کے تعاون سے ان ممالک میں فوجی مداخلت کرنا ہے۔ یہاں عالمی طاقتوں سے ان کی مراد امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادی ممالک ہی ہیں۔ یمن میں سعودی عرب کے فضائی حملوں کی مدد میں کسی مسلم ملک کا یمن میں حملہ کے لئے بری فوج کا نہ بھیجنا بھی سعودی عرب کے توسیع پسندانہ عزائم کی راہ میں رکاوٹ بنا ہے۔ اس لئے سعودی عرب اور اس کے پشت پناہ نیٹو ممالک کو آیندہ سعودی عرب کو فوجی مداخلت کا قانونی جواز فراہم کرنے کے لئے ایسا اتحاد قائم کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔
اسلامی فوجی اتحاد اگرایسی عملی شکل اختیار کر لیتا ہے، جس کی نظریاتی بنیاد سنی فقہ کے نام پر سلفی وہابی فرقہ پرہو۔ اوراس کے ذریعے ایران، شام اور روس کو دہشت گردی کے خلاف جنگ سے باہر رکھنے کی کوشش کی گئی تو اس خطے سے امن نہ صرف دور ہٹتا جائے گا بلکہ خطے کے ممالک میں فرقہ پرستی کی بنیاد پرمذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کا ایک نیا سلسلہ شروع ہونے کے امکانات پیدا ہوں گے۔ دوسری جانب یہ اتحاد خطے میں عالمی طاقتوں کی کشمش کی آماجگاہ بننے کی نئی بنیاد فراہم کرے گا۔ اسلامی فوجی اتحاد کے بیان کردہ عزائم اوراس اتحاد کے متعلق امریکی وزیر دفاع کے بیان کو مد نظر رکھا جائے تو اس اتحاد کی حثیت نئی امریکی حکمت عملی کے تحت نیٹو کی ایک ایکسٹنشن سے زیادہ نہیں ہو گی۔ اپنے سٹریٹیجک عزائم حاصل کرنے کے لئے اب امریکہ اور اس کے نیٹو اتحادی ممالک اپنی افواج کے بجائے مسلم ممالک کی افواج کو استعمال کرنے کی پالیسی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔
پاکستان کی سیاسی قیادت نے ابھی تک اس معاملہ پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ آج کل ملک میں پارلیمنٹ کا اجلاس جاری ہے مگرحکومت یا اپوزیشن کی کسی پارٹی نے پاکستان کے اس اتحاد میں شمولیت اختیار کرنے کے معاملہ کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لانے کی بات کرنا گوارہ نہیں کیا۔ ہر چھوٹی بڑی بات پر ملک کی سیاسی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بنانے والا میڈیا بھی معنی خیز خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ شاید اس اتحاد کا معاملہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے گذشتہ مہینے سعودی عرب کے دورے میں طے پا چکا ہو۔ اس لئے ملک کی سیاسی قیادت اور میڈیا منہ بند رکھنے پرمجبورہے۔
پاکستان کے مقتدرحلقوں اورسیاسی قیادت کو یہ باور کرنا ہو گا کہ ملک کا اس اتحاد میں شامل ہو کر نیٹو اور سعودی عرب کی حکممت عملی کا حصہ بننے سے ملک کی اندرونی یکجہتی، ہمسایہ ایران اور روس کے ساتھ تعلقات کو کس قدر متاثر کر سکتا ہے اورملک کس قسم کے نئے خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے۔ اس سے ملک کے اندرسعودی حمایت یافتہ فرقوں کو بےجا تقویت ملے گی اور ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور انتہا پسندی میں اضافہ ہوگا۔ اس اتحاد میں سرگرم عملی شمولیت سے ملک میں انتہا پسندی اوردہشت گردی کے خلاف قومی ایکشن پلان کے مقاصد حاصل کرنے کی راہ میں دشواریاں کھڑی ہو سکتی ہیں۔