سرزمین اور اُجڑے دیار

ہومر نے لکھا تھا،  “ تمام مخلوقات میں، انسان ہی ہے جو سب سے زیادہ رنج و غم اٹھاتا ہے۔ “  انسان ہی ہے جو بھوک، محرومی، استحصال، بدحالی اور ذلت کے سامنے ہر دور میں ڈٹ کر کھڑا رہا، ان کے خلاف جدوجہد کی اور پھر انہی مصائب، رنج و غم، جدوجہد اور مسائل کو داستانوں اورادب میں ڈھالا۔ یہی مصائب اور مشکلات انسان کو تخلیق پر ابھارتے رہے۔ دنیا کے اعلیٰ ترین ادب نے ہمیشہ پسماندہ خطوں میں ہی جنم لیا کہ مصائب عموماً تخلیق کے عمل کے مہمیز دیتے ہیں۔

لاطینی امریکہ کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی حالات ہمارے ہاں کم ہی پہنچتے ہیں اور جب بھی پہنچتے ہیں، اس کا ذریعہ ادب ہی بنتا ہے۔لاطینی امریکی لکھاری اور ادب، ادبی دنیا میں اپنی ایک منفرد شناخت کے حامل ہیں۔ لاطینی امریکہ کی سرزمین نے بھی کئی شاعروں اور اعلیٰ ادیبوں کو جنم دیا جن میں سے بیشتر ایک سحرانگیز Realisimتخلیق کرتے رہے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد لاطینی امریکی ادب پر رومانیت پسندی کا اثر کم ہوا اور بعد ازاں بورخیس، گبریل گارسیا مارکیز، اکتاویو پاز،ازابیل الاندے، Jorge Amado ایسے بے شمار لکھاری ہیں جن کی جدت پسند نثر اور طاقتور بیانیے نے دنیا کو چونکا کر رکھ دیا۔ ان لکھاریوں نے نہ صرف اپنی زمین کی معاشرت، رسم و رواج، اساطیر بول چال، ثقافت اور جذبات واحساسات کو اپنی تحریروں کی صورت میں محفوظ کیا بلکہ اپنی سرزمین کے باسیوں کے زندہ مسائل اور مشکلات کا اپنی تحریروں میں احاطہ کیا۔ یہی وہ بنیادی سبب ہے جس نے ان کی تحریروں کو لازوال بنا دیا۔ وہ مسائل اور مشکلات جو کسی بھی طرح تیسری دنیا کے دیگر ممالک سے مختلف نہ تھے اور جن میں اپنی سرزمین کا عکس دیکھا جاسکتا ہے۔ 

اپنی مٹی سے وابستہ انہی لکھاریوں میں ایک نام انطونیو توریس کا ہے، جن کا تعلق شمالی برازیل کے دیہی غربت زدہ علاقے باہیا سے ہے لیکن اب وہ اپنی تحریروں اورترقی پسند بیانیے کے باعث دنیا بھر میں معروف ہیں اور اب اپنی ایک الگ شناخت رکھتے ہیں۔ برازیل ایک عرصہ پرتگال کی کالونی رہا، 1822ء میں اس نے پرتگال سے آزادی حاصل کی، وہاں آج بھی پروگریسو تھاٹ طاقتور ہے جس کا اثر وہاں کے ادب پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ شمالی برازیل اپنی منفرد ثقافت اور روایات کی ایک زرخیز وراثت رکھتا ہے، جس پر ہسپانوی اور پرتگالی اثرات رہے ہیں۔ اپنے اسی آبائی علاقے کو توریس مسلسل چالیس برس سے اپنی تحریروں کا پس منظر بنائے ہوئے ہیں۔ انطونیو توریس نے اپنی سرزمین کی ادبی تاریخ، لوک گیتوں، لوک کہانیوں اور داستانوں کو اپنی تحریروں کا پس منظر بناتے ہوئے اس کے حالیہ زندہ مسائل پر قلم آزمائی کی ہے۔ ان کا بیانیہ اور اندازِتحریر ترقی پسندانہ ہے اور وہ معاشی مرکزیت کے خلاف قلم اٹھاتے رہے ہیں۔ ان کی تحریروں کا دنیا کی تقریباً تمام بڑی زبانوں میں ترجمہ ہوچکا ہے، جن میں اب اردو بھی شامل ہے۔ ان کے دوشاہکار ناولوں کا ترجمہ اب ہما انور نے “ سرزمین “ اور “ اجڑے دیار“ کے نام سے اردو زبان میں کیا ہے۔ یہ ناول اردو ادب میں ایک نیا اور قابل قدر اضافہ ہیں جو موجودہ زمانے کے برازیل اور اس کے سماجی و معاشی حالات کے عکاس بھی ہیں۔

“ سرزمین “ پرتگالی زبان میں لکھا گیا ایک کلاسیک ناول ہے جس میں انطونیو توریس نے خشک سالی کے باعث برازیل میں نقل مکانی کے مسئلے کو موضوع بنایا کہ کیسے مقامی لوگ برازیل کے شمال مشرقی دیہات سے بہتر طرزِ زندگی کی تلاش میں جنوب خصوصاً ساؤپائلو کی طرف نقل مکانی کرتے چلے جا رہے ہیں۔ شہروں کی طرف نقل مکانی اور معاشی مرکزیت تیسری دنیا کے بیشتر ممالک کا مسئلہ ہے۔ “ سرزمین “ میں اپنے بڑے خاندان کی کفالت کا ذمہ داربیٹا، شہر میں روزگار حاصل کرتا ہے۔ اس کی طرف سے گھر بھیجی جانے والی رقم اس کی خوش حالی کی عکاس ہے۔ لیکن پھر ایک عرصے بعد اپنے قصبے خالی ہاتھ واپسی پر وہ خودکشی کرلیتا ہے۔ اس کا بوڑھا باپ اپنی فصل میں نقصان کے باعث بینک کے ہاتھوں دیوالیہ ہو چکا ہے۔ انطونیو توریس سرمایہ داری کے ہتھکنڈوں اور غریب کسانوں پر ان کے اثرات کو بھی سامنے لاتے ہیں۔ بوڑھا باپ اس حقیقت پر بھی ماتم کناں ہے کہ اس کے بچے کاشت کے قابل سونا اگلتی زمین  کو چھوڑ کر قسمت آزمائی کے لیے شہر جا آباد ہوئے ہیں۔ “ سرزمین “ کی اشاعت کے تقریباً بیس سال بعد انطونیو توریس نے انہی کرداروں کو لے کر  “ اُجڑے دیار“ میں کہانی کو آگے بڑھایا، جب اپنے بڑے بھائی کی خودکشی کے بعد شہر جانے والا دوسرا بھائی واپس اپنی زمین اور بوڑھے باپ کو ملنے لوٹتا ہے اور بے کاشت کھیتوں اور اجڑی زمینوں کو دیکھتا ہے۔ وہ شمالی اور جنوبی برازیل، دیہی اور شہری صنعتی علاقوں کے درمیان ترقی کی تقسیم میں فرق کو سامنے لاتے ہیں۔

“ ترقی کے جزیرے “ جو ہمارے ہاں بھی بخوبی دیکھے جا سکتے ہیں۔ شمالی برازیل میں دیہات ہیں جہاں طاقت وسیع جاگیروں پر قابض چند ہاتھوں میں ہے۔ اگرچہ وہ خود اب جنوب میں شہروں میں بستے ہیں، لیکن پرانی طرز کے سرمایہ داری نظام کے تحت زرعی آمدن انہی کے ہاتھوں میں ہے۔ آج کا برازیل کئی طرح سے یورپ اور امریکہ سے مماثل ہے ۔ اس کے شہر ترقی یافتہ اور جدید ہیں لیکن ایسے وسیع علاقے بھی ہیں جو بنجر اور غربت زدہ ہیں ۔ یہی تضاد انطونیو توریس کو تحریر پر اکساتا ہے۔ ان کے ناول برازیلی ادب کا شاہکار تسلیم کئے جاتے ہیں۔ ان کی تحریریں صرف برازیل تک محدود نہیں بلکہ آفاقیت لیے ہوئے ہیں۔