ڈنمارک کی انسان دشمن امیگریشن پالیسی

ڈنمارک میں دائیں  بازو کی یک جماعتی وینسٹرا کی حکومت نے انتہائی دائیں بازو کی قومیت پرست، تارکین وطن مخالف ، ڈینش پیپلز پارٹی اور دائیں بازو ہی کی دیگر چھوٹی جماعتوں کی پارلیمانی سیاسی حمایت سے امیگریشن پالیسیوں کو سخت ترین کر دینے کا عمل شروع کر رکھا ہے۔ اس طرح نہ صرف اندرون ملک انسان دوست رفاہی و سماجی تنظیموں، بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں اور ڈینش ریڈ کراس  جیسے  اداروں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔  حکومت کی جانب سے تارکین وطن اور مہاجرین کے بارے میں قوانین کو سخت کرنے کی مذمت کی ہے۔ اور انہیں عالمی کنونشنوں اور یورپی یونین کے اصول و ضوابط کے خلاف و متضاد قرار دیا ہے۔

حالیہ دنوں میں ڈنمارک آنے والے مہاجرین کے ساتھ جس طرح کا سلوک روا رکھا گیا اور اب تک انھیں جس طرح کربناک صورت حال کا سامنا ہے وہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی اور اس کی باز گشت اب بیرون ملک بھی شدت سےسنی جا رہی ہے جو ڈنمارک کے ماتھے پر بدنامی  کا  سیاہ ٹیکا ہے ۔ ڈنمارک میں مہاجرین کی صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے لکھا ہے کہ حالیہ مہینوں میں ڈنمارک نے مہاجرین کے متعلق بڑا سخت مؤقف اپنایا   ہے ۔ مثلاً ستمبر کے مہینے میں ڈنمارک نے لبنانی اخبارات میں ایک ایسا غیر معمولی اشتہار شائع کرایا جس میں  غیر ملکیوں کو ایک کھلا اور واضح پیغام دیتے ہوئے کہا گیا کہ اگر وہ سیاسی پناہ کے لیے سوچ رہے ہیں تو ’’ ڈنمارک کا رخ نہ کریں‘‘۔ یہ اشتہار اندرون ملک اور بیرون ملک ڈنمارک کی بدنامی کا باعث بنا۔  اسی اشتہار کی وجہ سے حکومت کو کئی حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا ۔ ان حلقوں کا کہنا تھا کہ ڈنمارک کی یہ سرکاری اشتہاری مہم  ڈنمارک  کے انسان دوست ہونے کے تشخص کو برباد کر رہی ہے ۔ حکومت کی اس اشتہار بازی کے خلاف صدائے احتجاج کی باز گشت  ابھی تک سنائی دے رہی ہے۔ پارلیمانی محتسب بھی اسے ایک نازیبا حرکت قرار دے چکے ہیں۔  اب ملک میں ایک  ایسی نئی بحث کا آغاز ہؤا ہے  جو اس معاشرے  انتہا پسند رویے کی نشاندہی کرتی ہے ۔

حکومت ایک ایسے قانون پر بھی غور کر رہی جو حکومت کو  ڈنمارک میں داخل ہونے والے مہاجرین سے اُن کے زیورات ضبط کر لینے کا اختیار دے گا ۔  اس مجوزہ قانون کی پارلیمنٹ میں  منظوری یقینی دکھائی دیتی ہے ۔ سیاسی پناہ اور غیر ملکیوں کے انضمام  کے متعلق تحقیق کرنے والے کوپن ہیگن یونیورسٹی سے منسلک ایک محقق زخارے وائٹ نے روزنامہ واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ حالیہ  ڈینش پالیسیوں میں سے بعض کے متعلق یقین کے ساتھ کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ مہاجرین سے اُن کے زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء کی ضبطی سے متعلقہ قانونی بل  امسال دس دسمبر کو پارلیمنٹ میں منظوری کے لئے پیش کیا گیا اور اس کے تحت یہ بھی تجویز کیا گیا ہے کہ ڈینش حکام کو اختیار ہونا چاہیے کہ وہ پناہ کے متلاشیوں اور بغیر پرمٹ کے رہنے والے تارکین وطن  کی جامہ تلاشی اور اُن کے سامان کی پڑتال وغیرہ کرسکیں۔ اس طریقہ ار کا مقصد ان وسائل سے ان پر ہونے والے  اخراجات کو پورا کرنا ہے۔ اسے  ’’خود انحصاری ‘‘ کا نام دیا جائے گا۔  یہ قانون پولیس  کو اختیار دے گا کہ وہ پناہ کے متلاشیوں کےزیورات، قیمتی اشیاء اور نقدی اپنے قبضے میں لے لے۔ 

ڈینش وزیر انٹگریشن، وینسٹرا پارٹی کی اینگر سٹؤبرگ نے  واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کو بے جا منفی پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے بڑی ڈھٹائی سے حکومت کے مجوزہ قانون کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ نقدی اور دیگر قیمتی اشیاء کو ضبط کر لینے کا  قانون و ضابطہ ’’ محدود ‘‘ اشیا پر لاگو ہو گا اور پناہ کے متلاشی اور غیر قانونی تارکین وطن اپنی  کچھ چیزیں اپنے پاس رکھ سکیں گے۔ وہ اشیاء جو کسی لحاظ سے کسی فرد کے لیے جذباتی قدر و قیمت اور تعلق رکھتی ہیں وہ بھی ضبط نہیں کی جائیں گی بشرطیکہ وہ بہت زیادہ قیمتی نہ ہوں اور ان کی مالیت دس ہزار کرونا سے کم ہو ۔

اس وقت اندرون اور بیرون ملک ہر جگہ ڈنمارک میں پناہ گزینوں کے متعلقہ پالیسیوں کو سخت بنانے کے لئے حکومتی اقدامات پر لے دے ہو رہی ہے۔ دو بڑی ڈینش سیاسی پارٹیوں نے مجوزہ قانون پر مختلف رد عمل کا اظہار کیا ہے۔  وزیرانصاف وینسٹرا پارٹی کے سؤرن پنڈ نے مجوزہ قانون پر کی جانے والی تنقید کو ’’حماقت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون پناہ کے اُن غیر حقیقی متلاشیوں پر لاگو ہو گا جو بقول ان کے ہیروں سے بھرے سوٹ کیس کے ساتھ یہاں پہنچ جاتے ہیں اور پناہ  مانگتے ہیں ۔ اس پر حکومت کی حمایتی دائیں بازو کی انٹی امیگرینٹس ڈینش پیپلز پارٹی نے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ  ’’ ضبط کی جانے والی اشیاء میں ’’ کم قیمت والی اشیاء ‘‘ بھی شامل کی جائیں ۔

اس مجوزہ قانون کے ناقدین کا کہنا ہے کہ  ’’ اس قانون کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں‘‘  کیونکہ ڈنمارک آنے والے پناہ گزینوں کے پاس نقدی اور زیورات نہیں ہوتے۔  مجوزہ قانون کو ایک احمقانہ حرکت  اور ظالمانہ اقدام قرار دیتے ہوئے بیمار ذہن کی سوچ کہا جا رہا ہے ۔ اور سوال اُٹھایا جا رہا ہے کہ کیا حکومت پناہ گزینوں  سے اُن کی شادی کی انگوٹھیاں بھی  اُتروا لے گی؟ لوگوں سے اُن کے زیورات اور قیمتی اشیاء ہتھیا لینے کا تصور کوئی نیا نہیں  ۔ یورپ میں اور خاص کر جرمنی میں دوسری جنگ عظیم کے دوران اپنی جان بچانے کے لئے فرار ہونے والے یہودیوں سے ان کے زیورات، قیمتی اثاثے اور اشیا  جرمن نازی ضبط کر لیتے تھے ۔

ڈینش وزارت انٹگریشن  نے ڈنمارک پر عالمی حلقوں کی جانب سےشدید تنقید کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ  ملک میں نافذ موجودہ قانون پہلے ہی سے مطالبہ کرتے ہیں کہ  جن مہاجرین کے پاس معقول وسائل ہوں وہ اپنے رہنے کے اخراجات خود ادا کریں ۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ وزیر انٹگریشن کو اس سے کوئی تعلق نہیں کہ ڈنمارک کو سخت  امیگریشن پالیسیوں کی وجہ سے کتنا برا بھلا کہا جا رہا ہے اور اس کے غیر انسانی  اقدامات کی کتنی شدید مذمت کی جا رہی ہے۔ وہ صرف یہی چاہتی ہیں کہ پناہ کے متلاشی ڈنمارک کا رخ نہ کریں اور جہاں تک ممکن ہو انہیں یہاں آنے سے روکا جائے اور ڈنمارک آنے کے خواہاں پناہ گزینوں کو سخت پیغام دیا جائے کہ اب یہاں ان کے لیے کوئی جگہ نہیں اور انہیں خوش آمدید نہیں کہا جا سکتا ۔

(نصر ملک کوپن ہیگن سے شائع ہونے والے انٹرنیٹ اخبار  www.urduhamasr.dk کے ایڈیٹر ہیں)