روس - ترکی جنگ کے دہانے پر
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- اتوار 20 / دسمبر / 2015
- 4423
دو روز قبل روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اپنی سالانہ پریس کانفرنس میں روس کے اندرونی حالات اور بیرونی کردار پر تفصیل سے گفتگو کرتے ہوئے مختلف موضوعات پر اپنے مؤقف کا برملا اظہار کیا ہے۔ اس پریس کانفرنس میں ملکی اور غیر ملکی صحافیوں نے شرکت کی جن کی تعداد چودہ سو کے لگ بھگ تھی۔
روس نے 2008ء میں جارجیا کے مسئلے پر جنگ کے بعد عالمی سطح پر اپنے کردار کو دوبارہ نمایاں طور پر پیش کرنے کا جو آغاز کیا تھا، وہ آئے روز طاقت پکڑتا جارہا ہے۔ جارجیا کو امریکیوں نے جنگی بیس بنا کر روس کے خلاف گھیرا تنگ کرنے کے عمل کا آغاز کیا اور روس کی طرف سے بھرپور جنگی مزاحمت پر امریکہ کو جس ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا، اس کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔
جارجیا کے مسئلے پر امریکی جنگی منصوبہ بندی کو روسی صدر پیوٹن نے میدانِ جنگ اور سفارت کاری کے میدان میں کھل کر جواب دیا اور یہ بھی کہا کہ آج کے بعد دنیا، ’’ی ونی پولر ورلڈ ‘‘ کی صورتِ حال سے باہر نکل آئی ہے۔ روس کی مضبوط ہوتی معیشت اور یورپ میں امریکہ کی طرف سے میزائلوں کی تنصیب کے مختلف منصوبوں کی مخالفت نے اس عمل کو مزید تقویت دی۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ جس طرح عالمی معاملات میں یک طرفہ فیصلوں کا اختیار حاصل کرتا چلا جارہا تھا، اس عمل کو پہلی زک جارجیا میں امریکہ کے جنگی منصوبے کو شکست سے پہنچی۔
دو سال قبل یوکرائن میں سجایا جانے والا امریکی جنگی ڈرامہ اس عمل میں دوسرا اہم سنگِ میل ثابت ہؤا۔ روس خطے میں نیٹو اور امریکہ کے بڑھتے ہوئے کردار کو ہر ممکن اور ہر انداز میں Contain کرنے کی سعی کر رہا ہے۔ امریکیوں نے مختلف خطوں میں اپنے عسکری اور معاشی مفادات کے لئے جنگی اکھاڑے قائم کرنے کی جو حکمت عملی اپنائی ہے، اس میں امریکیوں کو کسی حد تک کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ امریکہ Proxy Wars کو جنم دے کر مختلف خطوں کو جنگ کا اکھاڑا بننے پر مجبور کر دیتا ہے۔ اس کے لئے مختلف دہشت گرد گروپوں کی سرپرستی اس کی مستقل پالیسی رہی ہے جو ان خطوں کے جنگی تھیٹر میں ایندھن کا کام کرتے ہیں۔ خصوصاً ہمارے خطے اور مشرقِ وسطیٰ میں۔
اس امریکی پالیسی نے امریکہ کے سامراجی معاملات کو کافی حد تک فائدہ پہنچایا، جس میں 1979ء افغانستان میں امریکی مداخلت، 2001ء میں ایک بار پھر افغانستان میں امریکی مداخلت، عراق، لیبیا، یمن اور اب شام میں ان دہشت گرد گروہوں کو جنم دیئے جانے اور ان کی سرپرستی امریکہ کے جنگی منصوبوں میں بہت حد تک کارآمد ہوئی۔ شام میں نیا جنگی تھیٹر کھول کر امریکیوں نے شام کو کھنڈرات میں بدل ڈالنے کے تمام سامان پیدا کر دیئے۔ اب امریکیوں کی یہ خواہش ہے اس جنگ میں خطے کی طاقتیں مداخلت کریں۔ وہ ترکی کو جنگ میں دھکیلنے کے لئے پس پردہ سرگرم ہے۔ چند روز پہلے جب ترکی نے روس کا جنگی طیارہ مار گرایا، اس اقدام نے امریکہ کے اس علاقے کو وسیع تر جنگی میدان میں بدلنے کے عمل کو تیز کر دیا۔ ترکی امریکہ کا اتحادی ہے اور اس کے ساتھ وہ نیٹو کا اہم ترین رکن ہے۔ روسی طیارہ گرائے جانے پر دنیا بھر کے سیاسی تجزیہ نگار اس کو امریکی حکم کی تعمیل قرار دے رہے ہیں۔ روسی طیارہ گرائے جانے کے بعد روس ترکی تعلقات میں کشیدگی اُبھر کر سامنے آئی ہے۔
روس ، شام میں جس طرح مسلح داعش اور دیگر دہشت گردوں کے خلاف جنگی کارروائیوں میں مصروف ہے، اس فوجی مداخلت پر اس کا اربوں ڈالر صرف ہو رہا ہے۔ دوسری طرف ترکی جو چند سال قبل ہی معاشی بہتری کی جانب بڑھا تھا، اس ایک روسی طیارے کے گرائے جانے کے بعد ترک معیشت تو کیا ترکی کی سرحدوں پر پھیلی کُرد آبادی میں علیحدگی پسند تحریک ایسی سلگتی چنگاریاں ہیں جو اس جدید ریاست کو ایسے الاؤ میں جھونک سکتی ہیں جس کے نقصان کا اندازہ ہی نہیں کیا جا سکتا۔
روسی صدر پیوٹن نے دو روز قبل اپنی سالانہ پریس کانفرنس میں ان امکانات پر تفصیل سے روشنی ڈالی جو خطے کو جنگ اور ترکی کو امریکی غلامی میں لے جا سکتی ہے۔ صدر پیوٹن نے کہا ہے کہ ’’ ترکی نے امریکہ کے تلوے چاٹنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ’’ ہم ترکی کی طرف سے طیارہ گرائے جانے کے اقدام کو معاف نہیں کریں گے۔ اگر ترکی کو شام میں ترک آبادی میں ہمارے جنگی طیاروں کی آمد پر اختلاف تھا تو ہم سے فون پر رابطہ کیا جا سکتا تھا اور اپنی مرضی سے آگاہ کیا جا سکتا تھا۔‘‘ صدر رجب طیب اردوآن جنہوں نے روس کا جنگی طیارہ گرائے جانے پر بڑا فخر کیا تھا، ان کے لئے نیٹو اور امریکہ کا صرف رسمی احتجاج آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔ اسی لئے وہ بار بار روسی صدر کو فون کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں ان کو ناکامی کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کاش یہ فون کال روس کا جنگی طیارہ گرائے جانے سے پہلے کرلیتے تو ترک معیشت اربوں ڈالر کے نقصان سے اور ترکی جنگ کا اکھاڑہ بننے اور کُردوں کے ہاتھوں مستقبل میں جمہوریہ ترکیہ کی بقا کو نقصان پہنچانے کے امکانات سے محفوظ رہ سکتا۔
صدر پیوٹن نے اپنی اس سالانہ پریس کانفرنس میں یہ بھی کہا کہ موجودہ ترک قیادت اپنے بانی اتاترک کو قبر میں بے چین کر رہی ہے۔ صدر پیوٹن کا اشارہ موجودہ قیادت کے ان اقدامات کی طرف ہے جو وہ شام میں مذہبی دہشت گرد گروہوں کی حمایت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہی۔ ترکی جس نے 1923ء میں قیام کے بعد خطے میں ایک امن پسند ریاست رہنے کا فیصلہ کیا تھا، اب اسے چند افراد کے اقتدار میں رہنے کی آمرانہ خواہش کی تکمیل کے لئے جنگ کے میدان میں کودنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ ایسے میں ترکی کا اتحادی، ریاست ہائے متحدہ امریکہ اپنے اس جنگی منصوبے کی تکمیل کی طرف بڑھ سکتا ہے، جس میں وہ جنگ کو وسعت دے کر یعنی نام نہاد فری سیرین آرمی، القاعدہ، داعش اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے ہاتھوں سے جنگی باگیں ترکی کے ہاتھوں میں تھما دے اور ایک بڑا جنگی تھیٹر سجا دیا جائے۔ یعنی جنگ رہے توProxy ہی مگر گروپوں کی بجائے اپنی اتحادی ریاست کے ہاتھوں میں۔
روسی صدر پیوٹن نے اس کانفرنس میں سخت لہجے میں کہا ہے کہ ’’ ہم نے شام کے اوپر نوفلائی زون قائم کر دیا ہے اور جو طیارہ بھی اس نوفلائی زون کی خلاف ورزی کرے گا، روس کا جدید ترین ایئر ڈیفنس S-400 ان ترک طیاروں کو فوراً مار گرائے گا اور یہ کہ ترکی مسلسل شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ ہم شام میں بیرونی مداخلت کی مکمل مخالفت کرتے ہیں، لیکن ہم اس صورتِ حال میں خاموش تماشائی بنے نہیں رہ سکتے، اسی لئے ہم نے دمشق حکومت کے دفاع کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ مسئلہ بشارالاسد کی حکومت کا نہیں بلکہ خطے کی سلامتی کا مسئلہ ہے۔ اگر ان بیرونی طاقتوں نے آج شام میں مداخلت کا فیصلہ کیا ہے تو کیا معلوم ان کا اگلا ہدف کون سا ملک ہو۔‘‘ انہوں نے لیبیا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ’’ انسانی بنیادوں‘‘ پر امداد کا بہانہ بنا کر فوجی مداخلت کی گئی۔ سخت لہجے میں پریس خطاب کرتے ہوئے صدر پیوٹن نے کہا کہ ’’ ہم شام میں جنگی مزاحمت کرتے ہوئے اپنے آپ کو شامیوں سے زیادہ شامی ثابت کریں گے۔‘‘
پیوٹن نے دنیا کی واحد یونی پولر طاقت کے تصور کو عملی طور پر جارجیا سے جس طرح چکنا چور کرنا شروع کیا تھا، گزشتہ روز کی گئی پریس کانفرنس میں ان کے مؤقف میں مزید شدت محسوس کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس کی معیشت میں مزید استحکام آرہا ہے اور ہمارے خزانے میں ساڑھے تین سو ارب ڈالرکے ذخائر موجود ہیں۔ ان کی اس پریس کانفرنس میں بڑا فوکس ترکی ہی تھا جس میں انہوں نے بار بار ترکی کو سبق سکھانے کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا جب تک ترکی، روس کا جنگی طیارہ گرائے جانے پر باقاعدہ معافی نہیں مانگتا، بات آگے نہیں بڑھ سکتی۔
یاد رہے کہ صدر پیوٹن روسی فیڈریشن میں تاحال ایک مقبول لیڈر ہیں اور ان کی حکومت کو مرکزی اپوزیشن پارٹی کیمونسٹ پارٹی آف رشیا سپورٹ کرتی ہے۔ اسی طرح ترکی کے صدر رجب طیب اردوآن بھی ایک مقبول ترک رہنما ہیں، لیکن ان کے کسی بھی مؤقف کو اپوزیشن کی کوئی جماعت سپورٹ نہیں کرتی۔ حتیٰ کہ ان کی سابقہ پارٹی AKPآج کل باہمی کشمکش کی شکار ہے، جس میں تین دھڑے اب کھل کر سامنے آرہے ہیں۔ ایک دھڑا صدر طیب اردوآن کا، دوسرا وزیراعظم احمت دعوت اولو کا جو صدارتی ایوان کے اثر سے نکلنا چاہتے ہیں اور تیسرا دھڑا بلندایرنجی کا۔ اور اس سارے عمل میں ترکی کی مسلح افواج جو ترک قوم کا عظیم سرمایہ ہیں، اس مسئلے کو سیاسی قیادت کے ذریعے ہی حل کرنے کی خواہاں ہیں۔
ترکی کے صحافتی حلقوں میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ مختصر یہ کہ جو طاقت روسی صدر پیوٹن کے پیچھے نظر آتی ہے، ترکی کے صدر جناب طیب اردوآن اس سے بڑی حد تک محروم ہیں۔ 2016ء ترک سیاست کا اہم ترین سال ہے اور ہم دیکھیں گے ترکی میں انہونی سیاسی تبدیلیاں برپا ہوں گی، خصوصاً یہ تبدیلیاں اُن ترک حلقوں کے لئے اہم ہیں جو ترکی کے جنگ کا ایندھن بننے اور امریکہ کے تلوے چاٹنے پر سخت نالاں ہیں اور ترک قوم کو خطے کی ترقی یافتہ اور پُرامن قوم کی شکل میں قومی سفر برقرار رکھنے کی خواہاں ہیں۔