کتنی زمین درکار ہے

میانوالی میں نمل یونیورسٹی کے کانووکیشن سے خطاب کے دوران کپتان کی جانب سے سلو برادری کو دی گئی دھمکی پر ہم کسی قسم کا تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔ انہوں نے یونیورسٹی سے ملحقہ اراضی حاصل کرنے کے لیے جوطرزعمل اور اندازگفتگو اختیارکیا، اس پر کسی تبصرے کی گنجائش ہی نہیں ہے۔

کپتان کا کہنا تھا کہ میں پیارسے کہتا ہوں سلو برادری یونیورسٹی سے ملحقہ اراضی ہمیں دے دے ورنہ ہم حکومت میں آکر یہ زمین سیکشن چار کے تحت خود حاصل کرلیں گے اور پھر زمین کے مالکوں کو اس کا معاوضہ بھی نہیں ملے گا۔ کپتان صاحب نے اراضی کے حصول کے لئے فروری تک کی ڈیڈ لائن بھی دے دی ۔ ان کے مخالفین اورحاسدین اس طرز عمل پر انہیں قبضہ گروپ کا طعنہ بھی دے رہے ہیں۔ لیکن ہمارے خیال میں ایسا طعنہ زیب نہیں دیتا۔ کپتان صاحب کا جو انداز گفتگو ہے وہ ان ہی کے شایان شان ہے۔ ان کے مخالفین کو تو کم ازکم ایسا لہجہ زیب اختیار نہیں کرنا چاہئے ۔

کپتان آج کل بہت ذہنی دباﺅ کا شکار ہیں۔ خانگی معاملات کے تناظر میں جو گرد اڑی وہ بھی آپ سب کے سامنے ہے۔ پارٹی کے اندر اختلافات کی خبریں الگ گردش میں ہیں۔ مخدوم صاحب اپنی جگہ ناراض ہیں اور سونے پر سہاگہ لودھراں کا ضمنی الیکشن بھی سر پر آ گیا ہے۔ لودھراں کی نشست انہی نشستوں میں سے ایک ہے جہاں دھاندلی کاالزام لگا کر کپتان نے تحریک چلائی، اسلام آباد میں کنٹینروں کا اجتماع کیا اور پھران کی اوٹ میں شادی رچائی۔ اراضی کے حصول کے لئے ان کی جانب سے فروری تک کی ڈیڈ لائن بھی بہت حیران کن ہے اور اس سے یہ گمان کیاجارہا ہے کہ شاید عمران خان کو کسی امپائر نے ایک بارپھر فروری تک کا خواب دکھا دیا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ عمران خان نے اپنی تقریر کے دوران اراضی کے حصول کے حوالے سے کوئی بڑی دھمکی نہیں دے دی۔ ورنہ تووہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ ملکی سلامتی کے تحفظ کے لیے یہ زمین رینجرز کے ذریعے حاصل کرلی جائے گی۔

خیرچھوڑیں اس تفصیل میں مزید کیاجائیں۔ آپ کو لیو ٹالسٹائی کی ایک بہت معروف کہانی سناتے ہیں۔ پتہ نہیں کیوں عمران خان کے اس طرزعمل اور دھمکی سے ہمیں یہ کہانی یاد آ گئی۔ کہانی کچھ اس طرح سے ہے کہ ایک کسان زیادہ سے زیادہ اراضی خریدنا چاہتا تھا اور اس کی خواہش تھی کہ اس کا شمار بھی علاقے کے جاگیرداروں میں ہو۔ اس مقصد کے لئے اس نے گردونواح کے بہت سے لوگوں سے زمین خرید لی اور مزید اراضی حاصل کرنے کے لیے رقم جمع کرنا شروع کی۔ اسے معلوم ہؤا کہ ایک شخص سستے داموں اپنی زمین بیچنا چاہتا ہے کسان اپنی یہ خواہش لے کر اس شخص کے پاس پہنچا تو اس نے کہا کہ میں یہ زمین تمہیں انتہائی کم قیمت پردینے کوتیارہوں شرط صرف ایک ہے کہ تم جتنی بھی اراضی حاصل کرناچاہتے ہوسورج غروب ہونے سے قبل اتنے علاقے تک دوڑ لگاکر یہیں واپس پہنچ جاﺅ۔

کسان نے زمین کے لالچ میں اندھا دھند بھاگنا شروع کیا سورج سر پر پہنچا تو وہ کئی میل دور تک جا چکا تھا۔ اس نے سوچا کہ واپسی کاسفر شروع کروں تاکہ سورج غروب ہونے سے پہلے اسی مقام تک پہنچ جاﺅں جہاں سے دوڑ شروع کی تھی۔ پھر خیال آیا کہ اگر کچھ دور اور چلا جاﺅں اور اپنی رفتار واپسی پر مزید تیزکردوں تو اوربھی زمین میری ملکیت میں آجائے گی۔ سو اس نے اپنی رفتار تیز کی اور پھر واپسی کاسفر شروع کردیا۔ بھاگ بھاگ کر وہ بے حال ہو چکا تھا اس کے دل کی دھڑکن بے قابو ہورہی تھی ۔ واپسی کاسفر ابھی نصف بھی نہیں ہؤا تھا کہ اس کی حالت غیرہوگئی ۔ وہ کچھ دیر کے لیے رکا ۔ سانسیں درست کیں اور پہلے سے کہیں زیادہ رفتار کے ساتھ منزل مقصود کی طرف دوڑنا شروع کر دیا۔ سورج تیزی سے غروب ہوتا جا رہا تھا اور کسان کی رفتار اور دل کی دھڑکنیں تیز سے تیزترہوتی جارہی تھیں۔ بس اب منزل چند قدم کے فاصلے پرتھی۔ لیکن اس کی ہمت جواب دے گئی تھی۔ اس نے ایک بارپھر اپنی قوت مجتمع کی اور نقطہ آغاز کی طرف پھردوڑنا شروع کردیا۔ تھکن سے چور ہانپتا کانپتا وہ منزل پرپہنچا اورچکرا کر گرگیا۔

زمین کامالک اہل علاقہ کے ساتھ اس کامنتظرتھا۔ اس کے منہہ پر پانی کے چھینٹے مارے گئے ۔ اسے ہوش میں لانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن وہ دم توڑ چکاتھا۔ ” لو کدال اٹھاﺅ اور چھ فٹ زمین کھود کر اسے دفن کردو۔ اسے اتنی ہی زمین درکارتھی “۔ زمین کے مالک کی ہدایت پر قبر کی کھدائی شروع ہوگئی۔