بھارت کے سیاسی و سماجی مسائل
- تحریر محمد آصف اقبال
- بدھ 23 / دسمبر / 2015
- 5920
حقیقت یہ ہے کہ ملک و معاشرہ جس قدر بڑا ہوگا اسی تناسب سے حالات و واقعات بھی رونما ہوں گے۔یہ الگ بات ہے کہ یہ واقعات کسی کے لئے خوشگوار تو کسی کے لیے ناگوار ہو سکتے ہیں۔اس کے باوجود تمام باشعور شہریوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حالات کو خراب ہونے سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں۔لیکن معاملہ اس وقت خراب ہوتا ہے جبکہ مسائل کے حل کے لئے اقدام کرنے کے اہل لوگ فیصلے کرنے، قانون بنانے اور انہیں نافذ کرنے میں ناکام رہیں۔
عوام اگرچہ فیصلہ لینے کی پوزیشن میں نہیں ہوتے، لیکن وہ احتجاج کرتے ہیں اور حکومت کو پابند عہد بناتے ہیں۔ سی طرح کا ایک واقعہ آج سے ٹھیک تین سال قبل ملک کے دارالحکومت دہلی میں چلتی بس میں ایک نوجوان میڈیکل طالبہ کے ساتھ اجتماعی عصمت دری کا تھا۔اُس موقعہ پر پورا ملک جن حالات سے گزرا اور جس طرح عوام نے اس بدترین واقعہ کے خلاف بھر پور انداز میں احتجاج کیا،وہ نہ صرف مثالی تھا بلکہ ملک و بیرون ملک ہر سطح پر قصورواروں کو سخت سے سخت سزا دلوانے کی بات کہی گئی۔حکومت بھی متوجہ نظر آئی اور جوینائل عمر گھٹانے اور بدترین مجرمین کو سخت سزا دلانے کی باتیں کہی گئیں۔آپ یہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ چونکہ سنہ 2000میں ایک ترمیم کے ذریعہ نابالغ مجرم معاملے میں عمر کی حد بڑھا کر 16سے 18سال کردی گئی تھی۔اس عمر کو کم کرنے کی بڑے پیمانہ پر مانگ ہوئی تو سنہ 2013میں سپریم کورٹ آف انڈیانے پھر سے عمر 16سا ل کرنے کی بات کہی۔اس کے باوجود آنے والی 20دسمبر2015میں وہی نابالغ جو نربھیا معاملہ میں ملوث تھا،زانی مجرم کی رہائی ہونے والی ہے اور ہائی کورٹ نے رہائی روکنے سے انکار کر دیا ہے۔عدالت کا کہنا ہے کہ قصوروارٹھہرائے جانے کے وقت مجرم نابالغ تھا،لہذا بچہ اصلاح گھر میں اس کی سزا پوری ہوچکی ہے۔ایسے میں اب کوئی ایسا قانون نہیں ہے جس سے سزا کاٹنے کے بعد اسے مزید اصلاح گھر میں رکھا جا سکے۔متاثرہ ماں پھوٹ پھوٹ کر رورہی ہے اور کہہ رہی ہے کہ ہماری لاکھ کوششوں کے باوجود اتنے بڑے مجرم کو عدالت نے چھوڑدیا۔ہمیں یقین دہانی کرائی گئی تھی کہ انصاف ملے گا لیکن وہ نہیں ملا۔زنا بالجبر ایک سنگین جرم ہے۔ملک میں ہر روز 93خواتین کی عصمت دری ہوتی ہے۔اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ 2014میں پورے ملک میں 36735عصمت دری کے واقعات ہوئے جن میں صرف دہلی میں عصمت دری کے 3000واقعات ہوئے ہیں۔
اس ایک مسئلہ کے بعد دوسرے مسئلہ کا رخ کریں تو معلوم ہوگا کہ اس وقت ملک کا ہر شخص براہ راست یا بالواسطہ طور پر کرپشن میں کہیں نہ کہیں ملوث ہے۔لیکن اگر بالواسطہ کرپشن کو نظرانداز کربھی دیا جائے توبراہ راست اس جرم میں ملوث افراد کی تعداد بھی اتنی زیادہ ہے کہ صرف انہی کے جرائم کی ایک طویل فہرست تیار ہو سکتی ہے۔یوں تو کرپشن ہر دور میں ہوتی ہوگی لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں جس تیزی سے یہ علت پھلی پھولی ہے، اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ اہل اقتداراس کرپشن کی اصل جڑ ہیں۔ویسے بھی عوام کسی زمانے میں اتنے بڑے پیمانہ پر کرپشن میں ملوث نہیں ہو سکتے۔اس معاملے میں بھی برسراقتدار لیڈران نے حکومت سنبھالتے وقت اور اس سے قبل وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے ہر ممکن طریقہ سے ختم کریں گے۔لیکن افسوس کہ نہ وہ ایسا کر سکے اور نہ ہی وہ اپنی سطح پر کوئی مثبت مثال قائم کرنے کی پوزیشن میں نظر آتے ہیں۔ راجدھانی دہلی میں گزشتہ سالوں کے دوران سامنے آنے والی ایک نئی سیاسی پارٹی نے بھی بڑی بیباکی کے ساتھ کرپشن کے مسئلہ کو اٹھایا تھا ۔ساتھ ہی اس کے حل اور خاتمہ کے عہد و پیمان کیے تھے۔ اس کے باوجود آج کل اور گزشتہ مہینوں میں خود ان کی پارٹی کے لیڈران مختلف قسم کے کرپشن میں ملوث پائے گئے ہیں۔پھر جس طرح عام آدمی پارٹی نے دہلی سکریٹریٹ میں چھاپہ ماری کے بعد بی جے پی کے ارون جیٹلی پر پے درپے وار کئے ، اس سے واضح ہو تا ہے کہ حمام میں سب ہی ننگے ہیں۔
کیجریوال کا کہنا ہے کہ جیٹلی کئی سالوں تک ڈی ڈی سی اے کے صدر رہے ۔ اس دوران ڈی ڈی سی اے میں بدعنوانی کے متعدد الزامات عائد کئے گئے ،جیٹلی بھی اس میں ملوث ہیں۔ کرپشن میں ملوث اہم ترین شخصیات، ان الزامات کے باوجود سیاسی بساط پر کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں۔بی جے پی کے سبرامنیم سوامی نے سنہ 2012میں مودی حکومت کے برسر اقتدار میں آنے سے قبل نیشنل ہیرالڈ کے مالکانہ حق کو لے کر سونیا اور راہل گاندھی پر جائیداد پر قبضہ کئے جانے کی مجرمانہ سازش کا الزام لگایا ہے۔سوامی کے مطابق سونیا اور راہل نے نیشنل ہیرالڈ کی 5000کروڑ روپے سے زیادہ کی جائیداد غبن کی ۔اس کے لئے پہلے کانگریس نے غیر قانونی طریقے سے پارٹی فنڈ سے 90کروڑ کا قرض دیا ۔پھر ینگ انڈیا کے نام سے کمپنی بنائی۔ہیرالڈ چلانے والی کمپنی ایسوسی ایٹ جنرل سے 99فیصد اسٹاک غلط طریقہ سے ینگ انڈیا کے نام ٹرانسفر کرائے۔اور اس نئی کمپنی میں 76فیصد حصہ داری سونیا اور راہل گاندھی کی ہے۔ بقیہ کانگریس خرانچی موتی لال وہرا اورآسکر فرنانڈیز اور سیم پترودا کے پاس ہے۔اور آج جب اس پورے معاملے پر کورٹ میں پیشی ہوئی تو مسئلہ کرپشن کا نہیں بلکہ انا کا بن گیا ، جسے سیاسی رخ دیا جا رہا ہے۔دلچسپ بات یہ کہ کرپشن جس کی بنیاد پر کانگریس پارٹی کا صفایا ہوگیا تھا،اسی کانگریس پارٹی اور اس کی اعلیٰ قیادت کو ایک بار پھرکرپشن کی آڑ میں امید بندھی ہے ۔لہذا میدان ہموار کیا جا رہا ہے اور لگتا ہے کہ بس کامیابی سامنے کھڑی ہے۔
اس مختصر مضمون میں موقع نہیں ہے کہ ایک ہی وقت میں دیگر مسائل پر بھی روشنی ڈالی جا سکے۔لہذا گفتگو کا اختتام ہندوستان کے جنوبی شہر چنئی کے خوفنا ک سیلاب سے کرتے ہیں جہاں نہ صرف بڑی تعداد میں جان و مال کا نقصان ہوا بلکہ ملک کے باشعور افراد نے اس موقع پر بلا تخصیص مذہب و عقیدہ ایک دوسرے کی مدد کے لئے ہاتھ بڑھائے۔چنئی کی مسجد غیر مسلموں کے لئے جائے پناہ بنی تو وہیں شہر کے نوجوان تباہ شدہ گھروں اور عبادت خانوں کی صاف صفائی کرتے نظر آئے۔دوسری جانب کچھ ایسے افراد بھی سامنے آئے جو موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہاں بھی چوری چکاری میں مصروف تھے۔لیکن درد ناک واقعہ نالینی کے بیٹے گوکل کا ہے۔جبکہ نالینی کی لاش بڑی مشقتوں کے بعد حاصل ہوئی ۔اس وقت نالینی کی میت حد سے زیادہ پھولی ہوئی تھی اور ان کے جسم پر کیڑے پڑ چکے تھے۔ راوی کا کہنا ہے کہ ہم نے مشکل سے ان کے مردہ جسم کو صاف کیا اور ان کی میت کو لے کر سیمنچری میں واقع سرکاری شمشان گھاٹ پہنچے۔سرکاری شمشان گھاٹ، جہاں ساری خدمات مفت ہوتی ہیں، اس کا انتظام اب مقامی ٹھکیداروں کے ہاتھ میں تھا ۔ انہوں نے آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے 15,000 روپے کا مطالبہ کیا۔کرونیا دیوی کا کہنا ہے کہ اندھیرا پھیل رہا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ علاقے میں بجلی بھی غائب تھی۔ ہمارے پاس کوئی راستہ نہیں تھا اور آخری رسومات کی ادائیگی کے لیے رشوت دینی تھی۔گوکل نے کہا کہ وہ 15,000 روپے مانگ رہے تھے لیکن ہم نے انہیں چار ہزار روپوں پر راضی کر لیا۔
تصور کیجئے اس موقع پر کہ کرپشن کس طرح اس ملک کے ہر فرد کی نس نس میں رچ بس چکی ہے۔ یاد رکھیے بے شمار مسائل ہونے کے باوجود حل یہ نہیں ہے کہ اسے میں یا آپ صرف بیان کرتے رہیں۔ضرور ت اس بات کی ہے کہ موجودہ سیاسی پارٹیوں اور ان کے لیڈران سے ناطہ توڑ ا جائے جو اصلاح کا وعدہ پورا کرسکیں۔