پیپلزپارٹی کے ’’ پُراسرار‘‘ بندے
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- جمعرات 24 / دسمبر / 2015
- 6066
لاہور، سیاسی، ادبی، فکری اور علمی تحریکوں کا شہر ہے، اسی لئے یہاں جو محفلیں برپا ہوتی ہیں، ان کا اپنا ہی الگ رنگ ہوتاہے۔ دنیا کے بڑے شہر، لوگوں کے بڑے بننے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ بڑے شہروں میں رہنے والے لوگوں کا وژن بھی یقیناًبڑا ہوتا ہے اور ان کا اپنے شعبے میں کردار بھی بڑا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ بڑے شہر باکمال لوگوں کو پنپنے کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔
لاہور بھی پاکستان کا ایک ایسا شہر ہے جس نے بہت سے لوگوں کو بڑا بننے کے مواقع دئیے۔ یہاں جو لوگ اپنی بات یا مؤقف منوانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں ، پھر ان کامیاب لوگوں کی توتی پورے ملک میں بولنے لگتی ہے۔ لاہور کو یہ اعزاز آزادئ پاکستان سے پہلے بھی حاصل تھا اور اب بھی ہے۔ یہی شہر ہے جہاں سے ملک گیر سیاسی تحریکوں نے جنم لیا اور ان تحریکوں کے بطن سے بڑے بڑے سیاسی رہنماؤں نے۔ لیکن ہماری ہمعصر تاریخ کا ذکر ہوتو ان تحریکوں اور تحریکوں کے بطن سے جنم لینے والوں کے نام تو معروف ہیں لیکن ان تحریکوں کو اور رہنماؤں کو جنم دینے والے سیاسی کارکنوں سے ہماری سیاسی تاریخ نابلد ہے۔ لاہور میں، مَیں نے اپنی آنکھوں سے اپنے اردگرد ان سیاسی کارکنوں کو ان تحریکوں کا معمار بنتے دیکھا کہ جن کی جرأت اور تدبر سے سیاسی تغیرات تو کیا، سماج نے نئی کروٹیں لیں۔ پچھلی چار دہائیوں کے اس سفرِ زیست میں مجھے ایسے سینکڑوں سیاسی کارکنوں سے جدوجہد کے دوران واسطہ پڑا۔ آج ان میں سے چند ایک کا ذکر اس لئے سپردِ قلم کررہا ہوں کہ ایسی ہی جدوجہد کے ایک سیاسی کارکن خالد بٹ نے گزشتہ ہفتے اپنے ہاں میرے اعزاز میں ایک ظہرانے کا اہتمام کیا۔ خالد بٹ کا شمار پاکستان پیپلزپارٹی کے ان نظریاتی، ایمان دار، اصول پرست اور جرأت مند سیاسی کارکنوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی کے پلیٹ فارم سے ایسی تاریخ رقم کی جس کے اثرات ہماری جمہوری تاریخ پر انمٹ ہیں۔ یہ وہ کردار ہے جو سیاسی کارکن ادا کرتے ہیں لیکن تاریخ ان تاریخ سازوں کے نام سے نابلد ہی رہتی ہے۔ اس لئے کہ تاریخ کا پھل بھی انہی کے حصے میں آتا ہے جو شریک سفر ہی نہ تھے۔
خالد بٹ اندرون لاہور کے ایک محلے شاہ عالم میں رہنے والا ایک ایسا ساتھی ہے جو جمہوری اور لاہوری روایات کا امین ہے۔ میرا اس سے تعلق پاکستان پیپلز پارٹی کی جدوجہد کے زمانے سے قائم ہؤا، تب ہم سب لوگ جنرل ضیا کی آمریت کے خلاف، آئین کی بحالی اور لوگوں کے حقوق کے لئے جدوجہد میں دن رات ساتھ گزارتے ایک دوسرے کے ساتھی بنے تھے۔ سرگودھا میں جنم لینے والا یہ خاکسار اندرون لاہور کے ان ساتھیوں میں ایسا گھلاملا کہ اس پر لاہوری ثقافت کا رنگ پوری طرح چڑھ گیا۔ خالد بٹ اور راقم، پیپلزپارٹی کے بائیں بازو کے دھڑے جس کی قیادت بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید کرتے تھے، میں اہم ترین تھے۔ پیپلزپارٹی میں شیخ محمد رشید مرحوم ہی تھے جن کی دن رات محنت سے پیپلزپارٹی پنجاب میں مقبول ترین جماعت بنی۔ وہ پی پی پی پنجاب کے پہلے صدر تھے اور ان کا دفتر 4 اے مزنگ روڈ پر تھا۔ یہی وہ مقام تھا جہاں سے اس تحریک نے پورے پنجاب میں پی پی پی کو مقبول جماعت بنا ڈالا۔ گو پیپلزپارٹی کا تاسیسی اجلاس ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر 4Kگلبرگ میں ہؤا لیکن درحقیقت پی پی پی 4 اے مزنگ کے ایک چھوٹے سے دفتر میں جڑیں پکڑنے میں کامیاب ہوئی۔ بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید جو اپنی اوائل جوانی میں کسان تحریک کا ہراول دستہ بنے، انہی کے دم سے ذوالفقار علی بھٹو کو اپنی پارٹی میں تحریکی تجربہ حاصل ہؤا اور یہ پنجاب ہی تھا جس نے ذوالفقار علی بھٹو کو قائد عوام اور فخرِ ایشیا بننے کے مواقع فراہم کئے۔ 4 اے مزنگ روڈ پر خاک نشینوں کا دفتر اس عوامی تحریک کا مرکز تھا جس نے جنرل ایوب خان کی آمریت میں آخری کیل ٹھونکی اور ذوالفقار علی بھٹو کو مقبول ترین عوامی رہنما منوایا۔
جب پیپلزپارٹی پنجاب میں مقبول ترین جماعت بن کر ابھری تو اس میں دودھڑوں نے جنم لیا، ایک ملک غلام مصطفی کھر کا دھڑا جو زمینداروں اور بعد میں جاگیرداروں کا دھڑا بنا اور دوسرا دھڑا تھا بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید کا سوشلسٹ دھڑا جوکہ پنجاب کے درمیانے طبقات، مزدوروں اور کسانوں کا دھڑا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کبھی اس دھڑے بندی میں رکاوٹ نہیں بنے اور انہوں نے اس مقابلے میں برسرِپیکار لوگوں کو اپنی پارٹی میں ایک صحت مند رحجان کے طور پر تسلیم کیا۔ بلکہ انہوں نے شیخ رشید مرحوم کو پارٹی میں سب سے نمایاں مقام دیا۔ بابائے سوشلزم نے بھی تادمِ مرگ اپنی پارٹی سے وفا کی رسم نبھائی۔ خالدبٹ اس کارواں کے اہم رکن تھے جس نے پی پی پی کی سربلندی کا پرچم کبھی گرنے نہ دیا اور تاحال وہ پارٹی کے ساتھ مخلص اور اصول پسندی کی بنیادوں پر کاربند ہیں۔ خالد بٹ نے جب گزشتہ ہفتے اپنے ہاں پرانے سیاسی کارکنوں کو مدعو کیا تو میرے لئے ان بچے کھچے سیاسی کارکنوں سے ملاقات کا منفرد موقع تھا جن کی بغاوت سے آمرانہ ایوان لرزاں اور زنداں ان کی ہیبت سے دہل جاتے تھے۔ خالد بٹ نے قافلہ جدوجہد کے جن چنیدہ لوگوں کو اپنے ہاں مدعو کیا، ان میں عارف خان، مانی پہلوان، تیمورخان مغل، لیاقت شاہ، سہیل ملک، اسلم گل، اشرف اعجاز گل، حسن ایوب، میاں خالد سعید، محمد علی میر، توصیف امیر، چاچا مبارک علی، رشید ٹھیکے دار، یاسین فاروق، طارق بٹ کے علاوہ جناب میاں مصباح الرحمن اور ان کے صاحبزادے بھی شامل تھے۔
جناب میاں مصباح الرحمن، لاہور کی ان روایات کے امین ہیں جو مٹتی جا رہی ہیں۔ رواداری، ایمان داری، سادہ رہن سہن، وہ یقیناًاس پارٹی میں ایک قیمتی اضافہ ہیں۔ وہ لاہور کے روایتی خوشحال خاندانوں میں سے ایک سے تعلق رکھتے ہیں لیکن زندگی کے معاملات میں ان کے نزدیک غریب اور امیر میں کوئی فرق نہیں، احترامِ آدمیت ان کے خاندان کی روایات میں سرفہرست ہے۔ میں جب خالد بٹ کے ہاں پہنچا تو ایک لمبے عرصے کے بعد مجھے ان سیاسی کارکنوں سے ملنے کا نادر موقع ملا جو اب مٹتے جا رہے ہیں اور ان کی جگہ ’’ کارپوریٹ پولیٹکل ایکٹوسٹ ‘‘ لے رہے ہیں۔ وہیں مجھے ایک مکمل لاہوری ماحول دیکھنے کا موقع بھی ملا جوکہ اب نایاب ہوتا جارہا ہے۔ لاہوری لب ولہجہ، لاہوری چٹکلے، سیاسی لطیفے، دلچسپ سیاسی واقعات کا دلچسپ پس منظر اور جدوجہد کے دوران زندانوں کے واقعات۔
مخصوص لاہوری انداز اور لہجے میں، مانی پہلوان نے محفل کو اپنی گفتگو اور واقعات بیان کرکے ان محفلوں کی یاد تازہ کردی جو کبھی لاہور کے تھڑوں پر برپا ہوتی تھیں، جن میں راقم بھی ہرشام اور رات شریک ہوتا تھا۔ مانی پہلوان کی داستانوں کے تانے بانے، ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے سے لے کر محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری تک پھیلے ہوئے ہیں۔ جب افغانستان کے صدر سردار داؤد، لاہور آئے اور ذوالفقار علی بھٹو کے ہمراہ وہ واپس ائرپورٹ جا رہے تھے تو مانی پہلوان، افغانستان کا جھندا لہراتا ہؤا ان کی گاڑی کے آگے نعرے لگاتے اور بھنگڑا ڈالتے ہوئے آگیا۔ پولیس اور خفیہ والوں نے اسے دبوچ لیا اور ایسے گھونسے لگائے کہ مانی پہلوان کی آنکھوں کے سامنے تاریکی چھا گئی۔ اس لئے کہ مانی پہلوان ریلوے سٹیڈیم سے جو جھنڈا لے کر اپنے قائد ذوالفقار علی بھٹو کی گاڑی کے سامنے لہراتے ہوئے شاہراہ قائداعظم پر نمودار ہؤا، وہ افغانستان کا نہیں بلکہ بھارت کا جھنڈا تھا۔ وہ دونوں جھنڈوں میں فرق ہی نہ کرپایا۔ پولیس تھانے سے مرحوم شیر محمد بھٹی نے اسے چھڑوایا اور شام کو زخم خوردہ مانی پہلوان کو گورنر ہاؤس میں ذوالفقار علی بھٹو کے سامنے پیش کیا تو بھٹو صاحب نے مانی پہلوان ڈانٹا تو اس نے جواب دیا کہ اس ڈپٹی کمشنر کو ڈانٹیں اور اس پر گھونسے برسنے چاہیے تھے، مجھ جیسے اَن پڑھ پر کیا اعتراض، اس ڈپٹی کمشنر کو علم نہیں تھا کہ جو میرے جلوس کے سامنے کھڑا دیر تک اس جھنڈے کو دیکھتا رہا تھا۔ بھٹو صاحب نے پلاٹ کی آفر کی تو مانی نے کہا کہ نہیں آپ سے ملاقات سے بڑھ کر قیمتی کیا چیز ہوسکتی ہے ۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کے حوالے سے بھی ہنسا اور رلا دینے والے واقعات دہرائے گئے۔ یہ ایک خالص لاہوری محفل تھی، قہقہوں اور دل دہلا دینے والے واقعات سے بھرپور محفل۔ زندانوں میں آمریت کے ظلم کی کہانیاں۔ قیوم نظامی کے کوڑوں کی داستان اور کوٹ لکھپت جیل میں مقید سینکڑوں کارکنوں کے وہ لمحات جب وہ ذوالفقار علی بھٹو کو لاہور ہائی کورٹ میں مقدمے کی کارروائی کے لئے جاتے اورآتے دیکھنے کے لئے مرمٹے جاتے تھے۔ قلعے میں رونگٹے کھڑے کردینے والی داستانیں، کہ کیسے ان انگلیوں کے ناخن کھینچ لئے گئے جس سے ہمارے ایک ساتھی نے 1973ء کے آئین کی بحالی کے پمفلٹ تقسیم کئے تھے۔ خالد بٹ صاحب نے کیا محفل برپا کی کہ آنسو اور قہقہے باہم مل گئے۔ کھانے کا لطف اپنی جگہ مگر محفل کا جو لطف تھا اس کا سحر اب تک قائم ہے۔ خالد بٹ ان سیاسی کارکنوں کے ہراول دستے میں شامل رہے جنہوں نے 10اپریل 1986ء کو محترمہ بے نظیر بھٹو کی پاکستان آمد پر اپنے مخصوص پُرامن احتجاج کے ذریعے دنیا کی ایک سپرپاور کے سفارت کار کو مجبور کیا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو سے آخرِ شب ملے اور ملتے ہی اس نے پوچھا: "Who burnt the flags"
اس محفل میں جو شریک نہ تھے ان کا ذکر شامل رہا اور جو اس جہانِ فانی سے رخصت ہوچکے ان کی ناقابل یقین جدوجہد کا ذکر بھی ہؤا۔ کیا آج پیپلز پارٹی سمیت کوئی ایک بھی ایسی سیاسی جماعت ہے جو ان جیسے پُراسرار بندوں کو جنم دے رہی ہو جن کے ایک نعرے پر ایوان لرز جاتے اور حکمران بدل جاتے تھے، نظام الٹ جاتے تھے، تحریکیں جنم لے لیتی تھیں۔