تو کیا ہؤا !
ایک بچی ہی مر ی ہے ناں!
صرف دس ماہ کی۔ بسمہ۔
تو پھر یہ اتنا بڑا قومی نقصان کیونکر ہؤا کہ اس پر اتنا واویلا یا صدمے کا اظہار کیا جائے۔
اور وہ بھی اس صورت میں جبکہ ایک ’’ چھوٹے‘‘ نے اس بات کی وضاحت بھی کر دی ہے کہ قومی سطح پرکس کی زندگی کتنی قیمتی ہے۔
اب اگر بسمہ کی حیات اتنی ارزاں تھی تو اس میں کسی کا کیا قصور۔
ہاں لفظ ’’ قوم ‘‘ سے یاد آیا کہ مملکت خداداد میں مویشیوں کے اس بے ہنگم ریوڑ کو عام طور سے قوم کے لقب سے پکارا جاتا ہے جو اپنے تئیں انسان سمجھتے ہیں۔
اس کے پاس سرحدوں سے گھرا ایک خطہء زمین بھی ہے۔ قومی پرچم بھی۔ قومی ترانہ بھی، جس میں استقبال کی خوشخبری سنائی گئی ہے۔
جس کے احترام میں سب کھڑے ہو جاتے ہیں۔
لیکن جو بھوک ، افلاس، بیماری اور ناداری کے باعث اپنی ٹانگوں میں کھڑے ہونے کی سکت نہیں پاتے، وہ بیٹھے، یا زمین پر رینگتے رہتے ہیں۔
ان کی تعداد انیس کروڑ سے کچھ ہی اوپر ہو گی۔
سنتے ہیں یہ ملک ان سب کے لئے بنا تھا جو کبھی ایسے ہی زمین پر رینگتے تھے لیکن اٹھ کھڑے ہونا چاہتے تھے۔آزادی سے دوڑنا بھاگنا چاہتے تھے۔ چاند ستاروں کو چھونا چاہتے تھے۔ زندگی کو زندہ لوگوں کی طرح جینا چاہتے تھے۔
کیسے خوش فہم تھے۔ کیسے خوش فہم ابھی تک ہیں۔ اور نجانے کب تک رہیں گے۔
آپ نے فیس بک پر شاید وہ تصویر دیکھی ہو جس میں ایک غلیظ جوہڑ کے کنارے ، کچرے کے ڈھیر پر ، کھلے آسمان تلے جلتی دھوپ میں ، سمٹی سمٹائی اکڑوں بیٹھی معصوم بچیاں، اپنی جھولیوں میں پھٹی پرانی بوسیدہ کتابیں لئے رٹے لگا رہی ہیں۔
یا وہ تصویر جس میں ایک چڑیل نما استانی بچیوں سے پاؤں دبواتے اور موٹے ڈنڈے سے پیٹتے ہوئے ان سے سبق سن رہی ہے۔
یا شاید وہ تصویر بھی آپ نے دیکھی ہو جس میں حقے کے کش لگاتا ایک گنوار ’’ ماشٹر‘‘سامنے ننگی زمین پر بیٹھے بچوں کو جانے کیا پڑھا رہا ہے۔
جی ہاں ! یہ ہمارے سکول ہیں۔ ان بچوں کے لئے جن کی زندگیاں بسمہ کی طرح ارزاں ہیں۔
چاند ستاروں کو چھونے کی حسرت رکھنے والوں کو اڑسٹھ برس میں یہ آسمان ملے ہیں۔
اب اس پس منظر میں وہ تصویریں بھی دیکھیں ، جن میں تیس تیس قیمتی گاڑیوں اور سائرن بجاتی لاتعداد موٹر سائیکلوں اور پولیس وینوں کے جلو میں ان غلیظ جوہڑوں کے کنارے سڑتے بچوں کے خدام اعلیٰ و ادنیٰ سفر کرتے ہیں۔
اور ان کی گاڑیوں پر وہ چاند ستارے والے پرچم بھی لہراتے ہیں جنہیں چھونے کی حسرت میں یہ کیڑے مکوڑے نجانے کیوں زندہ ہیں۔
زندہ ہیں ؟؟
سوچنا پڑے گا !
چند ہفتے قبل ہمارے ایک دیندار مہربان ہم سے یہ بحث کر رہے تھے کہ حق حلال اور محنت کی کمائی کھانے والوں کے چہرے پر سکون اور نور ہوتا ہے۔ کرپٹ اور حرام خوروں کے چہروں پر پھٹکار برستی ہے۔
ہم نے دیہاڑی پر کام کرنے والے مزدور بھی دیکھے ہیں۔ بے زمین اور غریب ہاری بھی۔ اور چولستان میں سوکھتے ٹوبوں سے کیچڑ نچوڑ کر پانی پینے والے روہیلے بھی۔
یہ حق حلال کی کمائی کھاتے ہیں۔ اپنی محنت سے کہیں کم معاوضہ پا کر۔
ان کے بچوں کے تن پر نہ تو ڈھنگ کا کپڑا ہوتا ہے نہ پاؤں میں جوتی۔ دو وقت کی پیٹ بھر روٹی انہیں شاید ہی کبھی نصیب ہوتی ہو۔ ان کے مریض وسائل نہ ہونے کے سبب لا علاج ہی مر جاتے ہیں۔
ان سب کے چہرے نچڑے ہوئے اور زندگی کی حرارت سے محروم ہوتے ہیں۔ کوئی رونق ، کوئی لالی، کوئی نور کم از کم ہمیں تو ان حق حلال کی کھانے والوں کے چہرے پر دکھائی نہیں دیتا۔ ان پر تو حسرت اور بیچارگی کے سائے ہی لہراتے نظر آتے ہیں۔
پھرہم نے عوام کے خادم اور تھل تھل کرتے پیٹوں والے بھاری بھرکم مبلغین بھی دیکھے ہیں۔
ان کے ایکڑوں پر پھیلے پر آسائش’’ غریب خانوں ‘‘ کو بھی دیکھا ہے۔ بڑی بڑی بے آواز گاڑیوں میں سیریں اور خوش گپیاں کرتے ان کی ہٹی کٹی اولادوں کو بھی دیکھا ہے۔ خدمتگاروں کے جلو میں بے مقصد شاپنگ کرتے ان کے اہل خانہ کو بھی۔
ان سب کے چہرے تو زندگی کی حرارت سے دمکتے نظر آتے ہیں۔ ان پر لالی ہی لالی اور خون چھلکتا دکھائی دیتا ہے۔ جسم کی کھال تازہ اور شاداب۔ بالوں میں چمک۔ آنکھوں میں روشنی۔ چہروں پر مسرت اور سکون۔
اور یہی تو ہیں وہ ان داتا ،جن کی زندگیاں بسمہ سے زیادہ اہم بھی ہیں اور قیمتی بھی۔
لیکن دولت کے انباروں پر لوٹنیاں لگاتے یہ سب لٹیرے تو کرپٹ اور حرام خور ہیں۔
پھر ان کے چہروں پر اتنی رونق کیوں؟
اس کا جواب ہم اپنے دوست سے معلوم کریں گے۔
ممکن ہے اس کے جواب میں وہ ہمیں کوئی اور مذہبی دلیل دے کر مطمئن کر دے!!