بانئ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح

25 دسمبر قائد اعظم محمدعلی جناح کا 139 واں یوم پیدائش ہے۔ یہ دن قومی سطح پر منایا جاتا ہے۔اور اس دن عام تعطیل ہوتی ہے۔ زندہ قومیں ہمیشہ اپنے محسنوں کو یاد رکھتی ہیں۔اور ان کے نقشِ قدم پر چلتی ہیں۔ایسے لوگ دنیا میں بار بار پیدا نہیں ہوتے۔ہمیں ان کی قدرکرنی چاہئیے اور نعمتِ خدا وندی سمجھ کر قبول کرنا چاہئے۔ قائد اعظم 1876 میں اس روز وزیر مینشن کراچی میں پیدا ہوئے اور1948 میں کراچی میں ہی وفات پائی۔آپ ایک سچے دیانتدار، محنتی، قانون پسند اور مخلص انسان تھے۔ آپ آل انڈیا مسلم لیگ کے لیڈر اور پاکستان کے پہلے گورنر جنرل تھے۔

جناح کی قیادت میں ایک آئینی طریقہ پر مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ ریاست پاکستان کے نام سے حاصل کی گئی۔ہند وستان کی بیشتر مسلم تنظیمیں اور گروپ از قسمِ علمائے دیوبند، جمعیتِ علمائے ہند، جماعت اسلامی، مجلس احرار، خاکسار تحریک ان کے بھرپور مخالف رہے۔ صرف جماعت احمدیہ اس تحریک میں شامل رہی ۔۔1896 میں قائد نے انڈین نیشنل کانگرس میں شمولیت اختیار کی جو ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت تھی۔ 1913میں مسلم لیگ میں شامل ہوئے ۔ 1916 میں اس کے صدر منتخب ہوئے۔اس وقت تک آپ ہندو مسلم اتحاد کے حامی تھے۔ اس وقت برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے کیلئے ایک ہی پلیٹ فارم تھا۔ آپ نے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے لئے مشہور چودہ نکات پیش کئے پھر مسلما ن لیڈروں کے اختلافات کی وجہ سے آپ دل برداشتہ ہو کر انڈیا چھوڑ کر برطانیہ چلے گئے۔
قائد اعظم نے پہلی گول میز کانفرس کے بعد حالات سے سخت مایوس ہوکر انڈیا چھوڑا تھا۔ پھر کئی مسلمان لیڈروں کی کوششوں سے وہ واپس انڈیا آئے اور ہندوستان کی سیاست مہں بھر پور کردار ادا کیا۔ قائد کی بھرپور کوششوں کے باعث پاکستان 14اگست 1947 کو معرض وجود میں آیا۔

پاکستان کی پہلی کابینہ وزیر اعظم لیاقت علی خان کی سربراہی میں قائم ہوئی اور یہ مختصر وزارت تھی جن میں ابراہیم اسماعیل چندریگر، ملک غلام محمد، سردار عبدالرب نشتر، راجہ غضنفر علی خان، جگندر ناتھ منڈل، فضل الرحمان شامل تھے۔ پہلی نیشنل اسمبلی کے سپیکر جگن ناتھ چنے گئے۔ اس کے علاوہ دومسیحی فرقے سے تعلق رکھنے والی شخصیات سپریم کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر کارنیلینس اور فارن آفس میں ایس ایم برق کو نامزد کیا گیا ۔برق نے جب کسی وجہ سے اپنا استعفیٰ قائد اعظم کو پیش کیا تو آپ نے نا منظور فرمایا اور انہیں فارن آفس میں کام کرتے رہنے کی ہدایت کی۔

قائد اعظم نے بلا تفریق مشہور قانون دان اور سیاستدان چوہدری محمد ظفراللہ خان کو پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ بنایااوراس تحریک میں قائد اعظم نے ان سے بھرپور کام لیا ۔یہ ان کے قابل اعتماد ساتھی تھے ۔قائد اعظم آزادی کے بعدپاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے۔ اپنی انتھک محنت و کاوش کی وجہ سے جناح کو بابائے قوم کا خطاب دیا گیا۔ قائد اعظم نے دہلی میں تئیسویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلمان گروہوں اور فرقوں کی نہیں اپنے اندر اسلام اور قوم کی محبت پیدا کریں کیونکہ ان برائیوں نے مسلمانوں کو دو سوبرس سے کمزور کر رکھا ہے ۔ مزید برآں فرمایا کہ جس ملک کی آج ہم بنیاد رکھ رہے ہیں ، اس میں ذات پات ،نسل و مذہب کی بناء پر کسی سے امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا اور ہم سب ایک ریاست میں برابر کے شہری ہیں۔ 9 جون 1947 کو نئی دہلی کے امپریل ہوٹل میں آل انڈیا مسلم لیگ کے 425 مندوب قائد اعظم کا استقبال کرنے کے لئے جمع ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے جب قائد اعظم کو شہنشاہ پاکستان کہہ کر پکارا تو قائد اعظم نے اس کو نا پسند فرمایا اور کہا کہ اس کو ہر گز نہ دہرایا جائے: ’’ میں تو پاکستان کا سپاہی ہوں شہنشاہ نہیں‘‘ ۔ قائد کا جملہ آج کے حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔

آج قائد اعظم کے پاکستان میں تو بیس کروڑ لوگ رہتے ہیں اور کراچی دو کروڑ کی آبادی کا شہر ہے اور اس ملک سے فائدہ اٹھانے والے بہت ہیں۔ ایم کیو ایم بانیان پاکستان کی جماعت کہلاتی ہے۔ کئی مسلم لیگیوں موجود ہیں۔ جماعت اسلامی اور دیگر اسلامی جماعتیں قائد اعظم کو رحمۃاللہ علیہ کہتی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی روح پاکستان کے دعوے کرتی ہے۔ افسوس کے اس ملک میں قائد اعظم کے اصولوں پر کوئی عمل پیرا نہیں۔