ر یا ست نا کا م کیوں ہو تی ہے
- تحریر منور علی شاہد
- جمعہ 25 / دسمبر / 2015
- 7159
قا ئد ا عظم با نئ پا کستان نے 11 ا گست 1947 کو پہلی د ستو ر سا ز ا سمبلی میں جو خطا ب کیا تھا وہ مستقبل کی تما م حکو متو ں ، سیا سی جماعتو ں ا ور سیا ستد ا نو ں کے لئے مشعل راہ کی حثیت ر کھتا ہے۔ وہ انسا نی حقو ق کے چا رٹر اور ر یا ستی ذ مہ د ار یو ں کے حو ا لے سے ا یک منفر د خطا ب تھا ۔ آ غا ز سے لے کر آ خر تک ہر سطر کے ہر لفظ میں ا یک ا نتبا ہ، نصیحت ا ور ا یک ر یا ست کے فرا ئض و ذ مہ د ا ری کا ذ کر ملتا ہے۔
با نئ پا کستا ن کی یہ تا ر یخ سا ز تقر یر پا کستا نی سیا ست میں مذ ہبی آ زا دی کے حو ا لے سے ز یا دہ مشہور ہے۔ ا لفا ظ کچھ یو ں ہیں کہ ۔۔۔۔ تم آ ذا د ہو۔ تم آ ذا د ہو ا پنے مند ر میں جا نے کو، تم آ ذا د ہو ا پنی مسجد میں جا نے کو یا کسی اور جگہ یا عبا دت گا ہ میں ۔ ر یا ست پا کستا ن کے اند ر، آ پ کا تعلق خو ا ہ کسی بھی مذ ہب سے ہو، عقید ہ یا ذا ت یا نسل کچھ بھی ہو، ا س کا ریا ست کے معمولا ت سے کو ئی تعلق نہیں ۔۔۔ یہ ایک ا نتبا ہ بھی تھا اور ا یک نصیحت بھی ۔ د ورا ندیش ا ور زیرک سیا ستدان، د ا نشور جناح کی ا س بات کی سب سے پہلے نفی ذولفقارعلی بھٹو نے کی۔ جو نہ صرف ایک سیاستدان تھے بلکہ سب سے بڑ ی سیاسی جماعت کے لیڈر بھی تھے۔ ایک لیڈر اور سیاست دان کا فرق اسی دور میں واضح ہوگیا تھا ۔ بہت بہتر ہوتا اگرایسی اصلاحات کرنے کی بجائے بھٹو صاحب اقتدار ہی چھوڑ دیتے۔ کیونکہ ان اصلاحات کی بدنامی ملنے کے علاوہ عوامی لیڈر کو جان سے بھی ہاتھ دھونے پڑے۔ سب سے بڑا المیہ جو اسی دور میں رونما ہؤا وہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے ان جماعتوں کو مزید سیاسی طاقت دلوائی گئی جو قیام پاکستان کی ہی مخالفت تھیں۔ اس کے بعد ر ہی سہی کسر بد نام ز ما نہ ڈ کٹیٹر ضیا ا لحق نے پوری کر دی۔ آج ہما را جو حال ہے وہ سب کے سامنے ہے اور جو پوزیشن ہے اس سے سبھی واقف ہیں۔
اند رونی طور پر مذ ہب کے حو الے سے جاری قتل و غارت ، تکفیر اور دائرہ ا سلام سے ا خراج کے کارو بار نے و طن عز یز کو ایسی ر یا ست میں ڈھا ل د یا ہے جہا ں اب ریا ست کے تما م معمولا ت مذ ہب ا ور عقید ہ کی بینا د پر ہی چلا ئے جا تے ہیں۔ د عویٗ کیا جا تا ہے کہ پا کستا ن اسلام کے نا م پر بنا تھا۔ تو پھر تسلیم کر لینا چا ہے کہ اب ا سلام کے ہی نا م پر پا کستا ن کو ختم بھی کیا جا ر ہا ہے۔ موجو دہ حالات چیخ چیخ کر ا س امر کی نشا ند ہی کر رہے ہیں کہ ذوالفقارعلی بھٹو ا ور ضیا ا لحق کے مذ ہبی بنیاد پر کئے گئے تما م فیصلے غلط تھے۔ بانئ پا کستا ن کی بات کہ ر یا ست کا مذ ہبی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ، یہی حقیقت ہے۔ وقت نے آپ کی بات کی تصد یق بھی کردی ہے۔ حالات نے یہ بھی ثابت کردیا کہ بانئ قائد اعظم نے مستقبل کے بارے میں درست بھی باتیں کی تھیں۔ المیہ یہ ہے کہ ا بھی بھی سیاستدا نو ں اور سیا سی جماعتوں نے اپنی روش نہیں بد لی۔
مذہب ہر انسا ن کا ذا تی ہو تا ہے۔ ہر ریاست میں ہر مذہب کے لوگ ہو تے ہیں۔ اگر ہر ریا ست ہر کسی شخص کے عقید ہ ا ور مذ ہب کے با رے میں خو د ہی فیصلے کر نے لگے ا ور قا نو ن سا زی کر نے لگے تو پھر لازمی طو ر پر ہر طرف قتل و غارت ، بدامنی ا ور فتنہ و فسا د ہو گا ۔ گلی گلی محلہ محلہ نفرت اور انتقام کے الاؤ جلیں گے اور یہی ہو ریا ہے ۔ پاکستان کا کو ن سا ایسا صوبہ ہے جس کے بارے یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ وہاں امن کی بانسری بج رہی ہے۔ کڑوا سچ یہی ہے کہ ملک میں قبرستان آباد ہو رہے ہیں۔ اس وقت ا ن تمام ممالک میں جہاں جہاں مذہبی ریا ست کا تصور موجود ہے وہاں انسانیت دم توڑتی جا رہی ہے۔ یہ بات اب روز روشن کی طر ح سا منے آ چکی ہے کہ سیا ست ا ور مذ ہب دونوں ا یک دو سرے کے متضا د ہیں۔ ان دونوں کے ملا پ سے قتل و غارت ہوگی، عدم ا ستحکام پید ا ہو گا، نفرت میں ا ضا فہ ہو گا، جس کے بطن سے پھر غر بت اور بیر وزگاری جنم لے گی ۔ اس کا فائدہ مخالف قوتیں اٹھائیں گی۔ کیا یہ سب کچھ ہمارے اپنے ملک میں نہیں ہو رہا ہے۔
آج کی جد ید تر ین اور ترقی یا فتہ ا قو ام کی کا میا بی اور ترقی کا راز بھی و ہی اصول ہے جو با نئ پاکستان نے بیان کیا تھا۔ ہم نے اسے نظرا نداز کیا جبکہ دوسروں نے اپنا لیا۔ چین کی ترقی اور ہم سب کے سا منے ہے۔ اس وقت چین واحد ایسا ملک ہے جو پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہے اور اسلامی ممالک سے بڑھ کر غیر مشروط پاکستان کی مدد کر رہا ہے۔ چین کے بارے میں سب جانتے ہیں کہ وہ کمیونسٹ ملک ہے جہاں خدا کو بھی نہیں مانا جاتا۔ اور جو اسلامی ممالک مذہبی ٹھیکیدار ہیں وہ پاکستان کے اندر کیا کاشت کر رہے ہیں ۔ وہ بھی سب کے سامنے ہے۔ آج پوری قوم چیخ رہی ہے کہ پاکستان کو وہابی ازم سے بچایا جائے۔ پاکستان کی معاشی کمزوری کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا ہے۔
با نئ پاکستان نے ا پنی یادگار اور تاریخی تقر یر کے آ غا ز میں حکو مت و قت کی سب سے ا ہم اور اولین ذمہ داری امن و امان کے قیام کو قرار دیا تھا۔ تاکہ ز ند گی ، جا ئید ا د اور مذہبی عقا ئد کا بھر پور تحفظ ہو سکے۔ فلسفہ ہی یہ کہ اگر آپ کو اور آپ کے عقیدہ کو تحفظ حا صل ہے تو پھر آپ پوری صلا حیت کے سا تھ ملک قوم کی تر قی میں اپنا کر دا ر ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں تو اب اس پالیسی کی نفی کی گئی ہے لیکن یہی پالیسی آج امریکہ، کنیڈا، جرمنی اور دیگر ممالک میں ریاست کا بنیادی اصول ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال جرمنی کی دی جاسکتی ہے جہاں ایک ملین تارکین وطن کو جرمنی میں کھپانے کی سیاسی کوشش کی جا رہی ہے ۔بانی پا کستا ن نے اپنی تقر یر میں چند سما جی اور سوشل برائیوں کا بھی ذکر کیا ہے۔اور قو م کو متنبہ کیا تھا کہ ان سے بچنا ہے۔ ان میں اقراء پروری اور کرپشن شامل تھیں۔ لیکن صدقے جائیے ایسی قوم کے جو قائداعظم کی تصویر والے نوٹ کی ہی پوجا کرنے پر لگی ہوئی ہے ۔اسی نوٹ کی برکتوں سے سب ہی کرپشن کے ناقابل یقین ریکارڈ بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔پاکستان کے سیاستدان واحد ایسے محب وطن ہیں جو غیر ملکی بنکوں میں اپنا زرمبادلہ بڑھانے کے لئے سر دھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔پاکستان کی دولت سے دوسرے ممالک کی معاشی ترقی کو مضبوط کر رہے ہیں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ہے کہ کسی بھی ریاست کی کامیابی اور ناکامی اداروں کی کارکردگی کی مرہون منت ہوتی ہے۔ ہماری اپنی اہلیت کا یہ حال ہے کہ سترہ کروڑ عوام میں سے کوئی بھی اب تک نہ ریلوے کو ٹھیک کر سکا اور نہ ہی PIA کو۔اقراء پروری کو جس طرح پاکستان میں فروغ دیا گیا ہے اس کے بعد یقین جانئے کہ کسی دشمن کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔کالاباغ ڈیم کی مثال لے لیں۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کو ہی دیکھ لیں۔ ہماری وزارت اسلامی ملکوں کے34 ممالک کے فوجی اتحاد سے ہی لاعلم تھی سبحان اللہ۔ وزیردفاع خواجہ آصف کے بیانات پڑھ کر شناختی کارڈ کو آگ لگادینے کو دل کرتا ہے۔ اور اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کے کیاکہنے۔موجودہ اسمبلی کے یہ منورظریف ہیں جو رنگیلے باس کی دریافت ہیں۔
اقرباء پر وری کی لعنت ، ایک ایسی بیما ری ہے جو لازمی طور پر قوم کے تابو ت میں آخر ی کیل ثا بت ہو سکتی ہے۔ جب آپ اقربا پروری کرتے ہو ئے نا لا ئق لو گو ں کے ہا تھوں میں ادا روں کی با گ ڈور دے دیتے ہیں تو پھر ان اداروں کا ا نجام و ہی ہوتا ہے جیسا کہ ملک کے اندر پا کستان ریلو ے، سٹیل ملز، پی ائی اے اور دیگر ا دا روں کا ہؤا ہے۔ نا کام ریاست کا تصور بھی اسی سے جنم لیتا ہے۔آج پا کستان جس تیزی کے سا تھ زوال کا شکار ہو رہا ہے ا س کی و جہ بھی یہی ا قربا پر وری ہے۔ سب کچھ خود اپنے ہی ہا تھو ں سے بر باد کیا جا رہا ہے۔
بانئ پاکستان کی تقریر کو من و عن تعلیمی پا لیسی کے تحت سکو لوں، کالجوں اور یو نیو ر سٹیوں کے نصاب میں شا مل کر کے نئی نسل کو ان سنہری اصولوں سے روشناس کروا کے ہی ملک اور اس کے اداروں کو بچایا جا سکتا ہے۔