حکومت کی ریاست کش پالیساں
معیشت اور ریاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ سوویت یونین حالیہ سالوں کی ایک تازہ مثال ہے جس کے پاس ایک بہت بڑی فوج، افرادی قوت اور رقبہ تھا ۔ لیکن معاشی نظام کمزور ہؤا تو سوویت یونین دنیا کے نقشہ سے غائب ہو گیا۔ ہر ملک کے معاشی نظام کی مضبوطی و کمزوری کی اپنی اپنی وجوہات ہوتی ہیں۔ سوویت یونین کے معاشی نظام کی کمزوری کی سب سے بڑی وجہ اس کی توسیع پسندانہ پالیسیاں تھیں۔ جبکہ ہمارے معاشی نظام کی بگڑتی ہوئی صورت حال کی وجہ کرپشن ہے جو اس معاشرے کی ایک سیاسی قدر بنتی جا رہی ہے۔
دیانتداری ، سچائی ، صاف گوئی اور انصاف پسندی بلکہ حب وطنی کو بھی انسان کی کامیابی میں رکاوٹ تصور کیا جانے لگا ہے۔ یہ ایک خطرناک صورت حال ہے جس پر کوئی بھی محب وطن خاموش نہیں رہ سکتا۔ پاکستان اور آذاد کشمیر کے حکمران سال کا نصف حصہ یورپ میں گزارتے ہیں جہاں انہوں نے اس ملک کی غریب عوام کی لوٹی ہوئی رقم کے بل بوتے پر یورپ کے نوابوں سے بھی زیادہ پراپرٹی خریدی ہوئی ہے۔ پھر بھی برادری کے نام پر اپنی اپنی سیاسی پارٹیوں کی شاخیں قائم کرکے تارکین وطن کے اخراجات پر سیر سپاٹے کرتے ہیں۔ کتنے بھولے ہیں ہمارے تارکین وطن بار بار دھوکہ کھاتے ہیں لیکن پھر بھی برادری کی ناک کی خاطر استقبالی جھنڈیاں پکڑ کر ہوائی اڈوں پر کھڑے ہوتے ہیں۔ رہی سہی کسر پیری فقیری کے نام پر نکل جاتی ہے۔ حقیقی پیر اور ولی اﷲ قابل احترام ہیں ۔ لیکن آج اسلام کے نام پر کاروبار کرنے والوں کی اکثریت ہو گئی ہے۔ یہ لوگ علم پر کم اور مریدی پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ کیونکہ علم روشنی اور مریدی اندھی تقلید سکھاتی ہے۔ مفت تعلیم کے نام پر کروڑوں روپے تارکین وطن سے لئے جاتے ہیں مگر یہاں آ کر بھاری فیس وصول کی جاتی ہے۔
اسی طرح حکمران بھی تارکین وطن کو وطن آکر سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں لیکن جب کوئی حب الوطنی کے جذبے کے تحت یہاں آ کر سرمایہ کاری کرتا ہے تو سرکاری ادارے انہیں طرح طرح سے بلیک میل کرتے ہیں۔ ان کو کہا جاتا ہے کہ بیرون ملک سے لائی جانے والی رقم کا حساب دو۔ یورپ کے ترقی یافتہ ممالک اب بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کو شہریت کے عوض سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہیں، جبکہ ہمارے ملک میں اپنے ہی لوگوں سے پوچھا جاتا ہے بتاؤ یہ رقم تم نے بیرون ملک کس طرح کمائی ہے؟ برطانیہ کے راجہ محمد اعظم ایک تازہ مثال ہیں۔ کھوئیرٹہ میں قائم ہونے والے آذاد کشمیر کے سب سے بڑے ہسپتال اور عزیز ویلفئیر ٹرسٹ کے بانی سردار عزیز مرحوم کے بعد اس علاقہ کی دوسری بڑی شخصیت راجہ اعظم خان ہیں۔ ان کی سرمایہ کاری سینکڑوں بے روزگاروں کی روزی کا سبب بنے گی۔ انہوں نے تین سو طالبات کی مفت تعلیم کے لئے ایک وسیع و عریض عمارت وقف کر رکھی ہے ۔ وہ تحسین کے مستحق ہیں ۔ لیکن سرکاری ادارے انہیں ہراساں کر رہے ہیں جس کا واحد مقصد ٹیکس کے نام پر ان سے رقم بٹورنا ہے۔ صاحب حیثیت لوگوں سے ٹیکس ضرور وصول کرنا چائیے لیکن یہ ٹیکس آمدنی پر ہونا چائیے نہ کہ بیرون ملک سے ملک کے اندر سرمایہ لانے پر۔ ایسا دنیا کی کوئی بھی سنجیدہ حکومت نہیں کرتی۔ اس کی بجائے سرکاری اہلکار وں اور سیاستدانوں سے پوچھا جانا چائیے کہ وہ اس غریب ملک میں اپنی مالی حیثیت سے زیادہ کیسے زندگی گزار رہے ہیں۔
ترقی یافتہ قوموں کی ترقی کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ جس قوم کی ذہنی صحت درست نہ ہو، وہ ترقی نہیں کر سکتی۔ اور ذہنی صحت کے لئے ایک صحت مندانہ تعلیمی نظام کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جو قوم کو انسانیت اور تہذیب و تمدن سکھاتی ہے۔ ہر ملک کا تعلیمی نظام اس کی اپنی ضروریات، سیاسی، تاریخی اور دینی روایات کے مطابق ہوتا ہے۔ جو ملک صرف دوسروں کی نقالی کا عادی بن جائے اس کا اپنا کچھ نہیں رہتا۔ مجھے وطن واپس آئے آٹھ سال ہو گئے ہیں۔ واپسی پر مجھے حیرت ہوئی کہ آذاد کشمیر میں قومی تاریخ نہیں پڑھائی جاتی۔ حکومت کو نصاب میں قومی تاریخ شامل کرنے کی درخواست کی گئی تو جواب ملا کہ اس کے لئے حکومت کے پاس وسائل اور ماہرین نہیں ہیں۔ یہ جواب قوم کی توہیں کے مترادف تھا۔ میں نے کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کے قیام کے لئے ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی۔ حکومت آزاد کشمیر نے اس کی مخالفت کرکے اپنا مذاق اڑایا۔ ہائی کورٹ نے کشمیر ٹیکسٹ بک بورڈ کے قیام کے لیے رٹ منظور کی، تو میں نے اس وقت کے وزیر تعلیم اور ڈائریکٹر نصاب سے ملاقات کی۔ دونوں کو علم نہیں تھا کہ ہمارے نصاب میں کون کون سی کتب شامل ہیں۔ ہر پرائیویٹ تعلیمی ادارہ من پسند نصاب پڑھا رہا ہے۔ حکومت اپنا نصاب تیار کرانے کی بجائے غیر ملکی اور غیر اسلامی کتابوں کی مزید کاپیاں چھپوا کر فروخت کر رہی ہے ۔ ان کتابوں کا مواد بچے تو دور کی بات ہے اساتذہ کی سمجھ سے بھی باہرہے ۔ کیونکہ یہ دوسرے معاشروں کی ضروریات کے مطابق تیار شدہ ہے۔
انسان کی سوچ معاشرے کی کھوکھ سے جنم لیتی ہے لیکن ہمارے ملک کے بچوں پر غیر ملکی نصاب ٹھونس کر انکی فہم و فراست ، تحقیقی سوچ اور اپنی قومی تاریخ سے واقفیت کے دروازے بند کر دئے گئے ہیں۔ محمد مطلوب انقلابی کے وزیر تعلیم بننے پر بہت سارے لوگوں نے یہ توقع کی تھی کہ وہ تعلیمی نظام میں بہتری لائیں گے مگر لوگوں کو مایوسی ہوئی ہے۔ تعلیمی نظام کے اندر سیاست زیادہ اور پروفیشنل ازم کم ہوتا جا رہا ہے۔ لوگوں کی شکایات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ یہ مقام حیرت و افسوس ہے کہ مطلوب انقلابی جیسے تعلیم یافتہ وزیر تعلیم کو بھی قومی نصاب کا علم نہیں اور نہ ہی ابھی تک انہوں نے اس بارے میں معلومات حاصل کرنے میں کوئی خاص دلچسپی دکھائی ہے۔ کوئی بھی وزیر اپنے محکموں میں اپنی برادری اور پارٹی کارکنان کی بھرتیوں اور ذاتی پروٹوکول کے علاوہ کسی بات میں دلچسپی نہیں رکھتا۔ سیاسی پارٹیوں میں صرف نام کا فرق رہ گیا ہے، کام سب کے غیر تعمیری اور تخریبی ہیں۔ عوام میں یہ سوچ اور شعور ختم ہو گیا ہے کہ یہ ریاست ان کی ہے اور سیاستدان ان کے ووٹوں کے بل بوتے پر سیاسی طاقت حاصل کر کے انہی کا استحصال کر رہے ہیں۔ ان حالات میں معاشرے کے گنےچنے باشعور افراد کا کام مزید مشکل ہو گیا ہے۔ لیکن اصلاح احوال کے لئے جد و جہد تیز کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں۔
اصلاح کے لئے سب سے بڑا کردار عالم کا ہوتا ہے۔ پھر لسانی اور قلمی جہاد پر یقین رکھنے والے رول ادا کرتے ہیں۔ اگر آج اہل علم اور اہل قلم نے اپنا کردار ادا نہ کیا تو اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی سب سے زیادہ کڑا حساب انہی کا ہو گا جو سمجھ بوجھ رکھنے کے باوجود غلط فیصلے رہے تھے۔