میڈیا میں احساس ذمہ داری کی ضرورت

تازہ خبر کے مطابق مہاراشٹر کے انسداد دہشت گردی اسکواڈ نے حیدر آباد سے تعلق رکھنے والے تین نوجوانوں کو گرفتار کیا ہے۔ خبروں کے مطابق وہ داعش میں شمولیت کے لئے ہندوستان چھوڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ 16 دسمبر کو دہلی پولیس کے اسپیشل سیل نے القاعدہ کے برصغیر کے مبینہ بانی اور انڈیا چیف کو دہلی میں گرفتار کیا ۔گرفتار شدہ شخص کے بھائی صادق کا کہنا ہے کہ خبریں بتا رہی ہیں کہ ہم گھر چھوڑ کر بھاگ گئے ہیں۔جبکہ ہم کہاں بھاگے ہیں؟ ہم تو یہیں ہیں۔

اس شخص نے اپنے حالات کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر کہتے ہیں ایڈز چھونے یا ساتھ بیٹھنے سے نہیں پھیلتا ہے،لیکن جیسے ہی پتہ چلتا ہے کہ فلاں شخص ایڈز کا مریض ہے ، لوگ ملنے سے گھبراتے ہیں۔ اس کے برعکس ہمارا معاملہ تو ایڈز سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ہم جس کے پاس جاتے ہیں، وہ عجیب سی نظروں سے دیکھتا ہے۔اب آپ ہی بتائیے کہ ہم کیا کریں۔ہمارے پاس تو کیس لڑنے کے لئے پیسے بھی نہیں ہیں۔ہم تو روز کنواں کھودتے ہیں اور پانی پیتے ہیں۔ ہمارے پاس تو دہلی جانے کے لیے پیسے بھی نہیں ہیں۔اس سے قبل میڈیا کی رپورٹنگ سے ناراض ہو کر صادق نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر آپ لوگ(میڈیا والے) اتنی نفرت کہاں سے لاتے ہیں؟کیا صرف الزام لگنے سے کوئی مجرم ہو جاتا ہے؟مجرم تو کوئی اس وقت ہوتا ہے جبکہ عدالت ثابت کر دیتی ہے۔لیکن آپ اس سے پہلے ہی اسے دہشت گرد اور نہ جانے کن کن الفاظ سے نوازنا شروع کردیتے ہیں۔

آپ جانتے ہیں جب سے القاعدہ سے وابستگی کے شک کی بنا پر وطن عزیز میں لوگوں کی پکڑ دھکڑ شروع ہوئی ہے، تب ہی سے انڈین مجاہدین کے نام پر پکڑ دھکڑ کا سلسلہ رک گیا ہے۔ممکن ہے جو لوگ پہلے انڈین مجاہدین کے ذریعہ دہشت گردی پھیلانے کی کوشش کرتے تھے، وہ اب القاعدہ کے نام سے دہشت گردی میں ملوث ہورہے ہوں۔ البتہ حکومت یہ بتانے میں ناکام رہی ہے کہ انڈین مجاہدین نامی تنظیم کا ہیڈ کوارٹر کہاں ہے۔ اور اسے کون لوگ چلا رہے ہیں۔ اس کا بانی کون ہے۔ وغیرہ۔لیکن چونکہ اب داعش اور القاعدہ کے نام پر پکڑ دھکڑ کا سلسلہ جاری ہے لہذا انڈین مجاہدین نامی تنظیم اور اس سے وابستہ افراداور ان کی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں شاید رکاوٹ آ گئی ہے۔یا وہی مقاصد اب القاعدہ اور داعش کے نام سے حاصل کئے جا رہے ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ شک کی بنا پر گرفتار ہونے والے اکثر لوگ عدالتوں سے باعزت بری ہو جاتے ہیں۔ کیوں کہ عائد شدہ الزامات کمزور ثابت ہوتے ہیں ۔ لیکن باعزت بری ہونے کے باوجود طویل مدت جیل میں زندگی گزارنے کے سبب یہ افراد اور ان سے وابستہ اہل خانہ و رشتہ داران مالی اور نفسیاتی پریشانیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔یہاں تک کہ سماج میں ایک باعزت زندگی گزارنا بھی ان کے لیے محال ہو جاتا ہے۔اس لئے جہاں حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان لوگوں ہی کو پکڑے جن کے خلاف ٹھوس ثبوت ہوں، وہیں میڈیا کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ گرفتار شدہ لوگوں کے لئے دہشت گرد کا لفظ استعمال کرتے ہوئے احتیاط سے کام لیں۔ میڈیا کو نہ متعصب ہونا چاہیے، اور نہ ہی یک طرفہ اور جانب دار ۔

میڈیا کی موجودہ صورتحال پرنظر ڈالی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ آج کا میڈیا پوری طرح کارپوریٹ مفادات میں جکڑا ہؤا ہے۔ یعنی سارا کھیل منافع کمانے کا ہے۔ میڈیا مالکان اور کارپوریٹ سیکٹر صرف کی جانے والی دولت کا بھر پور منافع حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس دوڑ میں میڈیا کے لئے ٹی آر پی بڑھانا ایک طرح کی مجبوری ہے۔یہ ٹی آرپی ہی کسی چینل کو منافع بخش یا ناکام بناتی ہے۔ان دو صورتوں میں بخوبی سمجھا جا سکتا کہ آج کے میڈیا میں آنے والی خبریں،کس نوعیت کی ہوسکتی ہیں۔ انہیں اس بات کی کیا فکر ہو سکتی ہے کہ جو چیزیں'خبروں'کے نام پر پیش کی جا رہی ہیں، وہ غلط ہیںیا صحیح؟ صورتحال کے پس منظر میں دیکھا جائے تو درحقیقت میڈیا میں آنے والی بیشتر خبریں غیر معتبر و بے مقصدنظر آتی ہیں۔ ان خبروں کا غیر معتبرہونا، نیوز چینلز، پرنٹ و سوشل میڈیا اور ان سے وابستہ صحافیوں کی غیر جانبداری اور صلاحیت پر بھی سوالیہ نشان ہے۔ اس کے باوجود آج بھی میڈیا میں ایسے حضرات موجود ہیں جو سچائی کو ہر ممکن طریقہ سے جاننے کو شش کرتے ہیں۔ خبر کو خبر کی حد تک محدود رکھتے ہیں،میڈیا میں دولت کی فراوانی اور اس کے بے جا استعمال سے خود کو بچاتے ہیں،کسی مخصوص نظریہ اور فکر کے حاملین کی حمایت و مخالفت اس حد تک نہیں کرتے کہ انہیں جانب دار کہا جائے۔یہی وہ حضرات ہیں جن کے دم سے مخصوص چینلز ، اخبارات و پورٹلز اپنی پہچان بناتے ہیں۔ اس فیلڈ میں چوں کہ ہر فکر و نظریہ کے حاملین اپنے اثرات مرتب کرنے میں کوشاں ہیں اس لئے غیر جانب دار صحافیوں کی تعداد دن بہ دن کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ضروری ہے۔

اس مقصد کے لئے اہم ترین کام افراد سازی ہے۔میڈیا میں ایسے سچے ،دیانت داراور انسانیت سے ہمدردی رکھنے والے حضرات کو لانے کی ضرورت ہے جو عوام کے مسائل کو جرات وشجاعت کے ساتھ حکومت کے سامنے رکھنے کا حوصلہ رکھتے ہوں۔لیکن پہلی شرط یہ ہے کہ یہ افراد غیر جانب دار ہوں۔ کسی بھی فکر سے اس حد تک متا ثر نہ ہوں کہ اس کی خرابیوں کو بھی بطور خوبی پیش کریں۔کیونکہ ایسی خود ساختہ خوبیاں دیر پا نہیں ہوتیں۔ مختلف لوگ ،انجمنیں اور تنظیمیں اپنے اخبارات و رسائل اور چینلز جاری کئے ہوئے ہیں۔ تاہم اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ایسے اداروں کے ساتھ پروفیشنل لوگوں کو وابستہ کیا جائے۔ افراد سازی کے عمل سے گزرتے ہوئے جو اثرات مرتب ہوں گے وہ دیر پا،دور رس اور سود مند ہوں گے۔

یہ بات بھی اہم ہے کہ دولت کمانے کی دوڑ کے زمانے میں عملی کوششوں کے زریعے رویوں اور ٹرینڈ کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اس میدان میں آنے کا مقصد صرف دولت کا حصول نہ ہو، بلکہ اس میدان میں آنے والے اپنے مقصد اور نصب العین سے باخبر ہوں۔