کرپشن کا ریس کیمپ
ہمارے سیاستدان آئے روز یہ بیان دہراتے رہتے ہیں کہ ایک تعلیم یافتہ قوم ہی ترقی کر سکتی ہے۔ بات تو یہ درست ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ہماری حکومتوں نے اپنی قوم کو ایسا تعلیمی نظام دیا ہے جو ترقی کی راہ ہموار کر سکتا ہے ۔ آذاد کشمیر کے موجودہ جمہوری نظام کی ابتدا سن پچاسی میں ہوئی۔ اس کے پہلے وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان تھے۔ انکا تعلق مسلم کانفرنس سے تھا جو طویل مدت اقتدار میں رہی۔ اس کے بیشتر رہنما اب مسلم لیگ ن میں شامل ہو گئے ہیں۔ مسلم کانفرنس نے اقتدار میں آتے ہی میرٹ کا قتل شروع کیا۔ کوئی نوجوان خواہ کتنا ہی تعلیم یافتہ تھا اسے نوکری تعلیمی صلاحیت و قابلیت کے بجائے سیاسی وابستگی کی بنیاد پر ملنے لگی ۔
اس سے قبل فوجی حکومت تھی یا کوئی اور سیٹ اپ، دوسرے قومی اداروں کی طرح محکمہ تعلیم میرٹ کی بنیاد پر ملازمین بھرتی کیا کرتا تھا۔ سن پچاسی کے بعد جو بھی حکومت آئی اس نے پہلی حکومت سے زیادہ محکمہ تعلیم میں مداخلت کی۔ سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں کا رواج دن بدن زورپکڑتا گیا۔ یوں محکمہ تعلیم کے اندر ایسے افسران کی کھیپ تیار ہوئی جن کے اندر میرٹ کی بنیاد پر محکمانہ و آزادانہ فیصلوں کا تصور ہی ختم ہو گیا۔ وہ خود بھی اپنا زیادہ تر وقت اپنے محکمے کو دینے کے بجائے وزیروں کو دیتے ہیں اور ان کے پاس جو بھی نوجوان نوکری کے لیے جائے اس سے پوچھا جاتا ہے کہ اس کا تعلق کس سیاسی پارٹی سے ہے۔ افسران دوران ڈیوٹی اکثر وزیروں کے ساتھ گھومتے نظر آتے ہیں۔ تعلیم یافتہ نوجوان بھی یا تو وزیروں کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے چکر میں لگے رہتے ہیں یا پھر اس نظام سے تنگ آکر بیرو ن ملک کا رخ کرتے ہیں۔ اس طرح قوم تعلیم یافتہ نوجوانوں سے محروم ہو رہی ہے۔ اس طرح ترقی کے دروازے کھلنے کے بجائے بند ہوتے جا رہے ہیں۔ تارکین وطن نے بیرون ملک خاص کر یورپ جو مذہب ، زبان، معاشرت، سیاست اور رنگ و نسل کے لحاظ سے مختلف ہے وہاں مواقع پانے پراعلی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ مگر اپنے آبائی وطن میں وہی لوگ بے بسی کی تصویر بنے رہتے ہیں۔
جمہوریت کے روپ میں ہماری عوامی آمریت نے دو اور بڑے جرم کئے ہیں۔ ایک یہ کہ بلدیاتی نظام کا خاتمہ کر کے تمام تر اختیارات وزیروں کو منتقل کردئیے ہیں۔ اس کی وجہ سے عام شہری کے لئے حکومت کوسوں میل دور ہو گئی ہے۔ وزیروں تک صرف صاحب ثروت اور سیاسی ٹھیکداروں کی ہی رسائی ممکن ہے۔ اس طرح ایک اعلی تعلیم یافتہ نوجوان کو ایک میٹرک فیل سیاسی ٹھیکدار کی سفارش کی بھیگ مانگنی پڑتی ہے۔ ا پارلیمانی امیدوار کو پارٹی خدمات کے بجائے پیسے کی بنیاد پر ٹکٹ دیا جاتا ہے اور کہا یہ جاتا ہے کہ الیکشن کے لئے پارٹی کو پیسہ چائیے۔ جو لوگ صلاحیت اور خدمات کے باوجود دولت مند نہیں ہوتے ، وہ الیکشن لڑنے کاخواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔ اس طرح اقتدار میں آنے والے ناتجربہ کار اور نااہل لوگ ہوتے ہیں۔ یہ لوگ اقتدار میں آنے کے بعد سب سے پہلا کام الیکشن پر خرچ کیا گیا پیسہ پورا کرنے کو کوشش کرتے ہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کے لئے مختص رقم کا بڑا حصہ وزیر خود کھا جاتے ہیں۔ وزیروں کے ذریعے ملنے والی ملازمتیں بظاہر ٹیسٹ انٹرویو کے بعد دی جاتی ہیں لیکن اندرون خانہ نوکریاں خریدی جاتی ہیں کیونکہ وزارتیں بھی خریدی جاتی ہیں۔
اس صورت حال میں تعمیر و ترقی کے اکثر منصوبے نامکمل رہتے ہیں۔ کوئی احتساب کرنے والا نہیں کیونکہ احتساب بیورو کے سارے ملازمین بھی سفارش کی پیداوار ہوتے ہیں۔ اس طرح احتساب بیورو کے احتساب کے لئے بھی ایک اور ادارے کی ضرورت ہے۔ بنیادی طور پر آذاد کشمیر تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ تھا ۔لیکن آہستہ آہستہ یہ اقتدار کا ریس کیمپ بن گیا ۔ سن چھیاسی میں تحریک آزادی کشمیر کو اندرون و بیرون ملک تقویت دینے کے لئے کشمیر لبریشن سیل قائم کیا گیا تھا۔ اس کے اخراجات پورے کرنے کے لئے ہر ملازم کی تنخواہ سے پانچ فی صد کٹوتی کی جاتی ہے۔ لیکن لبریشن سیل میں ایسے جیالے اور متوالے بھرتی کئے جاتے ہیں جن کو کشمیر کے تاریخ و جغرافیہ تک کا علم تک نہیں۔ وزرا تحر یک آزادی کے نام پر بیرون ملک ذاتی دوروں کے لیے لبریشن سیل کے فنڈ سے رقم نکلوا کر سیر سپاٹے کے لئے جاتے ہیں۔ جبکہ غریبوں کے لئے قائم ذکوۃ فنڈ سے زیادہ ترصاحب اقتدار بیرون ملک علاج کے لئے رقوم نکلواتے ہیں۔ ذکوۃ فنڈ سے بیرون ملک علاج کروانے کے بہانے رقم نکلوانے والوں میں سابق صدر و وزیر اعظم سردار عبدالقیوم خان، مرحوم سردار سکندر حیات خان سمیت ایسے نوجوان وزیر بھی شامل ہیں جنہیں اب تک کوئی بیماری نہیں ہے۔ حال ہی میں آزاد کشمیر کے ارب پتی صدر الحاج سردار محمد یعقوب خان نے اپنے بیٹے کی آنکھ کا معمولی سا اپریشن جرمنی سے کروایا جو پاکستان میں چند ہزار میں ہو سکتا تھا۔ لیکن جرمنی جانے کے لئے چھپن لاکھ روپے سرکاری فنڈ سے نکلوائے گے۔بہت شور و غل ہوا مگر عدلیہ اور احتساب بیورو کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ اور رینگے بھی کیسے، اس حمام میں سب ننگے ہیں۔
اس نام نہاد جمہوریت سے پہلے قبیلہ پروری تو ضرور تھی مگر قبیلہ پرستی نہیں تھی۔ سیاستدانوں کام عوام میں اتحاد و اتفاق پیدا کر کے سو سائٹی کو مضبوط کرنا ہوتا ہے لیکن جھوٹی جمہوریت کے دعویداروں نے برادریوں اور قبیلوں کے درمیان تعصب اور ٹکراؤ کی کیفیت پیدا کر کے معاشرے کی جڑوں کو کمزور کیا ہے۔ ان حالات میں تبدیلی کا صرف ایک ہی طریقہ رہ گیا ہے اور وہ یہ کہ تعلیم یافتہ نوجوان اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وزیروں کی آشیر باد حاصل کرنے کے بجائے اس استحصالی نظام کے خلاف متحد ہو جائیں ۔ ورنہ اس ظالمانہ نظام کی جڑیں مزید مضبوط ہو تی چلی جائیں گی۔