یورپ میں پاکستانی تارکین وطن کی حالت زار
- تحریر منور علی شاہد
- منگل 29 / دسمبر / 2015
- 5369
اگر2015 کے سال کو انسانی المیوں اور بدترین سانحات کا سال قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔ یہ سال تاریخ انسانی میں ایک المناک سال کے طور پر یاد رکھا جائیگا۔ اسلامی ممالک میں کئی سالوں سے جاری لڑائی میں بڑی طاقتوں کی مداخلت سے اس سال یہ جنگ اپنے عروج پر پہنچ گئی۔ اس کے نتیجہ میں بے گناہ انسانی خون کی ندیاں بہنے لگیں۔ اکیسویں صدی کا انسان بھی وحشی ہو گیا۔ ایک طرف ان جنگوں اورلڑائیوں کے نتیجہ میں لاکھوں لوگ بے گھر ہو کر کیمپوں میں مقیم ہوئے تو دوسری لاکھوں کی تعداد میں لٹے پٹے تارکین وطن یورپ کی طرف طویل پیدل اور سمندری سفر نے بھی دلخراش کہانیوں کو جنم دیا ۔ انہی میں تین سالہ شامی بچے ایلان کردی شامل تھا جس کی سمندر کنارے ملنے والی لاش نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔کشتیوں کی کشتیاں جس میں عورتیں بچے بوڑھے اور جوان شامل تھے۔ سب امیدوں اور تمناؤں کے ساتھ سمندرمیں ڈوبتی رہیں۔ان لوگوں میں شام، عراق، ایریٹیریا اور افغانستان کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی بھی شامل تھے ۔ یہ لوگ خطرناک راستوں اور طریقوں سے موت سے بچ کر یورپ پہنچے ہیں۔
اس وقت ہزاروں کی تعداد میں پاکستانی یورپ کے مختلف ممالک میں اہل خانہ سے دور ایک مشکل زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایک واقعہ حال ہی میں منظر عام پر آیا جس کے مطابق پنجاب پولیس کے ایک ہیڈ کانسٹیبل کو جرمنی کے شہر میونخ سے حال ہی میں نکال دیا گیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گجرات سے تعلق رکھنے والے احسان اللہ نے جو پنجاب کے محکمہ پولیس کا ملازم ہے ، کچھ عرصہ قبل فیس بک کے ذریعے ایک جرمن عورت سے دوستی کی اور اسے پاکستان بلا کر اس سے شادی کر لی۔ 2012 میں اس نے جرمنی کے ویزے کے لئے درخواست دی تھی جو مسترد ہو گئی تھی۔ جب احسان اللہ پناہ گزینوں کے کیمپ میں پہنچا اور اس کے فنگر پرنٹس لئے گئے تو سارا ریکارڈ سامنے آگیا۔ پولیس نے اس کو گرفتار کر لیا اور اگلے دن واپس آسٹریا بھجوا دیا۔ ایک رپورٹ کے مطابق اس وقت یورپ میں صرف گزشتہ دس ماہ میں بتیس ہزار پاکستانیوں نے پناہ کی درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ ان میں تیس ہزار مرد اور ب سولہ سو خواتین ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے ان میں وہ پاکستانی شامل نہیں ہیں جو یورپین ممالک میں تو پہنچ چکے ہیں لیکن ابھی تک پناہ کی درخواست نہیں دی۔ یورپین یونین کے ادارے شماریات یوروسٹیٹ کے مطابق اسی سال جنوری میں اٹھارہ سو پاکستانیوں نے پناہ کی درخواستیں دیں تھیں جب کہ اگست میں یہ تعداد بڑھ کر سات ہزار ہو چکی تھی ۔ادارے کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ دسمبر2014 سے لے کر ستمبر2015 کے عرصہ کے دوران پاکستانی شہریوں کی طرف سے سب سے زیادہ درخواستیں ہنگری میں جمع کرائی گئیں تھیں جن کی تعداد تیرہ ہزار سے زائد ہے۔ اس کی وجہ ہنگری کے معاشی یا سیاسی خوشحالی نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہنگری کے راستے ہی تارکین یورپ میں داخل ہو سکتے ہیں۔ اسی لئے اس سال جب تارکین وطن کی آمد کاسلسلہ عروج پر تھا تب ہنگری کی حکومت نے ان تارکین وطن کے خلاف سخت اقدامات بھی کئے تھے ۔ جرمنی دوسرا بڑا ملک ہے جہاں پاکستانی شہریوں نے پناہ کے لئے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ ان کی تعداد دس ماہ میں ساڑھے پانچ ہزار کے قریب ہے۔ اٹلی میں چا ہزار سے زائد پاکستانی پناہ کے لئے درخواستیں جمع کرا چکے ہیں ۔
یورو سٹیٹ کی رپورٹ کے مطابق انگلینڈ، آسٹریا، فرانس اور یونان میں بھی پناہ گزین پاکستانیوں کی تعداد چار ہزار سے زائد ہے جو اچھے اور خوشحال دنوں کی امید لگائے دیار غیر میں بیٹھے ہیں۔ یوروسٹیٹ کی تفصیلی رپورٹ جس میں پناہ گزینوں کی عمروں کے حساب سے بھی ریکارڈ کو تیار کیا گیا ہے۔ جس میں اس بات کا مشاہدہ کیا گیا کہ کون سی عمر کے مردو خواتین یورپین ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔ ان اعداد وشمار کے مطابق رجسٹرڈ بتیس ہزار درخواستوں میں ساڑھے چوبیس ہزار سے زائد پاکستانی پناہ گزینوں کی عمریں اٹھارہ اور چونتیس سال کے درمیان ہیں۔ ان میں ایک ہزار بچے بھی شامل ہیں، جن کی عمریں چودہ برس سے کم ہیں۔جبکہ 65سال سے زائد عمر کے درخواست کنندگان کی تعداد 70ہے۔جیسا کہ پہلے بیان کیا چکا ہے کہ یورپ میں جرمنی دوسرا بڑا ملک ہے جہاں پاکستانی پناہ کے لئے درخواستیں دے رہے ہیں۔ جرمن وفاقی ادارے برائے تارکین وطن و مہاجرین کی سال2015 کی پہلی ششماہی کی رپورٹ کے مطابق1600خواتین نے پناہ کی درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ ان میں630 خواتین کی عمریں اٹھارہ اور چونتیس برس کے درمیان ہیں ۔ یہاں اس امر کا اظہار کرنا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا کہ اسی عرصہ کے درمیان پاکستان کے ہمسایہ ممالک بھارت سے محض3290 اور ایران سے دس ہزار افراد نے پناہ کے لئے درخواستیں جمع کرائیں۔ جبکہ بنگلہ دیش سے آنے والوں کی تعداد ساڑھے ہزار کے قریب ہے۔
تارکین وطن کی زندگی میں کس قدر دکھ، غم اور محرومی ہوتی ہے کا اس کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ لوگ کسی غمی و خوشی میں شامل نہیں ہو سکتے۔ میرے مشاہدے میں ایسے پاکستانی بھی آئے ہیں جن کو یورپ میں آنے کے کچھ ہی عرصہ بعد زار زار روتے دیکھا اور یہ کہتے سنا کہ اگر ہمیں اس درد اور دکھ کا اندازہ ہوتا تو کبھی اپنے ملک سے نہ نکلتے ۔ اس سال شام و عراق کے بحران نے ان کی امیدوں کے راستوں پر بھی نئی رکاوٹیں کھڑی کردی ہیں۔ جرمنی میں اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کے ترجمان نے اپنے ایک حالیہ بیان میں کہا ہے کہ یورپ میں پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے کے لئے غیر مستحق افراد کی ملک بدری لازمی ہے۔ ایسے ہزاروں افغان اور پاکستانی پناہ گزینوں کو وطن واپس جانا پڑے گا۔ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران پاکستانی تارکین وطن کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں یو این ایچ سی آر کے نمائندہ نے کہا کہ پاکستان کے لئے پروٹیکشن ریٹ تو انتہائی نیچا ہے جبکہ افغانستان کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پروٹیکش کوڈ کے تحت تیس تا چالیس فیصد افغانیوں کی درخواستیں منظور ہو سکتی ہیں۔یو این ایچ سی آر کے نمائندہ نے مزید کہا کہ ہمارے ادارے کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی پناہ کے لئے ان افراد یا پناہ گزینوں کی کی شناخت کی جائے جنہیں حقیقی طور پر بین الاقوامی تحفظ درکار ہے۔