نریندر مودی لاہور میں، پاکستان کی کامیابی

دنیا کی شایدہی کوئی ایسی ریاست ہو گی جس کے خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ تنازعات نہ ہوں۔ پاکستان کا بھارت کے ساتھ کشمیر کے مسئلے پر تنازعہ برصغیر کی آزادی کے ساتھ ہی سیاسی ورثے کے طور پر ہمارے حصے میں آیا۔ پاکستان آج تک بھارت کے ساتھ تین براہِ راست جنگوں کا شکار ہو چکا ہے۔ 1971ء میں جنگ میں پاکستان اپنے آدھی سے زیادہ آبادی پر مشتمل حصے (مشرقی پاکستان) کھونے کے المیے کا شکار ہؤا، جس میں بھارت نے اہم اور حتمی کردار ادا کیا۔

پاک بھارت تعلقات کے تناؤ نے خطے کی دونوں ریاستوں کو ایٹمی اسلحے کی دوڑ میں شامل کیا۔ یہ بات ہمارے لیے قابل فخر ہے کہ پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہے لیکن یہ سوال اپنی جگہ ہر طرح سے طاقتور سوال ہے کہ کیا صرف ایٹمی طاقت بن جانے سے کسی ریاست کے مسائل حل ہو جاتے ہیں؟ غربت، جہالت، حتیٰ کہ خطے کی دوسری ریاستوں کے ساتھ سرحدی یا علاقائی تنازعات؟ بھارت، پاکستان اور بنگلہ دیش، دنیا میں غربت کا سب سے بڑا مرکز ہیں۔ دونوں ریاستوں کے ایٹمی ہوجانے نے یہاں غربت میں کمی آنے کے رجحان کو کسی طرح بھی متاثر نہیں کیا اور نہ ہی دونوں ریاستوں کے ایٹمی ہو جانے سے دونوں ریاستوں کے مابین کشمیر کے بنیادی مسئلے کو حل کرنے میں کسی طرح بھی پیش رفت ہوئی ہے۔

پاکستان نے آپریشن جبرالٹر 1965ء اور کارگل کی بالواسطہ جنگ میں بھی وہ نتائج حاصل نہیں کیے جس کے لیے یہ دونوں آپریشنز کیے گئے۔ پاکستان کا جوہری طاقت بن جانا یقیناً ایک کامیابی ہے جس کا سہرا ذوالفقار علی بھٹو جیسے سیاسی رہنما کے سربندھتا ہے، جس کو بعد میں آنے والی کوئی بھی فوجی یا سیاسی قیادت رول بیک کرنے کی جرأت نہیں سکتی تھی۔ لیکن جوہری طاقت بن جانے سے مسائل کی کنجی ہمارے ہاتھ نہیں آئی اور نہ ہی آسکتی ہے۔ ایٹمی طاقت یا ہتھیار صرف ایک Deterrent ہیں۔ ان کے سبب کوئی بھی ریاست اپنے معاملات کو تدبر کی سفارت کاری کی بدولت ہی کامیابی سے ہمکنار کر سکتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری، کشمیر کے تنازع پر سفارت کاری میں پیش رفت اور دیگر معاملات میں پیش قدمی صرف تدبر کی سفارت کاری کے نتیجے میں ہی سامنے آئی ہے۔ یہی دونوں ریاستوں کی تاریخ ثابت کرتی ہے۔ جواہر لعل نہرو سے لے کر نریندر مودی، لیاقت علی خان سے لے کر وزیراعظم نوازشریف کے ادوار تک جہاں بھی نظر دوڑائیں، دونوں ریاستیں اسی وقت کسی پیش رفت کے قریب نظر آتی ہیں، جب دونوں ریاستوں کے حکمرانوں نے اپنے سفارت کاری کے عمل کوتیز اور اپنے اپنے قومی مفادات کو مدنظررکھ کر حل کرنے کی کوشش کی۔ جولوگ ہر وقت ایٹمی طاقت کے بننے کے فخر میں مبتلا ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان ایٹمی اسلحے کا استعمال کرکے کسی کامیابی کو ممکن کر سکتا ہے، ان کے لیے عرض ہے کہ کیا ایٹمی اسلحے کا استعمال صرف پاکستان ہی کر سکے گا؟ ذرا تصور کریں اگر خطے میں ایٹمی اسلحے کا استعمال ہو تو خطہ قیامت کی کیسی تصویر پیش کرے گا۔

اس سارے سیاسی پس منظر میں پچھلے چند مہینوں میں پاکستان اوربھارت کے مابین سفارتکاری کے مختلف مظاہرے دیکھنے کو ملے۔ یقیناًاس سفارت کاری کے مختلف اہم اسباب ہیں۔  پاکستان نے کمال مہارت سے سفارتکاری کے کارڈ کھیلے ہیں، جس کا سہرا وزیراعظم نوازشریف کے سربندھتا ہے، جنہوں نے مہم جُو ریٹائرڈ جرنیلوں کی تنقید اورخود کشی کے خواہاں مختلف مذہبی انتہا پسندوں کی تنقید کو بالائے طاق رکھ کر بھارت کے ساتھ سفارتکاری کا دروازہ ہر وقت کھلا رکھا ہے۔ اوفا سے لے کر پیرس اوراسلام میں ہارٹ آف ایشیا تک اوراب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا اچانک دورۂ لاہور اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ پاکستان خطے میں بدلتی صورتِ حال میں ماضی سے کہیں بہتر سیاسی کردار اور سفارتکاری کے کارڈ کھیل رہا ہے۔ خطے میں  ایک عرب ریاست جو پاکستان کو ایک کرائے کے گوریلے کے طور پر استعمال کرنا چاہتی ہے، کے برعکس جس میں چین کے ساتھ ساتھ روس کا نیا علاقائی اور عالمی کرداربھی اہم ہے، اس تناظر میں پاکستان خطے کی بدلتی صورتِ حال میں ایک متوازن ریاست کے طور پر اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔

یقیناً چین ہمارا دوست ہے، دونوں ممالک کی دوستی میں  ریاستوں کے قومی مفادات  ہیں جو دونوں ریاستوں کو  ایک دوسرے کے قریب کر رہے ہیں۔ ایسے میں روس کا ابھرتا علاقائی کردار بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا اورپاکستان جوکہ باقاعدہ امریکہ کا خطے میں سٹرٹیجک پارٹنرہے اور اس پارٹنرشپ نے پاکستان کوفوائد کی بجائے جو نقصان پہنچائے ہیں ،اس کی تفصیل سے اب ہر پاکستانی آگاہ ہے۔ ایسی بدلتی صورتِ حال میں پاکستان اس چنگل سے نکلنے میں کسی حد تک کامیابی حاصل کر سکتا ہے، جس نے پاکستان کو خطے میں Client State (طفیلی ریاست) بننے کے سوا کچھ نہیں دیا۔ اگر ہم تدبر سے اس سارے منظرنامے کو سامنے رکھیں تو ہمیں اس حقیقت سے انکار نہیں کرنا چاہیے کہ بھارت اس خطے کی اتنی ہی بڑی حقیقت ہے جتنی بڑی پاکستان ایک حقیقت ہے۔ یقیناًاس کو اپنے قومی مفادات سے غرض ہے اوراگر اس بدلتی صورتِ حال میں جب پاکستان کی قیادت نے بھارت کواس نکتے پر مجبور کر دیا ہے کہ دونوں ریاستوں کے مذاکرات میں کشمیر ایک بنیادی تنازع ہے اور اسی لیے جنوری میں پاکستان اوربھارتComprehensive Dialogue کریں گے۔

خطے کی اس بدلتی صورتِ حال میں اگر چین ، پاکستان سے راہداری کے معاہدات کر رہا ہے تو اسی وقت وسطی ایشیائی ریاستیں، ایران، روس اوربھارت بھی اپنے اقتصادی مفادات کے لیے پاکستان کے ساتھ تیل اور گیس کی پائپ لائنوں کے ساتھ تجارتی راہداریوں کے متمنی ہیں۔ ہمارے جذباتی اور عقل سے عاری تجزیہ نگار بھارت کو راہداری دینے پر مشتعل ہیں اوربھارت کے ساتھ پاکستان کی موجودہ کامیاب سفارت کاری پر پاگل پن کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ ان لوگوں کو اندازہ ہی نہیں کہ اگر پاکستان خطے میں ایک سنگم ریاست (Junction State) کا ہی کردار ادا کرنے لگے تو پاکستان جہاں معاشی بہتری کی جانب گامزن ہو گا، وہیں پاکستان، بھارت کو اپنے تنازعوں کو حل کرنے پر بھی قائل کرنے کی مزید طاقت حاصل کرے گا۔ ایسے میں پاکستان، بھارت کو اپنی شرائط کے مزید قریب لاسکتا ہے۔ ریاستیں جذبات سے نہیں بلکہ تدبر سے چلائی جاتی ہیں۔ پاکستان کو قدرت نے ایک بار پھر لاتعداد مواقع دئیے ہیں جن کو تدبر کی قوم پرستانہ سفارت کاری کے ذریعے استعمال کرکے، پاکستان اپنے معاشی ٹارگٹس اوربھارت کے ساتھ کشمیر سمیت تنازعات کو حل کرنے کے قریب ہوسکتا ہے۔

بھارت میں ہندو انتہا پسندی کے ووٹوں کے رجحان سے منتخب ہونے والے وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی عقابی وزیر خارجہ سشماسوراج جس طرح پاکستان کی Geo Economic Situation کی بنا پر پاکستان کے ساتھ تعلقات کوبہتر کرنے کی خواہاں نظر آرہی ہیں، اس میں کامیابی کا پلڑا پاکستان کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نریندر مودی، ماسکو سے کابل کے بعد جس عجلت میں پاکستان کے وزیراعظم میاں نوازشریف سے ملاقات کرنے پر مجبور نظرآئے، اس میں کامیابی بھارت کی نہیں، کامیابی پاکستان کی ہے۔ اگربھارت کے اکثریتی ووٹوں نے ایک انتہا پسند حکومت بننے کا راستہ اختیار کیا ہے تو اس کا سیاسی نقصان بھارت کو اندرونی طورپر ہو گا اوراگر بھارت ایک ریاست کے طورپر پاکستان کی ریاست کے ساتھ مذاکرات کرنے پر مائل ہوتا ہے تو اس میں کامیابی پاکستان کی ہے کہ بھارت، پاکستان کی سیاسی اورعلاقائی کردار کو نظرانداز کئے بغیر علاقائی سطح پر وہ نتائج حاصل نہیں کر سکتا جو اس کو مختلف اقتصادی منصوبوں میں درکار ہیں۔ شنگھائی کارپوریشن سے لے کر، افغانستان کی اندرونی صورتِ حال اوراس کے ساتھ ایران، وسطی ایشیا اور روس کے ساتھ قدرتی طورپر پاکستان کے تعلقات کا ابھرنا، جہاں پاکستان کے لیے مواقع لے کر آیا ہے، وہیں بھارت بھی اس میں اپنا کردار اورٹارگٹس حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اگر پاکستان کے قومی مفادات کو نقصان پہنچائے بغیر، کشمیر کے تنازع پر سودا کیے بغیر بھارت اپنے قومی مفادات حاصل کرتا ہے تو اس میں ہمیں نقصان کہاں اٹھانا پڑے گا؟

کیا یہ ہمارے مقدر میں لکھا جا چکا ہے کہ ہم امریکی سامراج کی طفیلی ریاست بن کر ہی خطے میں اپنا وجود رکھیں یا چند خلیجی ریاستوں کے کرائے کے گوریلے کا کردار ہی پاکستان کی قسمت ہے؟ پاکستان ایک طاقتور ریاست ہے، بدلتی ہوئی علاقائی اور عالمی صورتِ حال میں پاکستان ازسرنو اپنا کردارطے کر رہا ہے۔ وزیراعظم نوازشریف کی حکومت یقیناً پاکستان میں موجود مہم جوؤں اور بوناپارٹ ازم کرنے والوں کی تنقید کا نشانہ بن رہی ہے۔ لیکن یہ تبدیلی بڑی خوشگوار ہے کہ پاکستان کی سول لیڈرشپ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی ملٹری لیڈر شپ بھی ان Development Political کا ادراک حاصل کرنے میں کامیابی ہوئی ہے اور جن غلطیوں کا آغاز پاکستان نے پچاس کی دہائی سے کیا تھا، اب وقت آگیا ہے کہ چھے دہائیوں کے سیاسی سفر میں حاصل ہونے والے تجربات کو سامنے رکھ کر پاکستان کے مفاد میں  فیصلے کئے جائیں۔