اسلامی نظریاتی فری سٹائل ریسلنگ
- تحریر رضی الدین رضی
- بدھ 30 / دسمبر / 2015
- 6137
دیکھئے تواسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں کیسا تماشہ لگا۔ مولانا محمد خان شیرانی اورمولانا طاہراشرفی کے درمیان منگل کے روزہونے والے دنگل کی تفصیلات یقیناَ آپ کے سامنے آچکی ہوں گی ۔ آپ کوبخوبی علم ہو گیا ہو گا کہ فرقہ واریت کے خاتمے اور معاشرے میں بھائی چارے کے فروغ کی تجاویز پر غور کرنے والے خود کس بھائی چارے کے ماحول میں رہتے ہیں ۔
سناہے اجلاس میں پہلے تو احمدیوں کے حوالے سے نئی قانون سازی کے معاملے پر بحث مباحثہ شروع ہؤا اور پھر بات بحث وتکرارسے بڑھ کر ہاتھاپائی تک پہنچ گئی ۔ وہ تو بھلا ہو مولانا طاہر اشرفی کا کہ انہوں نے میڈیا پر آ کر اپنا چاک گریباں دکھا دیا ورنہ تو ہمیں معاملے کی نزاکت کا احساس ہی نہ ہوتا ۔ مولانا اشرفی نے یہ بھی بتایاکہ مولاناشیرانی بلوچستان سے اپنے ساتھ ’غنڈے ‘ لے کراسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں آتے ہیں اوروہ غنڈے بھی ان پرحملہ آور ہوئے۔ دوسری جانب مولانا محمد خان شیرانی نے الزام عائد کیا کہ مولانااشرفی حالتِ غیرمیں تھے اورانہوں نے نشے کے عالم میں اجلاس میں ہنگامہ آرائی کی ۔
اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس میں غنڈوں کی آمدورفت یا شراب کا تذکرہ ایک ایسامعاملہ ہے کہ جس پرکم ازکم ہم توکوئی رائے دینے کی پوزیشن میں نہیں۔ ہماری کیامجال کہ دین وفقہ پردسترس رکھنے والی ان تقدس مآب ہستیوں میں سے کسی پردروغ گوئی کا الزام لگائیں۔ اگر یہ غل غپاڑہ کسی مے خانے میں ہوتا تو اس پر کوئی بھی رائے قائم کی جا سکتی تھی۔ مے خواروں کو برا بھلا کہنا ویسے بھی بہت آسان ہوتا ہے۔ لیکن یہ تو معاملہ ہی بہت حساس ہے۔ یہ ہستیاں تو چلتی پھرتی دفعہ 295سی ہیں۔ اس لئے صاحب ہمیں صرف ان خبروں سے لطف اندوز ہی ہونے دیجئے۔ ہم سے کسی تبصرے کی ہر گزتوقع نہ رکھیں۔ ہم تو یہاں’ اپنے بچنے کی فکر کر جھٹ پٹ‘ والے شعر کا پہلا مصرع بھی درج نہیں کر سکتے کہ اس میں دو موذیوں کا ذکر آتا ہے۔
ہمیں معلوم ہے کہ اس صورت حال پر اسلام اور پاکستان کے دشمن طرح طرح کی حاشیہ آرائیاں کریں گے اور یہ سوال بھی کریں گے کہ جو مولوی ایک میز پر مل کر نہیں بیٹھ سکتے وہ بھلا لوگوں کو بھائی چارے کا درس کیا دیں گے؟ اس سوال کا جواب یقینی طور پر خود مولانا شیرانی اور مولانا اشرفی ہی کو دینا ہو گا ۔ ہمیں صرف ایک سوال کا جواب درکار ہے اور سوال یہ ہے کہ ہمارے نزدیک یہ دونوں ہستیاں بہت معتبر ہیں اور معتبر ہیں تو اسلامی نظریاتی کونسل جیسے ادارے میں بیٹھ کر قوم کا قبلہ درست کرنے کی سعی فرما رہی ہیں۔ لیکن میڈیا پر ہم نے ان کی جو گفتگو سنی اور جو الزامات ان کی جانب سے ایک دوسرے پر عائد کئے گئے ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے کوئی ایک تو دروغ گوئی سے کام لے رہا ہے؟ دروغ گوئی ، غنڈہ گردی اور شراب نوشی کے الزامات کوئی معمولی تو نہیں ہیں۔ ایسا الزام کسی انتخابی امیدوار پر لگ جائے تو وہ آرٹیکل 62 اور 63کے تحت نا اہل قرار پاتا ہے ۔ تو جناب اسلامی نظریاتی کونسل میں فری سٹائل ریسلنگ کرنے والے ان برگزیدہ علماء کے بارے میں اب ہمیں اور آپ کو کیا رائے قائم کرنی چاہئے۔
اور وہ جو شیرانی صاحب احمدیوں والے طے شدہ مسئلے کو ایک بار پھر اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔ کیا ان کے فسادی عزائم کا نوٹس نہیں لیا جانا چاہئے۔ اور اگر اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاسوں میں معاملات دھول دھپے ہی سے طے کئے جانا ہیں تو پھر اس ادارے میں علماء کی جگہ پہلوانوں کوکیوں نہ شامل کر لیا جائے۔ تاکہ فقہی و دینی مسائل مزید خوش اسلوبی کے ساتھ طے کئے جا سکیں ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلے کے ؟
(بشکریہ Dunyapakistan.com لاہور)