طوفان کی دستک

چارہ سازوں کی حیلہ بازیاں قوموں کی تباہی کا سبب بنتی ہیں۔ خبر ہے کہ سیالکوٹ میں داعش کا ایک پورا گروپ پکڑا گیا ہے جن سے اسلحہ ، دھماکہ خیز مواد ، لیپ ٹاپس ، نفرت انگیز مواد برآمد ہؤا ہے۔ مذہب کے ان ٹھیکیداروں نے پاکستان میں مسلح جدوجہد کے ذریعے جمہوریت کے خاتمے اورخلافت قائم کرنے کے لئے حلف اٹھا رکھا تھا۔

اسلام آباد اور پاکستان اس وقت شاید اپنے سب سے نازک اور پرفتن دور سے گزر رہے ہیں، جو اصلاح کے ذمہ دار ہیں اگر وہی کمبل اوڑھ کر سو جائیں یا گلی کے نکڑ پر بیٹھے لونڈوں کی طرح ایک دوسرے کی گریبانوں پر ہاتھ ڈالنا شروع کر دیں تو قوم اور اسلام کا خدا ہی حافظ۔ فرقہ واریت کی تشریح اور کافر کافر کی صداؤں میں اسلام بجائے خود ایک المیہ بن گیا ہے جس کا نوحہ آئے روز گلی کوچوں میں پڑھا اور بے نام قبروں میں دفنایا جاتا ہے۔

ہمارے ایوان بالا کے ’’معزز اراکین‘‘ نے اپنے ’’معزز وزیر داخلہ‘‘ سے وطن عزیز میں داعش کی موجودگی کے حوالے سے کم و بیش انسٹھ سوالات کئے مگر آپ یہ جان کرعش عش کر اٹھیں گے کہ ان میں سے ایک بھی سوال کا جواب نہیں آیا۔ آج کل یہ صدائیں زوروں پر ہیں کہ ہماری سیاسی قیادت نے وقت اور حالات سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ مگر میری ناقص رائے میں معاملہ اس کے متضاد ہے۔ ہمارے ’’معزز‘‘ اراکین نے بہت کچھ سیکھا ہے مگر وہ یہ ہنر ملک و قوم نہیں اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کر رہے ہیں۔ کئی صعوبتیں جھیلنے کے بعد ہمارے نمائندے ابن الوقتی کے رموز سے مکمل آشنا ہو چکے ہیں ۔

ایک خبر یہ بھی ہے کہ ہمارے ’’کل وقتی‘‘ مشیر خارجہ فرما رہے ہیں کہ پاکستان کے افغانستان میں داعش کی موجودگی پر تشویش ہے۔ کاش انہیں کوئی بتائے کہ ملک کے کتنے مقامات پر داعش کی وال چاکنگ ہو چکی ہے اور کتنے ’’جہادی‘‘ گرفتار ہو چکے ہیں۔ اور کاش کوئی انہیں ملک کے دارالحکومت کی لال مسجد کی جانب سے ڈنکے کی چوٹ پر جاری کردہ داعش کی بیعت کی ویڈیو دکھائے۔ لیکن کیا کریں انہیں پیرانہ سالی کی بنیاد پر ’’رعایت‘‘ مل جاتی ہے۔

خبر تو یہ بھی ہے کہ لال مسجد کے ’’برقع پوش‘‘ مولوی صاحب کو عدالت اشتہاری قرار دے چکی ہے مگر ہمارے داخلہ امور کے ذمہ دار فرماتے ہیں کہ ملا عبدالعزیز پر کوئی کیس ہی نہیں تو انہیں کیوں گرفتار کریں۔ انہیں ایک بار پہلے بھی گرفتار کیا گیا ، پھر چھوڑا کیوں گیا؟ شاید یہی وجہ ہے کہ چوہدری صاحب انہیں گرفتار کرنے کا حکم صادر نہیں کر رہے کہ کہیں پھر ’’باعزت رہائی‘‘ کا پروانہ نہ دینا پڑے۔

ایک خبر یہ بھی ہے کہ سیالکوٹ دولت اسلامیہ کا گڑھ اور ’’امیر المومنین‘‘ ابوبکر البغدادی کے چاہنے والوں کی جنت بن رہا ہے۔ یہاں کے دو افراد داعش کی پیدائش کے جشن میں بھی شریک تھے اور پھر ’’اسلام کی سربلندی‘‘ کے لئے جہاد کرتے ہوئے شام میں مارے گئے۔ اسلام کے انہی دو ’’سرفروشوں‘‘ کے نام پر اب دولت اسلامیہ نے دو ٹریننگ سینٹرز قائم کئے ہیں جہاں مزید سرفروش تیار کئے جا رہے ہیں جو راہ راست سے بھٹکے ہوئے نام نہاد مسلمانوں کے سر قلم کرنے کا مذہبی فریضہ سرانجام دیں گے۔

خبریں تو اور بھی بہت ہیں مگر صحرا میں صدائیں کب تک لگائیں۔ مگر کہنے میں ہرج نہیں کہ کہ ابھی بہت سے ہیں جو جہاد فی سبیل اللہ کا رن شروع کرنا چاہتے ہیں۔ ہم افتادفگان خاک سہی، مگر ایسا تو پھر بھی نہیں کہ جہادی لشکروں کی تیاری اور شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے رویوں کو بھانپ نہ سکیں۔ اگر خبر نہیں صوفی وملا کو نہیں کہ ابھی ان دامن چاک نہیں ہؤا۔ خبر ان منتخب نمائندوں کو بھی نہیں کہ جو اپنوں کے بچھڑ جانے کا غم سے آشنا نہیں۔ اسی لئے تو اگر مگر، اگر چہ ، مگر چہ، چونکہ اور چنانچہ استعمال کر کے قوم کا خون چوس رہے ہیں۔ درد تو انہیں تب ہو جب سانحہ اے پی ایس جیسا کوئی المیہ ان کی گھروں پر قیامت ڈھائے۔ یہ اگر مگر کی دھنیں کرب کی تاروں کے تب تک چھیڑتی رہیں گی جب تک یہ طوفان ان کے گھروں پر دستک نہیں دے گا۔