الوداع اور استقبال

جب میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں تو سال 2015 آخری سانس لے رہا ہے۔  انسانی زندگی میں ماہ و سال آتے جاتے رہتے ہیں۔ ہر دن جو چڑھتا ہے وہ کچھ پیغام لے کر آتا ہے اور ہر شام کچھ نصائح کر جاتی ہے۔ خوش نصیب اور خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو وقت کی آواز پر کان دھرتے اور سبق حاصل کرتے ہیں۔ ہمارے دنوں ، ہفتوں ، مہینوں اور سالوں کے آنے جانے میں سب سے بڑا یہی سبق پنہاں ہے، جس کی طرف توجہ کی ضرورت ہے۔

ورنہ دن رات تو ایسے ہی کروٹیں لیتے رہیں گے جیسا کہ ازل سے لے رہے ہیں۔ ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ہم نے اس میں کتنی عبادت کی ۔ کتنا خدا تعالیٰ سے تعلق قائم کیا۔ انسانی بہبود کے کیا کیا کام کئے اور آخرت کے لیے کیا ذخیرہ جمع کیا۔ کیوں کہ یہ سب کچھ دیکھنا عین قرآنی احکامات کے مطابق ہے۔

سال 2015 گذر چکا ہے۔ اس میں بہرحال کچھ تلخیاں بھی ہیں۔ تکلیف دہ باتیں بھی سامنے آئیں حقوق بھی غصب ہوئے۔ عزت نفس بھی مجروح ہوئی اور ناجائز قتل بھی ہوئے۔ اقتصادی بحران بھی ہوا۔ غریبوں اور اقلیتوں کے ساتھ ظلم بھی ہوا۔ کرپشن کے واقعات بھی سامنے آئے ، امانت و دیانت کا جنازہ بھی نکلا۔ بلکہ زندہ لوگوں کو مذہب کی آڑ میں اور توہین قرآن و مذہب کے نام پر جلانے کا منصوبہ بھی بنا۔ نیز لوگوں کے اموال و جان کی بے حرمتی بھی ہوئی۔ ان مظالم کی ایک لمبی فہرست ہے۔ مظالم کی جو فہرست خاکسار نے دی ہے اس میں صف اول میں پاکستان کی حالت زار کا نقشہ ہے۔ خاص طور پر اقلیتوں کے ساتھ ظلم۔ اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک کی انتہاء ہو رہی ہے۔ جبکہ ہلالی پرچم میں اور حضرت قائداعظم محمد علی جناح نکے فرمودات میں اقلیتوں کی پاسداری اور انہیں بلا امتیاز ، شہری حقوق دینے کی ضمانت دی گئی ہے۔

اس کی ایک بھیانک مثال تو 20 نومبر کو جہلم میں دیکھنے میں آئی۔ تب چپ بورڈ فیکٹری پر دھاوا بول دیا گیا اور فیکٹری کو آگ لگا دی گئی تھی۔ اس وقت فیکٹری میں لوگ موجود تھے ۔ شرپسندوں کی کوشش تھی کہ اندر موجود افراد کو زندہ جلا دیا جائے۔ اگلے ہی روز بروز ہفتہ انتہا پسند عناصر نے ایک جلوس کالا گجراں میں نکالا اور وہاں پر احمدی مسجد کا گھیراؤ کر کے اس کا سامان نکال کر عبادت گاہ کے سامنے سڑک پر رکھ کر جلا دیا گیا۔ مسجد کا سامان جلانے کے بعد انتہا پسندوں نے مسجد کو دھویا اور اس کے بعد کھڑے ہو کر مولوی نے اذان دی اور نماز عصر پڑھی۔

یہ تو صرف ایک اقلیت کے بارے میں لکھا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ شیعہ فرقہ کے لوگوں کا قتل عام، ہندوؤں کے ساتھ زیادتی ، عیسائیوں کے ساتھ بھی اسی قسم کا ظالمانہ سلوک وطن عزیز میں ملاؤں کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ حکومت بے بس دیکھتی ہے۔

وطن عزیز کے علاوہ بھی کئی دیگر ممالک میں ظلم اور بربریت کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں۔ ہم ان سب ظلموں اور ظالموں کی مذمت کرتے ہیں، جو مذہب کی آڑ میں توہین رسالت یا توہین مذہب کا نام لے کرکیا جا رہا ہے۔ یہ ظلم خوا امریکہ میں ہو یا مسلمان ممالک میں ہو، افریقہ میں ہو یا کسی دوسری جگہ ۔۔ جو ظلم ہے وہ ظلم ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو نہ ہی ظلم پسند ہے اور نہ ہی ظالم لوگ پسند ہیں۔

ایک خوش آئند بات وطن عزیز میں یہ ہوئی ہے کہ اب میڈیا کچھ نہ کچھ ان مظالم پر تبصرہ کرنے لگا ہے اور دانشمند لوگ بھی تھوڑی بہت آواز بلند کرنے لگے ہیں۔ اس لئے جہاں ہم آج سال گزشتہ کو کو الوداع کہتے ہوئے ایسے لوگوں کا شکریہ بھی ادا کرتے ہیں جنہوں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔ جس میں پاکستانی میڈیا اور دانشور اور تجزیہ نگارشامل ہیں۔ دنیا کے ہر ملک اور ہر گوشہ میں ہر حکومتی ادارے کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جس نے اپنے ملکی قوانین کے تحت لوگوں کے جان و مال ، عزت و آبرو کی حفاظت کی ۔ ہم ان مذہبی لیڈروں کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور ظلم ہونے پر سب سے پہلے مظلوموں کے پاس پہنچے اور ہر قسم کی مدد فراہم کی۔ خدا تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس نے محض اپنے ہی فضل سے ہمیں جرات ، ہمت عطا فرمائی کہ ہم جانے والے سال میں سرخرو گذرے۔ 2015 کو الوداع کہتے ہوئے ہم ایک نئے عزم اور ولولہ کے ساتھ 2016 میں داخل ہوتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ وطن عزیز پر رحم فرمائے۔ اسے سب مشکلات سے محفوظ رکھے۔ مسلمانوں کی حالت زار پر رحم فرمائے اور انہیں صراط مستقیم دکھائے۔ وہ صرف ناموس رسالت پر صرف ریلیاں نکالنے والے نہ ہوں۔ اور نہ ہی صرف ناموس رسالت کے لئے جان دینے والے ہوں بلکہ رسول ﷺ کی عزت اور اس کے نام کی خاطر اور اس کی طرف منسوب ہونے کے واسطے وہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کے مطابق اچھے عمل کرنے والے بھی ہوں۔ ان کے اندر بھی ہمدردی خلائق کا جذبہ بھر جائے۔