نریندرمودی اور نوبل انعام
- تحریر حسین شہادت
- جمعہ 01 / جنوری / 2016
- 4751
انسان کی سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں اپنی ایک منفرد پہچان بناکر خود کو روشناس کروائے، لوگ اس کا احترام کریں ، اس کی بات کو سنیں اور اس کے کام کو سراہیں ۔ وہ جانتاہے کہ وہ دنیا میں اکیلا نہیں رہ سکتا اور کسی کے ساتھ مل کر رہنے میں جہاں اس کا تحفظ ہے وہیں اس کی خواہشات کی تکمیل بھی ممکن ہے ۔ اسی طرح موجودہ زمانہ میں بین الاقوامی سطح بہتر تعلقات بھی ضروری ہیں۔ جنگی جنون کی بدولت نہ تو لوگوں کے دلوں پر راج کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی اپنی بات منوائی جاسکتی ہے ۔ خوشگوار باہمی تعلقات کے بغیر موجودہ دور میں زندگی کا تصور نہیں کیا جاسکتا ۔
بھارت کے موجودہ وزیر اعظم نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد اگرچہ بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کی بہتری کی امیدیں وابستہ کی گئی تھیں لیکن صورت حال اس کے برعکس رہی۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ڈیڈ لاک کی بنیاد مسئلہ کشمیر کا ہے جس پر کسی قسم کی پیش رفت کی بجائے اقوام متحدہ کی جانب سے منظور شدہ قرار دادوں سے روگردانی کرتے ہوئے اسے اندرونی معاملہ قرار دیا گیا ۔ جو عالمی اصولوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ پاکستان کی جانب سے ہر بار کوشش کی گئی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات قائم ہوں اور ماضی کی تمام تلخیوں کو بھلا کر ایک نئے دور کا آغا ز کیا جائے جس سے دونوں ممالک غربت ، مہنگائی ، صحت سمیت دیگر مسائل کا حل کرسکیں۔ لیکن بھارت خطہ میں اپنا اثرورسوخ بڑھانے کی ہوس میں مبتلا رہا ہے۔ اس نے افغانستان کے راستے پاکستان میں دہشتگردی کی فضا قائم کی اور ملک میں موجود علیحدگی پسندوں کو پاکستان مخالفت پر اکسایا تاکہ پاکستان کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں ۔ بھارت کی پاکستان مخالف کارروئیوں کے شواہد موجود ہیں اور مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی جانب سے یہ تمام شواہد اقوام متحدہ کو پیش بھی کئے گئے۔ لیکن ان پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ۔ دونوں ممالک کے تعلقات کی عدم بہتری کے باعث ایک جانب دونوں ممالک کے عوام میں پریشانی بڑھ رہی ہے تو دوسری جانب خطہ میں تصادم کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات کے لحاظ سے یہ بات نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ جنوبی ایشیا میں حالات بڑی تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں ۔ عالمی طاقتوں کو اس امر کا بخوبی ادراک ہے کہ جب تک بھارت اپنی ہٹ دھرمی نہیں چھوڑتا اور جب تک افغانستان میں امن قائم نہیں ہوتا ، جنوبی ایشیا سے وابستہ ان کے تجارتی اور دیگر مفادات پورے نہیں ہو سکتے ۔
پیرس میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں مودی کی وزیراعظم پاکستان سے ملاقات سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید وہ اس صورتحال سے باخبر تھے اور قرین قیاس یہی تھا کہ اس ملاقات کے بعد مزید پیش رفت ہوگی۔ بھارت کی وزیرخارجہ ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کیلئے اسلام آباد آئیں اور انہوں نے باور کروایا کہ وہ خیر سگالی کے جذبے کے تحت پاکستان آئی ہیں تاکہ پاک بھارت تعلقات کی بہتری کی جانب قدم بڑھایا جائے ۔ اس کانفرنس کی بدولت دونوں ممالک کو حقیقی طور پر عرصہ دراز کے بعد موقع ملا کہ وہ بات چیت کے ذریعے اپنے اختلافات کو طے کرلیں ۔ 25دسمبر 2015کو نریندر مود ی کی روس و افغانستان سے واپسی پر اچانک پاکستان آمد باہمی تعلقات کی بہتری کی جانب ایک اور مؤثر قدم ثابت ہؤا۔
بھارت کی جانب سے پاکستان کے لئے نیک جذبات کے ساتھ پیش قدمی کرنا کئی سوالات کو جنم دے رہا ہے کہ یہ سب کیسے ممکن ہؤا۔ جبکہ مودی جس دن سے بھارت کے وزرات عظمیٰ کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں تب سے مسلمانوں بالخصوص پاکستان کے خلاف زہر اگلتے نہیں تھکتے ۔ انہوں نے دنیا میں پاکستان کو بدنام کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا ۔ وہ کسی طرح بھی جھکنے کے قائل نہیں ہیں، ہمیشہ مخالف کو جھکنے پر مجبور کرنا ان کا خاصہ رہا ہے ۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ان تمام اقدامات کے پس پشت امریکہ کا ہاتھ ہے۔ بعض کا کہنا ہے کہ چونکہ اس وقت پاکستان میں سول مارشل لا نافذ ہے اور اس وقت میں ملٹری قیادت اہم کردار ادا کررہی ہے لہٰذا امریکہ نے جنرل راحیل شریف اور مودی کو مذاکرات پر آمادہ کیا ہے ۔ روس سے واپسی پر مودی کے اچانک دورہ لاہور سے امریکی حکام آگاہ تھے۔ اس سے یہ تاثر زائل ہوجاتا ہے کہ مودی کا لاہور کا دورہ اچانک تھا۔ امریکہ نہ صرف اس سے آگاہ تھا بلکہ اس کا حامی بھی تھا کہ بھارتی وزیراعظم پاکستان سے ہوتے ہوئے اپنے ملک جائیں ۔ کانگریس پارٹی کے اہم رکن کا دعویٰ ہے کہ یہ مودی کی بین الاقوامی سطح پر مقبولیت کے حوالے سے ایک چال ہے۔
مودی کو خبروں میں رہنے کا ہنر آتا ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ وہ بین الاقوامی سطح پر زیر بحث رہیں ۔ ان دنوں ان کے ذہن میں نوبل پرائز کا حصول ہے۔ اور وہ چاہتے ہیں لوگ انہیں اچھے القاب سے یاد کریں۔ ان کا آئیڈیل ان دنوں امریکی صدر بارک اوباما ہیں، جنہیں نوبل انعام برائے قیام امن مل چکا ہے ۔ ان کا مقصد ہے کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت والے ملک کے نوبل انعام یافتہ وزیراعظم کے طور پر تاریخ میں پہچانے جائیں ۔
خطہ میں قیام امن واقعی کسی نوبل کا م سے کم نہیں ہے لیکن یہ طے ہے کہ یہ کام صرف نیک نیتی اور خلوص کے ساتھ ہی سرانجام پا سکتا ہے۔ جب بھی امن قائم ہوگا، یقینی طور پر ہر اس فرد کو اچھے لفظوں میں یاد رکھا جائے گا جس نے اس کے لئے کام کیا ہوگا۔ اس حوالے سے نوبل امن انعام کا حصول کافی مقصد نہیں ہے۔ بلکہ خطے کے عوام کی بہبود اور سلامتی کے عزم سے ہی یہ کام پورا کیا جا سکتا ہے۔