اک ایان تھی، اک قصہ تھا
- تحریر سید شاہد عباس
- ہفتہ 02 / جنوری / 2016
- 5133
بی بی ایان علی قصہ پارینہ بنتی جا رہی ہیں۔ ان کے نام کے ساتھ یہ تمام لاحقے جلد یا بدیر شامل ہو جائیں گے ۔ اور نہ جانے تقسیم پاکستان سے پہلے اور فوراً بعد کچھ جاگیرداروں کو جو " سر" کا خطاب دیا جاتا رہا ہے اور جو کبھی سمجھ میں نہیں آ سکا تھا ۔
وہ اب سمجھ میں آنا شروع ہو گیا ہے۔ ایک بزرگ اکثر اوقات بڑے فخر کے ساتھ بتاتے ہیں کہ ان کے ایک جد نے1857میں سکھوں کے ساتھ لڑائی میں انگریزوں کی بہت مدد کی لیکنLord Nicholson کے زخمی ہونے کی وجہ سے وہ انہیں بچا نہیں سکے۔ لیکن آخری لمحات میں کسی نہ کسی طرح یہ جملے لاہور میں انگریز سرکار تک پہنچانے کا بندوبست کر دیا کہ " Hata Did Very Well to Save my Life"۔ (ہاتا نے میری زندگی بچانے کی بھرپور کوشش کی )۔ انگریز کمانڈر تو مر گیا لیکن ہاتا یہ پیغام لئے لاہور جا پہنچا اور انگریز سرکار نے وفادری کے صلے میں84 گاؤں ہاتے کو دے دئے۔ یا یوں کہہ لیں کہ 84 گاؤں ہاتے کی غلامی میں دے دیے۔ یہ وفاداری کا صلہ تھا۔(ہاتے کی انگریز سرکار سے وفاداری مہر شدہ ہے۔ اور تاریخ میں اس بارے واضح الفاظ بھی ملتے ہیں کہ کیسے انگریز کمانڈر زخمی ہوا اور کسیے انگریز سرکار نے اس کی خدمات کا اعتراف کیا)
نہ جانے کیوں بی بی ایان علی کے کیس کے پس منظر میں جانے سے ہاتا خان کی کہانی یاد آ گئی ۔ وجہ شاید وفادری ٹھہری ۔ایان نے بھی کیا خوب وفا نبھائی ۔ اور وفا کے صلے میں شہرت کی بلندیاں پا لیں۔ جب جیل کی سلاخوں کے پیچھے چند کھٹمل مستقبل کی سپر ماڈل کو کاٹنے کی جرات کر بیٹھے تو وہ ہاہا کار مچی کہ الاماں۔ فوراً جیل سے ایک بیان گرتے پڑتے میڈیا کی زینت بنا کہ اگر میرے کیس پہ توجہ نہیں دی گئی تو سب کا کچا چھٹا کھول دوں گی۔ فوراً ایک منجھے ہوئے سیاستدان۔۔۔ نہیں نہیں ایک منجھے ہوئے وکیل۔۔ ارے بھئی دونوں ہی سیاستدان کم وکیل کو ایان کے کیس کی باگ ڈور تھما دی گئی ۔اور پھر پیشی پہ پیشی ۔ اور میڈیا میں کیس سے زیادہ لباس سنوار کے قصے ۔ شاید نیچے سے اوپر تک سب کو خبر ہو گئی تھی کہ اصل منظر سے عوام و میڈیا کی توجہ ہٹے گی تب ہی تو کیس کو پس منظر میں ڈالا جا سکے گا۔ اور ایسا ہی ہوا۔اور خبری بتاتے ہیں کہ دیارِ غیر سدھارنے کی تیاریاں بھی شروع ہو گئی ہیں۔ وہ بھی نجی طیارے میں۔
اس وقت حیرانگی کی انتہا نہیں رہی جب خود سپر ماڈل نے کہہ دیا کہ میڈیا میں اس کا غلط تاثر اجاگر کیا جا رہا ہے۔ اور عدالت میں جذباتی تقریر بھی اس حوالے سے موضوع بحث رہی ۔ کاش میڈیا ماڈل کو موضوع بحث نہ بناتا ۔ کاش اس کی زلفوں کا اسیر میڈیا ایان کو وقت سے پہلے سپر ماڈل نہ بناتا تو پھر شاید اس کیس کے حوالے سے حقائق جلد ہی سامنے آ جاتے۔ قرائن سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایان علی کی عدالتی پیشی کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ضرورت سے زیادہ میڈیا کی زینت بنایا جاتا رہا۔ ایان علی کے شربتی حسن کے چرچے جان بوجھ کر زبان زدعام کئے جاتے رہے۔ عوام کو جان بوجھ کر ماڈل کے خوبصورت سراپے میں الجھا کر توجہ اس امر سے ہٹا دی گئی کہ اگر ایک پھیرے میں پانچ لاکھ ڈالر تو 80 پھیروں میں کم از کم چار کروڈ ڈالر۔یعنی کم و بیش چار ارب پاکستانی روپے۔ یاد رہے یہ انتہائی محتاط اندازہ ہے۔ یہ صرف وہ ہیں جو سامنے آ گئے۔ عوام کو ایسا حسینہ کی زلفوں میں الجھا دیا گیا کہ یہ اعدادو شمار عوام کے دل و دماغ سے محو ہو گئے۔
قانون کی راہداریوں سے سیاست کے ایوانوں تک ، آہستہ آہستہ تمام حقائق پس منظر میں چلے گئے سامنے رہا تو بس یہ ذکر کہ ماڈل نے آج کیا پہنا، صراحی دار گردن سے سراپا کیا رنگ دکھا رہاہے وغیرہ وغیرہ۔ یا پھر میک اپ میں کیا کیا مہارتیں دکھائی گئی ہیں۔ حتیٰ کہ جیل میں جوس کے مطالبات جیسی خبریں بھی بریکنگ نیوز کے طور پر چلتی رہیں۔ اوجھل رہا تو صرف یہ سچ کہ یہ پانچ لاکھ ڈالر آئے کہاں سے ؟ اپنے تھے تو کیا ٹیکس دیا گیا؟اپنے نہیں تھے تو کس کے تھے؟ جس کے تھے اس سے تعلق کیا تھا؟ جو تعلق تھا اس کی نوعیت سے ملک کو کیا نقصان پہنچا؟
ایان نامہ چلنے سے ایان علی کو دو فائدے ہوئے ۔ ایک تو وہ میڈیا کے لیے ہاٹ کیک بن گئیں۔ دوسرے وہ شہرت کی ان بلندیوں پر پہنچ گئیں جہاں تک پہنچنا شاید ان کا خواب تھا۔ پہلے وہ ماڈل تھیں یا نہیں لیکن اب وہ یقیناًسپر ماڈل ہیں۔ شاید مستقبل قریب میں کتاب لکھ کر لکھاریوں کی فہرست میں جگہ بھی بنا لیں۔ کیوں کہ عظمت کی بلندیاں تو وہ پہلے ہی چھو چکی ہیں۔ اب صرف کچھ لفظ لکھنا باقی ہیں اور عظیم لکھاری کہلوانے سے انہیں کوئی نہیں روک سکتا۔ لکھنے والے کا نام یاد نہیں لیکن الفاظ یاد ہیں جن میں کہا گیا تھا کہ ایان علی کو بلاوجہ میڈیا میں ایشو بنا دیا گیا ہے۔ اگر وہ بھی کسی سیاستدان ، جاگیردار یا وڈیرے کی بیٹی ہوتی تو میڈیا ہرگز اس کی تشہیر نہ کرتا۔ میں لکھنے والے کی سوچ پر حیران ہوں۔ آخر ایان علی کو اس سارے معاملے میں کیا نقصان ہوا؟ اسے کوئی جانتا نہ تھا۔ اب وہ اس ملک کی ایک اہم شخصیت بن چکی ہے۔ وہ ماڈل تھی نہیں بلکہ اب بن چکی ہے۔ جیل یاترا نے اسے لیڈروں جتنی شہرت دے دی ہے۔اتنی زیادہ میڈیا ٹاک سے اس کے اَسی دورے پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ اس سے جڑے اہم نام تک سر د خانوں میں چلے جائیں گے۔ اور قسمت نے یاوری کی تو اب اسے کوئی ائیرپورٹ پر چیک بھی نہیں کرے گا کیوں کہ اب تو سب اسے پہچاننے بھی لگے ہیں۔پکڑنے کے بجائے ساتھ سیلفیاں بنیں گی۔ تو پھر اس تشہیر سے ایان کو ایسا کیا نقصان ہوا جس سے لکھنے والے کو اتنا درد محسوس ہؤا۔ اس بے جا تشہیر سے الٹا جرائم پہ پردہ پڑا۔ ایسا پردہ جو شاید باجود کوشش کے اتر نہ سکے۔