لاہور بدل نہیں بگڑ رہا ہے
- تحریر فرخ سہیل گوئندی
- ہفتہ 02 / جنوری / 2016
- 6309
ہمیں لاہور میں رہتے ہوئے چار دہائیاں بیت چکی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ لاہور بہت بدل گیا ہے۔ بدلنے کے حوالے سے یقیناً ہر کسی کا اپنا نکتہ نظر ہو گا، لیکن میرے نزدیک لاہور میں سب سے بڑی تبدیلی جو آئی، وہ آبادی کا سیلاب ہے۔ ایک ہڑبونگ ہے ہر طرف۔ چالیس سال قبل نصف سے بھی کم آبادی تھی اور زندگی زیادہ آسان اور پُرسکون تھی۔
اگر لاہور کے کسی حصے میں کچھ نہیں بدلا تو وہ لاہور کینٹ ہے۔ اس کی وجہ کنٹونمنٹ ایکٹ ہے جو کینٹ کو آبادی کے سیلاب سے بھی روکنے میں مددگار ہے۔ لاہور کینٹ میں آبادی کا جو دباؤ ہے، وہ اس کے اردگرد بغیر منصوبہ بندی اور منصوبہ بندی کے تحت آبادیوں کے باعث ہے۔ چالیس سال قبل لاہور ریلوے سٹیشن سے آپ تانگے میں بیٹھتے تھے اور دھرم پورہ دس منٹ میں پہنچ جاتے تھے اور اگر ویگن میں سفر کرتے تو دو تین منٹ کم، رکشے میں زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ اور اگر لاہور اربن ٹرانسپورٹ کی اومنی بسوں میں یہ سفر کیا جاتا تو بھی آٹھ دس منٹ لگتے تھے۔ آج یہ سفر آدھے پونے گھنٹے سے کم نہیں ہوتا۔ آپ موٹرسائیکل، کار یا میاں شہبازشریف کے منصوبوں پر چلتے ہوئے بھی آئیں تو بھی زیادہ وقت صرف ہوتا ہے۔
میرے لئے یہ حیرانی کی بات ہے کہ جناب شہبازشریف لاہور کے شہری ہیں، دالگراں چوک میں پھلنے پھولنے والے اس نوجوان نے وہاں رہائش بھی کی اور تجارت بھی۔ لاہور کی گلیوں، سڑکوں اورشاہراہوں پر گھومنے والے اس لاہوری کو لاہور یا شہری زندگی کا نجانے ادراک کیوں نہیں ہؤا۔ شہر ایک کروڑ سے زائد آبادی کی حد سے گزر چکا ہے۔ میاں شہبازشریف اس شہر کے صوبائی تخت کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ وہ لاہور کو تبدیل کرنے کے جس خواب کا شکار نظر آتے ہیں، اس میں کہیں بھی Civic Sense ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتی۔ میاں صاحب! چند سڑکوں کو غیرضروری طور پر سگنل فری بنانے کے لئے آپ اپنے جس خواب پر عمل کر رہے ہیں، اس میں کہیں بھی Civic Sense کی جھلک نہیں اور نہ ہی آپ کے میٹرو کے تیز رفتار بس کے منصوبے سے۔ اور اب آپ آبادی کے ہجوم میں جدید ٹرانسپورٹیشن کی اورنج ٹرین کی پیوندکاری کر رہے ہیں۔ اس نے آبادی کے ہڑبونگ میں کمی کی بجائے مزید اضافہ کیا۔
آبادی کا سیلاب اور یہ منصوبے آپس میں کہیں بھی Compatible قرار نہیں دیئے جاسکتے اور اس پر شام کو مال روڈ پر اونٹ کی نام نہاد سیاحتی سواری اور دن کو سیاحتی ڈبل ڈیکر۔ آبادی کے اندر آبادی، ہڑ بونگ کے اندر مزید ہڑبونگ۔ جیل روڈ کو سگنل فری کرنے کا خواب لئے جس طرح لاہور کے ساتھ ریپ کیا جارہا ہے، اس کو طفلانہ خواب ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔
چاہئے تو یہ تھا کہ لاہور کی آبادی کا دباؤ گھٹانے کے لئے شہر کو وسعت دی جاتی۔ سرکاری دفاتر بشمول صوبائی سیکرٹریٹ، بڑے تعلیمی ادارے شہر سے کوسوں دور باہر لے جاکر نئی آبادیاں آباد کرکے آپس میں جوڑ دیا جاتا۔ شہر کے اردگرد آبادیاں پھیلا دی جاتیں۔ لیکن شہبازشریف صاحب، آپ آبادی کے سیلاب میں اپنی میٹرو کی ناؤ کے بعد اب اورنج لائن کا بحری جہاز اتارنے کی تیاریاں کر رہے ہیں۔ آپ کا دعویٰ ہے کہ فلاں شہری ٹرانسپورٹ کے نظام سے اتنے ہزار یا لاکھ لوگ مستفید ہوں گے۔ محترم میاں شہبازشریف ، افسوس آپ لاہو رکے شہری ہیں، یہاں آنکھ کھولنے اور جوان و پروان چڑھنے کے باوجود آپ شہریوں کی زندگی کی Dynamics سے آگاہ نہیں ہوسکے۔ آپ لاہور جیسے پسماندہ شہری زندگی کے سیلاب کے اندر اپنے جن خوابوں کو مسلط کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اس میں کہیں کوئی منطق نظر نہیں آتی۔ آپ نے آبادی کے سیلاب کے دباؤ کو کم کرنے کے منصوبوں کی بجائے ایسے غیر ضروری منصوبوں کا آغاز کررکھا ہے جس نے شہر کو آبادی کے Disaster میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
یہی حال آپ نے پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی کر رکھا ہے۔ شہری آبادی کے سیلاب کو کم کرنے منصونہ بندی کی جاتی ہے۔ آپ دبئی، استنبول اور جدید شہری آبادیوں سے متاثر ہو کر لاہور اور ایسے ہی پنجاب کے دوسرے شہروں میں مسائل حل کرتے کرتے درحقیقت مسائل میں اضافہ کر رہے ہیں۔ استنبول کی ترقی میٹرو کے ایک روڈ میں پنہاں نہیں بلکہ استنبول کی ترقی ان کے سیاسی قومی سفر میں پنہاں ہے۔ جہاں نوے سال قبل ایک نئی ریاست کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ انسانی ترقی کے سفر کے نئے زاویے طے کئے گئے۔ آپ اس بستی (استنبول) کی ایک دو بسوں کے روٹ سے متاثر ہوئے اور استنبول سے کہیں پسماندہ شہر میں اس طرز پر ایک بس کا روٹ (میٹرو بس) مسلط کر دیا اور اب اورنج لائن اورسگنل فری کے طفلانہ کھیل۔ یہ سب لاہور کو بدلنے نہیں بگاڑنے کا سبب بنیں گے۔ آبادی کا مزید ہڑبونگ۔
ہمارے وہ ’’صحافتی دانشور‘‘ جو آپ کے خیمے میں قلم لئے ہر وقت آپ کے جائز و ناجائز دفاع کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں، ہمارے اس نکتہ نظر کو ترقی میں رکاوٹ یا ترقی کے زاویوں سے نابلد قرار دیں گے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پسماندہ آبادیوں میں شہری سفر کے منصوبے جدید شہروں کی سفری سہولیات سے مختلف ہوتے ہیں۔ اگر آپ برا نہ مانیں تو عرض ہے کہ یہاں پر آپ بحیثیت ایڈمنسٹریٹر ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ لاہور کی جیل روڈ اور مال روڈ سمیت ایسی کئی سڑکوں پر صرف سخت انتظامی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ ٹریفک کے محکمے کے ذریعے موجودہ سڑکوں پر ٹریفک کو بہتر کر سکتے تھے، جو آپ نہیں کر سکے۔ جیسے آپ بسنت میں دھانی دھاگے پر کنٹرول میں ناکام ہوئے تو آپ نے پتنگ بازی پر ہی پابندی لگا دی۔ یہ حقیقت ہے کہ آپ ریاستی رٹ کو اپنی انتظامی صلاحیتوں کے ذریعے نہیں منوا سکے۔ اسی طرح شادی کی تقریبات میں فضول خرچی کا جواز پیش کرکے شادی کی تقریبات کا وقت متعین کر دیا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شادی بیاہ کی تقریبات پر اخراجات کم نہیں ہوئے، بلکہ شادی کی خوشیاں منانے والوں سے خوشی کاوقت چھین لیا۔ یہ آپ کی نااہل انتظامی صلاحیتوں کا مظہر ہے۔
آپ لاہور اور دوسرے شہروں میں ٹریفک پولیس کی رٹ قائم کرنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ آپ کی انتظامی رٹ اور ٹرانسپورٹیشن کے نام نہاد جدید منصوبوں کو موٹرسائیکل سوار جس طرح چیلنج کرتے ہیں، درحقیقت وہ آپ کی ناکام حکمرانی کا پول کھولتے ہیں۔ لاہور میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب پرویزالٰہی نے واقعی بہتر ٹریفک وارڈن کا نظام متعارف کروایا۔ آپ کی حکمرانی میں اس میں بہتری کی بجائے زوال نظر آرہا ہے۔ لاہور بدلا نہیں، بگڑا ہے اور اس کے بگڑنے میں آپ کی انتظامی نااہلی اپنا چہرہ دکھا رہی ہے۔ آپ اس گھمنڈ میں ہیں کہ آپ لاہور کو دنیا کا جدید شہر بنانے کا عظیم کارنامہ سرانجام دے رہے ہیں۔ مگر آپ کو یقین نہیں آتا تو آئیں اپنا حلیہ بدل کر چند دن میرے ہمراہ بھاٹی سے شاہ عالمی تک سفر کریں۔ گجومتہ سے سیکریٹریٹ، بادامی باغ سے باغبانپورہ، لاہور کی کسی شاہراہ پر چنگ چی، ویگن، میٹرو بس، موٹرسائیکل پر کسی بھی سواری پر تو آپ کو پتہ چلے گا کہ لاہور کس طرف جارہا ہے۔ لیکن شرط ہے اپنے سٹاف اور پروٹوکول کے بغیر، اپنی شناخت اور سفری سہولیات کے بغیر ایک عام آدمی کی طرح چند دن لاہور میں بسر کریں۔
چلیں اپنی کوئی کار ہی چلا کر دیکھ لیں، لاہور کی سڑکوں پر آپ کو دن میں تارے نظر آجائیں گے اور آپ خود حیران ہوں گے ’’خادم اعلیٰ‘‘ کے منصوبے اور خوابوں پر۔ ایک لاہوری شہری کے طورپر ایک ہفتہ اس شہر میں گھومیں، گاڑی چلائیں، موٹرسائیکل پر ، میٹرو بس پر، کسی سواری پر ایک دو گھنٹہ گزرے گا تب پتا چلے گاکہ ’’ لاہور کتنا بدلا ہے‘‘۔ اورآپ اس کو ’’بدلنے‘‘ میں آپ کیا کردار ادا کر رہے ہیں۔ لاہور بدل نہیں بلکہ بگڑ رہا ہے۔