بدعت یا جدت

بدعت عمومی طور پرہراُس کام کا کہا جاتا ہے جو رسول پاکؐ کے زمانہ میں نہ تھا اور بعد میں اختیار کیا گیا ہو۔ کیا واقعی ایسا ہی ہے؟ اس لئے سب سے پہلے یہ طے کرنا ضروری ہے کہ بدعت کسے کہتے ہیں۔ ۔ اگر ہر نئی چیز بدعت اور گمراہی ہے تو پھر حضور پاک کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد بعد جو بھی کوئی نئی چیز ہے، وہ سب غلط ہے۔

تو پھر رمضان میں پورا ماہ جماعت بیس اور آٹھ رکعت تراویح بھی بدعت ہے کیونکہ رسول اکرم نے اس طرح سے تو نہیں پڑھائی تھی۔ احادیث کی کتابیں بھی اسی زمرہ میں آتی ہیں جو دور صحابہ کے بہت بعد  لکھی گئیں۔ قرآن مجید کی تفسیریں، مترجم قرآن مجید، مساجد کے مینار، تسبیح، فقہ کی تدوین، درس نظامی، دورہ حدیث، اور فتویٰ نویسی بھی دور صحابہ کے بعد کی ایجاد ہیں اور پھر یہ بھی بدعات ہیں۔ بدعات تو مذہبی اور دینی سیاسی جماعتیں، اسلامی نظریاتی کونسل اور پارلیمنٹ بھی ہے جس میں تمام فرقوں کے علماء براجمان ہیں۔ ان بدعات کی طرف کسی کا دھیان نہیں جاتا۔

کیا ہمارے رہن سہن، کھانے پینے ، طرز زندگی او ر مذہبی سرگرمیوں میں بہت سی ایسی باتیں نہیں جو دور نبوی اور صحابہ میں سرے سے موجود نہ تھیں لیکن دور حاضر میں سب نے انہیں اپنایا ہؤا ہے۔  اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو حضورپاکؐ کے یوم ولادت کو منانا بدعت سمجھتے ہیں۔ در اصل غلط فہمی اور بدعت کا درست مفہوم نہ سمجھنے اور اس روایت کی وجہ سے ہے کہ ہر نئی چیز بدعت ہے، اور ہر بدعت گمراہی ہے اور گمراہی کا ٹھکانہ جہنم ہے۔۔۔ کہ علماء اور محدثین کے مطابق جب بھی کوئی روایت پیش کی جاتی ہے تو یہ دیکھنا ضروری ہوتا ہے کہ ہ روایت کس معیار کی ہے۔ کیا یہ قوی حدیث ہے یا ضعیف، احسن ہے یا وضعی۔ روایت کی سند کس درجہ کہ ہے، کیا یہ شاذ، معلل، منکر، مضطرب، مقلوب، مصحف اور موضوع ہے۔ یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ روایت قرآن کے مطابق ہے یا نہیں۔

اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اسلام مذہب نہیں دین ہے۔ مذہب صرف رسمی عبادات اور اعتقادات کا مجموعہ ہوتا ہے جبکہ دین عبادات اور اعتقادات کے ساتھ زندگی کے ہر شعبہ زندگی کا احاطہ کرتا ہے۔ اس میں معاشیات، سیاسیات، حکومت، سماجی اور دیگر امور بھی آجاتے ہیں۔ اس حوالے سے جب ہم اسلام کو دین کہتے ہیں تو اس سے مراد یہ ہے کہ اسلام ایک نظام حیات اور طرز زندگی ہے۔ ہمارے علماء اسلام کا تعارف پیش کرتے ہوئے وضاحت کرتے ہیں کہ اسلام میں دین اور دنیا کی کوئی تفریق نہیں اور ایک مسلمان کی زندگی کا کوئی شعبہ بھی دین سے باہر نہیں۔ کاروبار، سیاست، کھیل ، تفریح ، گھر داری، سماجی امور الغرض زندگی کا کوئی گوشہ بھی اسلام کی ہدایت کے باہر نہیں۔ دین حضورﷺ مکمل کرکے اس دینا سے تشریف لے گئے جس کی وضاحت آخری وحی سورہ مائدہ کی تیسری آیت میں کردی گئی۔ لیکن کیا کبھی غور کیا آپ نے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں بہت سے نئے کام ہر روز کرتے ہیں جو حضور ؐ اور صحابہؓ نہیں کرتے تھے۔ کیا وہ بدعت نہیں؟ کیا ہر نئی چیز بدعت اور قابل مذمت ہے ؟ اس لئے ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ بدعت کہتے کسے ہیں اور دین نے جس بدعت کو گمراہی کہا وہ کیا ہے۔

لفظ بدعت کا ماخذ بدع ہے۔ اس کا مطلب نئی چیز Innovation جو پہلے سے نہ ہو۔ قرآن حکیم میں بدعت کا لفظ تین مقامات پر آیا ہے۔ خدا کی صفت بدیع السمٰوات والا رض ہے (2:177)۔ حضور نے فرمایا کہ میں کوئی نیا پیغمبر نہیں آیا، مجھ سے قبل بھی رسول آتے رہے ہیں (46:9) ۔ رہبانیت کا مسلک ایک بدعت تھی جسے عیسائیوں نے از خود وضع کرلیا تھا (57:27)۔ اس کے علاوہ قرآن حکیم میں بدعت کے بارے میں کوئی اور ذکر نہیں۔ بلکہ قرآن حکیم بار بار غوروفکر اور تحقیق کی دعوت دیتا ہے تو اس عمل کے نتیجہ میں لازمی نئی چیزیں سامنے آئیں گی تو کیاانہیں نہ اپنایا جائے۔ قرآن حکیم کے بعد حدیث کا جائزہ لیں تو ہمیں صحیح مسلم کی یہ روایت ملتی ہے۔ حضرت جریر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو بندہ اسلام میں اچھا طریقہ قائم کرتا ہے اور اس کے بعد اس پر عمل کیا جاتا ہے تو اس کے واسطے ان سب لوگوں کے برابر اجر لکھ ا جائے گا جو اس طریقہ پر کاربند ہوں۔ اور جس شخص نے اسلام میں کوئی بُرا طریقہ نکالااور بعد میں اس پر عمل کیا تو اس کے ذمہ ان سب لوگوں کا وبال لکھ دیا جاتا ہے جو اُس طریقہ پر عمل کرتے ہیں۔ اب صورت حال بالکل واضع ہوجاتی ہے اور اس حدیث کی روشنی میں علماء نے بدعت کی دو اقسام، بدعت حسنہ یعنی اچھا نیا کام اور بدعت سئیہ یعنی بْرا نیا کام وضع کی ہیں۔ اس اعتبار سے کوئی بھی نیا کام جو اچھا ہو اور قرآن و سنت کی تعلیمات کے منافی نہ ہو، اسے کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں اور ہر وہ نیا کام جو قرآن و سنت سے متصادم ہو ، وہ گمراہی ہوگا اور وہ نہیں کرنا چاہیے۔

دین میں کسی نئے کام کی کس حد تک اجازت ہے اور نئے عمل کی حدود کیا ہیں۔ ساری بحث کا حاصل اور بدعت کے حوالے سے خلاصہ کلام یہ ہے کہ نوع انسان کی راہنمائی کے لئے خدا کے قوانین (Devine Laws) جو وحی کے ذریعے سے رسول اللہ کو دئیے گئے ان میں مزید کسی نئے قانون کو شامل نہیں کیا جا سکتا۔ دین میں اس نوعیت کا اضافہ جائیز نہیں اور یہی گمراہی ہوگی۔ البتہ دین کے غیر متبدل اصولوں ( Unchangeable Principles) کے اندر رہتے ہوئے اپنے زمانے کے تقاضوں کے مطابق، جزئی قوانین (By-Laws) اور طریقے مرتب اور اختیار کئے جاسکتے ہیں۔ ایسا کوئی بھی نیا اضافہ قابل قبول ہوگا اور وہ دین کے اصولوں سے متصادم نہیں ہو گا۔ اس لئے حضور کے یوم ولادت پر تقریبات منعقد کرنا اور آپ کا ذکر کرنا کسی طور بھی غلط اور دین کے اصولوں سے متصادم نہیں۔ اسی اصول کے تحت دیگر کام اور سرگرمیاں بھی کی جاسکتی ہیں لیکن یہ خیال رکھنا نہایت ضروری ہے کوئی بھی غیر شرعی کام نہ کیا جائے۔ ربیع الاول میں حضور پاک کی ولادت ہو یا دنیا سے تشریف لے جانے کا دن، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اصل مقصد قرآن حکیم کی روشنی میں اسوہ حسنہ کو بیان کرتے ہوئے پیروی کا جذبہ بیدار کرنا ہوتا ہے۔ اس حوالے سے محافل منعقد کرنا، درود و سلام پیش کرنا اور آپ ؐ کا ذکر کسی طرح سے دین کی تعلیمات سے متصادم نہیں۔ بدعت اور جدت کا فرق سمجھنا چاہیے۔

اگر حضورؐ کا میلاد منانا بدعت اور ناجائیز ہوتا تو علامہ اقبال اس سے گریز کرتے۔ دور حاضر میں علامہ اقبالؒ وہ واحد مسلم مفکر ہیں جن پر سب کا اتفاق ہے۔ وہ حکیم الامت تھے اور قرآن پاک پر اُن کی گہری نظر تھی۔ علامہ نے کئی دفعہ عید میلاد النبیؐ کے جلسوں  میں شرکت کی۔ ایک بار وہ لاہور سے اس مقصد کے لیے بطور خاص1932ء میں جالندھر بھی گئے تھے ۔ جلوس کے بعد جلسے میں انہوں نے سیرت پر ایک جامع تقریر کی۔ (انقلاب ۰۲ جولائی ۲۳۹۱، ذکر اقبال از عبدالمجید سالک صفحہ ۷۷۱، علامہ اقبال: شخصیت اور فکروفن از ڈاکٹر رفیع الدین ہاشمی ص ۸۹۱)۔ رسالہ صوفی کے اکتوبر 1926کے شمارہ میں ان کی لاہور میں عید میلاد النبیؐ کے جلسہ میں کی جانے والی تقریر شائع ہوئی تھی جو ان سوالوں کا جواب دیتی ہے کہ عید میلادالنبی ؐ منانا چاہیے یا نہیں۔ یہ نادر تقریر ڈنمارک کی آن لائن ویب سائیٹ اردو ہم عصر کے مدید نصر ملک نے دوبارہ شائع کی ہے۔

علامہ اقبال نےلاہور میں عید میلاد النبیؐ کے جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’زمانہ ہمیشہ بدلتا رہتا ہے ۔ انسانوں کی طبائع ، ان کے افکار اور اُن کے نقطہ ہائے نگاہ بھی زمانے کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں۔ لہذا تیوہاروں کے منانے کے طریقے اور مراسم ہمیشہ متغیر ہوتے ہیں اور اُن سے استفادے کے طریقے بھی بدلتے رہتے ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم بھی اپنے مقدس مراسم پر غور کریں اور جو تبدیلیاں افکار کے تغیرات سے ہونی لازم ہیں ان کو مدنظر رکھیں۔ منجملہ ان مقدس ایام کے جو مسلمانوں کے لئے مخصوص کئے گئے ہیں ایک میلاد النبیؐ کا مبارک دن بھی ہے۔ میرے نزدیک انسانوں کی دماغی اور قلبی تربیت کے لیے نہایت ضروری ہے کہ ان کے عقیدے کی رو سے زندگی کا جو نمونہ بہترین ہو وہ ہروقت اُن کے سامنے رہے۔ چناچہ مسلمانوں کے لئے اسی وجہ سے ضروری ہے وہ اُسوہ رسولؐ کو مدنظر رکھیں تاکہ جذبہ تقلید اور جذبہ عمل قائم رہے‘‘۔

حضورؐ کے یوم ولادت پر تقریبات منعقد کرنا کسی طور پر غلط نہیں البتہ وہ سرگرمیاں جو اسلامی تعلیمات کے منافی ہیں ان کا کسی طور پر جوااز نہیں بنتا۔ مییلاد کے موقع پر ناچ گانے اور فضول سرگرمیاں کسی طور پر محبت رسول ؐ کی عکاسی نہیں کرتیں۔ عشق رسول کا اظہار اپنے عمل، اچھے اخلاق اور مخلوق خدا سے محبت اور خدمت سے کریں ۔ یہ میلاد منانے کا اصل مقصد ہونا چاہیے اور حضورؐ نے بھی اسی کی تعلیم دی ہے۔