آذاد کشمیر میں ہوس اقتدار

قائد اعظم محمد علی جناح کے کشمیری نژاد ذاتی معتمد بیرسٹر خورشید حسن خورشید آزاد کشمیر کے پہلے قومی سیاسی رہنماء تھے جنہوں نے اس خطے کو پہلا جمہوری سیٹ اپ دے کر وحدت کشمیر کی بحالی کے لئے اندرون و بیرون کشمیر سیاسی و سفارتی جد وجہد کی پالیسی ترتیب دی۔ مگر یہ پالیسی زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکی کیونکہ قائد اعظم کی رحلت کے بعد پاکستان کی انگریزوں کے دور میں پرورش پانے والی کرپٹ بیوروکریسی اور انگریزوں کے پالتو جاگیرداروں نے قائداعظم کی داخلہ اور خارجہ پاکستانی پالیسی رول بیک کر دی۔

اسی لئے پاکستان آج ستر سال بعد بھی ہچکولے کھا رہا ہے۔ بلکہ جناح کی رحلت کے بعد پاکستان پر قبضہ کرنے والے خوشامدی اور مفاد پرست ٹولے نے آذاد کشمیر میں خوشید حسن خورشید جیسے خود دار اور محب وطن قیادت کے خلاف سازشیں کر کے اپنے ہمدرد گروہ پیدا کئے جنہوں تحریک آزادی کشمیر کو خیر باد کہہ دیا۔ آذادی کشمیر کی بات کرنے والوں کے خلاف گھناؤنا پروپگنڈا کیا گیا۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف چلنے والی تحریک میں آذ اد کشمیر اور بیرون کشمیر سے بھاری تعداد میں شرکت کرنے والے حریت پسندوں کو بھی آزاد کشمیر کے خوشامد پسند عناصر نے برداشت نہیں کیا۔ اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لئے پاکستان کے محب وطن عوام کی نظروں میں بھی کشمیری حریت پسندوں کو مشکوک و متنازعہ بنانے کی کوشش کی۔ حریت پسندوں کی صفوں میں آذاد کشمیر اور پاکستان کے ان عناصر نے ایک سازش کے تحت ایسے لوگ پلانٹ کئے جنہوں نے تحریک کو کاروبار میں بدل دیا۔ ورنہ آج تک مسلہ کشمیر حل ہو جاتا۔

اسی وجہ سے لوگ آزاد کشمیر اور پاکستانی موجودہ سیاستدانوں سے مایوس ہو کر چیف آف سٹاف جنرل راحیل شریف پر نظریں لگائے بیٹھے ہیں۔ سابق فوجی آمروں کی فاش غلطیوں کے باوجود موجودہ چیف آف سٹاف سے عوامی توقعات پاکستانی سیاستدانوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ موجودہ پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف پاکستان کو تعمیر و ترقی کی راہ پر ڈالنے کی انتہائی مخلصانہ کوششوں کے باوجود فوج کو وسیع اختیارات دے کر یہ ثابت کر چکے ہیں کہ پاکستان کے موجودہ بحران کو حل کرنا اکیلے سیاستدانوں کے بس کا روگ نہیں ہے۔ البتہ نواز شریف کے ہر عمل سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ وہ بھارت کی برتری کو قبول کر چکے ہیں۔ جب کہ ان کی کشمیر پالیسی بھی ایک سوالیہ نشان ہے۔ کیونکہ کشمیر پالیسی پر ان کے اندرون و بیرون ملک خطابات میں مطابقت نہیں ہے۔ جس کی تازہ مثال یہ ہے کہ انہوں نے تیس ستمبر2015 کو یواین جنرل اسمبلی میں اپنے خطاب میں جموں کشمیر سے فوجوں کے انخلاء کا مطالبہ کیا۔ مگر اندرون ملک گلگت بلتسستان کو صوبہ بنانے کی متضاد پالیسی جاری رکھی۔ گلگت بلتسستان کو اس مقام پر لانے میں سب سے ذیادہ قصور البتہ آزاد کشمیر کے اقتدار پسندوں کا ہے۔ اس چھوٹے سے پسماندہ خطے کے حکمران دنیا کی  سپر پاور امریکہ کے صدر سے بھی زیادہ سیکورٹی اخراجات وصول کرتے ہیں۔ یہ سیاسی بونے کسی ولیمے، جنازے یا ذاتی محفل میں جاتے ہیں تو اس علاقے کی پوری تحصیل اپنے دفاتر بند کر کے ان کے ساتھ چلتی ہے۔ آذاد کشمیر کا بڑے سے بڑا افسر آج سیاستدانوں کا ذاتی چپراسی لگتا ہے۔ ادارے اپنا تقدس و اختیارات کھو چکے ہیں۔ کسی بھی ادارے کا سربراہ اپنے ادارے کا ایک چپراسی تک خود بھرتی نہیں کر سکتا۔

پولیس تھانوں، کچہریوں اور تعلیمی اداروں میں وزراء کے پی آراو مکھیوں کی طرح بھنبھناتے نظر آتے ہیں۔ سب سے زیادہ خرابیاں محکمہ تعلیم میں پیدا کی گئی ہیں۔ سیاسی مداخلت تو پہلے بھی ہؤا کرتی تھی لیکن اس وقت پھر بھی چوہدری محمد یوسف اور اکرم سہیل جیسے سیکرٹری تعلیم اور زبیدہ مطلوب ، نیلم فیروز راجہ اور زہرہ یاسمین جیسی خواتین تعلمی اداروں میں اعلی عہدوں پر فائز تھیں۔ جنہیں اپنے منصبی فرائض کا خیال تھا۔ لیکن پی پی پی نے ایسی ناتجربہ کار نوجوان خواتین کو اعلی ضلعی عہدوں پر فائز کیا ہے جو ہر معاملہ میں  پہلے وزراء اور ان کے پی آر او سے اجازت لیتی ہیں۔ اسی طرح تھانوں کے فیصلے بھی وزیروں کے ٹھیکدار کرتے ہیں۔

نظریاتی طور پر آذاد کشمیر میں مسلم کانفرنس جس کا ایک بڑا حصہ اب مسلم لیگ (ن) بن چکا ہے اسے بیوروکریسی کی جماعت تصور کیا جاتا تھا جبکہ پی پی کو مظلوموں اور عام انسانوں کی ایک ایسی جماعت تصور کیا جاتا تھا جو جبر و ظلم کے خلاف ایک جمہوری و عوامی قوت کی مالک تھی۔ لیکن اب یہ فرق مٹ گیا ہے۔ آذاد کشمیر میں اب تحریک انصاف بھی قائم ہو چکی ہے لیکن یہ وہ لوگ ہیں جو پی پی میں دال نہ گلنے کی وجہ سے اب ناراض ہو کر وہی تھانے کچہری  کی سیاست کر رہے ہیں اور وہ بھی برادری کے نام پر۔ عوام نے اب تک مسلم کانفرنس، پی پی ، مسلم لیگ (ن) کا دور دیکھا ہے۔ ان میں سے ہر ایک نے تعلیم، صحت، عدلیہ ، پولیس، محکمہ مال کے نظام کو بگاڑنے میں ایک دوسرے پر برتری حاصل کی۔ جبکہ تعمیر و ترقی کے منصوبوں کی ستر فی صد رقم ٹھیکدار سے لے کر صدر و وزیر اعظم تک کرپٹ مافیا کے درمیان تقسیم ہو جاتی ہے۔ اس وجہ سے کوئی سڑک تین ماہ سے زیادہ عرصہ اپنی اصلی حالت میں قائم نہیں رہتی۔

یہ چند ایک مثالیں جن سے واضع ہو جاتا ہے کہ آذاد کشمیر میں اقتدار پسندوں کا صرف ایک نظریہ رہ گیا ہے اور وہ  کرپشن اور عوام کا استحصال ہے۔  عوام خود بھی اس صورت حال کے ذمہ دار ہیں۔ کیونکہ ان کے اندر فہم و فراست نام کی چیز ختم ہو گئی ہے۔ وہ سیاستدانوں کو ان کی کارکردگی کے بجائے اس بات پر پرکھتے ہیں کہ کون ان کے ولیموں، جنازوں اور تقریبات زیادہ شرکت کرتا ہے۔ یہ کام تو سیاستدانوں کے لئے بہت آسان ہے۔ اس طرح انہیں کسی محنت  کے بغیر عوام کا بڑا ہجوم میسر آ جاتا ہے۔ ایسے موقعوں پر  وہ بے تکی اور بے مقصد تقریریں جھاڑتے رہتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں جنازہ اب دینی فریضہ نہیں رہا بلکہ سیاستدانوں کی پبلسٹی اور نمود و نمائش کا ذریعہ بن گیا ہے۔ جبکہ ولیموں میں شرکت کے لئے صدر اور وزیر اعظم ہیلی کاپٹر پر آتے ہیں اور عوام  ٹیکسوں پر ولیمے کھانے والوں سے سوال کرنے کی بجائے ان کا پرتپاک استقبال کرتے ہیں۔

آج کے دور میں ہر چھوٹا بڑا کام بجلی پر چلتا ہے لیکن بجلی بحران کی وجہ سے کاروباری نظام ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ تحریک آذادی کشمیر سے تو پہلے ہی ان سیاستدانوں نے منہ موڑ لیا تھا لیکن اب مقامی عوامی خدمت کے نام پر لینے والے ووٹوں کی قدر و قیمت بھی ختم ہو گئی ہے۔  ان حالات میں اب ایک عام مزدور جو شام کو بمشکل اپنے بچوں کے لیے آلو پیاز خرید سکتا ہے وہ تو اس نظام کی بہتری میں کوئی کردار ادا نہیں کر سکتا ۔ اس نظام کی اصلاح آج بھی اور کل بھی تعلیم یافتہ نوجوانوں نے ہی کرنی ہے۔ اس کام میں وہ جتنی تاخیر کریں گے، وہ اتنا ہی مشکل ہو جائے گا۔