مسلم امہ کیلئے ماتم کی گھڑی
دو طاقتور مسلم ممالک ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ سعودی عرب کی قیادت میں عرب بلاک نے حالیہ کشیدگی کے بعد ایران کے خلاف ”فی الحال“ تو سفارتی محاذ کھولا ہے، فرقہ وارانہ بنیادوں پر ”جنگی محاذ“ کسی بھی وقت کھل سکتا ہے۔۔ سعودی عرب کے بعد بحرین اور سوڈان نے جہاں ایران سے سفارتی تعلقات منقطع کر لئے ہیں وہیں متحدہ عرب امارات بھی وفاداری نبھانے میدان میں اتر آیا ہے اور ایران سے سفارتی تعلقات محدود کر دئیے ہیں جو ”مسلم امہ“ کے مفاد میں کسی بھی وقت معطل ہو سکتے ہیں۔ اس معاملے میں ایران بھی اشتعال انگیز بیانات دے کر فریضہ بخوبی انجام دے رہا ہے۔
یہ امر شک و شبہ سے بالا ہے کہ یہ کشیدگی مسلم امہ کو مزید تقسیم کر دے گی۔ اس سے قبل شاید ایران اور سعودی عرب کی قیادت میں عرب ممالک کے تعلقات اس نہج پر نہیں پہنچے۔ سعودی عرب کی جانب سے ممتاز شیعہ عالم شیخ نمر الباقر النمر کو فیئر ٹرائل کا حق دئیے بغیر انتہائی غیر منصفانہ سزائے موت سے شروع ہونے والی کشیدگی تہران میں سعودی سفارتخانے کو نذر آتش کئے جانے اور ردعمل میں ریاض سے ایرانی سفارت کاروں کی بے دخلی کے بعد عروج پر پہنچ چکی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اور ایران کی پراکسی وار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ دونوں ممالک کی فرقہ وارانہ سیاست نے مسلم امہ کو واضح طور پر دو بلاکس میں تقسیم کر دیا ہے۔ فرقہ واریت کے زہر سے آلودہ اس فضا میں کوئی فریق مخالف کی دلیل ماننا تو دور سننے کو بھی تیار نہیں۔ شیعہ اور سنی کا علم اٹھائے دونوں ممالک دو انتہاﺅں پر کھڑے ہیں۔
سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستیں کو یہ گلہ ہے کہ ایران انقلاب برآمد کرنے کے لئے عرب ممالک میں مسلسل اپنی ٹانگ اڑا رہا ہے۔ جبکہ ایران سعودی عرب کی جانب سے دہشتگردوں کی پشت پناہی پر نالاں اور خصوصاً اب شام کے مسئلے پر داعش کی تشکیل کا الزام سعودی عرب پر سر باندھتا ہے۔ اب اس تازہ کشیدگی کے بعد شام کے ساتھ ساتھ عراق اور یمن میں بھی امن خواب بن کر رہ جائے گا۔ اس قضیے میں یمن کے معاملے پر ہونے والا معاہدہ تو شاید اب عالمی طاقتوں کے ذہن سے بھی اتر چکا ہو گا۔
یہ کشیدگی کیا رنگ دکھائے گی اور زخم خوردہ مسلم امہ کو مزید کتنے زخم اٹھانا پڑیں گے یہ تو وقت ہی بتائے گا مگر یہ گھڑی یقینا مسلم امہ کے لئے ماتم کی گھڑی ہے۔