تلاش میں ہے سحر ۔۔۔
- تحریر ارشاد احمد صدیقی
- منگل 05 / جنوری / 2016
- 4814
یہ بات خوش آئند بھی ہے اور بروقت بھی ہے۔ ہماری اسلامک سوسائٹی نے ایک بہت بڑا اقدام اٹھایا ہے۔ صدر سوسائٹی اور امام مسجد نے مل کر دوسرے مذہبی اداروں کے سربراہوں کو مسجد آنے کی دعوت دی۔ بہت سے خواتین و حضرات تشریف لائے۔ انہوں نے مولانا صاحب کا خطبہ سنا۔ اس کے بعد نماز ادا ہوئی۔ اس کے بعد سب ہال میں جمع ہوئے جہاں مہمان خواتین و حضرات نے مختصر تعارفی تقریریں کیں۔ ان لوگوں میں کرسچین، یہودی ، بدھ اور دیگر حضرات نے خیالات کا اظہار کیا اور سب نے یک زبان دہشت گردی کی مذمت کی اور امن کی آرزو بلند کی۔ اور سارے مذاہب کے آزادی کے ساتھ رہنے کی امید ظاہر کی۔
گزشتہ دنوں تخریب کاری کے جو واقعات رونما ہوئے جن میں پیرس کی خون آشامی اور پھر سین برنارڈینو کیلی فورنیا میں بے گناہوں کا قتل عام سرفہرست تھا۔ لیکن سب سے بڑی بات جو ان سانحوں سے ابھرتی ہے اس میں بار بار مسلمانوں کا نام سامنے آنا ہے۔ جس کو انگریزی میڈیا نے ISLAMIC TERRORISM یعنی اسلامی دہشت گردی کا نام دیا ہے۔ ہم انگریزی میڈیا کو مورد الزام ضرور ٹھہراتے ہیں جو اسے اسلامی دہشت گردی کا نام دیتے ہیں۔ کیونکہ ہمارے نزدیک اسلام اور تخریب کاری ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ ہمارے اکابرین اور اسکالر بار بار کہتے ہیں کہ اسلام محبت اور امن کا مذہب ہے۔ لیکن انگریزی میڈیا اسے باآسانی پس پشت ڈال کر اپنا مفروضہ دہراتا رہتاہے۔ ہم متفق نہ ہونے کے باوجود اس صورت حال کا بار بار سامنا کرتے ہیں۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ ہمارا میڈیا اس قدر طاقتور اور مشتہر نہیں ہے جتنا کہ انگریزی میڈیا ہے۔ دنیا کی ٹیلی براڈ کاسٹ پر امریکی اور یورپین ٹی وی حاوی ہے۔ دنیا کے کثیر تعداد میں شائع ہونے والے اخبارات یا تو امریکہ سے شائع ہوتے ہیں یا پھر انگلینڈ اور یورپین ممالک سے۔ ہماری اس کوتاہ دامنی نے ہمیں بڑی حد تک محدود کر رکھا ہے۔ ان دنوں امریکہ کے آنے والے صدارتی الیکشن میں صدارتی امیدوار سرگرم عمل ہیں۔ ان امیدواروں میں ایک ارب پتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ ہے جنہوں نے حالیہ حالات کے پیش نظر سرعام اعلان کیا ہے کہ ’’امریکہ کی سلامتی صرف اس امر میں مضمر ہے کہ مسلمانوں کے امریکہ آنے پر مکمل پابندی عائد کی جائے‘‘۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہیں ہے‘‘۔
امریکہ اور دنیا کے متوازن ذہن رکھنے والے ڈونلڈ ٹرمپ سے اس بیان پر ناراضگی کا اظہار کر رہے ہیں۔ ہم بطور مسلمان غیر انسانی اور وحشیانہ اقدام کی مذمت تو کرتے ہیں لیکن اس عمل پر تحقیقی نکتہ نظر سے سوچ بچار نہیں کرتے۔ ہم جبلی طور پر مطمئن ہیں کہ ہم ایک عظیم الشان مذہب کے پیروکار ہیں۔ ہمارا مذہب سچائی کا علمبردار ہے۔ لیکن عالمی میڈیا اس امر پر توجہ نہیں دیتا کہ ایسے وحشیانہ اقدام کرنے والے کون ہیں؟ دنیا تو کہتی ہے کہ وہ مسلمان ہیں لیکن ہم بخوبی جانتے ہیں کہ ان کا علاقہ اسلام یا اسلامی اقدار سے دور دور تک نہیں۔ وہ بات جو مغربی ممالک کو قائل کرتی ہے کہ وہ دہشت گرد ایک اسلامی ملک میں پیدا ہوتے ہیں اور اس ملک کے مروجہ اصولوں کے تحت ان کے نام علاقائی حدود کی روایت سے رکھے گئے۔ ہم باآسانی کہہ سکتے ہیں کہ ایسے فرد یا گروہ کا تعلق اسلام سے سرے سے ہے ہی نہیں۔ لیکن اپنی کوتاہ دامنی کی وجہ سے ہم دنیا کو اس بات پر قائل کرنے سے معذور ہیں۔
ہم واپس اپنے اسلامک سینٹر کی طرف آتے ہیں۔ تقاریر اور جواب و سوال کے بعد ہم ان سے کہنا چاہتے ہیں کہ ہم آپ کو ہاؤس آف گاڈ میں آنے پر خوش آمدید کہنا چاہتے ہیں کہ جس طرح امریکہ آپ کا ملک ہے اسی طرح امریکہ ہمارا بھی ملک ہے۔ جس طرح آپ کرسچین اور یہودی اور بدھ ہیں اور امریکی ہیں، اسی طرح ہم مسلمان ہیں اور امریکی ہیں۔ سین برنارڈینو اور پیرس کا سانحہ نہایت ہی دلخراش ہے۔ اس وحشیانہ سانحہ پر دنیا بھر کے میڈیا میں لے دے ہو رہی ہے۔ لیکن انگشت نمائی صرف مسلمانوں پر ہورہی ہے۔ ان سانحوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرایا ہے اور مسلمانوں کو Black Eye دی ہے۔ ہم اس وقت ان کے سامنے Black Eye لئے پھر رہے ہیں۔
معزز مہمانوں ! ہم آپ کو ’’ہاؤس آف گاڈ‘‘ سے خالی ہاتھ نہ جانے دیں گے۔ جب آپ اپنے خاندانوں ، اپنی کمیونٹی ، اپنے دفاتر اور اپنی عبادت گاہوں کو جائیں تو اس مرہم اور اس صحت یابی کو تلاش کریں جو ہماری اس Black Eye کے لئے کارگر ثابت ہو۔ اور جب آپ وہ اکسیر تلاش کر لیں تو ہم آپ کو ایک بار پھر کھلی بانہوں سے گرمجوشی سے ’’ہاؤس آف گاڈ‘‘ میں خوش آمدید کہیں گے:
تم آئے ہو یا شب انتظار گزری ہے
تلاش ہی ہے سحر بار بار گزری ہے
جنوں پہ جتنی بھی گزری بکار گزری ہے
اگرچہ دل پہ خرابی ہزار گزری ہے